39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ زبردست (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے۔

Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یقینا یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق اتاری ہے۔ پس تم اللہ ہی کی عبادت کرو، خالص اسی کی اطاعت کے ساتھ

[1] عبارت کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11 صفحہ 5۔
Ayahs 39:3–4

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

سن لو، خالص اطاعت اللہ ہی کے لئے ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے حمایتی بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے نزدیک کردیں (تو) اللہ (قیامت کے دن) یقینا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ اللہ یقینا ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو جھوٹا (اور) ناشکرا ہو۔

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو اپنی فرزندی میں لینا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا، (لیکن) اس کی ذات (زن و فرزند کے بکھیڑے سے) پاک ہے۔ وہ اللہ ہے یکتا (اور) سب پر غالب

[2] یہاں دین بمعنی اطاعت ہے۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے کہ (یہ) سب ایک مقررہ وقت تک چلتے رہیں گے۔ سن رکھو، زبردست (اور) بخشنے والا بھی وہی ہے۔

[3] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔ [4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585 اور سورة لقمان حاشیہ 11 صفحہ 977۔
Ayahs 39:6–9

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم لوگوں کو (آدم کے) تن واحد سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے۔ وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے (اور بتدریج) تین تاریکیوں میں ایک شکل کے بعد دوسری شکل (دیتا چلا جاتا ہے) ۔ یہی اللہ تو تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم لوگ (حق سے) کدھر پھرے جا رہے ہو ؟

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

(لوگو، ) اگر تم ناشکری کرو تو اللہ تم سے بےنیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری (کا رویہ) پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کا شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور (جان رکھو کہ قیامت کے دن) کوئی کسی (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم (سب) کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم لوگ (دنیا میں) کیا کچھ کرتے رہے۔ وہ تو سینوں کے بھیدوں (تک) سے واقف ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارتا ہے۔ پھر جب ( اللہ) اپنی طرف سے اس کو نعمت عطا فرماتا ہے تو جس (مطلب) کے لئے اس نے پہلے (اللہ کو) پکارا تھا اس کو بھول جاتا ہے اور اللہ کے (ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کی راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کرے۔ (اے پیغمبر، ایسے شخص سے) کہہ دو کہ اپنے کفر کا مزا کچھ دن اٹھا لے (آخرتو) تو دوزخیوں میں سے ہے۔

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا جو شخص شب کے اوقات میں عاجزانہ (اپنے رب کے آگے) سجود و قیام کرتا، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی امید کرتا ہو (کہیں اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو ان صفات سے عاری ہو ؟ ان لوگوں سے) پوچھو کہ کہیں علم والے اور بےعلم بھی برابر ہوئے ہیں ؟ (مگر ان باتوں سے) نصیحت عقل رکھنے والے ہی حاصل کرتے ہیں۔

[5] اس سے مراد بی بی حوا ہیں۔ [6] یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔ [7] تین تاریکیوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع یہ کاریگری سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔ [8] یعنی تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔
Ayahs 39:10–11

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ہماری طرف سے مسلمانوں سے) کہہ دو کہ اے ہمارے بندو جو ایمان لا چکے ہو، اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے (آخرت میں) بھلائی ہے اور اللہ کی زمین (بڑی) فراخ ہے۔ اور صبر کرنے والوں کو تو ان کا صلہ (آخرت میں) بےحساب دیا جائے گا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں خالص اللہ ہی کی اطاعت کے ساتھ اس کی عبادت کروں

[9] یعنی اگر کسی خاص سرزمین میں احکام دین پر عمل کا موقع نہیں ملتا تو کسی اور جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی سے اللہ کے احکام بجا لا سکو۔ [10] یعنی ان لوگوں کو جنہوں نے راہ حق میں سختیاں برداشت کیں اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
Ayah 39:12

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور (نیز) مجھے یہ حکم ملا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنوں۔

[11] یعنی جس دین کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اس کا سب سے پہلے قبول کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا میں خود بنوں۔
Ayahs 39:13–15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں (اپنے لئے) ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں خالص اسی کی اطاعت کے ساتھ۔

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

(رہے تم) تو اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ کہو، فی الحقیقت خسارے میں تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈال دیا۔ سن رکھو، یہی صریح خسارہ ہے۔

[12] یعنی روز قیامت۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر سے آگ ہی کا ان کا اوڑھنا ہوگا اور ان کے نیچے (آگ ہی کا) بچھونا۔ یہی وہ (انجام) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے ہمارے بندو ہم سے ڈرو (تاکہ ہمارے عذاب سے محفوظ رہو) ۔

