43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 43:1

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

شروع اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

Ayahs 43:2–8

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے روشن کتاب کی

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے بنایا ہے اس کو عربی زبان کا قرآن تاکہ تم سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ کتاب لوح محفوظ میں ہمارے نزدیک بلند مرتبہ (اور) حکمت والی ہے۔

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا تمہارے سمجھانے سے ہم اس لیے مونہہ پھیر لیں گے کہ تم بیہودہ لوگ ہو۔

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور پہلے لوگوں میں بھی ہم نے بہت سے نبی بھیجے ہیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان کے پاس ایسا کوئی نبی نہ آتا تھا کہ جس سے وہ ٹھٹھا نہ کرتے تھے۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر تو ہم نے ان میں بڑے زور والوں کو غارت کردیا اور پہلوں کی نظیریں چلی آتی ہے (ان کے واقعات ضرب المثل ہے) ۔

ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ وغیرہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی بیشتر توحید و رسالت ودارآخرت وغیرہ اصول نظریہ مذکور ہیں مکہ میں جس قدر قرآن کی سورتیں نازل ہوئیں ان میں عملیات کا بہت کم حصہ ہے بیشتر اعتقادیات ہیں۔ حم بھی انہیں مفردات میں سے ہے جو سورتوں کے ابتداء میں آتے ہیں جن کی بہت جگہ ہم تشریح کر آئے ہیں۔ ان آیات میں مسئلہ نبوت کا اثبات ہے فقال و الکتاب المبین عرب میں گو صدہا قبائح مروج تھے مگر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر قسم کھانا بہت ہی سخت گناہ سمجھا جاتا تھا اور ان کا یقین تھا کہ جو کوئی قسم کھا کر جھوٹ بولے گا کبھی سرسبز نہ ہوگا۔ اس لیے حم خدا تعالیٰ کی ذات وصفات جلالیہ کا ذکر کر کے کتاب مبین کی قسم کھا کر یہ کہتا ہے اناجعلناہ قراناعربیا لعلکم تعقلون کہ ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا تمہارے سمجھنے کو کتاب مبین سے مراد قرآن ہے۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن بڑی عزیز چیز ہے اور ہر شخص اپنے عزیز و مرغوب چیز کی قسم کھایا کرتا ہے پس قرآن مبین کی قسم کھا کر قرآن مجید کی صداقت ثابت کرتا ہے۔ مبینبیان کرنے والا روشن اس کے بعد اور چند اوصاف قرآن مجید کے بیان فرماتا ہے (1) وانہ فی ام الکتاب لدینا کہ یہ قرآن کوئی بےاصل اور تراشیدہ کتاب نہیں بلکہ یہ ہمارے نزدیک ام الکتاب یعنی لوح محفوظ علم الٰہی کا ایک جریدہ ہے۔ ثبت است برجریدہ عالم کتاب ما۔ (2) علی ہے بلند مرتبہ کتاب ہے اس کی مثل اور کوئی ظاہر نہیں کرسکتا۔ (3) حکیم پر حکمت ہے اس میں جس قدر حکمتیں اور خوبیاں رکھی ہوئی ہیں وہ خود اس کی اصالت اور منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہیں۔ یہ سن کر جہلاء مکہ کہتے تھے کہ خدا کو ہمارے لیے کتاب بھیجنے کی کون ضرورت تھی ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے افنضرب الخ کہ کیا ہم تمہاری بیہودگی سے تم سے منہ موڑ کر بیٹھ جاتے تمہاری اصلاح نہ کرتے ؟ کیونکہ ہم رحیم و کریم ہیں پہلے سے ایسا کرتے آئے ہیں وکم ارسلنا الخ پہلے بھی انبیاء بھیجے ہیں اور لوگ ان سے ٹھٹھے کرتے رہے انجام کار ہم نے بھی ان میں سے بڑے سرکشوں کو غارت کردیا اور پہلوں کی کہاوت چلی آتی ہے کہ وہ یوں برباد ہوئے اب تم بھی ڈرو ‘ انکار نہ کرو۔
Ayahs 43:9–14

