43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 43:29–35

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

“ ( اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا ) بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ، یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول ﷺ آگیا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

۔ کہتے ہیں ، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا ؟

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (ان کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ،

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متبعین کے لئے ہے ”۔

آیت نمبر 29 تا 35 اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔ بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔ انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔ لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔ لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔ اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔ تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔ اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔ درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔ بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔ و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔ ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔ وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔ والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔ ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔ یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔ یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔ ٭٭٭ جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
Ayahs 43:36–39

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

“ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں ، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو بدترین ساتھی ہے ”

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں ”۔

آیت نمبر 36 تا 39 العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جب اس کا دل ذکر الٰہی سے غافل ہوا اس کی طرف ایک شیطان راہ پالیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ، ہر وقت اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اور اس کے لئے برائی کو خوبصورت بناتا رہتا ہے۔ یہ شرط اور اس کا جواب دونوں مل کر اللہ کے نظام مشیت کی خوبصورت تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ کی سنت کے مطابق سبب آتے ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق طے ہوتا ہے اور اسے قضا اور قدر کہتے ہیں۔ اور شیطانی برے دوستوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انسانی برے دوستوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یوں یہ انسان خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون (43 : 37) “ اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ”۔ ایک دوست کی طرف سے ایک دوست کے ساتھ یہ نہایت ہی برا سلوک ہے کہ وہ دوست کو سیدھے راستے سے روک کر غلط راہ پر ڈال دے اور پھر اسے مسلسل غافل رکھے کہ وہ انسانی دوست کبھی یہ سوچ بھی نہ سکے کہ وہ غلطی پر ہے بلکہ اسے یہ تسلی دیتا رہے کہ وہ سیدھی راہ پر جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ برے انجام کے ساتھ متصادم ہوجاتا ہے۔ یہاں انداز تعبیر کے لئے فعل مضارع استعمال ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر عمل جاری ہے۔ لیصدونھم “ وہ روکتے ہیں ”۔ یحسبون “ وہ گمان کرتے ہیں ”۔ اور دیکھا جاسکتا ہے بلکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہیں اس تماشہ کو ، جبکہ وہ خود اسے تمہیں دیکھ رہے جو جہنم کی طرف رواں ہیں لیکن انجام سے بیخبر اور جس راہ پر وہ جارہے ہیں ، اچانک ہی وہ انجام بد تک پہنچ جائیں گے۔ حتی اذا جاء ۔۔۔۔ فبئس القرین (43 : 38) “ آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ، “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو ، تو بدترین ساتھی نکلا ”۔ چشم زدن میں ہم دنیا سے آخرت میں چلے جاتے ہیں ، ہماری اس زندگی کا دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہ اندھا پن اس کو شیطان کی رفاقت میں آخری انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہاں اب ہوش آجائے گا ، جس طرح شرابی کا نشہ اترتا ہے اور اندھے پن اور مدہوشی کے بعد یہ نظریں اٹھا کر دیکھیں گے۔ اب یہ شخص اپنے ساتھی کو غور سے دیکھے گا جو اسے یہ یقین دہائیاں کرا رہا تھا کہ میں تو آپ کو صحیح راہ پر لے جا رہا ہوں ، لیکن تھا وہ بربادی و ہلاکت کا راہبر۔ اس لیے وہ جل بھن کر اسے کہے گا۔ یلیت بینی وبینک بعد المشرقین ( 43 : 37) “ کاش میرے اور تیرے درمیان شرق و مغرب کا بعد ہوتا ”۔ کاش کہ ہم ملتے ہی نہ اور ہمارے درمیان یہ دوریاں ہوتیں اور پھر قرآن مجید کہتا ہے۔ فبئس القرین (43 : 38) “ یہ تو بہت ہی برا ساتھی ہے ”۔ اب دونوں کی حالت پر مایوس کردینے والا تبصرہ۔ اور پھر اس منظر پر پردہ کرتا ہے۔ ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون (43 : 39) “ اور اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیطان عذاب میں مشترک ہیں ” ۔ عذاب سب کے لئے برابر ہے اور اس کو باہم تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ٭٭٭٭ اب روئے سخن ان لوگوں سے بھر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس بری حالت میں چھوڑ کر کہ ایک دوسرے کو ملامت کریں ، الزامات کی بوچھاڑ کریں ، برا بھلا کہیں ، خطاب رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوجاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے اس انجام بد سے پریشان نہ ہوں اور ان کے اعراض اور کفر کی پرواہ بھی نہ کریں جو حق آپ کی طرف آرہا ہے اس پر جم جائیں اور سچائی قدیم زمانے سے مسلسل آرہی ہے اور ہر رسول نے اسی کو پیش کیا ہے۔
Ayahs 43:40–45

