43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم :٭اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ اس کتاب کے اولین مخاطب اہل مکہ ( اور قیامت تک آنے والے) اس کو آسانی سے سمجھ کر اس پر عمل کرسکیں لیکن انہوں نے اس پر عمل کرنے کے بجائے اس سے منہ پھیرا اور اس کا مذاق اڑایا۔ فرمایا کہ انہیں یاد کھنا چاہیے کہ ان سے پہلے اللہ کے پیغمبر جب بھی اللہ کی کتابیں لے کر آئے تو ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی تعلیمات کو ان کی قوم نے نظر انداز کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی نا فرمانیوں کی سزا بھگت کر تباہ و برباد ہوگئے۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ طاقت ور اور دنیا بھر کے وسائل رکھتے تھے۔ جب وہ نہ بچ سکے تو تم اللہ کے عذاب سے کیسے بچ سکتے ہو۔ ٭فرمایا تم اس بات کو مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو اللہ نے پیدا کیا لیکن پھر بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ فرشتے جو اللہ کی فرماں بردار مخلوق ہیں وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جو قیامت کے دن تمہاری سفارش کرکے تمہیں عذاب الٰہی سے بچا لیں گے ۔ فرمایا کہ تمہارا یہ عقیدہ بالکل عقیدہ بالکل غلط ہے اور اللہ کی شدید نا شکری ہے۔ ( لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور پیدا ہونے میں دونوں برابر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ سے فرمایا تمہارا یہ حال ہے کہ اگر تمہارے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو تم شرمندگی سے منہ چھپائے پھرتے ہو تمہارے چہرے تاریک ہوجاتے ہیں لیکن تم اللہ کی فرمانبردار مخلوق فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو یعنی اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیوں کو کیسا عجیب انصاف ہے ؟ ) ٭لڑکایا لڑکی دونوں کو اللہ نے پیدا کیا لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تم نے اللہ کے فرشتوں کو اس کی بیٹیاں سمجھ رکھا ہے خود تمہارا یہ حال ہے کہ اگر تمہارے گھر میں بیٹی پیدا ہوجائے تو شرمندگی سے تمہارا چہرہ سیاہ اور تاریک پڑجاتا ہے تم کیسے عجیب لوگ ہو کہ اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہو۔ ٭کفار قریش کہتے تھے کہ اگر ہماری بت پرستی اللہ کو ناپسند ہوتی تو وہ ہمیں ( اپنے گھر میں) ان کی عبادت سے جبراً روک دیتا ۔ اللہ نے ان کو اس بےوقوفی کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اگر کوئی شخص چوری کرتا ہے یا کسی کو قتل کرتا ہے یا کوئی ناپسندیدہ فعل کرتا ہے کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر اللہ کو پسند نہ ہوتا تو یہ کام میں کیسے کرسکتا تھا ؟ ٭جب ان سے کہا جاتا کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر سیکڑوں بتوں کی عبادت و بندگی کیوں کرتے ہیں ؟ وہ یہ کہتے کہ ہم نہ اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا ہے۔ اللہ نے فرمایا تم نے باپ دادا کی اندھی تقلید کا ذکر تو کیا لیکن تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ان کی نا فرمانیوں کا انجام کیا ہوا ؟ وہ لوگ غیر اللہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ ٭حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) اللہ نے زندگی بھر اللہ کے دین کو پہنچانے اور قوم کو شرک و کفر اور بت پرستی کی لعنت سے نجات دلانے کی جدوجہد فرمائی لیکن جن لوگوں پر مال اور دولت کا بھوت سوار تھا انہوں نے ان کی ہر بات ماننے سے صاف انکار کیا ۔ ( حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کو بغیر باپ کے معجزہ کے طور پر پیدا کیا تو لوگوں نے ان کو مبعود بنا لیا حالانکہ وہ زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرنا چاہیے جو ان سے بہت دور نہیں ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب دوست بھی تمہارے دشمن بن جائیں گے لیکن اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہوں گے۔ ) ٭اللہ نے فرمایا وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو قرآن نازل کرنا ہی تھا تو مکہ کے مال دار ، صاحب حیثیت اور تجربہ کار لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیا جاتاتو ہم اس کو آسانی سے مان لیتے۔ جواب میں فرمایا یہ تو اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ جس کو چاہے نبوت کی نعمت سے نواز دیتا ہے وہ کسی کے کہنے سے نبوت نہیں دیتا فرمایا کہ تم دیکھتے ہو دنیا میں کوئی غریب ہے کوئی امیر ہے کوئی آقا ہے کوئی غلام ہے ۔ کیا تم ان میں بھی کہتے ہو کہ فلاں غریب کیوں ہے اور دوسرا مال دار اور رئیس کیوں ہے ؟ فرمایا اللہ کی نظر میں یہ سرداریاں اور مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ہے ۔ اگر وہ چاہتا تو لوگوں پر سونے کی بارش برسا دیتا کہ ان کے گھروں میں سونے چاندی کے ڈھیر ہوتے مگر اس نے ایسا نہیں کیا ورنہ لوگ اسی طرف ڈھلک جاتے ۔ فرمایا کہ انسان کی قدر و قیمت جاننے اور پہنچاننے کے لیے دولت اور عزت و عظمت معیار نہیں ہے بلکہ انسان کے اعلیٰ اخلاق اور اس کی شرافت اور نیکی سب سے بڑا معیار ہے کیونکہ یہ مال و دولت اور عزت و عظمت تو دنیاوی ساز و سامان ہیں جو وقتی ہیں ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ جو لوگ آخرت کا سامان کرتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں در حقیقت کامیاب وہی لوگ ہیں۔ ٭فرمایا جب آدمی اپنا گمراہی کا مزاج بنا لیتا ہے تو اللہ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کو برے اور گندے راستوں کی طرف لے جاتا ہے اور اچھی بات سے نفرت دلاتا ہے لیکن جب قیامت کے دن اس شیطان کی وجہ سے وہ جہنم میں لے جایاجائیگا تو اس وقت وہ اپنے ساتھی شیطان سے نفرت کرے گا پچھتائے گا مگر اس وقت اس کا پچھتانا اور شرمندہ ہونا اس کے کام نہ آئے گا اور وہ عذاب الٰہی سے بچ نہ سکے گا ۔ ٭فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب یہ کفار و مشرکین جان بوجھ کر اندھے ، بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں اور ہر گمراہی کی طرف فوراً لپک کر جاتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی فرمانیوں کی پروا نہ کیجئے اور اس بات پر غم نہ کیجئے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیے آپ ہی سیدھے راستے پر ہیں۔ ٭فرمایا کہ لوگوں کا یہ تصور کہ نبی کو مال دار اور صاحب حیثیت ہونا چاہیے تھا یہ کوئی نبی بات نہیں ہے بلکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو للکارا اور معجزات دکھائے تو اس نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا کہ میرے پاس حکومت و سلطنت ، عیش و عشرت کے سامان ، خوبصورت باغات اور مال و دولت کے ڈھیر ہیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس کیا رکھا ہے ؟ یہ موسیٰ اگر واقعی اللہ کے پیغمبر ہوتے تو زمانہ کے دستور کے مطابق ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہوتے ان کے آس پاس فرشتے ہوتے۔ فرمایا کہ فرعون نے ان باتوں سے خود ہی گمراہی خرید لی ، ، خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہی میں مبتلا کردیا ۔ بد ترین انجام سے دو چار ہوا خود بھی ڈوب مرا اور اپنی پوری قوم کو بھی مروا دیا اور تباہ و برباد کرا دیا۔ ٭حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو بغیر باپ کے معجزہ کے طور پر پیدا کیا تو لوگوں نے ان کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ وہ زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے۔ ایسے نافرمانوں کو قیامت کے دن سے ڈرنا چاہیے جو ان سے بہت دور نہیں ہے۔ اس دن دوست بھی دشمن بن جائیں گے لیکن اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست ، ہمدرد اور غم گسارہوں گے۔ ٭قیامت کے دن اہل ایمان کو نہ تو کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ان کی صالح اور نیک بیویاں بچے ان کے ساتھ ہوں گے۔ سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں گے ۔ جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کی ملے گی۔ ان کے بر خلاف مجرمین کا یہ حال ہوگا کہ وہ عذاب الٰہی کو سامنے دیکھ کر جہنم کے داروغہ جس کا نام مالک ہوگا اس سے فریاد کریں گے کہ اپنے اللہ سے یہ کہہ دو کہ وہ ہمیں موت کی نیند سلا دے تا کہ ہم اس عذاب سے بچ سکیں مگر ان کو موت نہ آئے گی۔ ٭اللہ بےنیاز ہے ۔ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ ہے وہ ان سب کا مالک اور بادشاہ ہے۔ انبیاء اور نیک لوگوں کے علاوہ کسی کی سفارش نہ سنے گا ۔ فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیے اگر کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آڑے آتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے تم سلامت رہو ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کا بھیانک انجام دیکھیں گے جب ان کے سامنے سے سارے پردے ہٹ جائیں گے۔

