Explained with ayahs 74–80
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
سورة الزُّخْرُف 64
مطلب یہ ہے کہ میرا کسی کو خدا کی اولاد نہ ماننا، اور جنہیں تم اس کی اولاد قرار دے رہے ہو ان کی عبادت سے انکار کرنا کسی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں ہے۔ میں جس بنا پر اس سے انکار کرتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ کوئی خدا کا بیٹا یا بیٹی نہیں ہے اور تمہارے یہ عقائد حقیقت کے خلاف ہیں۔ ورنہ میں تو خدا کا ایسا وفادار بندہ ہوں کہ اگر بالفرض حقیقت یہی ہوتی تو تم سے پہلے میں بندگی میں سر جھکا دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
خلاصہ تفسیر
(اور اوپر جن سزاؤں کا بیان ہوا ان کی وجہ یہ ہے کہ) ہم نے سچا دین (جس کا رکن اعظم توحید و رسالت کا اعتقاد ہے) تمہارے پاس پہنچایا، لیکن تم میں سے اکثر آدمی سچے دین سے نفرت رکھتے ہیں (اکثر آدمی یا تو اس لئے کہا کہ بعض لوگ آئندہ ایمان لانے والے تھے، اور یا اس لئے کہ نفرت تو صحیح معنی میں بعض ہی کو تھی، دوسرے بعض محض تقلیداً راہ حق کو چھوڑے ہوئے تھے، اور یہ نفرت شامل ہے رسولوں کی مخالفت اور توحید کی مخالفت دونوں کو۔ آگے دونوں کی تفصیل ہے کہ) ہاں کیا انہوں نے (رسول کو نقصان پہنچانے کے بارے میں) کوئی انتظام درست کیا ہے، سو ہم نے بھی ایک انتظام درست کیا ہے (اور ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے…
Read the full tafseer →ام یحسبون انا لانسمع سرھم ونجولھم ط بلی ور سلنا لدیھم یکتبون (80)
خفیہ سرگوشیوں کی طرف اشارہ
اللہ تعالیٰ یوں تو لوگوں کے ہر راز اور ان کی ہر سرگوشی کو جانتا ہے لیکن سیاق و سبقا کلام یہاں دلیل ہے کہ اس سے خاص طور پر ان سرگوشیوں کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے لیڈر دارالندوہ وغیرہ میں آنحضرت ﷺ کے قتل یا اخراج سے متعلق کر رہے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ خدا ان کی سازشوں اور سرگوشیوں سے بیخبر ہے۔ وہ ان کی تمام خفیہ حرکتوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور اس کے فرشتے ان کی ایک ایک بات کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں۔ یہ جس وقت پیغمبر کے باب میں اپنا آخری فیصلہ کرلیں گے خدا کا فیصلہ بھی ان کے باب…
Read the full tafseer →80۔ 1 یعنی جو پوشیدہ باتیں وہ اپنے نفسوں میں چھپائے پھرتے ہیں یا خلوت میں آہستگی سے کرتے ہیں یا آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم وہ نہیں سنتے ؟
80۔ 2 یعنی یقینا سنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے الگ ان کی ساری باتیں نوٹ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
21: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کا کوئی امکان ہے، بلکہ یہ بات فرض محال کے طور پر کہی گئی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے عقائد کا جو انکار کر رہا ہوں، وہ کسی ہٹ دھرمی یا عناد کی وجہ سے نہیں کر رہا، بلکہ دلائل کی بناء پر کر رہا ہوں، اور اگر دلیل سے اللہ تعالیٰ کی کسی اولاد کا کوئی ثبوت ہوتا تو میں اس سے کبھی انکار نہ کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت نمبر 78 تا 80
یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔
دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم…
Read the full tafseer →2 یعنی ان کے دلوں کے بھید ہم جانتے اور ان کے خفیہ مشورے ہم سنتے ہیں اور حکومت کے انتظامی ضابطہ کے موافق ہمارے فرشتے (کراماً کاتبین) ان کے سب اعمال و افعال لکھتے جاتے ہیں۔ یہ ساری مثل قیامت میں پیش ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 80 { اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ وَنَجْوٰٹہُمْ } ”کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور راز دارانہ مشوروں کو سنتے نہیں ہیں !“
{ بَلٰی وَرُسُلُنَا لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ } ”کیوں نہیں ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے ایلچی ان کے پاس ہی لکھ رہے ہوتے ہیں۔“
