43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 43:1–9

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس واضح کتاب کی

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

“۔۔ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے ، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

۔ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو ؟

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بار ہا ہم نے نبی بھیجے ہیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا تو یہ خود کہیں گے کہ “ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے

درس نمبر 231 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25 آیت نمبر 1 تا 8 سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔ انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟ وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔ افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔ اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔ وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔ بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔ قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
Ayahs 43:10–14

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

“”۔۔ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعے سے مردہ زمین کو جلا اٹھایا ، اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے ، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تا کہ ان کی پشت پر چڑھو اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

، اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے

آیت نمبر 9 تا 14 عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (43 : 9) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔ قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا : الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔ ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔ پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔ اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔ الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (43 : 10) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔ زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے : والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد ﷺ بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔ سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔ والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔ فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43 : 11) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔ والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (43 : 12) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔ اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔ بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے : وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (43 : 12) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔ لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔ وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔ یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔ ٭٭٭ اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔
Ayahs 43:15–25

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث وحجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

انہوں نے فرشتوں کو ، جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے ؟ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

“۔ ؟۔۔ یہ کہتے ہیں “ اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم ان کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ”۔ یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے ، محض تیر تکے لڑاتے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند (اپنی اس ملائکہ پرستی کے لئے ) یہ اپنے پاس رکھتے ہوں ؟

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

نہیں ، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

۔ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

۔ آخر کار ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔ ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔ واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔ غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔ اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔ وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔ یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔ وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔ ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔ ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔ اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ : بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟ اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔ وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔ اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
Ayahs 43:26–28

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ “ تم جن کی بندگی کرتے ہو ، میرا ان سے کوئی تعلق نہیں

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

میرا تعلق صرف اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ، وہی میری رہنمائی کرے گا ” ۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور ابراہیم یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔

درس نمبر 232 ایک نظر میں قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس سبق میں قرآن اپنے مخاطبین کو خود ان کی تاریخ کی سیر کراتا ہے تا کہ ان کے دعوے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اس کے بعد رسالت محمدی پر ان کے اعتراضات کو پرکھا جا رہا ہے۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں ہوا ”۔ ان کے اس قول کی تردید کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ میں بہت بڑی کجی ہے۔ کیونکہ اسلام جن قدروں پر مبنی ہے ، ان کے اعتبار سے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دعوت اسلامی کی زمام کسی بڑے آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی قدریں ہیں اور یہی اسلام کی طرف آنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہی باطل سوچوں نے ان کو حق و ہدایت سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کو یہ اطلاع بھی کردی جاتی ہے کہ اس گمراہی کی اصل علت اور وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اس درس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف آپ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ان سے منہ موڑ لیں ، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ، آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی اندھے کو بینا کردیں ، کسی بہرے کو شنوائی دے دیں۔ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ اور ان کو ضرور سزا ملے گی خواہ آپ کی زندگی میں اللہ ان سے انتقام لے یا آپ کے بعد وہ اس سے دو چار ہوں۔ آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے ، آپ اس کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ یہی پیغام تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ سب کلمہ توحید لے کر آئے تھے۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ، ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ” ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حلقہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرعون کلیم کے قصے کا وہ حصہ جس میں وہی جھوٹی قدریں سامنے آتی ہیں جو اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش کیں گویا یہ ایک تیار استدلال ہے ، بنا بنایا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ ٭٭٭٭ درس نمبر 232 تشریح آیات 26 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 56 آیت نمبر 26 تا 28 دعوت توحید جسے یہ لوگ انوکھا سمجھتے ہیں ، یہ دراصل ان کے باپ کی دعوت ہے ، یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ان کے باطل عقائد کی تردید کی۔ اور اس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے موروثی عقائد کو ترک کیا اور موروثی راہ پر رسم نہ چلے۔ محض اس لیے کہ آباء و اجداد یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، اس معاملے میں ان کے مقابلے میں برات کے اظہار میں کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی صاف الفاظ اور شفاف عمل میں ان کی تردید کی ، جس طرح قرآن نقل کرتا ہے : اننی براء مما تعبدون (43 : 26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین (43 : 27) “ بیشک میں ان سے بری الذمہ ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو ، میرا تعلق اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار برات اور پھر اس اعلان سے کہ میں صرف اس خدا کی بندگی کروں گا جو میرا خالق ہے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمرودی معاشرہ بھی بالکل خدا کا منکر نہ تھا بلکہ وہ اللہ کے سوا اور الہٰوں کو اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے تھے۔ اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان سے برات کا اظہار کیا۔ اس لا تعلقی کے اظہار سے آپ نے خالق کائنات کو مستثنیٰ لیا۔ اور اللہ کی یہاں آپ نے وہ صفت بیان جو صرف اللہ کے لئے عبادت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ یہ کہ وہ پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندگی اور حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے اور آپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ انہیں ہدایات دے گا کہ وہ کیا کریں کیونکہ خالق اپنی مخلوق کی راہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس طرح ہدایت دے۔ یہ کلمہ جس کے اوپر زندگی قائم ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس پر شہادت دے رہی ہے ، یہ حضرت ابراہیم نے کہا۔ وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون (43 : 28) “ اور ابراہیم یہی کلمہ پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔ اس کرۂ ارض پر کلمہ توحید کے اقرار اور رواج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ہی کے بعد یہ کلمہ تمام نسلوں میں رائج ہوا۔ اور یہ رواج آپ کی اولاد کے ذریعے ہوا۔ آپ کی اولاد سے بیشمار رسول بھیجے گئے۔ تین رسول تو اولو العزم رسول تھے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ ۔ آج دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں ، جو مختلف بڑے ادیان کے پیروکار ہیں جو اپنے باپ کے کلمہ توحید پر کاربند ہیں۔ اس نے اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی رکھا۔ اگرچہ ان میں سے بھی گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے لیکن یہ کلمہ باقی رہا۔ کبھی یہ بالکل نا پید نہیں ہوا ، اور اس کے قدم مضبوط رہے ، کبھی کسی نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا اور نہ اس کے ساتھ باطل کا امتزاج ہوا ہے تا کہ لوگ اللہ کی طرف لوٹیں اور اسے سینے سے لگائیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بھی کلمہ توحید سے انسانیت واقف تھی لیکن زمین کے اوپر کلمہ توحید کو قرار و ثبات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نصیب ہوا۔ آپ سے پہلے حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح اور شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کلمہ توحید پیش کیا لیکن ان رسولوں کو ایسے جانشین نہ ملے جو ان کے بعد کلمہ توحید کو باقی رکھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے اور جو اس کے لئے زندہ رہتے۔ لیکن جب یہ کلمہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پیش فرمایا تو آپ کے بعد اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اور رسولوں کا بھی ایک غیر منقطع سلسلہ چل نکلا۔ چناچہ آپ کی اولاد میں سے آخری بیٹے اور آپ کے ساتھ زیادہ مشابہ حضرت محمد خاتم النبین ﷺ تشریف لائے ، اور انہوں نے کلمہ توحید کو اس کی کامل اور شامل صورت میں پیش کیا جس نے پوری زندگی کو اس کلمے کے ارد گرد گمادیا۔ اور انسان کی ہر سرگرمی میں اس کو اثر انداز کردیا۔ یہ تھی توحید کی کہانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں وراثت میں باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر یہ کلمہ نسلاً بعد نسل نقل ہوتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے اس کلمے کے مقابلے میں کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں۔ زمانے گزر گئے۔ اللہ نے نسلاً بعد نسل ان کو زندگی کے خوب سازو سامان دئیے ، بہت زیادہ دور چلے جانے کے بعد انہوں نے ملت ابراہیمی کو بھلا دیا۔ اور ان عربوں کے اندر کلمہ توحید انوکھا ہوگیا۔ اب جبکہ حضرت محمد ﷺ آئے ہیں تو انہوں نے اس کا بہت ہی برا استقبال کیا اور اسے بھی اہل زمین اور دنیا پرستوں کی قدروں کے پیمانوں سے ناپنا شروع کردیا اور خود ان کے پیمانے بھی بدل گئے۔