Ayahs 43:1–15

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

حا ۔ میم حروف مقطعات ( معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

اس واضح کتاب ( قرآن کریم) کی قسم

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم آسانی سے سمجھ سکو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یقینا وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بلند رتبہ اور حکمت سے بھر پور کتاب ہے۔

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم محض اس وجہ سے کہ تم حد سے نکل جانے والے ( نافرمان ہو) اس نصیحت ( سے جو بھر پور کتاب الٰہی ہے) اس کا رخ تم سے پھیر دیں گے۔

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

ہم پہلے لوگوں میں بہت سے پیغمبر بھیج چکے ہیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی ایسا پیغمبر نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو ۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو جو ان ( اہل مکہ) سے زیادہ طاقت ور تھے ان کو تباہ و برباد کر ڈالا اور ان سے پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کو ایک زبردست اور خوب جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش ( راحت و آرام کا ذریعہ) بنایا ۔ اسی نے ان میں تمہارے ( آنے جانے کے) راستے بنائے تا کہ تم اپنی منزل تک پہنچ سکو ۔

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اسی نے بلندی سے ایک خاص انداز کے مطابق پانی برسایا ۔ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) پھر ہم نے اس پانی سے مردہ زمین کو زندہ کیا ۔ اسی طرح تم بھی ( قبروں سے) نکالے جائو گے ۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمام چیزوں کی مختلف قسمیں بنائیں ۔ اسی نے تمہارے لئے کشتیاں ( جہاز) اور چوپائے ( مویشی جانور) بنائے جن پر تم سواری کرتے ہو ۔

