42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 42:1–5

عٓسٓقٓ Open ayah 42:2 in the Quran reader

عین۔ سین۔ قاف۔

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر، جس طرح یہ سورت تم پر نازل ہو رہی ہے) اسی طرح اللہ (جو) زبردست (اور) حکمت والا (ہے) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں وحی بھیجتا رہا ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی عالی مقام اور سب سے بڑا ہے۔

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان (مارے اس کی ہیبت کے) اپنے اوپر کی طرف سے پھٹ پڑیں۔ اور فرشتے (ہیں کہ) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح (وتقدیس) میں لگے ہوئے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو، اللہ ہی بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[1] اہل زمین میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرانداز کرے اور کافروں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔
Ayahs 42:6–7

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جن لوگوں نے اللہ کے سوا (دوسرے) کارساز ٹھہرا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، تم ان پر داروغہ نہیں ہو۔

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح (اے پیغمبر، یہ) قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے کہ تم اُمِّ القریٰ (کے رہنے والوں) کو اور جو لوگ اس کے آس پاس (بستے) ہیں ان کو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کردو اور جمع ہونے کے دن (کی مصیبت) سے ڈراؤ جس (کے آنے) میں ذرا بھی شک نہیں۔ (اس دن) ایک گروہ جنت میں اور دوسرا گروہ دوزخ میں (داخل) ہوگا۔

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 31۔ [3] مراد ہے روز قیامت، اس لئے کہ لوگ اس دن حساب اعمال کے لئے جمع کئے جائیں گے۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور (رہے) ظالم (تو) ان کا (اس دن) نہ کوئی حامی ہوگا اور نہ مددگار۔

[4] یہ مضمون قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔
Ayahs 42:9–10

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا (دوسرے) کارساز بنا رکھے ہیں ؟ تو (جان لو کہ) کارساز تو بس اللہ ہی ہے اور وہی (قیامت میں) مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جن (جن) باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور (ہر بات میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

[5] یہ اللہ تعالیٰ کے مالک کائنات ہونے کا فطری اور منطقی تقاضا ہے۔ جب بادشاہی اس کی ہے تو لامحالہ پھر حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے باہمی تنازعات و اختلافات کا فیصلہ کرنا بھی اس کا کام ہے۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 59 صفحہ 190 اور سورة احزاب آیت 36 صفحہ 996۔
Ayahs 42:11–12

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ، اسی نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لئے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) مویشیوں کے جوڑے (بھی) ، اور (اس طریقے سے) وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا رہتا ہے۔ (کائنات میں) کوئی چیز (بھی) اس جیسی نہیں، وہ (سب کچھ) سننے (اور) دیکھنے والا ہے۔

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز (کے حال) سے واقف ہے۔

[6] ان آیات میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ہیں اگرچہ پوری عبارت اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو اس کی نہایت واضح مثال سورة فاتحہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

(لوگو، ) اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کو (اے پیغمبر، ) ہم نے تمہاری طرف (بھی) وحی کیا ہے، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو (بھی) دیا تھا (اس تاکید کے ساتھ) کہ اس دین کو قائم کرنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ یہی بات مشرکین پر شاق گزرتی ہے جس کی طرف (اے پیغمبر، ) تم انہیں بلاتے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے انتخاب کر کے اپنا کرلیتا ہے اور اپنی طرف رسائی اس کو دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔

[7] یعنی نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک جتنے انبیاء ہوئے وہ سب ایک ہی دین یعنی دین اسلام لے کر آئے جس میں توحید و رسالت پر ایمان، کتب الٰہی پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، قیامت اور بہشت و دوزخ پر ایمان لازم ہے۔ نیز نماز، روزہ، حج، جہاد، اقامت دین، عدل و انصاف، حرمت زنا، نافرمانوں پر حدود، یہ تمام امور اس دین کی بیخ و بنیاد رہے ہیں اور تمام انبیاء کا ان پر اتفاق ہے۔ البتہ بعض فروع میں حسب مصلحت زمانہ و حالات کچھ فرق رہا ہے۔ نیز دین کے قائم کرنے کے طور و طریق ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جدا جدا ٹھہرا دئیے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کردی۔ (آیت 48 صفحہ 254) [8] اقامت کا لفظ جب کسی مادی شے کے لئے بولا جائے تو اس کے معنی سیدھا کردینے کے ہوتے ہیں جیسے سورة کہف آیت 77 میں ارشاد ہوا : (ترجمہ) دیوار گرا ہی چاہتی تھی تو اس نے اسے سیدھا کردیا لیکن جب اقامت کا لفظ کسی معنوی شے کے لئے بولا جائے تو اس وقت اس کا مفہوم پورا پورا حق ادا کرنے کا ہوتا ہے۔ جیسے سورة مائدہ آیت 68 میں فرمایا : (ترجمہ) اے پیغمبر، تم یہود و نصاریٰ سے کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں جب تک تم تورات و انجیل کو قائم نہ کرو۔ یعنی جب تم علمی اور عملی حیثیت سے ان کے حقوق ادا نہ کرو۔ اس مفہوم کی ایک اور مثال قرآن میں نماز کی اقامت کا حکم ہے اس مفہوم کی رو سے نماز کی اقامت یہ ہے کہ اسے اس کے تمام ظاہری اور باطنی آداب و شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے۔ عربی میں دین کے معنی ہیں بدلہ۔ بدلہ کسی کام کا ہوتا ہے اچھے کام کا بدلہ اچھا اور برے کام کا بدلہ برا ہونا چاہئے۔ یہیں سے جزاوسزا کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر اس مفہوم میں قانون اور ضابطے کا تصور شامل ہوا کیونکہ جزا اور سزا کے لئے قانون اور ضابطہ لازمی ہیں۔ یہ تصور ایک مقنن (قانون ساز) اور مطاع (جس کا حکم مانا جائے) کا مقتضی ہے۔ اب بدلہ، جزاوسزا، قانون اور ضابطہ، مقنّن اور مطاع کے تمام مفاہیم کو جمع کیا جائے تو حاصل جمع ہوگا ایک مکمل ضابطہء حیات جس میں ایک ہستی یا ادارے کو مقنّن اور مطاع اور حاکم مطلق تسلیم کر کے اس کی جزا امید اور سزا کے خوف سے اس کی کامل اطاعت کرنا۔ اس کو اس آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ( اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ 19؀) 3 ۔ آل عمران :19) پس اقامت دین کے معنی ہوئے دین کو علمی اور عملی دونوں حیثیتوں سے ماننے کا حق ادا کرنا۔ یعنی دین کو تمام شعبہائے زندگی میں عملاً نافذ کرنا۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) لوگوں میں جو تفرقے پیدا ہوئے وہ ان کے پاس علم صحیح آجانے کے بعد آپس کی ضِدَّمْ ضِدَّا (کی وجہ) سے ہوئے۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کا وعدہ پہلے سے نہ ہوا ہوتا (کہ لوگوں کو قیامت تک کی مہلت ہے) تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اگلوں کے بعد کتاب (الٰہی) کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے سخت الجھن میں ڈالنے والے شک میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

[9] یعنی نبی ﷺ کے معاصر اہل کتاب۔ [10] مطلب یہ ہے کہ اگلی نسلوں نے تورات و انجیل کو ان کی اصلی عبارت اور زبان میں محفوظ رکھ کر پچھلی نسلوں تک نہیں پہنچایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلی نسلوں کو یہ کتابیں بالکل متناقص شکل میں ملیں۔ ان کے تراجم ہی رہ گئے اور اصل غائب ہوگئی۔ اس وجہ سے ان لوگوں کا ان کتابوں کی طرف سے شکوک میں مبتلا ہوجانا ایک فطری امر تھا اور یہ چیز مقتضی تھی کہ وہ ان کے شکوک و اختلافات کو رفع کرنے والی کتاب یعنی قرآن کی دل سے قدر کرتے لیکن انہوں نے محض ضد و حسد کی بناء پر اس کی مخالفت کی۔
Ayahs 42:15–16

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم (لوگوں کو) اسی (اصل دین) کی طرف بلاتے رہو اور جیسا تمہیں حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہو اور ان لوگوں کی خواہشوں پر نہ چلو اور (ان سے صاف) کہہ دو کہ '' میں ایمان لایا (ہر) کتاب پر جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے لئے ہمارے عمل اور تمہارے لئے تمہارے عمل۔ ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ہی (قیامت کے دن) ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔ ''

