39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بیشک ہم نے (یہ) کتاب لوگوں کی (ہدایت) کے لئے تم پر (دین) حق کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوگا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر (پڑے گا) اور تم ان پر کچھ داروغہ تو نہیں (کہ زبردستی ان کو راہ پر لاؤ) ۔

[26] داروغہ اپنے ماتحتوں کے کام کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے اور ان پر اختیار بھی رکھتا ہے۔ غرض یہ ہے کہ تم کو اختیار دے کر نہیں بھیجا گیا ہے کہ بازپرسی اور جواب دہی کے ڈر سے لوگوں کو زبردستی مسلمان کرو۔ تمہارا کام ہمارے احکام لوگوں تک پہنچا دینا ہے بس۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

(اور دیکھو، وہ) اللہ (ہی) ہے جو لوگوں کی جانوں کو موت کے وقت قبض کرلیتا ہے اور جو نہیں مرا ہے اس کو قبض کرلیتا ہے نیند کی حالت میں، پھر جن کی نسبت ( اللہ) موت کا حکم صادر فرما چکا ہوتا ہے ان (کی روحوں) کو (تو اپنے ہاں) روکے رکھتا ہے اور دوسروں (کی روحوں) کو ایک وقت مقرر تک کے لئے (واپس) بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں (قدرت الٰہی کی بڑی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو (غورو) فکر کرتے ہیں۔

[28] نیند کی حالت میں قبض سے مراد احساس شعور، فہم و ادراک کی قوتوں کو معطل کرنا ہے۔ یعنی موت اور زیست اللہ کے دست ِ قدرت میں ہے۔ کوئی شخص بھی یہ ضمانت نہیں رکھتا کہ رات کو جب وہ سوئے گا تو صبح لازماً زندہ ہی اٹھے گا۔ اس طرح جو انسان اللہ کے ہاتھ میں بےبس ہے وہ کیسا سخت نادان ہے اگر اس اللہ سے غافل یا منحرف ہو۔ [82] زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے اور اس معاملے میں کسی کا دخل نہیں۔ دنیا میں ہر روز موت اور موت کے بعد جی اٹھنے کا نظارہ ہو رہا ہے تو جو اللہ اس پر قادر ہے کہ روزانہ نیند کی موت سے تمہیں اٹھا دیتا ہے وہ ضرور مردوں کو بھی زندہ کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا (دوسرے) سفارشی ٹھہرا رکھے ہیں ؟ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو، اگرچہ (تمہارے یہ سفارشی) کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ (کچھ) عقل (وشعور) رکھتے ہوں (تو کیا پھر بھی تم ان کو اپنا سفارشی ہی مانے جاؤ گے ؟ ) ۔

[29] یعنی ان لوگوں نے اپنے طور پر خود ہی فرض کرلیا ہے کہ کچھ ہستیاں اللہ کے ہاں بڑی زور آور ہیں جن کی سفارش کسی طرح ٹل نہیں سکتی حالانکہ ان کے سفارشی ہونے پر کوئی دلیل ہے نہ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ فرمایا کہ ان کو میرے ہاں یہ مرتبہ حاصل ہے۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

ان سے کہو، سفارش تو ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

[30] یعنی ان لوگوں کو بتادو کہ سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کے حضور میں کوئی اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کی جرأت نہ کرسکے گا۔ اجازت ملنے کے بعد جو شخص زبان کھولے گا وہ صرف اسی بات کے لئے جس کے لئے اسے اجازت دی جائے گی اور وہی بات کہے گا جو بالکل حق ہوگی۔ اللہ کے آگے غلط بات کہنے کی کسی کے لئے گنجائش نہ ہوگی۔ سفارش کے لئے یہ قیود و شرائط نہایت تفصیل سے خود قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ وہی حقیقت جامع الفاظ میں یہاں بیان ہوئی ہے۔
Ayahs 39:45–48

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر آتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کہو، اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان (ان باتوں کا) فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور (بھی) تو قیامت کے دن برے عذاب کے بدلے میں وہ (بےتامل) ان سب کو دینے لگیں گے۔ اور (اس وقت) ان کو اللہ کی طرف سے وہ (معاملہ) پیش آئے گا جس کا ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور جیسے جیسے عمل (یہ لوگ) کرتے رہے ہیں ان کی خرابیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے وہ انہیں کو آ گھیرے گا۔

[31] یہ شرک و سفارش کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ آخرت اللہ تعالیٰ کے عدل کامل اور جزاوسزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و سفارش کی آڑ لیتے ہیں۔ وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے ہیں نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کو تیار ہیں، لہذا اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و سفارش کا عقیدہ ایجاد کر کے آخرت کے تمام خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اگر ان کے سامنے توحید کا ذکر آئے تو ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں اس لئے کہ آخرت اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ ان کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ البتہ جب ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کا ذکر ہو تب وہ اطمینان کا سانس لیتے ہیں اس لئے کہ ان کو آخرت سے بےقید زندگی گزارنے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ افسوس کہ یہی حال آج بہت سے نام نہاد مسلمانوں کا دیکھا جاتا ہے کہ اگر اللہ واحد کی قدرت و عظمت اور اس کے علم کی لامحدود و وسعت کا بیان ہو تو ان کے چہروں پر انقباض کے آثار ظاہر ہوتے ہیں مگر کسی پیر فقیر کا ذکر آجائے اور جھوٹی سچی کرامات اناپ شناپ بیان کردی جائیں تو ان کے چہرے کھل پڑتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات توحید خالص بیان کرنے والا ان کے نزدیک منکر اولیا سمجھا جاتا ہے۔
Ayahs 39:49–52

