41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 41:1
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کلام) نہایت مہربان (اور) ہمیشہ رحم کرنے والے کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(یہ قرآن ایسی) کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں (یعنی) ایسا قرآن جو عربی (زبان) میں ہے، ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

(یہ ماننے والوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (منکروں کو عذاب الٰہی سے) ڈرانے والا (ہے) ۔ اس پر بھی ان لوگوں میں سے اکثر نے (اس سے) رو گردانی کی اور وہ (اسے) سنتے ہی نہیں

Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، جب تم انہیں سناتے ہو تو) کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو اس کے لئے ہمارے دل غلافوں میں ہیں (کہ تمہاری بات دل کو نہیں لگتی) اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے (کہ تم جو کہتے ہو سنائی نہیں دیتا) اور ہمارے تمہارے درمیان (ایک طرح کا) پردہ (حائل) ہے (کہ تم ہم پر کسی طرح کا اثر نہیں ڈال سکتے) ۔ تو (بہتر یہ ہے کہ) تم اپنا کام کئے جاؤ، ہم اپنا کام کئے جائیں گے۔

Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے) کہو کہ میں تو بس تمہارے جیسا انسان ہوں (مگر مجھ میں اور تم میں اتنا فرق ہے کہ) میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ پس تم اس کی طرف سیدھ باندھ لو اور اس سے (اپنے گناہوں کی) معافی چاہو۔ افسوس شرک کرنے والوں پر

[1] کفار مکہ نے اپنے دلوں کا غلافوں میں اور ڈاٹ کا کانوں میں ہونے کا جو اقرار کیا تھا تو اس سے مراد ان کی یہ نہ تھی کہ ان میں عقل نہ تھی یا وہ بہرے تھے۔ بلکہ یہ ایک قسم کا استہزاد تمسخر تھا۔ مگر اس ظالمانہ جرأت و استہزا کا جو جواب نبی ﷺ کو تلقین کیا گیا وہ یہ تھا کہ ان کے مقابلے میں کسی تشدد کی بجائے اپنی تواضع کا اظہار کریں کہ میں اِلٰہ نہیں کہ ہر کام کا مالک و مختار ہوں بلکہ تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ [2] یعنی اس کے سوا کسی کی عبادت کی طرف توجہ نہ کرو۔
Ayahs 41:7–8

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے (بھی) منکر ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کے لئے (آخرت میں) بڑا اجر ہے جو (کبھی) ختم ہونے والا نہیں۔

[3] یہاں زکوٰۃ کے معنی میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ مفسرین کے ایک گروہ کے نزدیک یہاں زکوٰۃ سے مراد پاکیزگی نفس ہے جو توحید کے عقیدے اور اللہ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسرا گروہ اس کو مال کی زکوٰۃ کے معنی میں لیتا ہے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ افسوس ان مشرکین پر جو پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔ دوسری تفسیر کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ افسوس ان لوگوں پر جو شرک کر کے اللہ کا اور زکوٰۃ نہ دے کر بندوں کا حق مارتے ہیں۔
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے) کہو، کیا تم اس ( اللہ) کا انکار کرتے ہو جس نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور تم (دوسروں کو) اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو۔ وہی (اللہ تو) سارے جہانوں کا رب ہے

[4] یہاں دنوں سے مراد ہمارے دن نہیں بلکہ اللہ کے دن ہیں جو ہمارے شمار سے ہزار سال بلکہ بعض صورتوں میں پچاس ہزار سال کے بھی برابر ہوتے ہیں جیسا کہ سورة سجدہ میں اور سورة معارج میں مذکور ہے۔ اس وجہ سے ان کو ادوار کے معنی میں لینا چاہئے۔
Ayahs 41:10–11

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دئیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں۔ اور اسی میں اس (پر بسنے والوں) کی خوراک کا اندازہ ٹھہرا دیا۔ (یہ سب کام) چار دن میں (ہوئے جو شمار میں) پورے ہیں پوچھنے والوں کے لئے۔

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو (اس وقت) محض دھواں تھا پھر اس کو اور زمین کو حکم دیا، '' آجاؤ تم دونوں خوشی سے یا ناخوشی سے '' دونوں نے کہا، '' ہم آگئے خوشی سے ''

[5] یہ سارے کام یعنی زمین کی خلقت، اس کے اندر پہاڑ گاڑنے اور اس پر بسنے والوں کے لئے خوراک مقدر کرنے میں پورے چار دن لگے۔ [6] یعنی جو لوگ آسمان اور زمین کی تخلیق کے متعلق سوالات کر رہے ہیں انہیں بتلا دو کہ یہ سب کام چار دن میں ہوئے۔
Ayahs 41:12–18

