40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 40:38–46

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

وہ شخص جو (درپردہ) ایمان لایا تھا، بولا '' اے میری قوم (کے لوگو، ) میرے کہے پر چلو، میں تمہیں ٹھیک راستہ بتلاتا ہوں۔

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم (والو، ) یہ دنیا کی زندگی (تو) بس (چند روزہ) فائدے ہیں اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ ملے گا، اور جو نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے (اور) وہاں ان کو بےحساب روزی ملے گی۔

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اے میری قوم (والو، ) یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو۔

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

(یعنی) تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس چیز کو شریک کروں جس (کے شریک الٰہی ہونے) کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اور میں تمہیں اس ( اللہ) کی طرف بلاتا ہوں (جو) زبردست (اور گناہوں کا) بخشنے والا ہے۔

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

(پس) کچھ شک نہیں کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو وہ نہ تو دنیا ہی میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں۔ اور ہم (سب) کو لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اور جو لوگ (بندگی کی) حد سے نکل رہے ہیں وہی دوزخی ہیں۔

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

تو جو بات میں تم سے کہہ رہا ہوں عنقریب (وہ وقت آئے گا جب) تم (اسے) یاد کرو گے اور میں تو اپنا معاملہ اللہ (ہی) کے سپرد کرتا ہوں، بیشک وہ (اپنے) بندوں کا نگران حال ہے۔ ''

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان لوگوں کی تدبیروں کے شر سے اس (مرد مومن) کو بچا لیا اور (خود) فرعونیوں کو بدترین عذاب نے گھیر لیا،

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

(یعنی دوزخ کی) آگ جس کے سامنے وہ صبح و شام لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی (تو حکم ہوگا کہ) فرعونیوں کو شدید ترین عذاب میں داخل کرو۔

[15] یہ آیت عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے۔ یہاں واضح الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کم درجے کا عذاب یعنی صبح و شام فرعونیوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے۔ چناچہ قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔ پھر قیامت میں انہیں دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مرنے والے کو اس کا آخری مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت کا اور دوزخی کو دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تجھے قیامت کے دن زندہ کر کے دوبارہ اٹھائے گا۔
Ayahs 40:47–51

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور (ذرا اس وقت کا خیال کرو) جب وہ (کافر) ایک دوسرے سے دوزخ میں جھگڑیں گے، تو (جو لوگ دنیا میں) کمزور (تھے وہ) ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے تو (اب دوزخ کی) آگ کا کچھ حصہ ہم (پر) سے ہٹا سکتے ہو ؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے کہ ہم سب ہی اس میں (پڑے) ہیں (اور) اللہ تو اپنے بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

(اس کے بعد) جو لوگ دوزخ میں ہوں گے وہ دوزخ کے محافظوں سے کہیں گے، '' تم اپنے رب سے دعا کرو کہ کسی دن تو ہم (پر) سے عذاب ہلکا کردیا کرے ''۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ پوچھیں گے، کیا '' تمہارے پاس تمہارے پیغمبر کھلی نشانیاں لے لے کر نہیں آتے رہے ؟ '' وہ کہیں گے، '' ہاں (آتے تو رہے لیکن ہم نے ان کی ایک نہ سنی) ''۔ محافظ کہیں گے، '' پھر تم (ہی) دعا کرو ''۔ اور (اس دن) کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے۔

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان لانے والوں کی مدد دنیوی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور اس دن بھی (کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے،

[16] یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور گواہ حاضر کئے جائیں گے۔
Ayahs 40:52–53

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کو ان کی معذرت (کچھ بھی) نفع نہ دے گی اور ان پر لعنت ہوگی اور ان کے (رہنے کے) لئے (بہت ہی) برا گھر ہوگا۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم ہی نے موسیٰ کو ہدایت (نامہ یعنی تورات) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا۔

[17] بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنانے کے یہ معنی ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد وہ کتاب بنی اسرائیل میں رہی اور ان کے علماء لوگوں کو اس کے مطابق ہدایت کرتے رہے۔
Ayahs 40:54–55