ہماری خفیہ ایجنسی کے کارندے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ساری رپورٹ تیار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →75 ان کی خفیہ تدبیروں کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ جنہیں وہ اپنی خفیہ تدبیریں سمجھتے تھے وہ خفیہ نہیں ہوتی تھیں۔ ہم ان کے سب خفیہ مشورے، ان کی باہمی گفتگو ان کی سازشیں سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے فرشتے یہ سب کچھ ریکارڈ بھی کرتے جاتے ہیں۔ جو قیامت کے دن ہم ان کے سامنے لا رکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
62۔ (تو بھلا ہم کسی ادنی سے ادنی جزئیہ سے بھی لاعلم وبے خبر رہ سکتے ہیں ! ) (آیت) ” ام یحسبون ..... نجوھم “۔ یہ مشرکین جو اسلام کے خلاف چپکے چپکے اتنی سازشیں اور کمیٹیاں کررہے ہیں تو کیا یہ احمق یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کے کسی جزئیہ سے ناواقف بھی ہیں ؟ (آیت) ” سرھم ونجوھم “۔ سر یعنی جو کچھ اپنے دلوں میں یہ منصوبہ باندھتے رہتے ہیں اور اس کو سب سے راز رکھے ہوئے ہیں۔ اور نجوی یعنی جو کچھ یہ اپنے راز دار دوستوں سے چپکے چپکے صلاح ومشورہ کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →ام یحسبون انا لا نسمع سرھم ونجوھم بلی ورسلنا لدیھم یکتبون کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے
ہیں ہیں کہ ان کی (دلوں میں) چھپی ہوئی باتیں اور سرگوشیاں نہیں جانتے ‘ حالانکہ ہمارے بھیجے ہوئے کارندے ان کے پاس (ہر وقت موجود) ہیں ‘ لکھ رہے ہیں۔
اَمْ یَحْسَبُوْنَ- اَمْ منقطعہ بمعنی بَلْ ہے ‘ انکار اور کلام سابق سے اعراض کو ظاہر کر رہا ہے۔
سِرَّھُمْ یعنی دل کی باتیں۔ نَجْرٰں ھُمْ یعنی باہم سرگوشیاں کرنا۔
رُسُلْنَا یعنی ملائکہ جو (آدمیوں کے اقوال و اعمال و اسرار کی) نگہداشت کرنے پر مامور ہیں۔
لَدَیْھِمْ یعنی ان کے ساتھ لگے رہتے ہیں ‘ الگ نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →کیا صفوان بن امیہ اور اس کے ساتھیوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ان کی آہستہ آہستہ باتوں کو اور کچھ ارد گرد ان کے خفیہ مشوروں کو نہیں سنتے ضرور سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے خود ان کے پاس ہیں وہ ان کی ہر قسم کی باتوں اور خفیہ مشوروں کو لکھتے رہتے ہیں۔
شان نزول : اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ (الخ)
اور ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی سے روایت نقل کی ہے بیان کرتے ہیں کہ کعبہ مکرمہ اور اس کے غلاف کے درمیان تین شخص تھے جن میں دو قریشی اور ایک ثقفی یا ایک قریشی اور دو ثقفی ان میں سے ایک کہنے لگا کہ تمہاری کیا رائے ہے اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کو سنتا ہے ؟ تو دوسرا کہنے لگا کہ جس وقت تم زور سے کہتے ہو تو…
Read the full tafseer →(1) ام یحسبون انا لانسمع سرھم ونجولھم : یہاں ”سرھم“ سے مراد وہ باتیں ہیں جو وہ راز کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ طور پر آہستہ آواز میں کرتے ہیں، کیونکہ اگر ”سر“ سے دل میں موجود بات مراد ہو تو وہ سنی تمہیں جاتی، بلکہ اس کا علم ہوتا ہے اور ”نجولھم“ سے مراد ان کی مجلس مشاورت کی باتیں ہیں۔
(2) بلی ورسلنا لدیھم یکتبون : یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم سنتے ہیں، بلکہ ہمارے فرشتے ثبوت کے طور پر لکھ بھی لیتے ہیں۔ (دیکھیے ق : 17، 18) یعنی ان کی خفیہ تدبیریں تو ہم سن رہے ہوتے ہیں، پھر وہ ان کی کامیابی کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →یعنی جو وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور باہم سرگوشیاں کر رہے ہیں بل کیوں نہیں ہم سنتے اور جانتے ہیں۔ ہمارے فرشتے ان کے پاس بیٹھے لکھ رہے ہوں گے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ یہ آیت ان تین افرا کے بارے میں نازل ہوئی جو بیت اللہ شریف اور اس کے پردوں کے درمیان تھے (3) ان میں سے ایک نے کہا : بتائو کیا اللہ تعالیٰ ہماری گفتگو سن رہا ہے ؟ دوسرے نے کہا : جب تم بلند آواز سے باتیں کرو تو وہ سنتا ہے اور جب تم رازداری سے باتیں کرو تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا اگر وہ تمہاری اعلانیہ گفتگو سنتا ہے تو پھر جب تم رازداری سے بات کرو تب بھی سنتا ہے۔ یہ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے : سورة فصلت میں یہی چیز حضرت ابن…
