Explained with ayahs 81–89
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے
اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
سورة الزُّخْرُف 64
مطلب یہ ہے کہ میرا کسی کو خدا کی اولاد نہ ماننا، اور جنہیں تم اس کی اولاد قرار دے رہے ہو ان کی عبادت سے انکار کرنا کسی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں ہے۔ میں جس بنا پر اس سے انکار کرتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ کوئی خدا کا بیٹا یا بیٹی نہیں ہے اور تمہارے یہ عقائد حقیقت کے خلاف ہیں۔ ورنہ میں تو خدا کا ایسا وفادار بندہ ہوں کہ اگر بالفرض حقیقت یہی ہوتی تو تم سے پہلے میں بندگی میں سر جھکا دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
معارف و مسائل
(آیت) قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی اولاد ہونے کا کسی بھی درجہ میں کوئی امکان ہے، بلکہ مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ میں تمہارے عقائد کا انکار کسی عناد یا ہٹ دھرمی سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دلائل کی وجہ سے کر رہا ہوں، اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا وجود ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرور مان لیتا، لیکن عقل ونقل کی ہر دلیل اس کی تردید کرتی ہے، اس لئے ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مباحثہ کے وقت اپنی حق پسندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (82-81)
ابتدائے سورة کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیصلہ کن بات
یہ آخر میں، ابتدائے سورة کی اس بحث کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے جو فرشتوں کی الوہیت کے ابطال میں گزر چکی ہے، ایک فیصلہ کن بات کا اعلان فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ خدا کوئی اولاد بھی رکھتا ہے تو تم سے پہلے اس کی عبادت کے لئے میں خود تیار ہوں لیکن آسمانوں اور زمین اور عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف بغیر کسی دلیل کے منسوب کر رہے ہیں وہی تنہا ان تمام چیزوں کا خالق اور وہی اکیلا اس ساری کائنات کا مالک اور اس کے…
Read the full tafseer →81۔ 1 کیونکہ اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہوں اگر واقع اس کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں ان کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ مطلب مشرکین کے عقیدے میں اللہ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
21: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کا کوئی امکان ہے، بلکہ یہ بات فرض محال کے طور پر کہی گئی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے عقائد کا جو انکار کر رہا ہوں، وہ کسی ہٹ دھرمی یا عناد کی وجہ سے نہیں کر رہا، بلکہ دلائل کی بناء پر کر رہا ہوں، اور اگر دلیل سے اللہ تعالیٰ کی کسی اولاد کا کوئی ثبوت ہوتا تو میں اس سے کبھی انکار نہ کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت نمبر 81 تا 83
یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔
سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین…
Read the full tafseer →3 یعنی اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کی جائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر بفرض محال خدا کے اولاد ہو تو پہلا شخص میں ہوں جو اس کی اولاد کی پرستش کرے۔ کیونکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا ہوں۔ اور جس کو جس قدر علاقہ خدا کے ساتھ ہوگا اسی نسبت سے اس کی اولاد کے ساتھ ہونا چاہیے۔ پھر جب میں باوجود اول العابدین ہونے کے کسی ہستی کو اس کی اولاد نہیں مانتا تو تم کون سے اللہ کا حق ماننے والے ہو جو اس کی فرضی اولاد تک کے حقوق پہچانو گے۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ اگر تمہارے اعقاد میں اللہ کی کوئی اولاد ہے تو یاد رکھو ! کہ تمہارے مقابلہ میں اس…
Read the full tafseer →آیت 81 { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَـدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا۔“