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

تب اس نے دو دن میں (اس دھوئیں کے) سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم (فرشتوں) کو وحی کردیا۔ اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو (ستاروں کے) چراغوں سے سجایا اور محفوظ کردیا۔ یہ منصوبہ بندی ہے ایک زبردست علم والے کی۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پس اگر (اتنے سمجھانے پر بھی) یہ لوگ (راہ حق سے) منہ موڑتے ہیں تو (اے پیغمبر، ان سے) کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عذاب عادوثمود پر (آیا تھا)

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے (غرض ہر طرف) سے آئے (اور ان کو سمجھایا) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (تو) وہ کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب (پیغمبروں کو بھیجنا) چاہتا تو (آسمان سے) فرشتے اتارتا لہذا ہم تو اس (دین) کو مانتے نہیں جس کو دے کر (بزعم خود) تم بھیجے گئے ہو۔

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پھر جو (قوم) عاد (کے لوگ) تھے وہ ملک میں بغیر حق کے گھمنڈ کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے کون قوت میں بڑھ کر ہے ؟ کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا وہ قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ غرض وہ لوگ ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

پھر ہم نے (بھی) ایسے دنوں میں جو (ان کے حق میں) منحوس تھے ایک تیز آندھی ان پر بھیج دی تاکہ دنیا ہی کی زندگی میں ان کو ذلت (و رسوائی) کے عذاب (کا مزا) چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو (دنیا کے عذاب سے) کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا اور (وہاں) انہیں (کوئی) مدد (بھی) نہ ملے گی۔

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو (قوم) ثمود (کے لوگ) تھے تو ہم نے انہیں (سیدھا) راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے (اس سے آنکھیں بند کرلیں اور) اندھا رہنا پسند کیا۔ آخر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو ذلت کے عذاب کی کڑک نے آلیا۔

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور (گمراہی اور بدعملی سے) بچ کر چلتے تھے۔

[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔ [8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ وجود میں آئی ہے اور یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اس کو کسی نے بس یوں ہی کھیل تماشے کے طور پر بنایا ہے اور یہ یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہوجائے گی۔ یہ اہتمام اس کے بامقصد اور باغایت ہونے کی ناقابل انکار دلیل ہے۔ ربوبیت کا یہ وسیع نظام اس بات کا مقتضی ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں لوگ اپنے منعم حقیقی کے سامنے روبرو حاضر ہوں اور ان سے نعمتوں کے حق کے بارے میں پرسش ہو۔ جنہوں نے ان کا حق پہچانا وہ صلہ پائیں اور جنہوں نے ناشکری کی وہ سزا بھگتیں۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان کو وہ دن یاد دلاؤ) جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے جمع کئے جائیں گے۔ ان کی جماعتیں بنائی جائیں گی

[9] یعنی کفار۔ [10] یعنی ہر ایک قسم کے مجرموں کی الگ الگ جماعت ہوگی۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ (جب سب) وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے گوشت پوست ان پر گواہی دیں گے کہ وہ (دُنیا میں) کیا کچھ کرتے رہے۔

[11] اصل میں لفظ '' جلود '' استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی پوست (جلد) کے ہیں اور مراد ہیں تمام اعضا۔ اسی لئے ترجمہ میں گوشت کا لفظ بڑھا دیا گیا ہے اور بولنے میں بھی گوشت پوست بولا جاتا ہے۔
Ayahs 41:21–24

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

وہ لوگ اپنے گوشت پوست سے پوچھیں گے، '' تم نے ہماری خلاف گواہی کیوں دی ؟ '' وہ جواب دیں گے، '' ہم کو اسی اللہ نے گویائی دی ہے جس نے (آج) ہر چیز کو گویا کردیا ہے۔ اسی نے تو تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور (اب) اسی کے پاس پھر لائے گئے ہو۔

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم (دنیا میں گناہ کرتے وقت) پردہ داری (بھی) کرتے تھے (تو) اس خیال سے نہیں کہ (کبھی) تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے گوشت پوست تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ بلکہ تم تو اس گمان میں رہے کہ تمہارے بہت سے اعمال سے اللہ (بھی) واقف نہیں۔

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور تمہاری (یہ) بدگمانی جو تم نے اپنے رب کے حق میں کی تھی تمہیں لے ڈوبی اور تم خسارے میں پڑگئے ''۔

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ صبر کر (کے خاموش) رہیں تو بھی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور اگر معافی چاہیں تو ان کو معافی (بھی) نہیں دی جائے گی۔

[12] اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن تمام چیزیں بول اٹھیں گی جن کے سامنے انسان نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا یہاں تک کہ زمین بھی بولے گی جیسا کہ سورة زلزال میں مذکور ہے۔ احادیث میں ہے کہ بعض ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار کریں گے جو انہوں نے دنیا میں کئے تھے تو اس وقت حکم ہوگا کہ ان کے اعضا کی شہادت پیش کی جائے جن کے ذریعے گناہ کئے تھے۔ ہاتھ اور پاؤں کی گواہی کا ذکر سورة یٰسین میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 41:25–32

