40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 40:1–7

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (جو) زبردست (اور) علم والا ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا (اور) بڑی مقدرت والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اللہ کی آیات میں صرف وہی لوگ جھگڑتے ہیں جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے، تو ان لوگوں کا (دنیا کے) ملکوں میں دندناتے پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے (کہ ان کو تو کفر سے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا) ۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد (اور) امتوں نے (بھی اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا اور باطل اور جھوٹی (جھوٹی) باتوں سے (سند پکڑ کر) جھگڑے نکالے تاکہ (اپنی کٹ حجتی سے) حق کو لڑکھڑا دیں مگر (آخرکار) ہم نے ان کو پکڑ لیا، پھر (دیکھ لو کہ) ہماری سزا کیسی سخت تھی۔

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح (ان) کافروں پر (بھی) تمہارے رب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے کہ یہ دوزخی ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد (تعینات) ہیں (سب ہمہ وقت) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح (وتقدیس) کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے مغفرت (کی دعائیں) مانگا کرتے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں، ) '' اے ہمارے رب، تو اپنی رحمت اور علم کے ساتھ تمام چیزوں پر حاوی ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا لے جنہوں نے توبہ کرلی ہے اور تیرے (دین کے) راستے پر چلتے ہیں۔

[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔
Ayahs 40:8–11

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

(اور) اے ہمارے رب، ان کو ہمیشگی کی جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے، اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو (بھی داخل کر) ۔ بلاشبہ تو زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) ان کو (ہر طرح کی) برائیوں سے بچا لے، اور جس کو تو نے اس دن کی برائیوں سے بچا لیا تو اس پر تو نے (بڑا) رحم کیا اور یہی بڑی کامیابی ہے ''۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کاراستہ اختیار) کیا ہے (قیامت کے دن) ان کو ندا کی جائے گی کہ جیسی (آج) تم کو اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر اللہ کو (تم سے) نفرت تھی جب (دنیا میں) تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم انکار کرتے تھے۔

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے، '' اے ہمارے رب، تو ہم کو دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے چکا سو (اب) ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں، پھر (اب یہاں سے) نکلنے کی (بھی) کوئی سبیل ہے ؟ ''

[2] یہ مضمون سورة بقرہ آیت 82 صفحہ 41 میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 40:12–13

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

(جواب ملے گا، ) '' یہ (عذاب) تم پر اس وجہ سے (مسلط) ہے کہ (دنیا میں) جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم (اس کو ماننے سے) انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے۔ '' تو (آج) فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے جو عالی مقام اور بزرگ و برتر ہے۔ ''

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

(لوگو، ) وہی ( اللہ) ہے جو تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لئے رزق اتارتا ہے۔ اور (ایسی باتوں سے) تو وہی شخص سبق حاصل کرتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔

[3] یعنی بارش برساتا ہے جو روزی کا سبب ہے۔[4] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے نظام رزق سے اس کی وحدانیت پر استدلال کیا گیا ہے۔ اگر آدمی ایک اپنی روزی ہی کا مسئلہ سمجھ لے جس کا سامان آسمان سے ہوتا رہتا ہے تو نظام کائنات کا وہ تصور جو قرآن دے رہا ہے وہ بھی اس کی سمجھ میں آجائے گا بشرطیکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور غور و فکر سے کام لینے والا ہو۔ روزی کا یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہوسکتا تھا جب کہ پانی، ہوا، سورج اور زمین کی خالق ومالک صرف ایک ہستی ہو اور اس انتظام کا لاکھوں برس سے باقاعدگی کے ساتھ جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ازلی و ابدی اللہ اس کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
Ayahs 40:14–15

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو (مسلمانو، ) خالص اللہ ہی کی فرماں برداری مدنظر رکھ کر اس کو پکارو اگرچہ کافروں کو ناگوار (ہی کیوں نہ) لگے۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ ( اللہ) عالی مرتبہ، مالک عرش (بریں) ، اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ (لوگوں کو) ملاقات کے دن سے خبردار کر دے،