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تا کہ تم ان کی پشت پر خوب جم کر بیٹھو ۔ پھر جب اطمینان سے ان پر بیٹھ جائو تو اپنے پروردگار کا احسان یاد کرو اور تم یہ کہو ” اس کی ذات پاک بےعیب ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم تو ایسے طاقت ورنہ تھے کہ ان کو اپنے قابو میں کر لیتے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم سب کو اپنے پرور دگامر کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا جزو ( یعنی اولاد) بنا رکھا ہے۔ بیشک انسان کھلا ہوا نا شکرا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ چوتھی سورت ہے۔ احادیث میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں جو شخص ان سورتوں کو پڑھنے کا عادی ہوگا تو یہ سات سورتیں جہنم کے ساتوں دروازوں پر موجود ہوں گی جو اس کو جہنم سے بچانے کے لئے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس سورت کی ابتداء قرآن کریم کے ذکر سے کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی روشن ، واضح اور بلند رتبہ کتاب ہے جو حکمت و دانائی کی باتوں سے بھر پور ہے جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے رہبر و رہنماء ہے۔ اس کو جتنا بھی فروغ دیا جائے گا دنیا میں امن و سکون اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہوگا ۔ کفار و مشرکین کو بتایا گیا ہے کہ وہ اس قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت کم کرنے کی جتنی بھی کوششیں اور شرارتیں کرلیں اللہ اپنے اس کلام کو مکمل کر کے رہے گا اور ساری دنیا میں نہ صرف اس کا پیغام پہنچ کر رہے گا بلکہ سچائی کی اس روشنی کے بغیر زندگی کے اندھیرے ان سے دور نہ ہو سکیں گے۔ یہی وہ روشنی ہے جس کو پھیلانے کے لئے اللہ نے ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کو بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو صراط مستقیم پر چلا سکیں مگر کفار و مشرکین نے ہمیشہ ان پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور گستاخی کرتے ہوئے اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام سہ منہ پھیر کر غرور وتکبر اور ضد کا طریقہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کو سخت ترین سزائیں دیں اور ان کی زندگیوں کو اس طرح مٹا دیا کہ پھر وہ دوسروں کے لئے نشان عبرت اور قصے کہانی بن کر رہ گئے ۔ اہل مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح تم آج اللہ کے بھیجے ہوئے اس کے آخری محبوب نبی کریم ﷺ کو جھٹلا رہے ہو اور تمہیں اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ ہے ذرا اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کو دیکھو کہ جب انہوں نے اپنی نا فرمانیوں کی حد کردی تو اللہ نے ان کو اور ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ذرا آپ ان سے پوچھئے کہ اس زمین و آسمان کو کس نے بنایا اس کو انسانوں کے لئے راحت و آرام اور ان کی تمام ضروریات کا ذریعہ کس نے بنایا ؟ منزل تک پہنچنے کے لئے راستے ۔ مردہ زمین میں زندگی پیدا کرنے کے لئے بارشوں کا انتظام ، مختلف چیزوں کی طرح طرح کی قسمیں ، دریا ، سمندر کو پار کرنے اور کاروبار کے لئے ایک طرف سے دوسری طرف آنے جانے کے وسائل ، قسم قسم کے جانور اور مویشی کس نے پیداکئے ؟ یقینا اگر ضمیر مردہ نہ ہوچکے ہوں تو ہر ایک کے دل سے ایک ہی صدا بلند ہوگی کہ ان سب چیزوں کا خالق اور مالک صرف اللہ ہے۔ لیکن انسان کی یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ وہ ایک اللہ کو ماننے کے بجائے دوسرے بہت سے معبودوں کا گھڑ کر ان سے اپنی امیدیں وابستہ کرلیتا ہے۔ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ، پتھر کے بےجان بتوں کو اپنا مشکل کشا سمجھ بیٹھتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے انسان کو جتنی نعمتوں سے نوازا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا اور اسکے سوا کسی کی عبادت و بندی نہ کرتا لیکن وہ اپنی ہر کامیابی کو اپنی محبت کا نتیجہ قرار دے کر اللہ کی نا شکری کرتا رہتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سواری پر سوار ہونے کے وقت ایک دعا سکھائی ہے جس میں اللہ کی عظمت وقدرت اور شکر کا بہترین انداز سکھایا گیا ہے۔
Ayahs 43:16–25

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے ( اپنے لئے) بیٹیاں بنائیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ہے ۔

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

جس چیز کی مثال یہ رحمن کے لئے دے رہے ہیں ( ان کا یہ حال ہے کہ) جب اس کو ( بیٹی) ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور دل ہی دل میں ( غم و غصے سے) گھٹتا رہتا ہے۔

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا ( اس نے اپنے لئے لڑکی کو چن لیا) جو زیوروں میں پرورش پائے اور اپنی بات بھی واضح طریقے پر بیان نہ کرسکے ۔

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اسی طرح انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ کے خاص بندے ہیں ان کو بیٹیاں قرار دے رکھا ہے۔ ( اللہ تعالیٰ نے پوچھا ہے کہ) کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ فرمایا کہ ان کی یہ بات لکھ لی گئی ہے اور اس کے متعلق ان سے سوال ضرور کیا جائے گا ۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