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

“ اب کیا اے نبی ﷺ ، تم بہروں کو سناؤ گے ؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے خواہ ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں ،

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

تم بہرحال اس کتاب کو مضبوط سے تھامے رہو ، جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ۔

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دورے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟”۔

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔
Ayahs 43:46–47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

“ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب اس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے

آیت نمبر 46 تا 47 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے اور اس کا ذکر بطور تمہید ہوا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اس قصے کا متعلقہ حصہ پیش کیا جائے ، متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جس طرح قریش نے حضرت محمد ﷺ پر اعتراضات کئے ، ویسے ہی فرعون نے بھی کئے تھے ، جس طرح یہ اعتراضات دنیائے ونی کے جھوٹے معیار کے حوالے سے تھے اسی طرح فرعون نے بھی اپنی برتری کے لئے دنیاوی معیار پیش کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں اور تمام رسولوں نے کہا کہ ہم رسول ہیں ، یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی طرف اور ان کے مقابلے میں فرعونیوں کے رد عمل کی طرف بھی صریح اشارہ۔ اذاھم منھا یضحکون (43 : 48) “ وہ ٹھٹھے مارنے لگے ”۔ اور ہمیشہ جاہلوں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان آزمائشوں کی طرف اشارہ آتا ہے ، جن کی تفصیلات دوسری سورتوں میں دے دی گئی ہیں۔ یہ آزمائشیں پے در پے ان پر آئیں اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں فریادی ہوئے اور آپ ؐ کی دعاؤں سے وہ آزمائشیں دور ہوئیں۔
Ayahs 43:48–50

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

“ ہم ایک پر ایک ایسی نشانی ان کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی ، اور ہم نے ان کو عذاب میں دھر لیا کہ وہ اپنی روش سے باز آئیں۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے ، اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھرجاتے تھے ”۔

آیت نمبر 48 تا 50 یوں یہ مسلسل معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے جا رہے تھے ذریعہ ایمان نہ بنے۔ حالانکہ ایک سے ایک بڑا معجزہ ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ بات قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ جو دل ہدایت کے قابل ہی نہ ہو اس کو معجزات کے ذریعہ کبھی ہدایت نہیں ملتی اور یہ کہ کوئی رسول بہرے کو سنا نہیں سکتا اور اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا۔ یہاں قرآن کریم فرعون اور اس کے درباریوں سے جو بات نقل کرتا ہے اس میں عجیب بات یہ ہے جو وہ کہتے ہیں۔ وقالوا یا ایھا ۔۔۔۔ اننا لمھتدون (43 : 49) “ اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ یہ ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔۔۔۔ ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ دعا کراتے ہیں کہ یہ مصیبت ٹل جائے لیکن اس کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو “ اے جادوگر ” سے خطاب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں۔ ادع النا ربک بما عھد عندک (43 : 49) “ اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ”۔ حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو ان کو کہتے تھے کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ یہ نہ کہتے تھے کہ میں صرف اپنے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ لیکن اصل بات یہ تھی نہ ان معجزات نے ان کے دل پر اثر کیا تھا اور نہ رسول کے کلام نے ان پر اثر کیا تھا۔ وہ یہ غلط کہتے تھے کہ اننا لمھتدون (43 : 49) “ ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ فلما کشفنا عنھم العذاب اذاھم ینکثون (43 : 50) “ مگر جونہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے ”۔ لیکن بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ معجزات کے نتیجے میں جمہور عوام کے دلوں پر اثر ہوجاتا ہے اور ان کے دھوکہ کھائے ہوئے دماغوں میں بعض اوقات بات آجاتی ہے۔ اب فرعون دبدبہ شاہی اور اقتدار کے رنگ میں آتا ہے۔ زیب وزینت کے کروفر میں۔ اور جمہور کے سامنے اپنی سطحی منطق پیش کرتا ہے۔ اور عوام کو متاثر کرنے کی سعی کرتا ہے۔ غلامی کی ذہنیت رکھنے والے عوام کے سامنے جن کا خمیر ظلم اور جبر کے دور میں بالعموم بدل جاتا ہے ، وہ چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے اور ان کے سامنے کروفر کے ذریعے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
Ayahs 43:51–53