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (دنیا میں) ان پر ایسے ہم نشین مسلط کر دئیے تھے جو ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کی نظر میں خوشنما بنا کردکھاتے تھے۔ آخرکار ان کے حق میں بھی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ اللہ کا قول پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ بیشک وہ سب خسارے میں رہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت، اور (جب یہ سنایا جائے تو) اس (کے بیچ بیچ) میں غل مچا دیا کرو، شاید (اس تدبیر سے) تم غالب آجاؤ۔

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم ان کافروں کو ضرور سخت عذاب (کا مزا) چکھا کر رہیں گے اور جو برے برے کام یہ کرتے رہے ہیں ان کا (پورا پورا) بدلہ دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ دوزخ (ہی) اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے، وہاں ان کے لئے ہمیشگی کا گھر ہوگا اس بات کے بدلے میں کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور (وہاں) کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب، (ایک نظر) ہمیں (بھی) دکھا دے ان جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر (اس عقیدے پر) جمے رہے (تو مرتے وقت) ان پر (رحمت کے) فرشتے نازل ہوں گے اور ان سے کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور خوشخبری سنو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی (ہونگے) ۔ (وہاں) جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا تمہارے لئے موجود ہوگی اور جو چیز طلب کرو گے وہاں تمہارے لئے حاضر (کر دی جائے گی) ۔

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بطور مہمانی کے ہوگا اس (ہستی) کی طرف سے جو بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔ [14] یعنی وعدہ عذاب۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور نیکوکار بھی ہو اور (لوگوں سے) کہے کہ میں اس کے فرمانبرداروں میں ہوں۔

[15] پہلے ذکر تھا ان مخصوص مقبول بندوں کا جنہوں نے صرف ایک اللہ کی ربوبیت پر اعتقاد جما کر اپنی استقامت کا ثبوت دیا اور ساری عمر اس پر قائم رہے اور اس کے ساتھ کسی باطل عقیدے کی آمیزش نہیں کی۔ اب یہاں ذکر ہے ایک اور اعلیٰ مقام کا۔ یعنی بہترین شخص وہ ہے جو خود اللہ کا ہو کر رہے، اسی کی حکم برداری کا اعلان کرے، اسی کی پسندیدہ روش پر چلے اور دنیا کو اسی کی طرف آنے کی دعوت دے۔ اس کا قول و فعل بندوں کو اللہ کی طرف کھینچنے میں موثر ہو، جس نیکی کی طرف لوگوں کو بلائے بذات خود اس پر عامل ہو اور اللہ کی نسبت اپنی بندگی اور فرماں برداری کا اعلان کرنے سے کسی موقع پر اور کسی وقت نہ جھجکے۔
Ayahs 41:34–39

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی۔ برائی کا دفعیہ اس نیکی سے کرو جو بہترین ہو۔ پھر (تم دیکھ لو گے کہ) تم میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی جگری دوست ہوتا ہے۔

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ (بات) انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ (دولت) انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اگر تم کو کوئی شیطانی وسوسہ ورغلائے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ وہی (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور (لوگو، ) اللہ کی نشانیوں میں سے رات ہے اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے، (پس) نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ اکڑ رہیں تو (اے پیغمبر، اللہ کے ہاں عبادت کرنے والوں کی کمی نہیں، ) جو (فرشتے) تمہارے رب کی بارگاہ میں ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح (وتقدیس) میں لگے رہتے ہیں اور (کبھی بھی) نہیں اکتاتے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ بنجر (پڑی) ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہا اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے۔ یقینا جس ( اللہ) نے اس (مُردہ زمین) کو زندہ کیا وہ (قیامت میں) مردوں کا بھی زندہ کرنے والا ہے۔ بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[16] یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ مثلاً کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخرکار جگری دوست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بےحیا مخالف بھی شرمندہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ کے خلاف بدکلامی کے لئے کھل سکے گی۔ تاہم اس قاعدہ کلیہ کو اس معنی میں لینا درست نہیں ہے کہ اس اعلیٰ درجے کی نیکی سے ہر شخص جگری دوست ہی بن جائے گا۔ دنیا میں ایسے خبیث النفس لوگ بھی ہوتے ہیں کہ آپ ان کی زیادتیوں سے درگزر کرنے اور ان کی برائی کا جواب احسان اور بھلائی سے دینے میں خواہ کتنا ہی کمال کردکھائیں لیکن اس طرح کے شر مجسم انسان قریب قریب اتنے ہی کم پائے جاتے ہیں جتنے خیر مجسم انسان کمیاب ہیں۔