38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

صاد۔ اس نصیحت بھرے قرآن کی قسم،

Ayah 38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

(ان لوگوں کا انکار کسی دلیل پر مبنی نہیں) بلکہ (یہ) کافر (سخت) گھمنڈ اور ہٹ دھرمی میں (مبتلا) ہیں۔

Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں (اور جب ان پر ہمارا عذاب اترا) تو انہوں نے بڑی ہائے پکار کی مگر وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا۔

Ayahs 38:4–5

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان (ہی) میں سے (ایک شخص عذاب الٰہی سے) ڈرانے والا ان کے پاس آگیا۔ اور (یہ) کافر کہنے لگے کہ یہ (شخص) ساحر (اور) کذاب ہے۔

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

(ارے) کیا اس نے سارے معبودوں کی جگہ بس ایک معبود بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

[1] یعنی اس کے لائے ہوئے کلام میں اثر اور اس کے پیش کئے ہوئے معجزات اس کے ساحر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ [2] یعنی دعوائے نبوت میں سخت جھوٹا ہے۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے سردار یہ کہتے ہوئے چل کھڑے ہوئے کہ چلو جی، (اس کی ایک نہ سنو) اور جمے رہو اپنے معبودوں (کی عبادت) پر، ضرور اس بات میں (اس شخص کی) کوئی (ذاتی) غرض ہے۔

[3] روایات میں ہے کہ سرداران قریش نے رسول اکرم ﷺ کے چچا ابو طالب سے شکایت کی کہ تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے تم اسے سمجھاؤ کہ اپنی روش سے باز آجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ صرف ایک کلمہ قبول کرلیں تو تمام عرب و عجم ان کا مطیع ہوجائے۔ وہ خوش ہو کر بولے کہ بتلاؤ وہ کلمہ کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا '' لا الہ الا اللہ ''۔ یہ سنتے ہی وہ طیش میں آ کر کھڑے ہوگئے اور بولے کیا اتنے الہٰوں کو ہٹا کر صرف ایک اِلٰہ ؟ چلو جی، یہ تو اپنے منصوبے سے بازنہ آئیں گے پس تم بھی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔ [4] یعنی یہ شخص چاہتا ہے کہ ایک اللہ کا نام لے کر ہم سب کو اپنا محکوم بنا لے اور حکومت حاصل کرلے۔
Ayahs 38:7–10

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

ہم نے یہ بات تو پچھلے دین (نصرانیت) میں بھی نہ سنی۔ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے۔

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم میں سے (یہی شخص رہ گیا تھا کہ) اس پر (اللہ کا) ذکر نازل کیا گیا ؟ بلکہ ان لوگوں کو (سرے سے) ہمارے کلام (ہی) میں شک ہے۔ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) انہوں نے (ابھی) ہمارے عذاب (کا مزا) نہیں چکھا (ورنہ ان کی عقل ٹھکانے آگئی ہوتی) ۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تمہارے رب کی رحمت کے خزانے جو زبردست اور بہت عطا فرمانے والا ہے ان لوگوں کے پاس ہیں ؟

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

کیا آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان (سب) کا اختیار ان کو (حاصل) ہے ؟ (اگر ہے) تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر (آسمان پر) چڑھ جائیں (اور اس رحمت کو روک دیں جو اللہ اپنے پیغمبر پر نازل فرما رہا ہے) ۔

[5] یعنی نصرانی بھی تین الہٰوں کے قائل ہیں اور یہ شخص ایک ہی اِلٰہ بتاتا ہے۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہ تو ایک گروہ ہے منجملہ (مخالفین انبیاء کے) گروہوں کے جو اسی جگہ شکست کھانے والا ہے۔

[6] مراد وہی اہل مکہ ہیں اور '' اسی جگہ '' کا اشارہ مکہ معظمہ کی طرف ہے یعنی یہ لوگ ایک دن اسی جگہ شکست کھانے والے ہیں۔ پُرقو ّت اہل مکہ کی شکست کی پیش گوئی اس قطعیت کے ساتھ کردینا بجائے خود ایک قرآنی معجزہ ہے۔
Ayahs 38:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح، اور عاد، اور میخوں والا فرعون، (یہ سب پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں۔

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور قوم لوط اور آیکہ والے (بڑے بڑے) یہی تو وہ گروہ تھے۔

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان سب ہی نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو (ہمارا) عذاب ( ان پر) چسپاں ہو کر رہا۔

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور (اب) یہ لوگ بھی بس ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی مہلت نہیں۔

[7] فرعون کی کثیر فوج کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھی۔ عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو ہمارا حصہ روز حساب سے پہلے ہی دے دے۔

[8] یعنی جب قیامت کی دھمکی سنتے تو ہنسی کے طور کہتے کہ ہمیں اس وقت کا حصہ یہیں مل جائے اور ہم اپنا اعمال نامہ دیکھ لیں اور ہاتھ کے ہاتھ سزا سے فارغ ہوجائیں۔
Ayahs 38:17–24

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جیسی جیسی باتیں یہ لوگ کرتے ہیں ان پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو کہ (باوجودیکہ وہ بڑی) قوت رکھتا تھا (مگر اس پر بھی) وہ (ہر معاملے میں ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا۔

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح (وتقدیس) کرتے تھے۔

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور ( اسی طرح) پرندوں کو بھی (اس کا تابع کر رکھا تھا) کہ وہ بھی (اس کے پاس) سمٹ آتے (اور) سب کے سب اس کی طرف متوجہ رہتے۔