وہ ( اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے) کہتے ہیں کہ اگر رحمن چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی عبادت کبھی نہ کرتے۔ ( فرمایا کہ) ان لوگوں کو اس بات کا صحیح علم نہیں ہے ( اسی لئے) یہ لوگ بےتحقیق بات کر رہے ہیں ۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ( ان کافروں کو) اس قرآن سے پہلے کوئی ایسی کتاب دی تھی جس سے یہ ذلیلیں پیش کر رہے ہیں

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نشانات قدم پر چل رہے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

( فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ) اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا تو وہاں کے عیش پسندوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا تھا لہٰذا ہم بھی ان ہی کے نشانات قدم پر چل رہے ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا کہ جس طریقے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اگر میں اس سے بہتر طریقہ لے کر آیا ہوں کیا تم پھر بھی ان ہی کے راستے پر چلو گے۔ ( ان کا جواب یہ تھا کہ) تم جس ( دین) کے ساتھ بھیجے گئے ہو اس کا ہم انکار کرتے ہیں ۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا ۔ پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے درمیان انسان کی راحت و سکون کے بیشمار اسباب ، زمین میں چلنے پھرنے اور آنے جانے کے راستے ، بلندی سے پانی کے برسنے اور اس سے مردہ زمین میں نئی تر و تازگی پیدا کرنے جس سے زمین اور اس کی پیداوار سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے۔ ان بہت سی نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان کی قدر کرتے ہوئے ہر آن اس کا شکریہ ادا کیا جاتا ۔ جن کے دلوں میں ایمان کی روشنی موجود ہے وہ تو اس کی قدر کرتے اور اس پر شکر ادا کرتے ہیں لیکن کفار و مشرکین کا یہ حال ہے کہ وہ نہ صرف نا شکری کرتے ہیں بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے گمراہ باپ دادا کی اندھی تقلید ، ضد ہٹ دھرمی اور نا فرمانیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی نافرمانی ، بےادبی اور گستاخی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انہوں نے اللہ کے فرماں بردار بندوں اور فرشتوں کو اللہ کے وجود کا ایک حصہ ، جزو اور اولاد بنا کر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جو قیامت میں اللہ کے سامنے ان کی سفارش کر کے ان کو اللہ کے غضب اور غصہ سے نجات دلا دئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ان جاہلانہ اور احمقانہ باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ( اللہ کے نزدیک لڑکا اور لڑکی دونوں اس کی نعمتیں ہیں لیکن) ان کفار کا یہ حال ہے کہ خود تو وہ لڑکے چاہتے ہیں اور جب کبھی ان کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ان کے گھر لڑکی پیدا ہوئی ہے تو ان کے چہرے سیاہ تاریک پڑجاتے ہیں ۔ دل ہی دل میں غم کے مارے گھٹتے رہتے ہیں۔ انہیں بیٹی کی پیدائش سے ایسی شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے چھپے چھپے پھرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ اس ذلت کو برداشت کرلیں یا اس لڑکی کو زندہ زمین میں گاڑ دیں ۔ فرمایا کیسی عجیب بات ہے کہ ان کے نزدیک تو لڑکی کا وجود ایک قابل نفرت چیز ہے اسے وہ انتہائی حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں لیکن وہ اللہ کے لئے اسکے فرشتوں کو اس کی بیٹیاں ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہ کیسی بےانصافی اور نادانی کی بات ہے۔ فرمایا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں کیسے ہو سکتی ہیں جن لڑکیوں کو زیور ، کپڑوں اور بنائو سنگھار سے فرصت نہیں ہوتی اور ان میں سے اکثریت ایسی ہے جو مردوں کی طرح نہ تو پر اعتماد انداز سے کلام کرسکتی ہیں اور نہ وہ اپنی بات منوا سکتی ہیں وہ اللہ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہیں ۔ اللہ تو وہ ہے جو بیٹا ، بیٹی اور بیوی سے بےنیاز ہے اور فرشتے اللہ کی ایک مخلوق ہیں جو اللہ کے احکامات کی فرماں برداری کرنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے گمراہ لوگوں سے سوال کیا ہے کہ جب اللہ نے ان فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو کیا اس وقت یہ لوگ وہاں کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے ؟ یقینا یہ سب باتیں ان کے بےبنیاد خیالات ہیں جن پر وہ اپنے گمراہ باپ دادا کی اندھی تقلید کی وجہ سے ایسا کہتے اور سمجھتے ہیں ۔ فرمایا کہ اللہ ان کے تمام اعمال کو لکھ رہا ہے اور وہ ان کے کسی عمل سے بیخبر نہیں ہے۔ قیامت کے دن ان کے اعمال ان کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے۔ کفار و مشرکین کی بےادبی ، گستاخی اور جہالت کی انتہاء یہ تھی کہ وہ اپنے گناہوں پر بھی یہ کہہ کر مطمئن ہوچکے تھے کہ ہم جو بھی گناہ اور شرک کے کام کرتے ہیں ان سے اللہ ناراض نہیں ہے کیونکہ اگر وہ ناراض ہوتا تو ہم یہ گناہ ہرگز نہ کرتے۔ گویا وہ یہ کہتے تھے کہ اس دنیا میں ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے ہم جو بھی ثواب یا گناہ کا کام کرتے ہیں وہ اللہ کی مرضی سے کرتے ہیں ( نعوذ باللہ) انہوں نے کبھی یہ نہ سوچا کہ اگر ایک شخص چوری ، ڈاکہ ، قتل ، زنا اور بد کاری اور بڑے سے بڑے گناہ کو کرنے کے بعد یہ کہے کہ یہ سب کچھ میں نے خود نہیں کیا ہے بلکہ اللہ کی مرضی سے کیا ہے تو کیا دنیا کی کوئی عدالت یا کوئی انصاف پسند انسان اس کے اس جاہلانہ تصور کی حمایت کرسکے گا ؟ اگر دنیا کی عدالتیں اور انسان بھی ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتے تو وہ اللہ سے ایسی احمقانہ امیدیں کیوں باندھے ہوئے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی یہ باتیں بالکل بےبنیاد ہیں ۔ اگر اللہ نے ان باتوں کے ثبوت کے لئے کوئی کتاب نازل کی ہے تو وہ اس کو لے کر آئیں اور ثبوت کے طور پر پیش کریں ۔ دراصل ان کے پاس کوئی اس کی دلیل نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں کام کو کرتے ہوئے اپنے باپ دادا کو دیکھا ہے۔ فرمایا کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کے باپ دادا نے کوئی کام ایسا کیا ہو جو سراسر گناہ تھا اور ان کے پاس نہ تو کوئی علم ہدایت تھا نہ کوئی کتاب تھی ۔ اللہ نے اور اس کے پیغمبروں نے ہمیشہ یہی سوال کیا ہے کہ اگر ان کے باپ دادا کسی گناہ یا جہالت کی بات پر قائم تھے تو کیا وہ بےسوچے سمجھے ان کی اندھی تقلید کئے چلے جائیں گے ؟ کیا ان کے پاس عقل ، فہم اور سمجھ نہیں ہے ؟ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تقلید بری چیز نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص ایسے آدمی کی تقلید کرتا ہے جس کی پوری زندگی اور اس کی زندگی کے اصولوں کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے تو اس کے پیچھے چلنا یا اس کی تقلید کرنا تو عین ثواب ہے۔ دراصل دین اسلام میں اس تقلید کو اندھی تقلید کہا گیا ہے جو محض اپنے باپ ، دادا کی ہر بات کو اس لئے مان لیا جائے کہ اس کے باپ دادا نے ایسا کیا تھا خواہ اسکے باپ دادا گمراہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اگر غور کیا جائے تو دنیا میں ہر آدمی کسی نے کسی کی تقلید کرتا ہے اور اس کے طریقوں کو پسند کر کے اسی جیسا انداز اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دین نے ہمیں اس کی ہدایت و رہنمائی فرمائی ہے کہ جس کی بھی تقلید کی جائے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ اس کی زندگی کتاب و سنت یعنی اسلامی شریعت کے مطابق ہے یا نہیں ۔ اگر ہے تو نیک راہوں پر چلنے کے لئے اس کی بات مانی جائے اور اس کی تقلید کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے تمام پیغمبر ہمیشہ لوگوں کو برے اعمال کے برے نتائج اور اندھی تقلید سے بچاتے اور سمجھاتے رہے۔ جنہوں نے ان کی نافرمانی کی اللہ نے ان پر اپنا غضب نازل کیا اور ان سے شدید انتقام لے کر ان کو نشان عبرت بنا دیا ۔
Ayahs 43:26–35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم جن چیزوں کی عبادت و بندگی کر رہے ہو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

