Explained with ayahs 74–80
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
سورة الزُّخْرُف 61
مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
معارف و مسائل
دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو
(آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…
Read the full tafseer →ونا دوا ایملک لیقض علینا ربک ط قال انکم مکثون 77
اہل دوزخ کی فریاد جہنم کے داروغہ سے اور اس کا جواب
آیت 75 میں ان کی جس ابدی مایوسی کا ذکر ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ وہ دوزخ کے جیلر سے کہیں گے کہ اے مالک ! اگر ہمارے لئے کسی رحم کی گنجائش نہیں رہی تو اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ وہ ہمارا خاتمہ ہی کر دے۔ وہ فوراً جواب دے گا کہ تمہارا خاتمہ نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں اسی حال میں پڑے رہنا ہے۔ مایوس کے لئے آخری سہارا موت کا سہارا ہوتا ہے لیکن یہ لوگ اس سہارے سے بھی محروم ہوں گے اور یہ ان کی سب سے بڑی محرومی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
77۔ 1 مالک، دروغہ جہنم کا نام ہے۔
77۔ 2 یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔
77۔ 3 یعنی وہاں موت کہاں ؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی، تاہم اس کے بغیر بھی چارہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–77
جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔
آیت نمبر 66 تا 77
یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔
ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…
Read the full tafseer →11 " مالک " نام ہے فرشتہ کا جو دوزخ کا داروغہ ہے۔ دوزخی اس کو پکاریں گے کہ ہم نہ مرتے ہیں نہ چھوٹتے ہیں۔ اپنے رب سے کہہ کر ایک دفعہ عذاب دے کر ہمارا کام ہی تمام کر دے۔ گویا نجات سے مایوس ہو کر موت کی تمنا کریں گے۔
12 یعنی چلانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ تم کو اسی حالت میں ہمیشہ رہنا ہے۔ کہتے ہیں دوزخی ہزار برس چلائیں گے تب وہ یہ جواب دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 77 { وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ } ”اور وہ ندا کریں گے کہ اے مالک ! اب تو آپ کا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔“
مالک سے یہاں مراد جہنم کا داروغہ ہے۔ اہل جہنم اسے مخاطب کر کے فریاد کریں گے کہ اب ہم سے عذاب کی سختی مزید نہیں جھیلی جاتی۔ آپ اپنے رب سے کہیں کہ وہ ہمیں موت دے کر ہمارا قصہ تمام کر دے۔
{ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ } ”وہ جواب دے گا کہ تمہیں تو اب ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔“
Read the full tafseer →72 اہل دوزخ عذاب کی شدت میں کمی یا وقفہ سے سخت مایوس ہو کر دوزخ کے فرشتہ کو، جس کا نام مالک ہوگا، پکار کر کہیں گے، مالک ! نہ ہمارے عذاب میں کمی واقعی ہوتی ہے نہ کبھی وقفہ پڑتا ہے تو اپنے پروردگار سے کہہ کہ ہمیں ایک ہی دفعہ مار ڈالے۔ اور یہ عذاب کا قصہ ختم ہو۔ مالک کہے گا۔ تمہارے جرائم کی سزا کے لیے بہت طویل مدت درکار ہے۔ لہذا مرجانے کا تصور ذہن سے نکال دو ۔ تمہیں زندہ رکھ کر ہی سزا دی جاسکتی ہے۔ لہذا تمہیں یہیں رہنا ہوگا اور زندہ ہی رکھا جائے گا۔
Read the full tafseer →60۔ (نہ مرنا ہے نہ اس سے نکلنا ہے) (آیت) ” یملک “۔ مالک اصطلاحی نام داروغہ جہنم کا ہے۔ (آیت) ” یملک ... ربک “۔ انتہائی اضطرار میں یہ سمجھ کر شاید موت ہی ساری اذیت کا خاتمہ کردے، اہل دوزخ تمنا کرنے لگیں گے کہ کاش ہمیں موت ہی آجائے ! اور اس درخواست میں داروغہ جن ہم سے سفارش چاہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →ونادوا یملک لیقض علینا ربک قال انکم مکثون اور پکاریں گے : اے مالک ! تمہارا رب (موت دے کر) ہمارا کام ہی تمام کر دے۔ مالک کہے گا : تم ہمیشہ اسی حالت میں رہو گے۔
مٰلِک دوزخ کا درواغہ۔
لِیَقْضِ تیرا رب ہمارا کام تمام کردے ‘ یعنی ہم مرجائیں اور اس عذاب سے راحت پالیں۔
قَال اللہ فرمائے گا ‘ یا ایک ہزار برس کے بعد مالک کہے گا۔
اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ تم کو عذاب میں گرفتار رہنا ہے ‘ موت سے تم کو رہائی نہیں ملے گی (یعنی ہمیشہ عذاب میں رہو گے ‘ کبھی موت نہیں آئے گی) ۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ایک ہزار برس تک مالک ان کو…