[5] قیامت کو روز ملاقات کہا کہ اس دن تمام جن و انس اللہ کے سامنے جمع ہوں گے۔
Ayahs 40:16–17

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

(یعنی) وہ دن جب کہ (سب) لوگ (اللہ کے سامنے) بےپردہ ہوں گے (اور) ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی ہوئی نہ ہوگی (اس وقت ندا کرنے والا ندا کرے گا، ) '' آج بادشاہی کس کی ہے ؟ '' (تمام خلقت پکار اٹھے گی، ) '' اللہ واحد وقہار کی ''

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

(کہا جائے گا، ) '' آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا (اور) آج (کسی پر مطلق) ظلم نہ ہوگا۔ '' بلاشبہ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

[6] اس جملے کا تعلق پہلے جملے سے اس طرح ہے کہ مقدمے کو دیر تک لٹکائے رکھنا اہل مقدمہ پر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ سو قیامت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس کے سامنے واقعات کی ناقابل انکار شہادتیں بلاتاخیر پیش کی جائیں گی۔ اس لئے ہر مقدمے کا فیصلہ جھٹ پٹ ہوگا۔
Ayahs 40:18–19

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں کو قریب آنے والے روز (قیامت کی مصیبتوں) سے ڈراؤ جب کہ (مارے غم کے) گھٹ گھٹ کر (لوگوں کے) کلیجے منہ کو آجائیں گے۔ (اس روز) ظالموں کا کوئی دلی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

اللہ تو آنکھوں کی چوری تک کو جانتا ہے اور ان (بھیدوں) کو (بھی) جو (لوگوں کے) سینوں میں پوشیدہ ہیں۔

[7] آنکھوں کی چوری سے مراد ہے نگاہ بد یا آنکھ کے اشارے۔
Ayahs 40:20–23

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے گا اور اس کے سوا جن (معبودوں) کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے (کیونکہ) اللہ ہی (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ (لوگ) بل بوتے کے اعتبار سے اور ( ان) آثار کے اعتبار سے جو (وہ روئے) زمین پر (چھوڑ گئے) ہیں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے (مگر کیونکہ کافر اور مفسد تھے) اس لئے اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور ان کو اللہ (کے غضب) سے بچانے والا کوئی بھی نہ تھا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

(اور) یہ اس سبب سے کہ ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آتے رہے لیکن انہوں نے نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دھر پکڑا۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت اور اور سخت سزا دینے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور کھلی سند کے ساتھ بھیجا

[8] آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر گئے تھے۔ [9] اس سے اشارہ یہاں معجزہ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے جس کی نوعیت اللہ کی طرف سے سند کی تھی تاکہ فرعون اور اس کے سرداروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ کا سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔
Ayahs 40:24–25

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو وہ لوگ کہنے لگے کہ (کہ یہ شخص) جادوگر اور پرلے درجے کا جھوٹا ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ہماری طرف سے (دین) حق لے کر ان لوگوں کے پاس آیا تو انہوں نے حکم دیا کہ جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ ہوگئے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالو اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دو ۔ مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی۔

[10] یہ حکم جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 127 میں بیان ہوا ہے اب دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر واپس آنے کے بعد دیا گیا تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ یہ مصیبت ان پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بدولت آئی ہے اور یہ خیال کر کے وہ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں۔ آگے پتہ نہیں اس حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔
Ayahs 40:26–32

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور (ایک روز) فرعون نے (اپنے درباریوں سے) کہا، '' چھوڑو مجھے، میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد پھیلائے گا ''۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا، '' میں تو ہر متکبر شخص (کے شر) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔ ''

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور (اس موقع پر) ایک مرد مومن جو فرعون کے خاندان سے تھا (اور) اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا (یہ ماجرا سن کر) بول اٹھا، '' کیا تم (صرف اتنی بات پر) ایک شخص کو قتل کر ڈالو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی نشانیاں لے کر تمہارے پاس آیا ہے ؟ اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا بھی ہو تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر (پڑے گا، ) اور اگر وہ سچا ہوا تو جس (عذاب) کی وہ پیش گوئی کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ (تو ضرور) تم پر آ نازل ہوگا۔ یقینا اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور پرلے درجے کا جھوٹا ہو۔