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

“ ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا ، “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ؟”

آیت نمبر 51 تا 53 مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان عوام کے غافل اور سطحی دلوں کے سامنے ترقیات کا زرق برق نقشہ پیش کیا اور کہا۔ ام انا خیر ۔۔۔۔۔ یکاد یبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ یہاں ذلت سے اس کی مراد یہ تھی کہ یہ نہ امیر ہے ، نہ صاحب اقتدار اور نہ اس کے پاس نظر آنے والی مالی پوزیشن ہے۔ لفظ ام سے وہ اشارہ بنی اسرائیل کی غلام قوم کی طرف کرتا ہے ، اور “ اپنی بات کھول کر بیان نہیں کر سکتا ” اس طرف کہ مصر سے جانے سے پہلے آپ کی زبان میں لکنت تھی۔ یہ پہلے کی بات تھی ورنہ اب لکنت نہ تھی۔ حضرت موسیٰ علی السلام نے دعا فرمائی تھی۔ رب اشرح لی ۔۔۔۔۔۔ یفقھوا قولی “ اے میرے رب میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے ، اور میری زبان میں لکنت ہے ، اسے کھول دے تا کہ وہ میری بات کو سمجھیں ”۔ اس وقت آپ کی زبان کا عقدہ کھل گیا تھا اور آپ اب بات بیان کرسکتے تھے۔ اور جمہور عوام کا ظاہر ہے کہ فیصلہ یہی ہوگا کہ فرعون جو مصر کا بادشاہ ہے ، مصر میں نہریں اس نے جاری کر رکھی ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوگا ۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تو حق بات ، نبوت کا پیغام ، نجات کی دعوت اور دردناک عذاب سے بچنے کی راہ تھی۔ فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ”۔ یہ ہے ذہنیت وڈیروں کی۔ اس دنیا کا حقیر سازو سامان ، نبوت کی حقانیت کے لئے بطور علامت تجویز ہو رہا ہے۔ سونے کے کنگن ، ان معجزات سے بھاری ہوگئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔ مطلب یہ تھا کہ اسے مصر کا اقتدار کیوں نہیں دیا گیا۔ کیونکہ مصر کے بادشاہ کی تاج پوشی کے موقعہ پر سونے کے کنگن اتارے جاتے تھے۔ یہ ان کی رسم تھی۔ یوں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول کو مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے اور یہ میں ہوں۔ اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین ( 43 : 53) “ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ بھی ایک اعتراض تھا ، جس کا تعلق اس دنیا کی چمک دمک سے تھا۔ اور عوام پر اثر انداز ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک بنا بنایا اعتراض ہے جو ہر رسول پر کیا گیا۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

“ اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی ، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ ” ۔

