42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو کوئی اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔

[24] یہاں دو قانون بیان ہوئے ہیں۔ قانون عدل اور قانون فضل۔ قانون عدل یہ کہ جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا مثلاً دانت کا بدلہ دانت اور آنکھ کا بدلہ آنکھ۔ لیکن یہاں یہ بھی شرط ہے کہ وہ شے بذات خود ممنوع اور حرام نہ ہو۔ مثلاً لوٹ کا بدلہ لوٹ اور زنا کے عوض زنا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قانون فضل یعنی رحم و رعایت کا قانون۔ آیت سے انتقام کا صرف جواز نکلتا ہے نہ کہ اس کی ماموریت۔
Ayahs 42:42–43

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام (تو) ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتی کرتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو بیشک یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

[25] یہاں سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ انتقام کی جائز حدود کے اندر پوری اجازت اسلام میں ہے لیکن اولیٰ و افضل معاف ہی کردینا ہے۔
Ayahs 42:44–51

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جس کو اللہ گمراہ کر دے تو پھر اس کا کوئی (یارو) مددگار اللہ کے بعد نہیں ہے۔ اور (قیامت کے دن) تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے (توحسرت سے) کہیں گے کہ (دنیا میں) لوٹ چلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ (جب) یہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے ہوں گے اور کن انکھیوں سے (اس کو) دیکھتے (جاتے) ہوں گے۔ (اس وقت) وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی (اصل) خسارے والے تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے (آج) قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ یاد رکھو، ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں رہیں گے۔

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے کوئی حمایتی نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کرسکیں۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے لئے (نجات کی) کوئی راہ نہیں۔

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

(لوگو، ) مان لو اپنے رب کا حکم اس روز (قیامت) کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں۔ اس دن نہ تو تمہارے لئے کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے (اپنے گناہوں کا) انکار ہی کرتے بن پڑے گا۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

اب اگر (اتنے سمجھانے پر بھی) یہ لوگ روگردانی کئے رہیں تو (اے پیغمبر، ) ہم نے تم کو ان پر کچھ داروغہ بنا کر تو بھیجا نہیں (کہ جبراً ان کو مسلمان بناؤ، ) تمہارے ذمے تو صرف (حکم الٰہی کا) پہنچا دینا ہے (اور بس) ۔ اور (دیکھو، ) انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو اپنی رحمت (کی لذت) چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھولا نہیں سماتا، اور اگر ایسے لوگوں پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ان کرتوتوں کے بدلے میں جو وہ پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں (تو وہ اللہ کی شکایت کرنے لگتے ہیں) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے (نری) لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے (نرے) لڑکے عنایت کرتا ہے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

اور جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں (ملاجلا کر) دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے (دوبدو ہو کر) کلام کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے، یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کسی پیغامبر (فرشتے) کو (اس کے پاس) بھیجتا ہے اور وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ کو منظور ہوتا ہے وحی کرتا ہے۔ بیشک وہ عالی مقام (اور) حکمت والا ہے۔

[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔ [27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔ [28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے (دین کی) روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ (یہ جانتے تھے کہ) ایمان (کس کو کہتے ہیں) مگر ہم نے اس (روح) کو ایک نور بنادیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں (دین کا) راستہ دکھا دیتے ہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ تم (لوگوں کو) سیدھی راہ دکھا رہے ہو

[29] اسی طرح سے مراد محض آخری طریقہ نہیں ہے بلکہ وہ تینوں طریقے ہیں جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئے ہیں۔ روح سے مراد وہ تعلیم ہے جو وحی کے ذریعے رسول ﷺ کو دی گئی، یعنی قرآن جو مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور حیات ابدی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

(یعنی) اللہ کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے۔ یاد رکھو، تمام امور اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔

[30] یعنی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے اور اسی کی بارگاہ سے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کس کا کیا انجام ہونا چاہئے۔