40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 40:75–78

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا، ) '' یہ اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں ناحق خوش ہوتے تھے اور (پھر اس پر) اتراتے تھے۔

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

(تو اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ (ہمیشہ تم کو) وہیں رہنا ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا ''۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) صبر کرو، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو جس (عذاب) کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں (اس میں سے) کچھ تمہیں دکھلا دیں یا (اس سے پہلے) تمہیں وفات دے دیں، (بہرکیف) لوٹ کر آنا تو انہیں ہماری ہی طرف ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے (کتنے ہی) پیغمبر بھیجے جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم سے بیان کئے ہیں اور بعض کے نہیں بیان کئے۔ اور کسی پیغمبر کی مجال نہ تھی کہ اللہ کے حکم کے بغیر (خود) کوئی معجزہ لا دکھاتا۔ پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل خسارے میں پڑگئے۔

[26] مشرکین مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم تم کو اللہ کا رسول اس وقت مانیں گے جب تم ہمیں فرمائشی معجزہ دکھاؤ گے۔ اس کا جواب ان کے مطالبے کو نقل کئے بغیر یہاں دیا گیا ہے۔ [27] مطلب یہ ہے کہ معجزہ ایک فیصلہ کن چیز ہے اور اس کے دکھائے جانے کے بعد جب کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو پھر وہ ختم کردی جاتی ہے۔ لہذا کفار کا فرمائشی معجزوں کا تقاضا کرنا خود اپنی شامت کو بلانا ہے۔
Ayahs 40:79–80

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

(لوگو، وہ) اللہ (ہی تو ہے) جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے ہیں تاکہ ان میں سے (کسی پر) سوار ہو اور (کسی کا) گوشت کھاؤ۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں (اور ایک غرض یہ بھی ہے) کہ تم ان پر (سوار ہو کر) اپنے دلی مقصد کو پہنچو۔ اور تم ان پر (بھی) اور کشتیوں پر (بھی) لدے لدے پھرتے ہو۔

[28] یعنی جہاں جانے کی حاجت تمہارے دل میں ہے وہاں جا سکو۔
Ayah 40:81

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور ( اللہ) تم کو (اپنی قدرت کی اور بھی) نشانیاں دکھاتا ہے تو (آخر) اس کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے ؟

[29] یعنی ان نشانیوں کے ہوتے ہوئے کسی اور نشانی کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟
Ayahs 40:82–85

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا ؟ وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور (کیا) بل بوتے کے اعتبار سے اور (کیا) ان آثار کے اعتبار سے جو وہ (روئے) زمین پر چھوڑ گئے ہیں (ان سے) کہیں بڑھ چڑھ کر تھے، مگر ان کی کمائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پھر جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی ان پر الٹ پڑا۔

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو (آتا) دیکھا تو پکار اٹھے (اب) ہم لے آئے ایمان اللہ وحدہئ (لاشریک) پر اور ہم انکار کرتے ہیں ان (معبودوں) کا جنہیں ہم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے تھے۔

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

مگر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو (آتے) دیکھ لیا تو (اس وقت) ان کا (یہ) ایمان ان کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکا (کیونکہ یہی) دستور الٰہی ہے جو (سدا سے) اس کے بندوں میں جاری رہا ہے، اور اس وقت کافر خسارے میں پڑگئے۔

[30] دستور الٰہی یہی ہے کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