Read the full tafseer →جب اس عذاب پر صبر قابو سے باہر ہوجائے گا تو دوزخ کے داروغہ مالک کو پکاریں گے کہ تم ہی دعا کرو کہ تمہارا پروردگار ہمیں موت دے کر ہمارا خاتمہ کردے تو مالک فرشتہ چالیس سال بعد ان کو جواب دے گا کہ تم ہمیشہ اسی میں رہو گے نہ نکلو گے نہ مرو گے۔
Read the full tafseer →ونادوا یملک لیقض علینا ربک …:”قضی علیہ“ کا معنی کا م تمام کرنا، یعنی موت دے دینا ہے، جیسا کہ فرمایا :(فوکرہ موسیٰ فقضی علیہ) (القصص : 15)”تو موسیٰ نے اسے گھونسا مار اتو اس کا کام تمام کردیا۔“”مالک“ جہنم کے خازن (دربان) فرشتے کا نام ہے۔ سمرہ بن جندب ؓ سے مروی طویل حدیث میں ہے کہ خواب میں جبریل اور میاکئیل ؑ نے نبی ﷺ کو بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا اور بعد میں ان کی حقیقت بیان کی۔ اس میں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فانطلقنا فاتینا علی رجل کر یہ المرآۃ کا کرہ ما انت راء رجلاً مرآۃ فاذا عندہ نار یحشھا ویسعی حولھا، قال قلت لھما ماھذا ؟)”پھر ہم آگے بڑھے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو دیکھنے میں بہت…
Read the full tafseer →مالک جہنم کا خازن ہے اپنے غضب کے اظہار کے لئے اسے پیدا کیا جب وہ جہنم کو جھڑکے گا تو اس کا بعض بعض کو کھا جائے گا۔ حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن مسعود ﷺ ؓ نے یوں قرأت بیان کی ہے یہ مصحف کے خلاف ہے حضرت ابو درداء اور حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے مال قرأت کی یعنی خاص طور پر لام کے ساتھ یعنی اسم میں ترخیم کا قاعدہ جاری کیا او کاف کو حذف کردیا۔ ترخیم کا معنی حذف ہے اسی سے ندا میں اسم میں ترخیم ہوتی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے آخر سے ایک یا زیادہ حرف حذف کردیئے جائیں گے تو مالک میں کہے گا : یا مال : حارث میں کہے گا : یا حار فاطمہ میں کہے گا : یا فاطم، عائشہ میں کہے گا : یا عائش،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
4:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) وابن الانباری نے المصاحف میں وابن مردویہ (رح) نے اور نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک “
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے منبر پر نبی ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک “
6:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) والانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” ونادوا یملک “
7:۔ طبرانی (رح) نے یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا…
Read the full tafseer →وَنَادَوْا [ اور وہ لوگ پکاریں گے ] يٰمٰلِكُ [ اے مالک ] لِيَقْضِ عَلَيْنَا [ چاہیے کہ کام تمام کرے ہمارا ] رَبُّكَ ۭ [ تیرا رب ] قَالَ [ وہ (فرشتہ مالک ) کہے گا ] اِنَّكُمْ [ یقینا تم لوگ ] مّٰكِثُوْنَ [ ٹھہرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →اس کے بعد ان کی ایک درخواست کا ذکر ہے۔ حضرت مالک جو دوزخ کے خازن یعنی ذمہ دار ہیں ان سے عرض معروض کریں گے ﴿ وَ نَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ 1ؕ﴾ اور اہل دوزخ پکار کر کہیں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے) یعنی ہمیں موت ہی دیدے تاکہ ہم اس عذاب سے چھوٹ جائیں وہ جواب دیں گے ﴿ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 0077﴾ (بلاشبہ تم کو اسی میں رہنا ہے۔ )
سنن ترمذی میں ہے کہ اہل دوزخ آپس میں مشورہ کریں گے کہ داروغا ہائے دوزخ سے عرض معروض کریں، لہٰذا وہ ان سے کہیں گے ﴿ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ 0049﴾ (تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ کسی ایک دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
43:۔ ” ان المجرمین “ تا ” انکم ماکثون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، جہنم کا عذاب نہ کبھی ختم ہوگا اور نہ اس میں کوئی تخفیف اور کمی ہی ہوگی اور وہ عذاب میں نجات سے مایوس ہو کر خاموش ہوں گے جس طرح ایک آدمی مایوس اور نامید ہو کر خاموش ہوجاتا ہے۔ والمبلس الیائس الساکت سکوت یائس من فرج (کبیر ج 7 ص 455) ۔ اس دائمی عذاب میں مبتلا کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی اور ان سے کوئی بےانصافی نہیں، بلکہ دنیا میں ہمارے احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ عذاب ان کے اپنے ہی گناہوں کی سزا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے ناامید ہوجائیں گے تو خازن جہنم سے التجاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔
داروغہ جہنم سے درخواست
اب آج…
Read the full tafseer →وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ 0 ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…
Read the full tafseer →وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّـکَ ط قَالَ اِنَّـکُمْ مّٰـکِثُوْنَ ۔ (الزخرف : 77)
(اور وہ پکاریں گے، اے مالک ! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے تو اچھا ہے، وہ جواب دے گا تم اسی حال میں پڑے رہو گے۔ )
مایوسی کی وضاحت
یہ ایک طرح سے آیت 75 میں ان کی جس مایوسی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس کی وضاحت ہے، کہ جب جہنم کی تکلیفیں ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجائیں گی اور کسی طرف سے بھی ان کی آہوں کا جواب نہیں ملے گا تو پھر ان کے پاس ایک ہی راستہ ہوگا کہ وہ داروغہ جہنم کو جنھیں مالک کے نام سے یاد کیا گیا ہے پکاریں گے کہ اے مالک اپنے رب تک ہماری درخواست پہنچا دیجیے کہ اب یہ تکلیفیں ہم سے برداشت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزائیں۔
جنتی جنت میں ہر قسم کی نعمتوں اور خوشیوں سے سرفراز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جن پر فرد جرم ثابت ہوجائے گی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی آہ زاریوں کے باوجود ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنّم سے نجات پانے میں مایوس ہوجائیں گے اور اسی مایوسی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جہنم کا عذاب ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ ہوگا۔ جہنمی جہنم کی اذیّت ناکیوں سے تنگ آکر بالآخر جہنّم کے سردار فرشتے جس کا نام مالک ہے اس سے درخواست کریں گے کہ اے مالک ! ہماری…
Read the full tafseer →آیت 77: وَنَا دَوْا یٰمٰلِکُ (اور وہ آواز دیں گے اے مالک) یہ آواز اس وقت دیں گے جب عذاب کی کمی سے مایوس ہوجائیں گے۔ تو کہیں گے اے مالک یہ خازن جہنم ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
ان سے کسی نے کہا کہ ابن مسعود ؓ نے یا مال پڑھا ہے۔ تو عبداللہ فرمانے لگے انہوں نے اہل نار کو ترخیم سے مشغول نہیں کردیا۔ یعنی انہوں نے ترخیم ہی کی ہے۔
لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ (کہ تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے) ہمیں موت دے دے۔ یہ قضٰی علیہ سے لیا گیا۔ جس کا معنی موت دینا ہے جیسا اس آیت میں ہے فوکٰزہ موسٰی فقضٰی علیہ ] القصص : 15[
مطلب یہ ہے کہ اپنے رب سے کہو کہ ہم پر موت طاری کر دے۔ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ (وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
73، لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ ومنھا تاکلون، اور حدیث میں ہے کہ کوئی آدمی جنت کا پھل نہیں توڑے گا مگر اس کی جگہ اس کی مثل اور اگ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
74۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
آیت 74
(ان المجرمین) جنہوں نے کفر اور تکذیب ک جرم کا ارتکاب کیا (فی عذاب جھنم) وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ (خلدون) وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔ (لایفترعنھم) ایک گھڑی کے لئے بھی انہیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں نرمی ہوگی۔ (وھم فیہ مبلسون) یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظلمون قال اخسوا فیھا ولاتکلمون) ” اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کئے تو ہم ظالم ہوں گے، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →100 دوزخیوں کی فریاد دوزخ کے داروغے سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دوزخی داروغہ جہنم سے کہیں گے کہ اے مالک ! ۔ اپنے رب کے حضور ہمارے بارے میں دعاء و درخواست کرو کہ ۔ تمہارا رب ہمارا کام تمام کر دے "۔ یعنی ہمیں موت دے دے تاکہ ہم اس عذاب سے رہائی پاسکیں۔ مگر کہاں ؟۔ ساون کے اندھے کی ہریالی کی طرح اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کو یہاں پر دوزخیوں کے اس قول سے توسل کے ثبوت کی دلیل نظر آگئی کہ یہ لوگ وہاں توسل کے قائل ہوجائیں گے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس فکر و دانش اور اس اخذ و استنباط کے ؟ دوزخ میں پڑے کفار و مشرکین کی اس چیخ و پکار اور موت مانگنے کی دعا و درخواست سے تو سل کے جواز کے لئے دلیل کشید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ہمارا خاتمہ کر دے تاکہ اس عذاب سے نجات ملے۔ مالک دوزخ کے داروغہ کا نام ہے۔
5 یعنی اسی طرح عذاب کی چکی میں پستے رہنا ہے، موت نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(43:77) ناروا۔ ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر غائب۔ نداء مصدر (باب مفاعلۃ) وہ پکاریں گے۔ ضمیر فاعل الظلمین کی طرف راجع ہے وہ دوزخی کافر پکاریں گے۔ شدت عذاب سے پکار اٹھیں گے۔ ای من شدۃ العذاب (روح المعانی)
یملک۔ یا حرف نداء مالک منادی۔ اے مالک : مالک ، دوزخ کے داروغہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔
لیقض علینا ربک : لیقض فعل امر واحد مذکر حاضر۔ چاہیے کہ تمہارا رب ہمیں موت دیدے۔ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دیدے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (18:5) اور موسیٰ نے اس کا مکا مارا اور اس کو جان سے مار دیا۔ اس کا کام تمام کردیا۔
تفسیر اضواء البیان میں ہے کہ لیقض میں لام ، لام الدعاء ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
(ف 1) اوپر اہل جنت کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ کافر عذاب جہنم میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے نہ مریں گے اور نہ نکلیں گے ، دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ، عذاب کبھی ان پر ہلکا نہ کیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ناامید ہوکرخاموش پڑے رہیں گے، ہر بھلائی سے دور ہوں گے اور جب دوزخی لوگوں سے صبر نہ ہوسکے گا تو فریاد کریں گے اور دوزخ کے داروغہ سے یہ التجا کریں گے کہ کاش تمہارا خدا ہم کو موت ہی دے ہم ہلاک ہی ہوکر دوزخ سے چھٹیں، اپنے رب سے کہو کہ ایک دفعہ عذاب دے کر ہمارا کام ہی تمام کردے، گویا نجات سے مایوس ہوکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔
حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔
Read the full tafseer →(77) اور وہ اہل عذاب دوزخ کے داروغہ کو پکار کر کہیں گے اے مالک تیرا پروردگار ہمارا کام ہی پورا کردے اور ہمارا فیصلہ ہی کردے وہ مالک جواب دے گا تم کو ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے۔ لیقض علینا ربک یعنی ہم کو موت دیدے اگر عذاب سے نکالتا نہیں تو مار کر ہم کو ختم کردے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مالک نام ہے فرشتے کا جو دوزخ کا داروغہ ہے کہتے ہیں ہزار برس تک چلا دیں گے تب وہ جواب دے گا ناامیدی کام فیصل کرچکے یعنی مار ڈالے عذاب کر کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–79
ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →اہل جہنم ، جہنم کے داروغہ کے سامنے فریاد کریں گے اور وہ کہے گا کہ بس اس میں رہنا ہے
77 ؎ (یملک) سے جنت کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ کو بھی مراد لیا جاسکتا تھا لیکن آگے (ربک) کا لفظ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس مالک کے لفظ سے اللہ تعالیٰ مراد نہیں لیا جاسکتا یہ کسی کا نام ہوسکتا ہے اور حدیث کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے داروغہ کا نام مالک ہے اور ظاہر کہ یہ کوئی فرشتہ ہی ہوسکتا ہے۔ اہل جہنم جب مکمل طور پر مایوس ہوچکیں گے اور دوزخ میں جھونک دئیے جائیں گے تو وہ دربار دوزخ سے کہیں گے کہ اگر ہماری معافی اور بخشش کی کوئی سبیل نہیں اور کوئی پروانہ آپ کے پاس اس طرح کا موجود نہیں ہے تو پھر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–81
Commentary
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman,
I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
61 "Malik" : a keeper of Hell as is evident from the context.
Read the full tafseer →