کہ جب میں خدائے رحمان کو اپنا معبود مانتا ہوں اور اس کی پرستش کرتا ہوں ‘ اگر واقعتا اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کی پرستش کرنے میں مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ یہ نفی کا بہت تیکھا انداز ہے۔ اس اسلوب کو ”تعلیق بالمحال“ کہا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے ‘ اس لیے اس کی اولاد کو پوجنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ ”تعلیق بالمحال“ کا یہی اسلوب اس حدیث میں…
Read the full tafseer →76 یعنی تم کہتے ہو کہ اللہ کی اولاد ہے۔ اگر مجھے تمہاری یہ بات دل لگتی اور مجھے ایسا یقین حاصل ہوجاتا تو میں یقیناً سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ لیکن یہ بات میری عقل اور سمجھ سے باہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہو۔ اور کائنات کے تصرف میں اس کا بھی کچھ اختیار ہو۔ وجہ یہ ہے کہ اگر ایسی صورت ہوتی تو کائنات کے پورے کے پورے نظام میں جو ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایک سے زیادہ خداؤں کی صورت میں یہ کبھی برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔
Read the full tafseer →63۔ (اس لئے کہ خدا زادہ بھی لامحالہ تمام اوصاف الوہیت ومعبودیت ہی سے متصف ہوگا) (آیت) ” ان ...... ولد “۔ بطور فرض محال اگر واقعی اس کے اولاد ہو جیسا کہ مسیحیوں کا عقیدہ ہے .... اسلوب بیان میں عقیدہ ولدیت کی کمال نفی ہے۔ ھذا کلام وارد علی سبیل الفرض والتمثیل لغرض وھو المبالغۃ فی نفی الولد والاطناب فیہ (کشاف بحر) فقہاء نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ امر محال کا فرض کرنا اور پھر اس پر احکام کا ترتب دونوں بالکل جائز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین آپ کہہ دیجئے کہ اگر (خدائے) رحمن کے کوئی اولاد ہو تو سب
سے اول اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں۔
اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ یعنی تم سے پہلے میں اسکی عبادت کرنے والا ہوں۔ نبی خوب واقف ہے کہ اللہ کیلئے کونسا وصف زیبا ہے اور کونسی صفت نامناسب ہے اور کس کی تعظیم واجب ہے ‘ اس کا علم پیغمبر سے زیادہ کسی کو نہیں ہوسکتا ‘ پس اگر خدا کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے پیغمبر اس کی تعظیم کرتا۔ جو شخص والد کی تعظیم کرتا ہے ‘ وہ والد کی اولاد کی بھی تعظیم ضرور ہی کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اس کو بےچین کرتی ہے ‘ مجھے بھی بےچین کردیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(81۔ 82) اور آپ نضر بن حارث اور علقمہ سے کہیے کہ اللہ کے کوئی اولاد نہیں کیونکہ سب سے پہلے تو میں ہی اس کے وحدہ لاشریک ہونے کا اقرار کرنے والا ہوں وہ ان کے ان جھوٹے دعو وں سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →قل ان کان للرحمن ولد…: کفار فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا۔ اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دیں کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ میرا اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ماننا اور جنھیں تم اللہ کی اولاد قرار دیتے ہو ان کی عبادت سے انکار کسی ضد یا ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں، بلکہا س وجہ سے ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ اس ذات پاک کی اولاد ہو جس کا نام رحمان ہے۔ تفصیل کے لئے سورة مریم کی آیات (88 تا 98) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو، جیسا کہ کفار کہتے ہیں، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور سدی نے کہا : یہ معنی ہے، رحمن کا کوئی بیٹا نہیں۔ یہاں ان، ماء کے معنی میں ہے اس اعتبار سے کلام مکمل ہوگی پھر تو نئے سرے سے کلام شروع کرے گا میں اہل مکہ میں سے پہلا موحد ہوں کیونکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ العبدین پر وقف تام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے : اے محمد ﷺ ! کہہ دو اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں ان میں سے سب سے پہلا ہوتا جو اس کی عبادت کرتا لیکن یہ امر محال ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو یہ اسی طرح ہے جس طرح تو اسے کہتے ہے جس سے تو مناظرہ کرتا ہے جو کچھ تو نے کہا ہے اگر یہ دلیل سے ثابت ہوگیا تو میں وہ پہلا شخص ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولدا “ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی) یعنی رحمن کی اولاد نہیں (آیت ) ” فانا اول العبدین “ (تو سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا) یعنی گواہی دینے والا۔
اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے :
12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ کے اس قول (آیت ) ” فانا اول العبدین “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا میں سب سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو۔ پھر پوچھا جائے گا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كَانَ [ آپ کہیے اگر ہوتی ] لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ [ رحمان کے لئے کوئی اولاد ] فَاَنَا [ تو میں ] [اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ : عبادت کرنے والوں کا پہلا ہوتا ]
Read the full tafseer →اللہ جل شانہٗ کی صفات جلیلہ کا بیان اور شرک سے بیزاری کا اعلان
چند آیات پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر تھا اور اس سے پہلے یہ ذکر آیا تھا کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں ان لوگوں کی تردید وہیں کردی گئی تھی یہاں مکرر تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر رحمن جل شانہٗ کی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا رحمن جل شانہٗ کے لیے کوئی اولاد نہیں ہے اس لیے صرف رحمن جل مجدہٗ ہی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت دیتا ہوں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ بیان کی کہ وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور عرش کا رب ہے وہ ان سب باتوں سے پاک ہے جو مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
46:۔ ” قل ان کان “ یہ ابتدائے سورت میں ” وجعلوا لہ من عبادہ جزءا “ سے متعلق ہے۔ قرآن مجید کا یہ قاعدہ ہے کہ کبھی ابتدائے سورت کے مضمون کو آخر سورت میں بھی بانداز دیگر ذکر کیا جاتا ہے۔ تاکہ سورت کی ابتدا اور انتہا میں اتحاد و مناسبت ہوجائے۔ دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ولد اور نائب نہیں، لیکن اگر بالفرض مشرکین مکہ کے قول کے مطابق اللہ کے لیے ولد اور نائب ثابت ہوجائے تو میں سب سے پہلے اسے مانوں گا اور اس کی تعظیم بجا لاؤں گا۔ اور اس کے مطابق اللہ کی عبادت کروں گا یہ تمثیل نفی ولد میں بطور مبالغہ ذکر کی گئی ہے۔ معنی الایۃ ان کان للرحمن ولد و صح وثبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔
داروغہ جہنم سے درخواست
اب آج…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ 0 ۤۖ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
كان
كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً
[ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ صلے ق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ ۔ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ (الزخرف : 81، 82)
( اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا۔ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا، عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ )
توحید پر ایک منفرد اسلوب
توحید پر مسلسل اصرار اور اپنی دعوت کی اسے بنیاد قرار دینے کی وجہ سے مخالفین نے یہ پر اپیگنڈا شروع کر رکھا تھا کہ محمد ﷺ کا ہمارے بتوں کی مخالفت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں یکتا ہونے پر اصرار کرنا یہ درحقیقت ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کے ساتھ مکہ والوں کا بنیادی اختلاف ” اللہ “ کی توحید پر تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ ہستیوں کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو بیٹیاں بنا کر انہیں اپنی خدائی میں شریک کرلیا ہے۔
قرآن مجید نے کئی بار اس بات کی نفی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے۔ اس موقع پر اس بات کا صرف یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ارشاد فرمائیں کہ اگر الرّحمن کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا یعنی اسے تسلیم کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس کی اولاد ہے اور نہ میں اس…