[13] آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ان کے اوپرآگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے بھی سائبان، لیکن ترجمے میں جو محاورہ استعمال کیا گیا ہے وہ بہت ہی چسپاں ہے۔
Ayahs 39:17–20

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے ان کے لئے (جنت کی) خوشخبری ہے۔ پس (اے پیغمبر، ) خوشخبری سنا دو ہمارے ان بندوں کو

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی عقل والے ہیں۔

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم چسپاں ہوچکا ہو (اسے کون بچا سکتا ہے ؟ ) کیا تم (اسے) بچا سکو گے جو آگ میں (گر چکا) ہے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے (بہشت میں) بالاخانے (اور) بالاخانوں کے اوپر (اور) بالاخانے بنے ہوئے (موجود) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ (ان سے) اللہ کا وعدہ ہے (اور) اللہ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا

[14] '' طاغوت '' کی تشریح سورة بقرہ کی آیت 256 صفحہ 78 کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 39:21–22

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

(اے انسان، ) کیا تو نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے، پھر زمین میں اس کے چشمے جاری کردیتا ہے، پھر وہی اس (پانی) کے ذریعے سے رنگ برنگ کی کھیتیاں نکالتا ہے، پھر وہ کھیتیاں خشک ہوجاتی ہیں اور تو ان کو زرد دیکھتا ہے، پھر اللہ ان کو چورا چورا کردیتا ہے۔ بلاشبہ (کھیتی کی) اس (ابتداء و انتہا) میں اہل عقل کے لئے (بڑی) نصیحت ہے۔

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

پھر بھلا جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک نور (ہدایت) پر (چل رہا) ہے (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کفر کی تاریکیوں میں پڑا ہے ؟ ) ۔ پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہوگئے۔ یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

[15] یعنی عقل مند آدمی کھیتی کا حال دیکھ کر نصیحت حاصل کرتا ہے کہ جس طرح اس کی رونق اور سرسبزی چند روزہ تھی پھر وہ چورا چورا ہوگئی۔ یہی حال دنیا کی چہل پہل کا ہوگا۔ پس آدمی کو چاہئے کہ دنیا کی اس عارضی بہار پر فریفتہ ہو کر انجام سے غافل نہ ہوجائے۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے (یعنی) ایسی کتاب جس کی تمام آیات ہم رنگ ہیں (اور لوگوں کو سمجھانے کے لئے) بار بار دہرائی گئی ہیں۔ (اس کتاب کی تاثیر یہ ہے کہ) جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں (اس کے سنتے ہی) ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر یاد الٰہی کی طرف (راغب) ہوتے ہیں۔ یہ (کتاب) ہدایتِ الٰہی ہے جس کے ذریعے سے اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو پھر کوئی بھی اس کو ہدایت دینے والا نہیں۔

[16] پورا قرآن بیک وقت تو اترا نہیں بلکہ بتدریج ایک مدت دراز تک (یعنی تقریباً 23 سال تک) نازل ہوتا رہا۔ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو ایسی کیا بات ہے کہ اتنی مدت تک ہمہ وقت اس کے خیالات یکساں رہیں اور اس کے مضامین میں تضاد نہ پایا جائے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک قرآن ایک نسق پر چلا جاتا ہے اور جو تعلیم مدنظر ہے وہ قرآن کی ہر ہر جگہ سے ٹپک رہی ہے اور یہی اس کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی دلیل ہے۔
Ayahs 39:24–28

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ کو عذاب بد کی سپر بنائے گا (اس جیسا ہوسکتا ہے جو اس سے محفوظ ہوگا ؟ ) ایسے ظالموں سے کہہ دیا جائے گا کہ (دنیا میں) جیسا کچھ تم کرتے رہے ہو (اب اس کا مزہ) چکھو۔

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ن سے پہلے بھی لوگوں نے (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب ایسی طرف سے آیا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پس اللہ نے ان کو (اسی) دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ (اس بات کو) سمجھتے۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی (زبان میں) ہے، اس میں کوئی کجی نہیں، تاکہ یہ (اہل عرب اپنی زبان مادری ہونے کی وجہ سے اس کو بخوبی سمجھیں اور سمجھ کر اللہ کی نافرمانی سے) بچیں۔