Read the full tafseer →10:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ تین آدمی کعبہ اور اس کے پردے کے درمیان تھے دو قریش اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریش ان میں سے ایک نے کہا کیا یہ تمہاری رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کلام کو سنتا ہے ایک نے کہا جب تم زور سے بات کرو تو سنتا ہے اور جب تم چپکے سے بات کرو تو نہیں سنتا تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ام یحسبون انا لا نسمع سرھم ونجوہم “ (کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے دلوں میں چھپی ہوئی باتیں اور سرگوشیاں نہیں جانتے )
Read the full tafseer →اَمْ يَحْسَبُوْنَ [ یا یہ لوگ گمان کرتے ہیں ] اَنَّا لَا نَسْمَعُ [ کہ ہم نہیں سنتے ] سِرَّهُمْ [ ان کی خفیہ (بات ) کو ] وَنَجْوٰىهُمْ ۭ [ اور ان کی کانا پھوسی کو ] بَلٰى [ کیوں نہیں ] وَرُسُلُنَا [ اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے ) ] لَدَيْهِمْ [ ان کے نزدیک ] يَكْتُبُوْنَ [ لکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
پھر فرمایا ﴿اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ 1ؕ بَلٰى ﴾ (کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی خفیہ باتیں اور وہ مشورے جو چپکے چپکے کرتے ہیں ہم نہیں سنتے) ان کا یہ سمجھنا غلط ہے۔ ﴿بَلٰى ﴾ہم ان کی باتیں سنتے ہیں اور خفیہ باتوں کو اور سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿ وَ رُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 0080﴾ (اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھ رہے ہیں) لہٰذا ایسا خیال کرنا کہ چپکے چپکے جو باتیں کرلیں گے اس کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں یہ جہالت کی بات ہے اللہ تعالیٰ کو ظاہر کا اور باطن کا زور کی آواز کا اور آہستہ کی آواز کا سب کا علم ہے وہ اپنی حکمت کے موافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
45:۔ ” ام ابرموا امرا “ یہ زجر ہے۔ یہ مشرکین مکہ ایک کام کا پختہ فیصلہ کرچکے ہیں یعنی وہ رسول ﷺ کو ایذا دینے اور دین اسلام کو مٹانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں، لیکن ہم ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملانے، پیغمبر (علیہ السلام) کو ان کے ناپاک ہاتھوں سے محفوظ رکھنے اور دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ” ام یحسبوان الخ “ کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو نہیں جانتے اور سنتے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم سنتے ہیں اور خوب جانتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے فرشتے (کراما کاتبین) بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کی ہر بات لکھ رہے ہیں۔ اس لیے ان کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔
داروغہ جہنم سے درخواست
اب آج…
Read the full tafseer →اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ وَنَجْوٰىہُمْ 0 ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْہِمْ يَكْتُبُوْنَ 80
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214]
( ح س ب ) الحساب
اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…
Read the full tafseer →اَمْ یَحْسَبُوْنَ اِنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّھُمْ وَنَجْوٰ ہُمْ ط بَلٰی وَرُسُلُنَا لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ ۔ (الزخرف : 80)
(کیا وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم ان کے راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں۔ ” کیوں نہیں “ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ بھی رہے ہیں۔ )
قریش کی خفیہ سرگرمیاں
تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ ہجرت سے پہلے قریش آپ کے خاتمے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ بحث طلب امر یہ تھا کہ آپ کے خاتمے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے اور وہ کیا صورت اختیار کی جائے جس سے بنی ہاشم کو انتقام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے یا قصاص کے مطالبے پر زور دینے کا موقع نہ ملے۔ چناچہ اس کے لیے وقتاً فوقتاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے سامنے باربار جنتیوں کے انعامات اور جہنّمیوں کی سزاؤں کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ اپنے انجام پر غور کریں۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے نبی ﷺ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