Read the full tafseer →آیت 81: قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ (آپ کہیے۔ اگر رب رحمان کے اولاد ہو) اور یہ بات دلیل صحیح سے ثابت ہوجائے۔ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ (تو سب سے اول اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں) میں سب سے پہلا ہونگا جو اس لڑکے کی تعظیم کروں گا اور تم سے بڑھ کر اس کی اطاعت کروں گا۔ اور اس کی فرمانبرداری بجالائوں گا جیسا کہ آدمی بادشاہ کے بیٹے کی تعظیم اس کے باپ کی وجہ سے کرتا ہے یہ کلام بطریق فرض لایا گیا ہے۔ اس سے مراد ولد کی نفی ہے اور وہ اس طرح کہ عبادت کو لڑکا ہونے سے معلق کیا گیا اور یہ لڑکا ہونا تو اس کی ذات کے لئے ذاتی اعتبار سے بھی محال ہے۔ پس جو محال سے معلق ہے وہ بھی محال ہے۔ اس کی مثال…
Read the full tafseer →80، ام یحسبون انا لانسع سرھم ونجواھم، جس کو وہ اپنے علاوہ سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور آپس میں اس کی سرگوشی کرتے ہیں۔ ، بلی، ہم اس کو سنتے اور جانتے ہیں۔ ، ورسلنا، حفاظت کرنے والے فرشتوں میں سے۔ ، لدیھم یکتبون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
81۔ 84۔ علاوہ ان فرشتوں کے جو ہر آدمی کے ساتھ ہر طرح کی آفت سے حفاظت کرنے کے لئے مقرر ہیں جن کا ذکر سورة رعد میں گزر چکا ہے۔ یہ دو فرشتے نیکی اور بدی لکھنے کی غرض سے ہر شخص کے ساتھ تعینات ہیں۔ صحیحین 1 ؎ کی اور حدیث کی کتابوں میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو ایک حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے دل میں جو وسوسہ آتا ہے جب تک اس وسوسہ کے موافق آدمی کوئی بات منہ سے نہ نکالے یا ہاتھ پیر سے کوئی کام نہ کرے تو وسوسہ معاف ہے اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوا دل کے وسوسہ کے اور جو کچھ زبان سے نکلے یا ہاتھ پیروں سے کیا جائے وہ سب لکھا جاتا ہے بعض مفسروں نے حضرت عبد اللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 81
اے رسول مکرم ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے (آیت) ” کہہ دیجیے : اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔ “ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جزو ہوتا ہے میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں مگر (تم دیکھ رہے ہو کہ) میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہوگیا۔
جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →105 خدائے رحمن کی کوئی اولاد نہیں : جیسا کہ مشرک لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی نے حضرت عزیر کو اس وحدہ لاشریک کا بیٹا قرار دیا اور کسی نے حضرت عیسیٰ کو ۔ عَلٰی نَبْینا وعلیہما الصَّلوۃُ والسَّلام ۔ اور کسی نے کہا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان تمام سے یہ بات کہہ دو اور یہ پوچھو تاکہ اس طرح حق اور واضح ہوجائے۔ سو ان سے کہو کہ اگر بالفرض خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی جیسا کہ تم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے تو سب سے پہلے میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا اور اس کے آگے جھک جاتا۔ اور جب ایسی کوئی بات نہیں تو پھر اس کی کوئی اولاد کس طرح ہوسکتی ہے ؟۔ سو وہ اس طرح کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →ف 10 کیونکہ میں خدا کا بندہ اور اس کا تابعدار ہوں لیکن اللہ کے لئے اولاد کا ہونا محال ہے۔
Read the full tafseer →(43:81) قل : ای قل یا محمد للکفار : ای محمد ﷺ ان کفار مکہ کو کہہ دیجئے۔
ان۔ شرطیہ ہے اگر خدا وند تعالیٰ کا کوئی بچہ ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی پوجا کرنے والا ہوتا ۔ بعض کے نزدیک ان نافیہ ہے اور عابدین بمعنی گواہی دینے والے ہیں۔
اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ رحمن کی کوئی اولاد نہیں اور میں سب سے پہلے اس کی شہادت دینے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
شرک کرنے والوں کابیان۔