[17] آدمی کا قاعدہ ہے کہ سامنے سے جب حملہ ہو تو ہاتھوں پر روکتا ہے مگر منہ پر مار پڑنے نہیں دیتا۔ کسی ضرب کو آدمی اسی وقت اپنے منہ پر لیتا ہے جب وہ انتہائی بےبس ہو۔ کیونکہ دوزخی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے، اس لئے عذاب کی تھپیڑیں سیدھی منہ پر پڑیں گی۔
Ayahs 39:29–30

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

(اب) اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص (غلام) ہے جس میں کئی (آقا) ساجھی ہیں، آپس میں باہم ضد رکھنے والے (جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں) اور ایک (دوسرا) شخص ہے کہ پورے کا پورا ایک ہی شخص کا (غلام) ہے، تو کیا ان دونوں (غلاموں) کی حالت یکساں ہوسکتی ہے ؟ (یہ لوگ تو کیا جواب دیں گے، اے پیغمبر تم خود ہی کہو کہ) سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، مگر ان میں سے اکثر (اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے۔

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تمہیں بھی مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں۔

[18] یہ مثال مشرک اور موحد کی ہے۔ مشرک کا دل کئی طرف بٹا ہوا ہوتا ہے۔ اور کتنے ہی جھوٹے معبودوں کو خوش کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کے برخلاف موحد صرف ایک اللہ کا بندہ اور پوری دلجمعی کے ساتھ اس کے خوش رکھنے کی فکر میں ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی خوشنودی کے بعد کسی کی خوشنودی کی ضرورت نہیں۔[19] یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم خود بھی اپنے دلوں میں ان دونوں حالتوں کا فرق محسوس کرتے ہو۔ [20] یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق تو خوب جانتے ہیں مگر ایک اللہ کی بندگی اور بہت سے الہٰوں کی بندگی کا فرق نہیں سمجھتے۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن تم (دونوں فریق) اپنے رب کے سامنے (اپنا اپنا) مقدمہ پیش کرو گے۔

[21] یعنی تم اور وہ، دو فریقوں کی حیثیت سے اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا بتایا اور سکھایا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا جواب دیا۔ پھر اس وقت عملی فیصلہ ہوگا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جب سچی بات اس کو پہنچے تو وہ اسے جھٹلائے۔ کیا (ایسے) کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا ؟

[22] یعنی اس کے لئے شریک اور اولاد قرار دے۔
Ayahs 39:33–35

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو سچی بات لے کر آیا اور (جس نے) اس کی تصدیق کی تو وہی لوگ (عذاب سے) بچنے والے ہیں۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ یہ ہے صلہ نیکی کرنے والوں کا۔

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ جو اعمالِ بد پھر انہوں نے کیے ہیں اللہ ان (اعمال کے انجام) کو ان سے دور کر دے اور ان کے نیک کاموں کے عوض ان کو ان کا اجر عطا فرمائے۔

[32] جو سچی بات لے کر آیا وہ پیغمبر ہے اور سچی بات قرآن اور جس نے اس کی تصدیق کی وہ مسلمان۔
Ayahs 39:36–39

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

اے پیغمبر، کیا اللہ اپنے بندے (کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں ؟ (یہ لوگ) تم کو اس کے سوا (دوسروں سے) ڈراتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اسے تو کوئی (بھی) ہدایت دینے والا نہیں۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت دے تو کوئی (بھی) اسے گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست (اور) انتقام لینے والا نہیں ہے ؟

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ضرور (یہی) کہیں گے کہ اللہ نے۔ (اب ان سے) پوچھو کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہچانی چاہے تو اس کے سوا جن (معبودوں) کو تم پکارتے ہو یہ اس کی (پہنچائی ہوئی) تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا وہ مجھ پر (اپنا) فضل کرنا چاہے (تو) کیا یہ (معبود) اس کے فضل کو روک سکتے ہیں ؟ (اے پیغمبر، ) کہہ دو کہ میرے لئے تو اللہ کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ، بیشک میں (بھی اپنی جگہ) کام کر رہا ہوں، پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔

[24] مشرکین نبی کو اپنے بتوں کے قہروغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آجائیں ورنہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے یا ہلاک کردیں گے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 39:40

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر (دنیا میں) عذاب آیا چاہتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور (آخرت میں) اس پر دائمی عذاب نازل ہوگا (سو الگ) ۔

[25] چناچہ یہ عذاب مشرکین مکہ پر جنگ بدر کی صورت میں نازل ہوا۔