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے کہ ان کو اللہ زبردست ‘ علم والے نے پیدا کیا ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

اس نے کہ جس نے زمین کو تمہارا بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں رستے بنائے تاکہ تم راہ پائو۔

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

وہ کہ جس نے آسمان سے اندازے کے ساتھ پانی اتارا پھر ہم نے اس سے خشک زمین کو تازہ کیا ‘ تم بھی اسی طرح (قبروں) سے زندہ نکالے جائو گے

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور اللہ وہ کہ جس نے ہر قسم کے جوڑے بنائے اور تمہارے لیے وہ کشتیاں اور چارپائے بنائے کہ جن پر تم سوار ہوتے ہو

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ ان کی پیٹھ پر چڑھ کر اپنے رب کا احسان یاد کرو جبکہ تم ان پر خوب بیٹھ جائو۔ تو کہو پاک ذات ہے وہ کہ جس نے اس کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تو اس کو بس میں نہیں کرسکتے تھے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم کو اپنے رب کے پاس لوٹ کرجاتا ہے

تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور تمہارے لیے چلنے پھرنے کے لیے زمین میں راستے بنائے اور رستوں کے نشان قائم کئے ان کے پتے سے راہ نہیں بھولتے وہ اللہ کہ نزل من السماء جس نے آسمان سے ایک اندازہ سے پانی اتارا جس سے مردہ یعنی خشک زمین کو شاداب کیا اور قسم قسم کے اس میں درخت نباتات پیدا کئے۔ قال سعید بن جبیرالازواج الاضاف کلھا اسی طرح باردیگر تم کو زندہ کرے گا قبروں سے نکالے گا وجعل لکم من الفلک والانعام ماترکبون اور دریا کی سواریاں کشتیاں بنائیں اور زمین کے چارپائے اونٹ ‘ گدھا ‘ گھوڑا ‘ بیل ‘ ہاتھی ‘ خچر وغیرہ لتستوا علی ظہورہ الضمیر راجع الی ما الموصولۃ قالہ ابوعبید۔ تاکہ تم ان پر سوار ہو اور سوار ہو کر اکڑو نہیں بلکہ تذکروانعمۃ ربکم الخ اپنے رب کا احسان یاد کرو اور یہ کہو سبحان الذی سخرلنا ھذا وماکنالہ مقرنین کہ پاک ہے وہ کہ جس نے اس جانور کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بس کا نہ تھا مقرنین ومطعین یقال اقرن ھذا البعیراذا اطاقہ ھذا قول ابن عباس۔ وقال الاخفش وابوعبیدۃ مقرنین ضابطین وقیل مماثلین فی القوۃ اور چونکہ سفر طے کرنے کے لیے یا کسی مسافت طے کرنے کے لیے سوار ہوا کرتے ہو یہ بھی سمجھ لیا کرو کہ اسی طرح یہ عمر بھی ایک سفر ہے اس کو طے کرنا اور اللہ کے پاس پہنچنا ہے اس سفر سے اس سفر کو یاد کرلیا کرو اناالی ربنا لمنقلبون وہیں سے آئے ہیں وہیں جانا ہے۔ مسلم وابودائود و ترمذی و نسائی و حاکم نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب نبی ﷺ سوار ہوتے تھے تو تین بار تکبیر پڑھتے تھے پھر سبحان الذی الخ تک یہ پڑھتے تھے۔ اس نے تو یہ یہ عنایتیں کیں مگر کفارو مشرکین نے یہ کیا وجعلوالہ من عبادہ جزءا کہ اسی کے بندوں کو اس کا بیٹا بنا دیا کہہ دیا فلاں اس کا بیٹا ہے اور فرشتے ان کی بیٹیاں ہیں ان الانسان لکفورمبین آدمی صریح ناشکرا ہے اسی نے نبی اور کتاب بھیجی اس میں ضمنی طور پر مسئلہ توحید اور اپنے کمال وقدرت و صفات کمالیہ کا ثبوت کر کے اصل بات کا بھی جواب دے دیا کہ جس نے تمہارے لیے یہ سامان کئے پھر وہ تمہیں گمراہی میں کس لیے پڑا رہنے دیتا یہ بھی اس کا ایک انعام ہے پھر اور انعامات پر نہیں کہتے کہ خدا کو ان کے بنانے سے کیا مطلب تھا ؟ حالانکہ خود اقرار کرتے ہو کہ یہ چیزیں انسان کے نفع و قضاء حاجت کے لیے اس نے بنائیں پھر نبوت اور کتاب نازل کرنے کے امر میں یہ کہتے ہو کہ اس کو کیا غرض پڑی تھی کیا مطلب تھا کیا پروا تھی ؟ نبوت و توحید کا کس عمدگی سے ثبوت کیا۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور لوگوں نے اس کے بندوں کو اس کی اولاد 1 ؎ بنا دیا۔ بیشک آدمی جو ہے تو صریح ناشکرا ہے۔

