38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے دکھ اور آزار پہنچایا ہے۔

[16] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 44 آیت 84 صفحہ 457 [17] بیماری کی حالت میں شیطان ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا جس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔ یہاں آپ نے اس کا ذکر فرمایا۔
Ayahs 38:42–47

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے فرمایا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو (چنانچہ اس نے پاؤں مارا تو ایک چشمہ نکل آیا۔ ہم نے ایوب سے کہا کہ) یہ ہے ٹھنڈا (پانی تمہارے) نہانے اور پینے کے لئے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اس کے اہل (و عیال) اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عنایت کئے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر اور عقل مندوں کے لئے نصیحت

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور (ہم نے فرمایا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کا مٹھا لو اور اس سے (اپنی بیوی کو) مار۔ اور اپنی قسم نہ توڑو۔ بیشک ہم نے اسے بڑا صابر پایا۔ (وہ بہت) خوب بندہ تھا، بیشک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو (بھی) یاد کرو جو قوت (عمل) اور بصیرت رکھنے والے (لوگ) تھے۔

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے انہیں ایک خاص بات (یعنی) یاد آخرت کی بناء پر منتخب کرلیا تھا۔

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

بلاشبہ وہ (سب) ہمارے ہاں برگزیدہ (اور) نیک بندوں میں سے تھے۔

[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔
Ayahs 38:48–68

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو (بھی) یاد کرو کہ (یہ) سب (بھی) نیک لوگوں میں سے تھے۔

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ (حالات مذکورہ بجائے خود لوگوں کے لئے) نصیحت ہیں اور یقینا متقیوں کے لئے (آخرت میں) بہترین ٹھکانہ ہے۔

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشگی کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے۔

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

(اور وہ) ان (باغوں) میں تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے ( اور) خوب میوے اور مشروبات منگوائیں گے (اور کھائیں پئیں گے) ۔

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن (بیویاں) ہونگی۔

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

(مسلمانو، ) یہ ہیں وہ (نعمتیں) جنہیں روز حساب عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا (عطا کیا ہوا) رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (جزا، متقیوں کیلئے اور بےشک) سرکشوں کے لئے بدترین ٹھکانا ہے۔

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

(یعنی) جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ (کیا ہی) بری جگہ ہے۔

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے (ان کے لئے) پس چکھیں وہ مزہ کھولتے ہوئے پانی اور پیپ کا

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اس طرح کی اور بھی چیزوں کا۔

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

(جب وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتا ہوا دیکھیں گے تو وہ آپس میں کہیں گے، '' لو ' ) یہ ایک جماعت بھی تمہارے پاس گھسی چلی آرہی ہے، ان پر اللہ کی مار ! یہ بھی دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔ ''

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

(یہ سن کر پیرو) جواب دیں گے نہیں، بلکہ تم پر اللہ کی مار ! تم ہی تو یہ (انجام) ہمارے آگے لائے ہو۔ سو (کیا ہی) بری جگہ ہے (یہ دوزخ جس میں تم نے ہمیں لا پھنسایا ! )

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ '' اے ہمارے رب جو (شخص) یہ (انجام) ہمارے آگے لایا ہے اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے ''۔

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ (آپس میں) کہیں گے، '' کیا بات ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں ہم (دنیا میں) برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے ؟

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

ہم نے (یونہی) ان کا مذاق بنا لیا تھا یا وہ نظروں سے اوجھل ہیں ؟ ''

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ بات سچی ہے، دوزخیوں میں (یہی کچھ) آپس میں لڑنا جھگڑنا ہوگا۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میں تو بس (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کردینے والا ہوں اور (خوب جان لو کہ) معبود تو کوئی بھی نہیں سوائے اللہ کے جو یکتا ہے (اور) سب پر غالب۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

(وہی) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان ساری چیزوں کا) جو ان کے درمیان ہیں۔ اور وہ بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ یہ (قیامت) ایک بڑی خبر ہے۔

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

(اور) تم اس سے منہ پھیرئے ہوئے ہو۔

[19] الیسع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ [20] تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورة الانبیاء حاشیہ 47 آیت 85 صفحہ 754
Ayahs 38:69–71

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے کہو کہ) مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بحث و گفتگو) کی کچھ خبر نہ تھی جب کہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے۔

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

یہ باتیں تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہیں کہ میں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

(اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ ہم مٹی سے ایک انسان بنانے والے ہیں۔

[21] جھگڑے سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس گفتگو کو یہاں '' اختصام '' کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں جھگڑا یا بحث و مباحثہ، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کا سوال کوئی اعتراض یا بحث مباحثہ کے نقطہ نظر سے نہ تھا بلکہ وہ محض تخلیق آدم کی حکمت معلوم کرنا چاہتے تھے لیکن سوال و جواب کا ظاہری پہلو کیونکر بحث کا سا ہوگیا تھا اس لئے اسے '' اختصام '' سے تعبیر کیا گیا۔ دوسرا جھگڑا اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