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

(جس میں) عقل مندوں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، تم کافروں کی ایذا دہی پر) صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے، (وہ تمہاری مدد فرمائے گا) ۔ اور (اللہ سے) اپنے گناہ کی معافی چاہو۔ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح (وتقدیس) کرتے رہو۔

[18] یہاں گناہ سے مراد بےصبری کی وہ کیفیت ہے جو کفار مکہ کی شدید مخالفت کی وجہ سے نبی ﷺ کے دل میں پیدا ہوئی تھی اور آپ چاہتے تھے کہ جلد کوئی معجزہ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی بات ظہور میں آجائے جس سے کفار کے ظلم وعناد کا جوش ٹھنڈا ہوجائے اور وہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہوجائیں۔ یہ خواہش شرع کی رو سے تو گناہ نہیں مگر آپ کے رتبہء عالی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں مثل گناہ کے تھی۔ لہذا ارشاد ہوا کہ اپنے گناہوں کی معافی چاہو۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں بغیر اس کے کہ کوئی سند ان کے پاس آئی ہو، ان کے دلوں میں تو بس بڑائی (کی بیجا ہوس سمائی) ہے (مگر) وہ (اپنی) اس (مراد) کو کبھی پہنچنے والے نہیں۔ پس (اے پیغمبر، ان لوگوں کی شرارتوں سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہو۔ بلاشبہ وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

[19] یعنی ان کی مخالفت صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کا غرور مانع ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر سے اوپر ہو کر رہیں یا کم از کم اس کے سامنے جھکنا نہ پڑے لیکن وہ اپنے مقصد کو کبھی نہیں پہنچ سکتے۔
Ayahs 40:57–58

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

(دیکھو، ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو (دوبارہ) پیدا کرنے کے مقابلے میں یقینا بڑا (کام) ہے مگر اکثر لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے وہ اور بدکار (برابر نہیں ہوسکتے، مگر) تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو۔

[20] یہ آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح فرمائی کہ اگر آخرت نہیں ہے جیسا کہ یہ لوگ گمان کئے بیٹھے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے اور اس کے خالق کے نزدیک عقل و دل کے اندھے اور عقل و بصیرت رکھنے والے دونوں یکساں ہیں اور نیکوکار اور بدکار میں اس کے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ پس آخرت نہ ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ نیک وبد آخرکار مر کر مٹی ہوجائیں اور ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ پھر تو ایک بدکار آدمی بڑا عقلمند ہے کہ مرنے سے پہلے خوب دادعیش دے گیا اور ایک نیک بخت آدمی سخت بیوقوف ہے کہ خواہ مخواہ اپنے اوپر اخلاقی پابندیاں عائد کئے رہا۔ اس کے علاوہ آخرت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی صفات عدل، حکمت، رحم اور قدرت کی نفی ہوجاتی ہے جو دوسرے الفاظ میں خود خود اللہ تعالیٰ کی نفی کے ہم معنی ہے۔ لہذا آخرت کا ہونا لازمی ہے اور اسے ہونا چاہئے۔
Ayahs 40:59–60

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

یقینا قیامت ضرور آکر رہے گی، اس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

(لوگو، ) تمہارا رب فرماتا ہے کہ ہمیں پکارو، ہم تمہاری (دعا) قبول کریں گے، (اور) جو لوگ (مارے غرور کے) ہماری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ عنقریب (ذلیل و) خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔

[21] اس آیت میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کو جو کچھ مانگنا ہے وہ اللہ ہی سے مانگے اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارے۔ دوسرے یہ کہ دعا قبول کرنے کے کل اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں۔ اگر اس سے خلوص نیت کے ساتھ دعا مانگی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ کے لئے نہ ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دعا قبول ہونے کی تین صورتیں ہیں یا تو دعا اس دنیا میں قبول کرلی جاتی ہے، یا اسے آخرت میں اجر دینے کے لئے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے یا اس درجے کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے۔ تیسری بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ پہلے فقرے میں جس چیز کو دعا سے تعبیر کیا گیا تھا اسی کو دوسرے فقرے میں عبادت فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا عین عبادت ہے اور اللہ سے دعا مانگنا عین تقاضائے بندگی ہے اور اس سے منہ موڑنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی تکبر میں مبتلا ہے اور اپنی بندگی کا اقرار کرنے سے کتراتا ہے۔
Ayahs 40:61–67

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

(لوگو، وہ) اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو دیکھنے کے لئے (روشن بنایا) ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر (بڑا ہی) فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ (اس کا) شکر ادا نہیں کرتے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

(لوگو، ) یہی اللہ تو تمہارا رب ہے، کل چیزوں کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کدھر بہکے جا رہے ہو ؟

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ (پہلے) لوگ بھی بہکتے رہے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

(لوگو، وہ) اللہ (ہی تو ہے) جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا۔ اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں (بھی) بنائیں (تو کیا ہی) اچھی۔ اور عمدہ عمدہ چیزیں تمہیں (کھانے کو) دیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے، بڑی برکتوں والا ہے تمام جہانوں کا پالنے والا۔

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی ہے زندہ ( وجاوید ہستی) ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس خالص اس کی فرمانبرداری مدنظر رکھ کر اسی کی عبادت کرو۔ سب تعریفیں اللہ (ہی) کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ مجھے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان (ہستیوں) کی عبادت کروں۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ (بھلا میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں) جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی نشانیاں آچکی ہیں ؟ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کا فرماں بردار ہو کر رہوں۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے تم کو (پہلی مرتبہ) مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی بوند سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تم کو بچہ (بنا کر ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے، پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے تاکہ) تم اپنی جوانی کو پہنچو، پھر (اور زندہ رکھتا ہے تاکہ) بڑھاپے کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی ( ان وقتوں سے) پہلے (ہی) مرجاتا ہے۔ (غرض یہ سب کچھ اس لئے کیا جاتا ہے) تاکہ تم (موت کے) وقت ِ مقرر تک پہنچ جاؤ اور (مقصود اصلی یہ ہے) تاکہ تم سمجھو۔

[22] یعنی تمہیں سمجھنا چاہئے کہ زندگی کی اتنی حالتوں سے تم گزرتے ہو تو ممکن ہے کہ ایک حالت اور بھی گزرے اور وہ مر کر جی اٹھنا ہے۔ آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔
Ayahs 40:68–70

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ اور جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو بس اسے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، وہ کہاں (حق سے) پھرے جا رہے ہیں ؟

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

(یہ) وہ لوگ ہیں جو (اس) کتاب کو جھٹلاتے ہیں اور ان (کتابوں) کو (بھی) جو ہم نے اپنے (دوسرے) پیغمبروں کے ساتھ بھیجی تھیں، سو عنقریب ان کو (اس جھٹلانے کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا

[23] یعنی قرآن کو۔
Ayah 40:71

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی وہ گھیسٹے جائیں گے

[24] زنجیر کا ایک سرا طوق میں اٹکا ہوا اور دوسرا فرشتے کے ہاتھ میں ہوگا۔
Ayahs 40:72–74

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے ہوئے پانی میں (اور) پھر آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ '' کہاں ہیں وہ (معبود) جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے ؟ ''

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے، '' وہ (تو) ہم سے کھوئے گئے، بلکہ ہم تو (اس سے) پہلے اللہ کے سوا کسی چیز کو پکارتے ہی نہ تھے ''۔ اس طرح اللہ کافروں کو بدحواس کر دے گا۔

[25] یعنی پہلے تو گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا کہ وہ ہم سے کھوئے گئے، پھر سنبھل کا انکار کردیں گے کہ ہم نے اللہ کے سوا کسی چیز کو پکارا ہی نہیں۔