نبی محترم ﷺ شب وروز اس بات پر محنت کررہے تھے کہ مکہ کے لوگ کفرو شرک سے باز آجائیں اور کلمہ حق قبول کرلیں۔ مگر ان کی حالت یہ تھی کہ وہ دن بدن کفر و شرک میں آگے ہی بڑھتے جا رہے تھے۔ وہ حق کی مخالفت میں اس قدر آگے بڑھے کہ انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ محمد ﷺ کو قتل کردیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کھلے الفاظ میں چیلنچ کیا کہ اگر انہوں نے قطعی فیصلہ کرلیا ہے تو ہم نے بھی آخری فیصلہ کرلیا ہے۔ لہٰذا انہیں یہ…
Read the full tafseer →آیت 80: وہ منادی کر کے دارالندوہ میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق آئے روز فیصلے کرتے پس یہ آیت اتری۔ اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ (کیا ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں کو نہیں سنتے) سِرّہم سے ان کے دلوں میں آنے والی باتیں مراد ہیں۔ وَنَجْوٰہُمْ (اور ان کے مشورے) جو اپنی باتیں طے کرتے ہیں۔ اور دوسروں سے چھپاتے ہیں۔ بَلٰی (کیوں نہیں) ہم ان کو سنتے اور ان پر اطلاع رکھتے ہیں۔ وَرُسُلُنَا (اور ہمارے فرشتے) کرامًا کاتبین۔ لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ (ان کے پاس ہیں وہ بھی لکھتے ہیں) ان کے پاس ہی وہ ان باتوں کو لکھتے ہیں۔
یحییٰ بن معاذ (رح) کا قول :
جس نے لوگوں سے اپنے گناہ کو…
Read the full tafseer →79، ام ابرموا، انہوں نے پختہ کرلیا۔ ، امرا، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکر کرنے میں ، فانا مبرمون، ان کو جزادینے میں امرکوپختہ کرنے والے ہیں ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں اگر وہ شر کرتے ہیں تو میں اس کی مثل ان کے ساتھ کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
74۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
آیت 79
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کیا حق کی تکذیب کرنے والوں اور اس عناد رکھنے والوں نے کوئی تدبیر کی ہے ؟ (امرا) یعنی انہوں نے حق کے خلاف سازش کی اور حق لانے والے کے خلاف چال چلی ہے تاکہ وہ ملمع سازی سے باطل کو مزین کر کے اور دلچسپ بنا کر حق کو سرنگوں کریں۔ (فانا مبرمون) یعنی ہم بھی ایک بات کو محکم بنا رہے ہیں اور ایسی تدبیر کر رہے ہیں جو ان کی تدبیر پر غالب ہے اور اس کو توڑ کر باطل کر کے رکھ دے گی اور وہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرنے اور باطل کے ابطال کے لئے اسباب اور دلائل مقرر کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” بلکہ ہم حق کو باطل پردے مارتے ہیں تو حق باطل کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →104 مجرموں کے بارے میں خفیہ ریکارڈ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم سنتے جانتے نہیں ان کی راز کی باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو ؟ کیوں نہیں اور مزید یہ کہ اور ہمارے فرشتے انکے پاس لکھتے جا رہے ہیں ۔ انکے تمام کئے کرائے کو "۔ سو اپنے ذاتی علم کے علاوہ ہم اس طرح اپنے فرشتوں کے ذریعے ان کا پورا ریکارڈ بھی تیار کروا رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے اس طرح پورے ہوں کہ کسی کے لئے کسی انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے ۔ { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ } ۔ (ق : 18) ۔ سو منکر لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ہم ان کی سازشوں اور سرگوشیوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →ف 9 مراد وہ فرشتے ہیں جو آدمی پر مقرر ہیں اور اس کی اچھی بری باتوں کو قلمبند کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(43:80) ام : منقطعہ ہے بمعنی بل آیا ہے اور آیت 79 کی طرف ماقبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردینے کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی یہ کفار حضور ﷺ کے خلاف اپنی مذموم تدابیر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مصمم ارادوں کے علاوہ یہ بھی باور کئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کے رازوں اور سرگوشیوں کو نہیں سن سکتا۔
خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف ہم ان کو سنتے ہیں بلکہ ہمارے فرشتے لکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔
یحسبون۔ مضارع جمع مذکر غائب حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ خیال کرتے ہیں۔
سرہم مضاف مضاف الیہ ۔ ان کے راز ۔ ان کا بھید۔
نجوھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی (سرگوشی) نجوی واحد ہے اور نجاوی جمع ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(ف 1) کفار مکہ نبی ﷺ کے ساتھ مکر کرنے اور فریب سے ایذا پہنچانے کے لیے حیلے سوچتے تھے مگر اللہ کی خفیہ تدبیر ان کے سب مکروفریب پر پانی پھیر دیتی تھی مثلا پوشیدہ ومشورہ کے بعد ان لوگوں نے مکہ کے گرد موسم حج میں اس غرض سے آدمی بٹھائے کہ وہ مکہ کے مسافروں سے قرآن اور اللہ کے رسول کی برائی بیان کریں، یہ بات انہوں نے ٹھہرائی اور اللہ نے ٹھہرایا ان کو ذلیل ورسوا کرنا اور اپنے دین اور اپنے رسول کو عروج دینا، آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا کہ انہی مکہ کے مسافروں کے ذریعہ سے اسلام کو ترقی دی ، آگے فرمایا کہ کیا یہ کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انکی باتیں جو چھپ کر اور خلوتوں میں کرتے ہیں اور سرگوشیاں ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[37] یعنی قیامت کے دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہ ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ جن کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔
حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔
Read the full tafseer →(80) کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو خفیہ باتوں کو اور ان کے باہمی مشوروں کو نہیں سنتے بیشک ہم ضرور سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے جوان کے پاس موجود ہیں وہ لکھتے رہتے ہیں۔ یعنی ہم خود بھی سب کچھ جانتے ہیں اور کراماً کاتبین متعین ہیں جو ہر بات لکھتے رہتے ہیں اور مقدمہ کے وقت وہ تحریر پیش کی جائیگی ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ فرشتے رہتے ہیں ہر کام اس کا لکھتے ہیں۔ سر کہتے ہیں دل کے بھید کو اور نجوی کہتے ہیں جو چند آدمی بیٹھ کر خفیہ مشورہ کریں بعض نے کہا دو آدمیوں کی خفیہ بات چیت کو سر کہتے ہیں اور دو سے زائد آدمیوں کی بات چیت نجوی کہتے ہیں۔
بہرحال ! ہر بھید اور خفیہ سے…
Read the full tafseer →ف 2۔ دو میں گفتگو ہونا سر ہے اور دو سے زیادہ میں نجوی ہے۔
Read the full tafseer →کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی سرگوشیوں سے ناواقف ہیں ؟
80 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ کے مخالفین ومعاندین کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ کیا تم لوگ یہ خیال کر بیٹھے ہو کہ جو باتیں تم چھپ چھپ کر کر رہے ہو ان کا ہمیں علم نہیں ہے اس لیے جو پروگرام تم بنا رہے ہو اس میں تم کامیاب ہوجائو گے ، نہیں اور ہرگز نہیں یہ تمہاری بھول ہے۔ تمہاری ہر حرکت ہمارے پاس نوٹ کی جارہی ہے اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے تمہاری ساری اسکیموں کو محفوظ کر رہے ہیں اور یہ کہ تمہاری ہر بات کا ریکارڈ ہمارے ہاں محفوظ ہے اور عین ممکن ہے کہ تم ایک بات یا کام کرکے بھول جائو لیکن ریکارڈ سے وہ حذف نہیں کیا جاسکتا اور یہ بھی کہ ہم تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–81
Commentary
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman,
I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
64 It means: "My rejection of somebody's being God's offspring and my refusal to worship those whom you regard as His offspring is not due to any stubbornness and obduracy. My reason for the refusal is only this that God has no son or daughter, and your such beliefs are against the reality; otherwise I am such a faithful servant of my Lord that if at all the reality had been the same as you state I would have submitted myself in worship before you. "
Read the full tafseer →