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے اس کی سلطنت کو مستحکم کردیا تھا اور اسے حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) بھلا (ان) دعویداروں کی (بھی) خبر تمہیں پہنچی ہے جب وہ دیوار پھاند کر (داؤد کے) حجرہئ (عبادت) میں داخل ہوئے تھے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب وہ داؤد کے پاس پہنچے تو وہ ان (کے بےوقت اور خلاف عادت آنے) سے گھبرا گیا۔ وہ بولے، '' آپ ڈرئیے نہیں، ہم دو فریق مقدمہ ہیں۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو لہذا آپ (سے درخواست ہے کہ) ہمارے درمیان منصفانہ فیصلہ کر دیجئے اور (کوئی) بےانصافی نہ کیجئے۔ اور ہمیں سیدھی راہ بتا دیجئے۔

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

'' یہ شخص میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ اپنی (ایک) دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھے دباتا ہے (اور اپنے آگے میری بات چلنے نہیں دیتا۔ ) ''۔

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

(داؤد نے) کہا، '' اس شخص نے تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کا مطالبہ کر کے واقعی تجھ پر ظلم کیا اور یہ واقعہ ہے کہ مل جل کر رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر (اسی طرح) زیادتی کیا کرتے ہیں، مگر (ہاں) جو لوگ ایمان رکھتے اور نیک عمل کرتے ہیں (وہ اس سے بچے ہوئے ہیں) اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ '' اور (یہ بات کہتے کہتے) داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے، چناچہ اس نے اپنے رب کے آگے (توبہ و) استغفار کی اور سجدے میں گرگیا اور (ہماری طرف) رجوع کیا۔

[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل تھی لیکن اس چیز نے ان کو غرور وتکبر میں مبتلا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے رب کی طرف برابر متوجہ رہنے والے بندے تھے اور دوسروں کے واقعات سے اپنی فروگزاشتوں پر متنبہ ہو کر اپنے رب سے توبہ و استغفار کرتے تھے۔
Ayahs 38:25–27

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کردیا اور یقینا ہمارے ہاں اس کے لئے (خاص) قرب اور اچھا ٹھکانہ ہے۔

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

(ہم نے داؤد سے فرمایا، ) '' اے داؤد، ہم نے تم کو زمین میں نائب بنایا ہے پس لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کیا کرو اور (اپنی نفسانی) خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ اللہ کے راستے سے تم کو بھٹکا دے گی۔ (اور) جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے یقینا سخت عذاب ہے اس لئے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار پیدا نہیں کیا یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے، تو (ایسے) کافروں کے لئے ہلاکت ہے (دوزخ کی) آگ سے۔

[10] یہ قصور کیا تھا، قرآن نے اس کی کوئی تصریح نہیں کی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے۔ یہ معاملہ داؤد (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک راز ہے، اس وجہ سے کسی کو اس کی کھوج کرید کا حق نہیں۔ مقدمے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ہی داؤد (علیہ السلام) کا دفعتاً چوکنے ہونے سے صرف یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے ملتے جلتے امتحان میں وہ خود بھی مبتلا تھے۔
Ayahs 38:28–31

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کردیں ؟ کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں ؟

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر، انہی حقائق کی یاد دہانی کے لئے) یہ مبارک کتاب ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور (وفکر) کریں اور اہل فہم (اس سے) نصیحت حاصل کریں۔

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عنایت فرمایا (جوبہت) خوب بندہ تھا اور (اپنے رب کی طرف) بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

(ایک دفعہ) شام کے وقت جب اس کے روبرو اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے

[11] یعنی ہمارے عدل و انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ نیک اور ایمان والوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایمان دار آدمی قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو تاکہ ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے۔
Ayahs 38:32–33

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو اس نے کہا، '' مجھے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے پسند آئی ہے ''۔ (پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ وہ پردے میں چھپ گئے۔

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(پھر اس نے حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ۔ (چنانچہ وہ لائے گئے) تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

[12] یعنی ان سے رضائے الٰہی اور تقویت دین کے لئے محبت کرنا ہے۔ میری محبت ان کے ساتھ دنیوی غرض سے نہیں۔ [13] یعنی نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔
Ayahs 38:34–37

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) سلیمان کو (بھی) ہم نے آزمایا اور اس کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا۔ پھر اس نے (ہماری طرف) رجوع کیا۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اس نے) کہا، '' اے میرے رب میرا قصور معاف فرما اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر جو میرے بعد کسی کو سزاوار نہ ہو۔ بیشک تو بڑا فیاض ہے۔ ''

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تب ہم نے ہوا کو اس کے تابع کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ (اس طرف) چلتی تھی جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا۔

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور (اسی طرح) شیاطین (یعنی جنات) معماروں اور غوطہ خوروں کو (بھی اس کا تابع کردیا)

[14] اس آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ ان کے تخت پر کوئی جسم ڈال دیا گیا تھا۔ وہ جسم کیا تھا اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی اس کی تفصیل نہ قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا قرآن نے جس بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنی بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی آزمائش کی تھی جس کے بعد انہوں نے پہلے سے زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔ اور قرآن کا مقصد اتنے بیان سے پورا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 38:38–40

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے (شیاطین کو بھی) جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے رہتے۔

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے سلیمان سے کہا، ) '' یہ ہے ہماری بخشش، اب تم (چاہو لوگوں کو دو اور ان پر) احسان کرو یا (تمام سازو سامان) اپنے ہی پاس رکھے رہو، (تم پر) کوئی حساب نہیں۔ ''

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور یقینا اس کے لئے ہمارے ہاں تقرب ہے اور اچھا ٹھکانہ۔

[15] کسی جرم کی پاداش میں سزا کے طور پر۔