ا ؎ مشرکین نے ان دلائل پر بھی اس کی مخلوق میں سے اس کا جز بنا دیا۔ فرشتوں کو بیٹیاں بعض انبیاء کو بیٹا کہتے ہیں بعض اس کی ذات کا ٹکڑا کہتے ہیں کہ اس سے منفصل ہو کر بنا فلاں خدا کے منہ سے فلاں ہاتھ سے فلاں پائوں سے بنا ہے ہنود چار ذاتوں برہمن چھتری وغیرہ کے نسبت ایسا ہی کہتے ہیں اور یہ ثبوت دیا کرتے ہیں جزء اً کے معنی شریک کے بھی ہوسکتے ہیں کہ عبادت اور خدائی کا حصہ دار بنا دیا۔ حقانی
Ayahs 43:16–21

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں لے لیں اور تم کو بیٹے چن کردیے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جائے کہ جس کو رحمان کے لیے ٹھہراتا ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاوے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

اور دل میں گھٹ کر رہ جائے کیا اس کے لیے وہ ہے کہ جو زیور میں پلتی ہے اور جھگڑے میں بات بھی نہ کرسکے

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور فرشتوں کو کہ جو رحمان کے بندے ہیں عورتیں فرض کرلیا۔ کیا انہوں نے ان کو پیدا ہوتے دیکھا ہے ان کی گواہی لکھی جائیگی اور ان سے پوچھا جائے گا

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ محض اٹکل دوڑاتے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس پر قائم ہیں

ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں یہ غلط بات ہے کیونکہ بیٹیوں سے بیٹے بہتر ہوتے ہیں یہاں تک کہ اذابشراحد ھم الخ جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی ہے جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے قرار دیتا ہے تو غم کے مارے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور دل میں گھٹ جاتا ہے عرب بیٹیوں کا پیدا ہونا اپنی عزت کے خلاف جانتے تھے اس لیے قتل کر ڈالتے تھے اور خبر سن کر بڑا رنج ہوتا تھا پھر ایسی چیز تو آپ لے اور بیٹے تم کو دے یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اولاد سے جو فائدہ متصور ہوتا ہے کہ وہ میدان کار زار میں کام دے اور مجالس میں سیف لسانی سے کام لے۔ یہ بھی ان سے حاصل نہیں اس بات کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے اومن ینشوئا الخ کہ کیا جو زیور میں اور آرائش میں پرورش پاتے ہیں (یعنی لڑکیاں) اور جھگڑوں میں گویائی سے عاجز ہیں کیونکہ عورت کی تربیت میں زیور و آرائش ہے جو مردانگی کے خلاف ہے اور شرم ولحاظ کی وجہ سے خوب بات نہیں کرسکتیں۔ وہ اس نے اپنے لیے پسند کی ہیں نہیں ہرگز نہیں۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ زنانہ تجمل و آرائش مذموم ہے۔ اس کے بعد ایک اور دلیل سے ان کو رد کرتا ہے فقال وجعلوالملائکۃ الخ کہ فرشتے اللہ کے بندے ہیں ان کو انہوں نے عورت بنا دیا جو ان کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں کیا انہوں نے ان کو پیدا ہوتے دیکھا ہے اس کی وہ شہادت دیں گے ؟ اچھا دیں ہم ان کی شہادت لکھے لیتے ہیں اور ان سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ اس کے بعد ان کفار و مشرکین کا جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور حجت میں ساکت کئے جاتے تھے ایک جواب نقل کرتا ہے جو محض جاہلانہ جواب ہے، وقالوالوشاء الرحمن کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم ان معبودوں کو نہ پوجتے اس سے ثابت ہوا کہ یہ اس کی مرضی کے موافق ہے اس کا جواب دیتا ہے مالہم بذلک من علم انہیں مشیت اور مرضی کا فرق معلوم نہیں اس قضاء و قدر اور عالم اسباب کے مسئلہ کو یہ نہیں جانتے محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں کہ اس کی مشیت ہے تو مرضی بھی ہے ام اتیناھم الخ کیا ان کے پاس اس بت پرستی کے جواز میں کوئی نوشتہ الٰہی ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور جس کے یہ پابند ہیں نہیں۔ اس کے جواب میں بھی یہی کہیں گے اناوجدنا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یوں کرتے دیکھا ہے ان کے طریقہ پر ہم چلتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے وکذلک کہ یہ نئی بات نہیں ان سے پہلے بھی جہاں کہیں کوئی نبی آیا وہاں کے پیٹ بھروں نے یہی عذر کیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے پیرو ہیں۔
Ayahs 43:22–30

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم انہیں کے پیرو ہیں

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی گائوں میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تو وہاں کے دولت مندوں نے (یہی) کہہ دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم انہیں کے پیرو ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

رسول نے کہا اگر میں تمہارے پاس اس سے بھی بہتر طریقہ لائوں کہ جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا تو بھی باپ دادا کے طریقہ پر چلو گے وہ بولے جو کچھ تو لایا ہے ہم اس کو جانتے بھی نہیں

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پھر تو ان سے ہم نے بدلہ لے لیا پھر دیکھ کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ جس کو تم پوجتے ہو میں اس سے بیزار ہوں

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر جس نے کہ مجھے پیدا کیا (اس سے سروکار ہے) پھر وہی مجھ کو رستہ بھی بتا دے گا۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور ابراہیم اسی بات کو اپنے بعد باقی چھوڑ گئے (کلمہ توحید کی وصیت کر کے) تاکہ لوگ (دینِ حق کی طرف) رجوع کریں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو رسایا بسایا یہاں تک کہ ان کے پاس دین حق اور صاف کہنے والا رسول (محمد) آگیا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جبکہ ان کے پاس سچا دین پہنچا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم تو اس کے منکر ہیں۔

ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔ تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر چلو گے ؟ اس کے جواب میں بھی کہہ دیا انا بما ارسلتم بہ کافرون ہم تمہاری سب باتوں کے منکر ہیں فانتقمنا منہم الخ پس ان سے بدلہ لیا ہلاک و برباد کردیا پھر دیکھوجھٹلانے والوں کا کیا بد انجام ہوا۔ تقلید کا ذکر : اس کے بعد اس تقلیدِ آبائی کے رد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا ہے جو مخاطبین کے جدامجد تھے کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کے طریقے کو جو ناپسند تھا چھوڑ دیا پھر اگر تم کو باپ دادا کی پیروی منظور ہے تو اپنے دادا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرو اس نے اپنے باپ اور قوم سے صاف کہہ دیا تھا کہ میں بجز اس کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا تمہارے معبودوں میں سے کسی کو نہیں مانتا وہی مجھ کو اپنے دین کا رستہ دکھا دے گا۔ دلیل چونکہ تقلید سے بہتر ہے اس لیے جعلہا کلمۃ باقیۃ علی عقبہ کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو (اننی براء مماتعبدون الا الذی فطرنی) اس کے بعدتک خدا پرست قوموں میں قائم رکھا کیونکہ یہ کلمہ بمنزلہ لا الہ الاللہ کے ہے اور موحدین کے پیشوا ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بعد اس کلمہ کو باقی چھوڑا تاکہ لوگ شرک سے توحید کی طرف رجوع کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام و دلائلِ سماویہ کے مقابلہ میں بےسوچے سمجھے باپ دادا کی تقلید و پیروی حق کے خلاف میں کرنا مذموم ہے اور ایسی تقلید شرک و گمراہی ہے مگر ائمہ مجتہدین کے فتو وں پر چلنا (جو ادلہ اربعہ کتاب و سنت اجماع و قیاس یعنی استنباط نصوص پر مبنی ہیں) یہ سمجھ کر کہ ناسخ و منسوخ اور مائول و مفسر مشترک و غیر مشترک کی شناخت مواردنصوص کی تخصیص و تعمیم ‘ احادیث میں صحیح و ضعیف کی پہچان یہ ہم سے زیادہ تر جانتے ہیں اور اہل توحید کا جم غفیر سلف سے خلف تک ان کو ان باتوں میں پیشوا جانتا آیا ہے محاورات عرب اور ان کے رسم و رواج سے بھی یہ خوب واقف تھے باایں ہمہ اہل ورع و پرہیز گار تھے جو ایک خاص قسم کی تقلید ہے اس کو بھی اسی میں ملا کر شرک و بدعت کا حکم لگا دینا بڑی ناانصافی ہے۔ مشرکین ایک حجت یہ بھی قائم کیا کرتے تھے کہ اگر تقلیدِ آبائی اور یہ بت پرستی عند اللہ بری ہے تو سینکڑوں برسوں سے یہ لوگ دنیا میں کیوں پھلتے پھولتے آئے ہیں۔ اس کا جواب دیتا ہے بل متعت الخ کہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا میں اب تک 1 ؎ پھلنے پھولنے دیا اس پر یہ پھول گئے اور اس بات کو حق اور رسول مبین کے مقابلہ میں پیش کرنے لگے اور دین حق اور رسول کو جادو کہہ دیا اور انکار کردیا۔ یہ ان کی غلطی ہے کس لیے کہ دنیا کی برومندی اس کی ربوبیت کا مقتضٰی ہے یہ کوئی دلیل ان کے برحق ہونے کی نہیں۔ 1 ؎ یعنی رسول اور قرآن کے ظہور تک یہاں تک وہ اسی میں مبتلا تھے کہ ان کے پاس رسول اور دین حق آگیا ہے اور ہم کو قاضی شوکانی اور ابن القیم اور ان کے مقلدین سے کمال تعجب ہے کہ وہ باوجود علم اس بات کے کہ کتب اصول فقہ میں مسلم ہوچکا ہے کہ نص کے مقابلہ میں قیاس مجتہدین کوئی چیز نہیں کیسی جرأت کرتے ہیں اور اہل اسلام کو مشرک قرار دیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس !
Ayahs 43:31–35

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہنے لگے کس لیے یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی سردار پر نہ نازل کیا گیا۔

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا وہ آپ کے رب کی رحمت بانٹنا چاہتے ہیں ؟ ان کی روزی تو دنیا میں ہم نے ان میں بانٹ دی ہے اور ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ ایک دوسرے کو محکوم بنا کر رکھے اور آپ کے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے کہ جس کو وہ جمع کر رہے ہیں

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک طریقے کے ہوجاویں گے (کافر) تو جو اللہ کے منکر ہیں ان کے گھروں کی چھت اور ان پر چڑھنے کی سیڑھیاں چاندی کی کردیتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی چاندی کے کردیتے کہ جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور دوسری آرائش بھی دیتے اور یہ سب کچھ جو ہے تو دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے اور دارآخرت آپ کے رب کے ہاں پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