(ف 1) شان نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اگر بفرض محال خدا کے اولاد ہوتی، تو سب سے پہلے میں اس اولاد کو پوجتا، کیونکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا ہوں، اور جس کو جس قدر علاقہ خدا کے ساتھ ہوگا، اسی نسبت سے اسکی اولاد کے ساتھ ہونا چاہیے پھر جب میں باوجود اول العابدین ہونے کے کسی ہستی کو اس کی اولاد نہیں مانتا، اور سو اللہ کے کسی عبادت نہیں کرتا، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنے کی وحی مجھ کو نہیں آئی تو اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کا کوئی شریک اور اولاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[37] یعنی قیامت کے دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہ ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ جن کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
ف 1: ان لوگوں سے خطاب ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی جلالت قدر سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور اس کے لئے اولاد کو ثابت کرتے ہیں ۔ فرمایا : یہ بالکل غلط عقیدہ ہے ۔ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے کوئی بیٹا ہوتا ۔ تو ہمیں انکار کرنے سے کیا ملتا ۔ آپ لوگ دیکھتے ۔ کہ ہم سب سے پہلے اس کی پوجا اور پرستش کرتے ۔ کیونکہ ہمیں جب اس سے محبت ہے ۔ تو ان لوگوں سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ۔ اور جو اس کے عزیز اور رشتہ دار ہوتے ۔ مگر واقعہ یہ ہے ۔ کہ اس کی ذات ہر نوع کے شرک سے پاک اور بلند ہے ۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ۔ وہ مجرد اور بسیط حقیقت ہے ۔ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز اس کے تابع اور مسخر…
Read the full tafseer →(81) پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے اگر بفرض محال خدائے رحمن کے کوئی اولاد ہو تو سب عبادت کرنے والوں سے پہلے میں اس کی عبادت کروں۔ یعنی اگر تم ثابت کرو کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے تو میں سب سے پہلے اس کے ماننے اور قبول کرنے کو تیار ہوں کیونکہ خدا کی اولاد بھی خدا ہی ہوگی اور جس طرح خدا عبادت کا مستحق ہے وہ اولاد بھی عبادت کے مستحق ہے لیکن یہ امر چونکہ محض باطل ہے اس لئے میں اس نام سے کسی کی عبادت کرنے کو تیار نہیں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کو معلق فرمایا فرزند اور ولد کے ساتھ اور یہ ظاہر ہے کہ فرزند کا ہونا محال ہے لہٰذا عبادت بھی محال۔
یا یہ کہ واجب الوجود ہونا خواص ہے معبودیت کا اور واجب…
Read the full tafseer →ف 3۔ مطلب یہ کہ مجھ کو تمہاری طرح حق بات کے ماننے سے اباء و انکار نہیں تم اگر ثابت کردو تو تب سے اول اس کو میں مانوں، مگر چونکہ یہ امر باطل محض ہے اس لئے میں یہ نہ مانوں اور نہ عبادت کروں۔
Read the full tafseer →کیا ولدیت الوہیت کے منافی نہیں ہے ؟ بلاشبہ منافی ہے
81 ؎ بلاشبہ ولدیت الوہیت کے منافی ہے یعنی جس کی اولاد ہوگی وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ یہ عیسائیوں کے لیے ایک تحدی اور چیلنج ہے اور اسی طرح قریش مکہ کے لیے بھی کیونکہ قریش مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیتے تھے اور انصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ مانتے اور کہتے ہیں اس پر گویا تعجب کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں کی کیسی مت ماری گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو بھی مانتے ہیں اور اس کی اولاد بھی قراردیتے ہیں جیسا کہ یہ بات اصولی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں ہے اس لیے کہ اولاد کا ہونا الوہتے کے منافی ہے جس طرح صاحب اولاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–81
Commentary
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman,
I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
64 It means: "My rejection of somebody's being God's offspring and my refusal to worship those whom you regard as His offspring is not due to any stubbornness and obduracy. My reason for the refusal is only this that God has no son or daughter, and your such beliefs are against the reality; otherwise I am such a faithful servant of my Lord that if at all the reality had been the same as you state I would have submitted myself in worship before you. "
Read the full tafseer →