البتہ ( میرا تعلق اس ذات سے ہے) جس نے مجھے پیدا کیا اور پھر بیشک وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور اسی بات کو ( ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بعد آنے والوں کے لئے قائم رہنے والی بات کر گیا تا کہ اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہوں ( شرک نہ کریں) ۔

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

اس کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کا سامان ( زندگی) عطاء کیا تھا یہاں تک کہ ان کے پاس حق بات اور صاف صاف بیان کرنے والا ( رسول) آگیا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق ( قرآن مجید) اور ( سچا) رسول آگیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے۔ ( ہم اس کو نہیں مانتے) ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

انہوں نے (یہ بھی) کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں ( مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

( اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا یہ لوگ آپکے رب کی رحمت ( نبوت) کو ( خود ہی) تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے دنیاوی زندگی میں ( ان کے درمیان) ان کے رزق کو تقسیم کر رکھا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر درجوں میں بڑائی دے رکھی ہے تا کہ ایک دوسرے کو خدمت کے لئے استعمال کرسکیں اور آپ کے رب کی رحمت تو اس سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کرتے ہیں ۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات ( مقرر) نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم رحمن کا انکار کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو اور ان سیڑھیوں کو جن پر یہ چڑھتے ہیں

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

ان کے گھروں کے درازوں کو اور وہ تخت جن پر یہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