تفسیر : کفار مکہ کا آنحضرت ﷺ کی نبوت پر یہ بھی ایک بیہودہ شبہ تھا جس کو یہاں نقل کر کے جواب دیتا ہے فقال وقالوا الولانزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہ نازل ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریتین سے مراد ان کی دو شہر تھے مکہ اور طائف اور رجل عظیم یعنی بڑے عظیم شخص سے مراد وہ کہ جو بڑا مالدار ‘ صاحب شوکت وجاہ ہو۔ مکہ میں ایسا شخص جو منصب نبوت کا مستحق ‘ دنیاوی مال وجاہ کے لحاظ سے ان حمقاء کے نزدیک سمجھا گیا تھا ولید بن المغیرہ تھا اور طائف والوں میں سے عروہ بن مسعود ثقفی۔ یہ کہنا تو ان کا درست تھا کہ کسی بڑے شخص پر قرآن اترنا تھا مگر یہ ان کی حمایت تھی کہ وہ بڑائی مال وجاہ میں منحصر جانتے تھے اور ان پر کیا موقوف ہے اب بھی حمقاء میں مال وجاہ دنیاوی پر بڑائی کا انحصار ہے خصوصاً بےدینوں کے نزدیک اب اس کے دو جواب دیتا ہے : اول اھم یقسمون رحمۃ ربک الی قولہ سخریا کہ جب دنیاوی مرتبوں میں ہم نے تفاوت کردیا کہ جس کو کوئی اٹھا نہیں سکتا کوئی حاکم ہے کوئی محکوم ہے ‘ کوئی مفلس ہے کوئی زوردار ‘ جس کے سبب انتظام عالم ہو رہا ہے کیونکہ سب یکساں ہوں تو کوئی کسی کی اطاعت و خدمت کیوں کرے ؟ تو دینی تفاوت کو وہ کیونکر اٹھا سکتے ہیں ہم جس کو چاہیں ولی اور جس کو چاہیں کافر و فاسق بنا دیں۔ اور یہ بھی ہے کہ مال جو کچھ کسی کو دیا ہے ہم نے اپنے فضل و کرم سے عطا کیا ہے پھر کسی کو مال دے کر کیا ہم نبوت دینے پر بھی مجبور کئے جاسکتے ہیں کہ خواہ مخواہ نبوت بھی اسی کو دیں۔ پس ہم مختار ہیں ہم پر کسی کا دینا نہیں آتا کہ جس کو مال و جاہ دیں خواہ اس میں نبوت کی لیاقت ہو یا نہ ہو اس کو نبوت بھی عطا کریں۔ دوم : و رحمت ربک خیر مما یجمعون یہ کہ مال وجاہ کی شرافت کو نیکی وسعادت ازلی کی شرافت سے بڑھ کر جاننا نادانی ہے۔ کس لیے کہ مال وجاہ لذات دنیا کے حاصل کرنے میں کام آتا ہے جو محض فانی ہے اور یہ سعادت ازلی لازوال دولت ہے جو باقی ہے اور جس چیز کو وہ سمیٹ رہے ہیں یعنی مال اس سے بہتر ہے۔ پس اسی دولت کا مالا مال شریف اور بڑا ہے اور تمہارے عقیدہ کے موافق بڑے آدمی کو نبوت کا مرتبہ ملنا چاہیے تو وہ بڑے شخص نہیں بلکہ محمد ﷺ بڑے ہیں اس کے بعد دنیا اور اس کے کرّوفر کی بےوقعتی بیان فرماتا ہے کہ جس پر وہ شیدا تھے اور جو ان کی آنکھوں میں بڑی چیز تھی فقال ولولاان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر با لرحمان الخ کہ دنیا کی ہمارے نزدیک کیا عزت ہے ؟ صرف یہ بات نہ ہوتی کہ دنیا کا تجمل دیکھ کر سب یا اکثر لوگ کفر کی طرف راغب نہ ہوجاتے تو ہم کفار کو جو رحمان کے منکر ہیں اس جہان کے بدلہ دنیا میں اس قدر دیتے کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں چاندی کی کردیتے اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہاں تکیہ لگا کر بیٹھنے کو تخت بھی چاندی کا کردیتے اور بہت آرائش کے سامان عطا کرتے مگر یہ سب کچھ دنیا فانی کا چند روزہ اسباب ہے اور آخرت جو ہے تو پرہیز گاروں کے لیے بہتر ہے۔ وہاں ان کے لیے اس سے زیادہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے اگر دنیا کی اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کی برابر بھی قدر ہوتی ہے تو کسی کافر کو سرد پانی بھی نہ دیتا۔ (رواہ الترمذی) حضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ مومن کو دنیا سے اس طرح روکتا ہے کہ جیسا کوئی بیمار کو پانی سے روکتا ہے۔ (رواہ الترمذی) بیشک قیامت کے قریب کفار کو دنیا اور اس کے تجملات بکثرت دستیاب ہوں گے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوں گے۔ یورپ کو دیکھو اسی بات کی مسلمانوں میں نہ ہونے سے نیچری کہتے ہیں کہ اسلام مٹ گیا۔
Ayahs 43:36–37