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

انسان (کی عادت ہے کہ اس) کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میری) قابلیت کی وجہ سے ملی ہے۔ (ایسا نہیں، ) بلکہ یہ (نعمت) ایک آزمائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ (اس بات سے) واقف نہیں۔

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ (بھی) ایسی ہی (باتیں) بکا کرتے تھے، تو جو کچھ وہ کماتے تھے وہ (کچھ بھی) ان کے کام نہ آیا۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا اس کے برے نتائج ان کے سامنے آ کر رہے اور ان میں سے جو لوگ ظالم ہیں انہوں نے جو کچھ کمایا اس کے برے نتائج بھی ان کے سامنے آ کر رہیں گے، یہ (ہمیں) ہرا نہیں سکتے۔

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ اللہ جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے ؟ بیشک ان میں ایمان والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی بڑی) نشانیاں ہیں۔

[32] آزمائش سے اس بات کی آزمائش مراد ہے کہ آدمی نعمت پا کر اللہ کا شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اپنی قابلیت کا صلہ سمجھے گا وہ اللہ کا شکر کیوں کرنے لگا۔
Ayahs 39:53–59

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ہماری طرف سے) کہہ دیں کہ اے ہمارے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، یقینا اللہ تمام گناہوں کو معاف فرماتا ہے، وہ تو بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اس کے مطیع بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آ نازل ہو پھر تم کو (کہیں سے بھی) مدد نہ مل سکے۔

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تمہیں (اس کے آنے کی) خبر بھی نہ ہو۔

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

(پھر کہیں ایسا نہ ہو) کہ (بعد میں) کوئی شخص (یہ) کہے کہ افسوس (میری) اس کوتاہی پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو (الٹا دین کا) مذاق اڑانے والوں ہی میں (شامل) رہا،

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب (سامنے آموجود ہو تو اس) کو دیکھ کر کہے کہ کاش مجھے دنیا میں پھر لوٹ جانا نصیب ہوجائے تو میں بھی (نیک بن کر) نیک بندوں میں (شامل) ہوجاؤں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(اس وقت اللہ اس سے فرمائے گا، ) '' ہاں، ہماری آیتیں یقینا تیرے پاس آچکی تھیں، تو نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا اور منکروں میں سے (ایک منکر تو بھی) تھا (پس اب تیرے ساتھ کچھ رعایت نہیں ہوسکتی) ''

[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 39:60–62

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ بولا تھا ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور (اس کے برعکس) جن لوگوں نے (دنیا میں) پرہیزگاری (کی روش اختیار) کی تھی اللہ انہیں کامیابی کے ساتھ (دوزخ سے) نجات دے گا، ان کو نہ تو (کوئی) تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔

[34] اللہ پر جھوٹ بولنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جو بات اس نے نہیں کہی ہے وہ اس کی طرف منسوب کردی جائے۔ دوسرے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اسے اس کی جانب نسبت دینے سے انکار کردیا جائے۔
Ayahs 39:63–66

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اس کے پاس ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کی آیتوں سے (اب بھی) انکار کئے جاتے ہیں (آخرکار) وہی گھاٹے میں رہیں گے۔

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو، اے جاہلو، کیا پھر بھی مجھ سے (یہ) کہتے ہو کہ میں غیر اللہ کی عبادت کروں ؟

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور یقینا (اے پیغمبر، ) تمہاری طرف بھی اور ان پیغمبروں کی طرف بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو یقینا تمہارے (سارے) عمل ضائع ہوجائیں گے اور تم خسارے میں رہو گے۔

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

لہٰذا تم بس اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ۔

[35] یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کا منتظم اور مدبر بھی ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے پاس ہیں۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق ہے حالانکہ (وہ ایسی عظمت وقدرت رکھتا ہے کہ) قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

[36] مٹھی سے مراد کامل اختیار اور دست راست سے مراد دست قدرت ہے۔ آیت سے مقصدو محاورہ بشری کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے کامل اقتدار اور تصرف کی تصویر کھینچ دینا ہے۔
Ayahs 39:68–75

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور (جب پہلی بار) صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب بیہوش ہوجائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ (ہوش میں رکھنا) چاہے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب ایک دم سے اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، (لوگوں کے نامہ اعمال کی) کتاب لا کر رکھ دی جائے گی، پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے، لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر (ذرا بھی) ظلم نہ ہوگا

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس سے خوب واقف ہے۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

جن لوگوں نے (دنیا میں) کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا وہ (اس فیصلے کے بعد) گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے (تو) اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس کے محافظ (فرشتے) ان سے کہیں گے، '' کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے، جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ '' وہ جواب دیں گے، '' ہاں (آئے تو تھے اور انہوں نے ڈرایا بھی) مگر (ہم نے ان کی ایک نہ سنی اور) عذاب کا وعدہ (ہم) کافروں کے حق میں پورا ہو کر رہا ''

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

(تب ان سے) کہا جائے گا، داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ (ہمیشہ) اس (جہنم) میں رہنے کے لئے۔ غرض (بڑا ہی) برا ٹھکانہ ہے متکبروں کے لئے۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ (دنیا میں) اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب اس تک پہنچ جائیں گے۔ اور اس کے دروازے (ان کے لئے پہلے ہی سے) کھلے ہوں گے۔ (تو ان کی بڑی آؤ بھگت ہوگی) اور اس کے محافظ (فرشتے) ان سے کہیں گے، '' سلام ہو تم پر تم (بہت) خوب رہے، داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہنے کے لئے۔ ''

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے، '' شکر ہے اس اللہ جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو ارض (جنت) کا وارث بنادیا۔ (اب) ہم جنت میں جہاں چاہیں براجمان ہوں۔ '' پس (کیا ہی) اچھا اجر ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے !

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، اس دن) تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح (وتقدیس) کر رہے ہوں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

[37] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