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کے (دین کے) بارے میں (مسلمانوں سے) جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ وہ مان لیا گیا، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر (اس کا) غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

[11] یعنی بعد اس کے کہ بہت سے لوگ مسلمان ہو کر اسے مان چکے۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے تو یہود و نصاریٰ ان کے دلوں میں شبہ ڈال کر ان کو بہکاتے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

(وہ) اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔ اور (اے پیغمبر، ) تمہیں کیا خبر شاید قیامت قریب (ہی) آ لگی ہو۔

[12] کتاب سے مراد قرآن اور میزان سے مراد عدل ہے۔ یعنی اللہ نے امتوں کے باہمی اختلاف کو رفع کرنے اور حق و باطل کو ممیز کردینے کے لئے قرآن اتارا جو میزان عدل ہے اور ترازو کی طرح تول کر صحیح و غلط، حق و باطل، اور ظلم و عدل کا فرق بالکل واضح کردیتا ہے۔ [13] مطلب یہ ہے کہ خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو میزان عدل کے فیصلے کے مطابق حق و باطل میں امتیاز کرلیں گے ورنہ قیامت تو بہرحال فیصلہ کر کے رہے گی اور اس قیامت کو بہت دور نہ سمجھو۔
Ayahs 42:18–21

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی مچا رہے ہیں اور جو ایمان والے ہیں وہ اس سے ڈر رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ قیامت (کا آنا) برحق ہے۔ یاد رکھو، جو لوگ قیامت (کے بارے) میں جھگڑے نکالتے ہیں وہ یقینا پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں۔

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں کے ذرا ذرا حال سے واقف ہے، جس کو (جتنی روزی) چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

(اور دیکھو، ) جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اس کی کھیتی میں افزونی دیں گے اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے دنیا ہی میں سے (بقدر مناسب) دیں گے (مگر) آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اللہ کے) ایسے شریک (بنا رکھے) ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ؟ اور اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا تو (دنیا ہی میں) ان کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

[14] یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے ؟ [15] پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی راہ چھوڑ کر دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں ؟ قول فیصل یہ کہ ان پر پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔
Ayahs 42:22–23

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم اس دن) ان ظالموں کو دیکھو گے کہ وہ اپنے کرتوتوں (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے (اور) جو کچھ بھی وہ چاہیں گے ان کے رب کے ہاں ان کے لئے (موجود) ہوگا۔ یہی تو اللہ کا بڑا فضل ہے۔

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

(اور) یہی (تو) وہ نعمت ہے جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ میں تم سے اس (تبلیغ ِحق) پر کوئی معاوضہ تو مانگتا نہیں مگر قرابت کی محبت (کا تو پاس کرو) ۔ (دیکھو، ) جو کوئی نیکی کمائے گا اس کے لئے ہم اس (کی نیکی) میں اور زیادہ خوبی (پیدا) کردیں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا (اور) قدردان ہے۔

[16] یعنی تم سے جو میرے نسبی اور خاندانی تعلقات ہیں ان کو تو نظرانداز نہ کرو۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو لیکن کم از کم قرابت داری کا خیال کر کے ظلم اور ایذا رسانی سے تو باز رہو۔ یہ کیا ستم ہے کہ سب سے بڑھ کر تم ہی میری دشمنی پر تل گئے ہو۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا (یہ لوگ تمہاری نسبت) کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھا ہے ؟ (سو اس صورت میں) اللہ تو (اس بات پر قادر ہے کہ) اگر چاہے تو تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے احکام سے حق کر دکھاتا ہے۔ وہ تو (لوگوں کے) دلوں تک کی باتیں جانتا ہے۔

[17] یعنی اس قرآن کو تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ [18] یعنی بفرض محال اگر کوئی بات بھی اللہ کی نسبت جھوٹ بنا کر کہہ دو تو اللہ کو قدرت ہے کہ تمہارے دل پر مہر کر دے پھر فرشتہ یہ کلام لے کر تمہارے قلب پر نہ اتر سکے اور سلسلہ وحی بند ہوجائے بلکہ دیا ہوا بھی سلب کرلیا جائے۔
Ayahs 42:25–30