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان متعین کرتے ہیں پھر وہ اس کا ساتھی رہتا ہے

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور شیاطین آدمیوں کو رستے سے روکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم راہ راست پر ہیں

ترکیب : عظیم بالجبر بدل من رجل لبیوتہم بدل باعادۃ الجارای لبیوت من کفروجمیع الضمیر فی بیوتہم و افردہ فی یکفر باعتبار معنی من ونفلھا، سقفاقرلہ الجمہوربضم السین و القاف فھی جمع سقف کر ھن ورھن وقال الفراء ھو جمع سقیف کر غیف ورغف وقیل جمع سقوف فیکون جمعاللجمع۔ وقرء بفتح السین و اسکان القاف فھو واحدفی معنی الجمع و معارج جمع معرج بفتح المیم وکسرھا۔ ابوابا و سررا (جمع سریرا) منصوبان بجعلنا ای جعلنا البیوتھم ابواباسر رالمابا لتخفیف و قری بالتشدید فعلی الاولی ان مخففہ من الثقیلۃ و علی الثانیۃ ھی النافیۃ ولمابمعنی الا۔ ترکیب : ومن شرطیۃ یعش العشوالاعراض والعدول ھذا قول الفراء والزجاج وقال الخلیل النظر الضعیف قراء الجمہوربضم الشین من عشایعشومن نصر ینصر و قریٔ بفتح الشین من عشی یعشی۔ ای من سمع یسمع۔ وسقط الواوبمن الشرطیۃ۔ قال الجوہری العشا مقصور مصدرالاعشیٰ ھومن لایبصر باللیل والمراۃ عشویٰ نقیض جو اب الشرط انکم بفتح ان علی ان ومابعدھافاعل ینفعکم ویمکن ان یکون ضمیر اللتمنی وانکم لانکم۔ ومن کان عطف علی العمی باعتبار تغائر الوصفیں۔ تفسیر : اب دنیا کا خراب نتیجہ بتاتا ہے ومن یعش کہ جب شہوات و لذات دنیا خدا کی یاد سے غافل کردیتی ہیں اور جو اس کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو اس کے لیے ایک شیطان قائم ہوجاتا ہے جو اس کا ہر کاروبار میں ساتھی رہتا ہے اور انہم لیصدونہم من السبیل الخ اور شیاطین انسان کو راہ راست سے باز رکھتے ہیں اور لطف یہ کہ انسان اپنے آپ کو راہ راست پر جانتا ہے۔ اس نشہ میں یہاں تک مبتلا رہتا ہے کہ اذاجاء نا الخ ہمارے پاس آتا ہے مر کر یا قیامت میں تب یہ نشہ اترتا ہے اور اس کی برائی ثابت ہوتی ہے تو اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کاش تجھ میں اور مجھ میں مشرق و مغرب کا فرق ہوجاوے یعنی جس قدر مشرق سے مغرب دور ہے یہ مردود مجھ سے اتنا دور رہے ولن ینفعکم الیوم مگر آج کی بیزاری کیا فائدہ دیتی ہے جب کہ جو کچھ نہ کرنا تھا کرچکے اب وہ شیطان بھی اور اس کے ساتھی یہ بھی دونوں جہنم میں گرے۔ دنیا میں ایسا ساتھی پیدا ہوا تھا کہ اپنے ساتھ جہنم میں لے کر گرا۔ یہ شیطان جو یاد الٰہی سے غافل ہونے پر قائم ہوتا ہے شیطان جنی ہے جس کا مرکب اس کے بدن میں قوت شہوانیہ و غضبانیہ و نفسانیہ و جمیع قوائے بہیمیہ ہیں انسان جب یاد الٰہی میں مصروف رہتا ہے تو روح کا جوہر نورانی اس مبدئِ فیاض و نور مطلق کی تجلی سے منور رہتا ہے ‘ نیک و بد کا کامل امتیاز رہتا ہے ‘ خدا کی سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ اس کے تمام کاروبار فطرت کے موافق سرزد ہوتے ہیں اور انبیاء چونکہ ہمہ وقت یاد الٰہی میں رہتے ہیں شیطان سے محفوظ رہتے ہیں اور معصوم ہوتے ہیں اور جب یہ ادھر سے غافل ہوا قوائے بہیمیہ کی تاریکیاں اس پر ہر طرف سے محیط ہوئیں اور اس کو اندھا کردیا اب اس کے جو کام ہوں گے خلاف فطرت ہوں گے اور ان سے اور بھی تہ بر تہ تاریکیوں کی اس پر چڑھتی جاویں گی اور اس کو ابدالاباد تک جہنم بن کر گھیرے رہیں گے جو جہل مرکب کا نتیجہ ہے یہاں تک کہ جب اس عالم سے کوچ کرے گا اور قوائے بہیمیہ کا انجن ٹھنڈا ہوجاوے گا تب اس کو اپنے مرض کی خبر ہوگی اور تاسف کرے گا مگر کیا فائدہ۔ دنیا کی محبت اور خدا سے غافل ہونے کے ساتھ یہ بلائیں لگی ہوئیں ہیں کیا خوب کہا ہے کسی نے ؎ زتویک نفس جداشدم شدہ صد بلانصیبم من و بےتو زندگانی نکند خدا انصیبم پس جو ایسی تاریکیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اس کے حواس باطنیہ بھی زائل ہوجاتے ہیں وہ اندھا ہوتا ہے کچھ نہیں دیکھتا بہرہ ہوتا ہے کچھ نہیں سنتا۔ اب اس کو کسی کی نصیحت نفع نہیں دیتی۔ اسی بات کو خدا تعالیٰ اپنے نبی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ فقال افانت تسمع الصم اوتہدی العمی و من کان فی ضلال مبین کہ اے محمد ﷺ کیا تو ایسے بہرہ کو سنا سکتا ہے اور ایسے اندھے کو راہ بتا سکتا ہے اور اس کو جو ضلال مبین میں ہو راہ پر لاسکتا ہے ؟ نہیں کس لیے کہ ان میں صلاحیت ہی نہیں رہی۔ اس مرتبہ کو ضلال مبین کہتے ہیں۔
Ayahs 43:38–40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ آدمی جب ہمارے پاس آئے گا تو (شیطان سے) کہے گا اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق اور مغرب کا فرق ہوتا پھر کیا برا ساتھی ہے۔

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور تم کو اس روز جبکہ تم مجرم قرار پا چکے یہ بات کچھ فائدہ بھی نہ دے گی کہ تم سب عذاب میں شریک ہو۔

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

(اے محمد) پھر کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں یا اندھے کو اور اس شخص کو جو صریح گمراہی میں ہے ہدایت کرسکتے ہیں۔

1 ؎ بعدالمشرقین ای بعدالمشرق و المغرب و من عادۃ العرب تسمیۃ الشیئینالتقا بلین باسم احد ہما 12 کبیر 12۔ منہ۔