آیت نمبر 54 جمہور عوام کو ڈکٹیٹروں کی طرف سے خفیف و حقیر سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے وہ پہلے تو عوام سے ہر بات کو چھپا کر رکھتے ہیں۔ ان سے حقائق کو چھپاتے ہیں تا کہ وہ بھول جائیں۔ اور ان کے بارے میں وہ دوبارہ کھوج ہی نہ لگائیں۔ ان کے دل و دماغ کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ ان کی شخصیت عوام کے ذہنوں پر چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ان کے لئے عوام کو ہلکا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مطیع ہوجاتے اور جدھر چاہتے ہیں ، ادھر جاتے ہیں۔ لیکن کوئی ڈکٹیٹر عوام کو اس قدر ہلکا نہیں بنا سکتا جب تک وہ خود فاسق و فاجر نہ ہوں اور بےراہ روی نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے اللہ کی رسی نہ پکڑی ہو۔ معاملات کو ایمان کے ترازو سے نہ تولتے ہوں ، رہے مومن تو نہ ان کو کوئی ہلکا سمجھ سکتا ہے ، نہ ان کو دھوکہ دے سکتا ہے ، اور نہ ان کو کھلونا بنایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ عوام الناس نے فسق وفجور کی وجہ سے فرعون کا ساتھ دیا۔ فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوما فسقین (43 : 54) “ اس نے اپنی قوم کو ہلکا بنا دیا ، پس انہوں نے اس کی اطاعت کرلی اور یہ لوگ ایک فاسق قوم کے فرد تھے ”۔ اب ان کی آزمائش ، ان کو ڈرانے اور سمجھانے کا مرحلہ ختم ہوتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ فتنہ عام ہوگیا ہے ، جمہور عوام فرعون کے پیچھے لگ گئے ہیں اور فرعون بہت ہی سر کش ، متکبر ، مغرور ہے اور عوام کے بین معجزات کے مقابلے میں بالکل اندھے ہوگئے ہیں ، ان کو یہ روشنی نظر ہی نہیں آتی۔ اب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ان پر آجاتا ہے۔
Ayahs 43:55–56

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔

آیت نمبر 55 تا 56 ذات باری کے غضب اور انتقام اور تباہی مچانے والے اقدام کو پیش کرنا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے غضب کے نتیجے میں اس کی قوت جو کام کرتی ہے وہ تاریخ میں مثال ہوتی ہے۔ فلما اسفونا (43 : 55) “ جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا ”۔ یعنی بہت زیادہ ناراض کردیا۔ انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین (43 : 55) “ ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو اکٹھا غرق کر دیا ”۔ فرعون ، اس کے سرداروں اور لشکر کو۔ یہی لوگ تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں ہلاک ہوئے ، ان کو پیشوا بنا دیا کہ ہر ظالم یہی کام کرے اور اسی انجام تک پہنچے۔ ومثلا للاخرین (43 : 56) “ اور نمونہ عبرت پچھلوں کے لئے ”۔ یعنی ان لوگوں کے لئے جو فرعون کے بعد ایسے کام کرنے والے تھے اور جو ان کے قصے کو معلوم کر کے اس سے عبرت حاصل کرنے والے تھے۔ ٭٭٭ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی یہ کڑی یہاں ختم ہوتی ہے۔ یہ کڑی ان حالات کے مشابہ تھی جو نبی ﷺ کو بمقابلہ قریش درپیش تھے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ مومنین نے سخت بےجگری سے ان کا مقابلہ کیا۔ اس قصے کے ذریعہ عرب کے مشرکین کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ تم جس طرح کے اعتراضات کرتے ہو ، یہی اعتراضات فرعون اور اس کی قوم نے کئے تھے اور ان کا یہ انجام ہوا تھا۔ اس طرح اس قصے میں جو حقائق بیان کئے گئے ہیں ، وہ قصہ فرعون و موسیٰ اور حالات موجودہ یعنی نبی کریم ﷺ اور اہل قریش کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتے ہیں ، اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سورت میں بیان کردہ حالات میں قصے کی اس کڑی کو کیوں لایا گیا ہے ، پھر اس طرح یہ قصہ الٰہی منہاج تربیت کے مطابق مسلمانوں کے لئے بہترین ذریعہ تربیت بھی ہے۔ اب قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس کڑی سے بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اور یہ کڑی اس نکتے پر لائی گئی ہے کہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے اور پیرو کار ان مسیح ان کو خدا کا بیٹا سمجھ کر ان کی بندگی کرتے ہیں اور یہ اس سورت کا آخری سبق ہے۔ ٭٭٭٭٭