سونے چانڈی کے بنا دیتے۔ ( کیا ان کو یہ معلوم نہیں ہے) یہ سب مال و دولت دنیاوی زندگی کے ساز و سامان کے سوا کچھ بھی تو نہیں ہے ۔ اور آخر کا گھر ( اور اس کی ابدی راحتیں) ان کے رب کے پاس ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا) تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش مکہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا جدا مجد مانتے اور ان کی نسبت پر فخر کرنے کے باوجود کفرو شرک کی گندگیوں میں ملوث تھے ان کو شرم دلاتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب اپنے ارد گرد مشرکانہ معاشرہ ، بت گرا اور بت پرست خاندان اور طرح طرح کی جاہلانہ رسموں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو دیکھا اور غور کیا تو انہوں نے ہمت و جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفر و شرک کے ہر طریقے کا انکار کردیا ۔ انہوں نے کسی مصلحت کا سہارا لئے بغیر صاف صاف اعلان کردیا کہ جن لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے معبود گھڑ کر ان کی عبادت و بندگی کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے وہ قطعاً باطل ، جھوٹ اور ایک بےحقیقت اور بےبنیاد بات ہے۔ جب انہوں نے اس کلمہ حق کو بلند کیا تو ہر شخص ان کی جان کا دشمن بن گیا اور ان کو ہر طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کو ایک زبردست آگ میں جھونک دیا گیا ، وطن سے بےوطن ہوئے ، گھر بار کی ہر راحت و آرام سے محروم کردیئے گئے عراق ، فلسطین ، حجاز اور دوسری جگہوں میں مسلسل گشت کر کے اس کلمہ حق کو بلند کرتے رہے جس میں ساری انسانیت کی فلاح اور بہبود کے راز پوشیدہ ہیں ۔ انہوں نے اس کلمہ حق کے لئے پوری زندگی ہجرت اور مشکلات میں گزار دی لیکن کفر و شرک سے سمجھوتہ نہیں کیا اور کلمہ حق کو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنا کر باقی رکھا ۔ کفار قریش سے کہا جا رہا ہے کہ حق و صداقت اور کلمہ باقیہ کی یہی وہ سیدھی سچی راہ ہے جس کو نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پیش فرما رہے ہیں ۔ اس میں یہ ارشارہ موجود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) اور ان کے راستے پر چلنے والوں کو کامیاب و بامراد کیا اسی طرح وہ اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچا کر رہے گا ۔ فرمایا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ ٔ حسنہ پر چلنے والے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے کے بجائے وہ ان کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک بےحقیقت جادو ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیثیت کو لوگوں کی نظروں میں کم کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ مکہ اور طائف میں ایسے بڑے ، صاحب حیثیت اور مال دار لوگوں کی کمی نہیں تھی جن کو نبی بنایا جاتا تو بات سمجھ میں آجاتی لیکن ایک یتیم و نادار شخص کو نبی بنا کر بھیجنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ان کی جہالت اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں وہ اللہ کی رحمت یعنی نبوت کو بھی اپنی مرضی کے مطابق اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں کہ جس کو وہ چاہیں اس کو نبی بنا دیا جائے اور جس کو وہ نہ چاہیں اس کا وہ انکار کردیں ۔ فرمایا کہ ان کی تو نبوت ہی کیا دنیا کی معیشت اور دولت میں بھی یہی خواہش ہے کہ وہ ان کی مرضی کے تابع ہوجائے جس کو وہ چاہیں دیں اور جس کو نہ چاہیں اس کو بھوکا مار دیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ اس بات کو یاد رکھیں کہ نبوت و رسالت ہو یا زندگی گزارنے کے اسباب کی تقسیم یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جب اور جہاں اور جس کو چاہتا ہے نبوت کے اعلیٰ مقام کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔ اس طرح اس نے معیشت یعنی مال و دولت کی تقسیم کو بھی اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ورنہ انسان تو اتنا خود غرض ہے کہ اگر اس کے ہاتھ میں دوسروں کا رزق دیدیدا جاتا تو وہ اپنے علاوہ سب کو ہر طرح کے رزق اور مال و دولت سے محروم کردیتا ۔ فرمایا کہ اللہ کا اپنا نظام ہے وہ جس کو جتنا دینا چاہتا ہے کم یا زیادہ عطاء فرما دیتا ہے لہٰذا وہ نبوت و رسالت کو مال و دولت کی ترازو میں تول کر نہیں دیتا بلکہ اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ فرمایا کہ مال و دولت کی کثرت انسانی شرافت کا معیار نہیں ہے کہ جس کے پاس زیادہ مال و دولت ہے وہ زیادہ بڑا آدمی ہے اور وہ ہر چیز کا مستحق ہے بلکہ انسانی شرافت کا معیار تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔ مال و دولت جہاں خیر کا ذریعہ ہے وہیں وہ اللہ کے نزدیک ایک حقیر چیز بھی ہے۔ فرمایا کہ اگر عام لوگوں کے کفر میں مبتلا ہو کر بھٹک جانے اور ڈگمگانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو اللہ تمام کفار و مشرکین پر سونے چاندی اور مال و دولت کی بارش کردیتا۔ ان کے چاروں طرف مال و دولت کے ڈھیر لگا دیتا ان کی سونے چاندی کی چھتیں ، سونے چاندی کی سیڑھیاں ، دروازے اور تخت ہوتے لیکن کیا یہ سونے چاندی کے ڈھیر ان کو آخرت کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوتے ، ہرگز نہیں ۔ لہٰذا کفار قریش کا یہ کہنا کہ مکہ اور طائف کے بڑے لوگوں پر اس قرآن کو نازل کیوں نہ کیا گیا تو وہ سن لیں کہ انسان مال و دولت سے بڑا آدمی نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذات شرافت اور اخلاق سے بڑا بنتا ہے۔ یا وہ بڑا آدمی ہوتا ہے جس کو اللہ اپنے پیغام کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