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو، ) آج تو تمہاری حکومت ہے (اور) ملک میں تمہارا ہی بول بالا ہے لیکن اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچائے گا اگر (خدانخواستہ) وہ ہم پر آپڑا ؟ '' فرعون نے کہا، '' میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دوں گا جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور وہی راہ بتلاتا ہوں جس میں مصلحت ہے ''

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

وہ شخص جو (درپردہ) ایمان لا چکا تھا بولا، '' اے میری قوم (کے لوگو، ) مجھے تمہاری نسبت (دوسری) امتوں کے سے روز (بد) کا اندیشہ ہے۔

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(تمہارا بھی کہیں ویسا حال نہ ہو) جیسا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا (ہوا تھا) ۔ اور اللہ تو (اپنے) بندوں پر (کسی طرح کا) ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو، ) مجھے تمہاری نسبت قیامت کے دن کا اندیشہ ہے۔

[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔
Ayah 40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے (اور) تم کو اللہ (کے عذاب) سے کوئی (بھی) بچانے والا نہ ہوگا۔ اور (سچ تو یہ ہے کہ) جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی بھی راہ دکھانے والا نہیں۔

[12] یعنی محشر سے پیٹھ پھیر کر دوزخ کی طرف بھگائے جاؤ گے۔
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور (اس سے) پہلے یوسف تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آ چکے ہیں مگر جو (احکام) وہ تمہارے پاس لے کر آئے تھے تم ان میں شک ہی کرتے رہے، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم لگے کہنے کہ (چلو قصہ ختم ہوا اور اب) ان کے بعد ( اللہ) کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ گمراہ کردیتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے گزر جانے والے (اور) شکی ہوتے ہیں

[13] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تمہارے ملک میں یوسف (علیہ السلام) آئے جن کے متعلق تم خود مانتے ہو کہ وہ بلند ترین اخلاق کے حامل تھے اور اس بات کا بھی تمہیں اعتراف ہے کہ بادشاہ وقت کے خواب کی صحیح تعبیر بتا کر تمہیں سات برس کے خوفناک قحط سے بچا لیا جو ان کے دور میں تم پر آیا تھا۔ مگر ان کی ساری خوبیاں جانتے اور مانتے ہوئے بھی تم ان کے جیتے جی بھی ان پر ایمان نہ لائے اور جب ان کی وفات ہوگئی تو کہا کہ اب بھلا ایسا آدمی کہاں پیدا ہوسکتا ہے گویا تم ان کی خوبیوں کے معترف ہوئے بھی تو اس طرح کہ بعد کے آنے والے نبی کا انکار کر کے اسے ایک مستقل بہانا بنا لیا۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہدایت بہرحال تمہیں قبول نہیں کرنی تھی۔
Ayahs 40:35–37

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

(اور) جو اللہ کی آیتوں میں، بغیر اس کے کہ اس نے کوئی سند انہیں دی ہو، جھگڑے نکال کھڑے کیا کرتے ہیں۔ (ان لوگوں کا یہ رویہ) اللہ اور ایمان والوں کے نزدیک بہت ہی ناپسندیدہ ہے۔ اس طرح اللہ ہر مغرور و جابر کے دل پر مہر لگا دیا کرتا ہے۔ ''

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

فرعون نے (اپنے وزیر ہامان سے) کہا، '' اے ہامان، میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا شائد کہ میں (ان) راستوں پر جا پہنچوں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

آسمانوں کے راستے، پس میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں۔ اور بیشک مجھ کو تو (یہ) موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے۔ '' اور اسی طرح فرعون کے لئے اس کی بدکرداری خوشنما بنادی گئی اور اسے راہ ہدایت سے روک دیا گیا اور فرعون کی (ساری) چالبازی (اس کی اپنی) تباہی (کے راستے ہی) میں صرف ہوئی۔

[14] یہ مضمون سورة قصص کی آیت 38 صفحہ 914 میں گزر چکا ہے۔