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کی) خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہو وہ اس کو جانتا ہے۔

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور وہ ان لوگوں کی (دعائیں) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے۔ اور وہ اپنے فضل سے ان کو (استحقاق سے) بڑھ کر (ثواب) دیتا ہے۔ (رہے) کافر تو ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ اپنے (سب) بندوں کے لئے روزی فراخ کردیتا تو وہ ضرور زمین میں سرکشی (کا طوفان برپا) کردیتے، مگر وہ بقدر مناسب جتنی (روزی) چاہتا ہے (ہر ایک کے لئے) اتارتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں (کے حال) سے باخبر ہے (اور ان پر) نگاہ رکھتا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جو لوگوں کے (بارش کی طرف سے) ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہ بڑا کارساز (اور) خوبیوں والا ہے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا اور ان جانداروں کا جو اس نے آسمان اور زمین میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر (بھی) قادر ہے۔

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

(لوگو، ) جو مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں ہی کی کمائی سے پہنچتی ہے اور (اللہ تمہارے) بہت (سے قصوروں) سے (تو ویسے ہی) درگزر کرجاتا ہے۔

[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔
Ayahs 42:31–35

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

تم زمین میں (اس کو) عاجز نہیں کرسکتے اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے نہ مددگار۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے سمندر میں پہاڑ جیسے (بادبانی) جہاز ہیں۔

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے تو یہ (بھی) سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ بیشک اس میں ہر صابر شاکر کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا وہ (چاہے تو زور کی ہوا چلا دے اور) ان (جہازوں) کو ان (پر سوار ہونے والوں) کے کرتوتوں کے بہ سبب (طوفان سے) تباہ کر دے اور بہتیروں کے قصوروں سے درگزر بھی کر جائے۔

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں کٹ حجتیاں کیا کرتے ہیں (اس وقت) جان لیں کہ اب ان کے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔

[20] کٹ حجتی کرنے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگ ہر کام کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔ جہاز تباہی میں آئے اور کوئی تدبیر پیش رفت نہ ہو تو سمجھیں کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے اور آدمی عاجز ہے۔
Ayahs 42:36–37

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

(لوگو، ) جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی (چند روزہ) زندگی کا سازوسامان ہے اور جو اجر اللہ کے پاس ہے وہ (اس سے) بہتر اور پائیدار تر ہے (مگر) انہی لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو (لوگوں کی خطاؤں سے) درگزر کر جاتے ہیں

[21] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے کام باہمی مشورے سے چلاتے ہیں، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں بھی) خرچ کرتے ہیں۔

[22] اس آیت میں اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اس میں وہ تمام اجتماعی امور جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہوں مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ یہاں شوری کی کوئی خاص شکل متعین نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے احکام ساری دنیا کے لئے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ہیں لہذا شوریٰ کا ایک خاص طریقہ ہر سوسائٹی اور ہر تمدن کے لئے یکساں موزوں نہیں ہوسکتا۔ البتہ شوریٰ کا قاعدہ جو آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اصولاً تین باتوں کا مقتضی ہے : ایک یہ کہ معاملہ جن لوگوں کے اجتماعی کام سے متعلق ہو ان سب کو مشورے میں شریک ہونا چاہئے خواہ وہ براہ راست شریک ہوں یا اپنے نمائندوں کے واسطے سے شریک ہوں۔ دوسرے یہ کہ مشورہ آزادانہ، بےلاگ اور مخلصانہ ہونا چاہئے۔ دباؤ یا لالچ کے تحت مشورہ لینا مشورہ نہ کرنے کے برابر ہے۔ تیسرے یہ کہ جو مشورہ اہل شوریٰ کے اتفاق رائے سے دیا جائے یا جسے ان کی اکثریت کی تائید حاصل ہو اسے تسلیم کیا جائے اور اس کے مطابق معاملات چلائے جائیں۔
Ayahs 42:39–40

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور (وہ ایسے غیرت مند ہیں کہ) جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ (واجبی) بدلہ لے لیتے ہیں۔

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور (جان لو کہ) برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بیشک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[23] بدلے کے طور پر جو برائی کی جائے وہ حقیقتاً نہیں محض صورۃً برائی ہے درحقیت یہ تو برائی کی سزا ہوئی۔