43. Surah Az-Zukhruf
الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم :٭اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ اس کتاب کے اولین مخاطب اہل مکہ ( اور قیامت تک آنے والے) اس کو آسانی سے سمجھ کر اس پر عمل کرسکیں لیکن انہوں نے اس پر عمل کرنے کے بجائے اس سے منہ پھیرا اور اس کا مذاق اڑایا۔ فرمایا کہ انہیں یاد کھنا چاہیے کہ ان سے پہلے اللہ کے پیغمبر جب بھی اللہ کی کتابیں لے کر آئے تو ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی تعلیمات کو ان کی قوم نے نظر انداز کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی نا فرمانیوں کی سزا بھگت کر تباہ و برباد ہوگئے۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ طاقت ور اور دنیا بھر کے وسائل رکھتے تھے۔ جب وہ نہ بچ سکے تو تم اللہ کے عذاب سے کیسے بچ سکتے ہو۔ ٭فرمایا تم اس بات کو مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو اللہ نے پیدا کیا لیکن پھر بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ فرشتے جو اللہ کی فرماں بردار مخلوق ہیں وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جو قیامت کے دن تمہاری سفارش کرکے تمہیں عذاب الٰہی سے بچا لیں گے ۔ فرمایا کہ تمہارا یہ عقیدہ بالکل عقیدہ بالکل غلط ہے اور اللہ کی شدید نا شکری ہے۔ ( لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور پیدا ہونے میں دونوں برابر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ سے فرمایا تمہارا یہ حال ہے کہ اگر تمہارے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو تم شرمندگی سے منہ چھپائے پھرتے ہو تمہارے چہرے تاریک ہوجاتے ہیں لیکن تم اللہ کی فرمانبردار مخلوق فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو یعنی اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیوں کو کیسا عجیب انصاف ہے ؟ ) ٭لڑکایا لڑکی دونوں کو اللہ نے پیدا کیا لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تم نے اللہ کے فرشتوں کو اس کی بیٹیاں سمجھ رکھا ہے خود تمہارا یہ حال ہے کہ اگر تمہارے گھر میں بیٹی پیدا ہوجائے تو شرمندگی سے تمہارا چہرہ سیاہ اور تاریک پڑجاتا ہے تم کیسے عجیب لوگ ہو کہ اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہو۔ ٭کفار قریش کہتے تھے کہ اگر ہماری بت پرستی اللہ کو ناپسند ہوتی تو وہ ہمیں ( اپنے گھر میں) ان کی عبادت سے جبراً روک دیتا ۔ اللہ نے ان کو اس بےوقوفی کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اگر کوئی شخص چوری کرتا ہے یا کسی کو قتل کرتا ہے یا کوئی ناپسندیدہ فعل کرتا ہے کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر اللہ کو پسند نہ ہوتا تو یہ کام میں کیسے کرسکتا تھا ؟ ٭جب ان سے کہا جاتا کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر سیکڑوں بتوں کی عبادت و بندگی کیوں کرتے ہیں ؟ وہ یہ کہتے کہ ہم نہ اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا ہے۔ اللہ نے فرمایا تم نے باپ دادا کی اندھی تقلید کا ذکر تو کیا لیکن تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ان کی نا فرمانیوں کا انجام کیا ہوا ؟ وہ لوگ غیر اللہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ ٭حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) اللہ نے زندگی بھر اللہ کے دین کو پہنچانے اور قوم کو شرک و کفر اور بت پرستی کی لعنت سے نجات دلانے کی جدوجہد فرمائی لیکن جن لوگوں پر مال اور دولت کا بھوت سوار تھا انہوں نے ان کی ہر بات ماننے سے صاف انکار کیا ۔ ( حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کو بغیر باپ کے معجزہ کے طور پر پیدا کیا تو لوگوں نے ان کو مبعود بنا لیا حالانکہ وہ زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرنا چاہیے جو ان سے بہت دور نہیں ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب دوست بھی تمہارے دشمن بن جائیں گے لیکن اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہوں گے۔ ) ٭اللہ نے فرمایا وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو قرآن نازل کرنا ہی تھا تو مکہ کے مال دار ، صاحب حیثیت اور تجربہ کار لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیا جاتاتو ہم اس کو آسانی سے مان لیتے۔ جواب میں فرمایا یہ تو اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ جس کو چاہے نبوت کی نعمت سے نواز دیتا ہے وہ کسی کے کہنے سے نبوت نہیں دیتا فرمایا کہ تم دیکھتے ہو دنیا میں کوئی غریب ہے کوئی امیر ہے کوئی آقا ہے کوئی غلام ہے ۔ کیا تم ان میں بھی کہتے ہو کہ فلاں غریب کیوں ہے اور دوسرا مال دار اور رئیس کیوں ہے ؟ فرمایا اللہ کی نظر میں یہ سرداریاں اور مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ہے ۔ اگر وہ چاہتا تو لوگوں پر سونے کی بارش برسا دیتا کہ ان کے گھروں میں سونے چاندی کے ڈھیر ہوتے مگر اس نے ایسا نہیں کیا ورنہ لوگ اسی طرف ڈھلک جاتے ۔ فرمایا کہ انسان کی قدر و قیمت جاننے اور پہنچاننے کے لیے دولت اور عزت و عظمت معیار نہیں ہے بلکہ انسان کے اعلیٰ اخلاق اور اس کی شرافت اور نیکی سب سے بڑا معیار ہے کیونکہ یہ مال و دولت اور عزت و عظمت تو دنیاوی ساز و سامان ہیں جو وقتی ہیں ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ جو لوگ آخرت کا سامان کرتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں در حقیقت کامیاب وہی لوگ ہیں۔ ٭فرمایا جب آدمی اپنا گمراہی کا مزاج بنا لیتا ہے تو اللہ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کو برے اور گندے راستوں کی طرف لے جاتا ہے اور اچھی بات سے نفرت دلاتا ہے لیکن جب قیامت کے دن اس شیطان کی وجہ سے وہ جہنم میں لے جایاجائیگا تو اس وقت وہ اپنے ساتھی شیطان سے نفرت کرے گا پچھتائے گا مگر اس وقت اس کا پچھتانا اور شرمندہ ہونا اس کے کام نہ آئے گا اور وہ عذاب الٰہی سے بچ نہ سکے گا ۔ ٭فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب یہ کفار و مشرکین جان بوجھ کر اندھے ، بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں اور ہر گمراہی کی طرف فوراً لپک کر جاتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی فرمانیوں کی پروا نہ کیجئے اور اس بات پر غم نہ کیجئے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیے آپ ہی سیدھے راستے پر ہیں۔ ٭فرمایا کہ لوگوں کا یہ تصور کہ نبی کو مال دار اور صاحب حیثیت ہونا چاہیے تھا یہ کوئی نبی بات نہیں ہے بلکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو للکارا اور معجزات دکھائے تو اس نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا کہ میرے پاس حکومت و سلطنت ، عیش و عشرت کے سامان ، خوبصورت باغات اور مال و دولت کے ڈھیر ہیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس کیا رکھا ہے ؟ یہ موسیٰ اگر واقعی اللہ کے پیغمبر ہوتے تو زمانہ کے دستور کے مطابق ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہوتے ان کے آس پاس فرشتے ہوتے۔ فرمایا کہ فرعون نے ان باتوں سے خود ہی گمراہی خرید لی ، ، خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہی میں مبتلا کردیا ۔ بد ترین انجام سے دو چار ہوا خود بھی ڈوب مرا اور اپنی پوری قوم کو بھی مروا دیا اور تباہ و برباد کرا دیا۔ ٭حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو بغیر باپ کے معجزہ کے طور پر پیدا کیا تو لوگوں نے ان کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ وہ زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے۔ ایسے نافرمانوں کو قیامت کے دن سے ڈرنا چاہیے جو ان سے بہت دور نہیں ہے۔ اس دن دوست بھی دشمن بن جائیں گے لیکن اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست ، ہمدرد اور غم گسارہوں گے۔ ٭قیامت کے دن اہل ایمان کو نہ تو کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ان کی صالح اور نیک بیویاں بچے ان کے ساتھ ہوں گے۔ سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں گے ۔ جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کی ملے گی۔ ان کے بر خلاف مجرمین کا یہ حال ہوگا کہ وہ عذاب الٰہی کو سامنے دیکھ کر جہنم کے داروغہ جس کا نام مالک ہوگا اس سے فریاد کریں گے کہ اپنے اللہ سے یہ کہہ دو کہ وہ ہمیں موت کی نیند سلا دے تا کہ ہم اس عذاب سے بچ سکیں مگر ان کو موت نہ آئے گی۔ ٭اللہ بےنیاز ہے ۔ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ ہے وہ ان سب کا مالک اور بادشاہ ہے۔ انبیاء اور نیک لوگوں کے علاوہ کسی کی سفارش نہ سنے گا ۔ فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیے اگر کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آڑے آتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے تم سلامت رہو ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کا بھیانک انجام دیکھیں گے جب ان کے سامنے سے سارے پردے ہٹ جائیں گے۔
حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader
حا ۔ میم حروف مقطعات ( معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)
وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader
اس واضح کتاب ( قرآن کریم) کی قسم
اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader
بیشک ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم آسانی سے سمجھ سکو
وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader
اور یقینا وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بلند رتبہ اور حکمت سے بھر پور کتاب ہے۔
اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader
کیا ہم محض اس وجہ سے کہ تم حد سے نکل جانے والے ( نافرمان ہو) اس نصیحت ( سے جو بھر پور کتاب الٰہی ہے) اس کا رخ تم سے پھیر دیں گے۔
وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader
ہم پہلے لوگوں میں بہت سے پیغمبر بھیج چکے ہیں
وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader
اور ان کے پاس کوئی ایسا پیغمبر نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو ۔
فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader
پھر ہم نے ان لوگوں کو جو ان ( اہل مکہ) سے زیادہ طاقت ور تھے ان کو تباہ و برباد کر ڈالا اور ان سے پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے۔
وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کو ایک زبردست اور خوب جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔
الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader
وہ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش ( راحت و آرام کا ذریعہ) بنایا ۔ اسی نے ان میں تمہارے ( آنے جانے کے) راستے بنائے تا کہ تم اپنی منزل تک پہنچ سکو ۔
وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader
اسی نے بلندی سے ایک خاص انداز کے مطابق پانی برسایا ۔ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) پھر ہم نے اس پانی سے مردہ زمین کو زندہ کیا ۔ اسی طرح تم بھی ( قبروں سے) نکالے جائو گے ۔
وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader
اللہ ہی تو ہے جس نے تمام چیزوں کی مختلف قسمیں بنائیں ۔ اسی نے تمہارے لئے کشتیاں ( جہاز) اور چوپائے ( مویشی جانور) بنائے جن پر تم سواری کرتے ہو ۔
لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader
تا کہ تم ان کی پشت پر خوب جم کر بیٹھو ۔ پھر جب اطمینان سے ان پر بیٹھ جائو تو اپنے پروردگار کا احسان یاد کرو اور تم یہ کہو ” اس کی ذات پاک بےعیب ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم تو ایسے طاقت ورنہ تھے کہ ان کو اپنے قابو میں کر لیتے
وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader
اور بیشک ہم سب کو اپنے پرور دگامر کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے
وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader
اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا جزو ( یعنی اولاد) بنا رکھا ہے۔ بیشک انسان کھلا ہوا نا شکرا ہے۔
اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader
کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے ( اپنے لئے) بیٹیاں بنائیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ہے ۔
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader
جس چیز کی مثال یہ رحمن کے لئے دے رہے ہیں ( ان کا یہ حال ہے کہ) جب اس کو ( بیٹی) ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور دل ہی دل میں ( غم و غصے سے) گھٹتا رہتا ہے۔
اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader
کیا ( اس نے اپنے لئے لڑکی کو چن لیا) جو زیوروں میں پرورش پائے اور اپنی بات بھی واضح طریقے پر بیان نہ کرسکے ۔
وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader
اسی طرح انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ کے خاص بندے ہیں ان کو بیٹیاں قرار دے رکھا ہے۔ ( اللہ تعالیٰ نے پوچھا ہے کہ) کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ فرمایا کہ ان کی یہ بات لکھ لی گئی ہے اور اس کے متعلق ان سے سوال ضرور کیا جائے گا ۔
وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader
وہ ( اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے) کہتے ہیں کہ اگر رحمن چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی عبادت کبھی نہ کرتے۔ ( فرمایا کہ) ان لوگوں کو اس بات کا صحیح علم نہیں ہے ( اسی لئے) یہ لوگ بےتحقیق بات کر رہے ہیں ۔
اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader
کیا ہم نے ( ان کافروں کو) اس قرآن سے پہلے کوئی ایسی کتاب دی تھی جس سے یہ ذلیلیں پیش کر رہے ہیں
بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader
بلکہ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نشانات قدم پر چل رہے ہیں۔
وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader
( فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ) اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا تو وہاں کے عیش پسندوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا تھا لہٰذا ہم بھی ان ہی کے نشانات قدم پر چل رہے ہیں۔
قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader
پیغمبر نے کہا کہ جس طریقے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اگر میں اس سے بہتر طریقہ لے کر آیا ہوں کیا تم پھر بھی ان ہی کے راستے پر چلو گے۔ ( ان کا جواب یہ تھا کہ) تم جس ( دین) کے ساتھ بھیجے گئے ہو اس کا ہم انکار کرتے ہیں ۔
فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader
پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا ۔ پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader
اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم جن چیزوں کی عبادت و بندگی کر رہے ہو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader
البتہ ( میرا تعلق اس ذات سے ہے) جس نے مجھے پیدا کیا اور پھر بیشک وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔
وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader
اور اسی بات کو ( ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بعد آنے والوں کے لئے قائم رہنے والی بات کر گیا تا کہ اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہوں ( شرک نہ کریں) ۔
بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader
اس کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کا سامان ( زندگی) عطاء کیا تھا یہاں تک کہ ان کے پاس حق بات اور صاف صاف بیان کرنے والا ( رسول) آگیا
وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader
اور جب ان کے پاس حق ( قرآن مجید) اور ( سچا) رسول آگیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے۔ ( ہم اس کو نہیں مانتے) ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader
انہوں نے (یہ بھی) کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں ( مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟
اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader
( اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا یہ لوگ آپکے رب کی رحمت ( نبوت) کو ( خود ہی) تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے دنیاوی زندگی میں ( ان کے درمیان) ان کے رزق کو تقسیم کر رکھا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر درجوں میں بڑائی دے رکھی ہے تا کہ ایک دوسرے کو خدمت کے لئے استعمال کرسکیں اور آپ کے رب کی رحمت تو اس سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کرتے ہیں ۔
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader
اور اگر یہ بات ( مقرر) نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم رحمن کا انکار کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو اور ان سیڑھیوں کو جن پر یہ چڑھتے ہیں
وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader
ان کے گھروں کے درازوں کو اور وہ تخت جن پر یہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں
وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader
سونے چانڈی کے بنا دیتے۔ ( کیا ان کو یہ معلوم نہیں ہے) یہ سب مال و دولت دنیاوی زندگی کے ساز و سامان کے سوا کچھ بھی تو نہیں ہے ۔ اور آخر کا گھر ( اور اس کی ابدی راحتیں) ان کے رب کے پاس ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