Explained with ayahs 74–80
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 62
یعنی ہم نے حقیقت تمہارے سامنے کھول کر رکھ دی، مگر تم حقیقت کے بجائے افسانوں کے دلدادہ تھے اور سچائی تمہیں سخت ناگوار تھی۔ اب اپنے اس احمقانہ انتخاب کا انجام دیکھ کر بلبلاتے کیوں ہو ؟ ہوسکتا ہے کہ یہ داروغہ جہنم ہی کے جواب کا ایک حصہ ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا جواب " تم یوں ہی پڑے رہو گے " پر ختم ہوگیا ہو اور یہ دوسرا فقرہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہو۔ پہلی صورت میں داروغہ جہنم کا یہ قول کہ " ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے " ایسا ہی ہے جیسے حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
خلاصہ تفسیر
(اور اوپر جن سزاؤں کا بیان ہوا ان کی وجہ یہ ہے کہ) ہم نے سچا دین (جس کا رکن اعظم توحید و رسالت کا اعتقاد ہے) تمہارے پاس پہنچایا، لیکن تم میں سے اکثر آدمی سچے دین سے نفرت رکھتے ہیں (اکثر آدمی یا تو اس لئے کہا کہ بعض لوگ آئندہ ایمان لانے والے تھے، اور یا اس لئے کہ نفرت تو صحیح معنی میں بعض ہی کو تھی، دوسرے بعض محض تقلیداً راہ حق کو چھوڑے ہوئے تھے، اور یہ نفرت شامل ہے رسولوں کی مخالفت اور توحید کی مخالفت دونوں کو۔ آگے دونوں کی تفصیل ہے کہ) ہاں کیا انہوں نے (رسول کو نقصان پہنچانے کے بارے میں) کوئی انتظام درست کیا ہے، سو ہم نے بھی ایک انتظام درست کیا ہے (اور ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے…
Read the full tafseer →لقد جبنکم بالحق ولکن اکثرکم للحق کرھون (78)
قریش کو تنبیہ
مجرمین کا انجام سنانے کے بعد یہ پھر قریش کو تنبیہ ہے کہ ہم نے قرآن کی شکل میں تمہارے سامنے پیش کردیا ہے لیکن تمہاری اکثریت کا حال یہ ہے کہ حق تمہیں بہت ناگوار ہے۔ اگر یہ ناگورار تو اس کا جو انجام تمہارے سامنے آنے والا ہے اس کو اچھی طرح سوچ لو۔ اب اس انجام سے تم کو دوچار ہونا پڑا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ظلم نہیں ہوگا بلکہ تم خود اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے ہو گے۔
Read the full tafseer →78۔ 1 یہ اللہ کا ارشاد ہے یا فرشتوں کا ہی قول بطور نیابت الٰہی ہے۔ جیسے کوئی افسر مجاز ' ہم ' کا استعمال حکومت کے مفہوم میں کرتا ہے۔ اکثر سے مراد کل ہے یعنی سارے ہی جہنمی، یا پھر اکثر سے مراد رؤسا اور لیڈر ہیں۔ باقی جہنمی ان کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اس میں شامل ہونگے۔ حق سے مراد، اللہ کا وہ دین اور پیغام ہے جو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے ارسال کرتا رہا۔ آخری حق قرآن اور دین اسلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
20: مکہ مکرمہ کے کافر آنحضرت ﷺ کے خلاف خفیہ منصوبے بناتے رہتے تھے، مثلاً انہوں نے آپ کو گرفتار کرنے یا قتل کرنے کے لیے سازش تیار کی تھی جس کا ذکر سورة انفال : 30 میں گذرا ہے۔ اسی قسم کی کسی سازش کے موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ اگر انہوں نے آپ کے خلاف کچھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ہم نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کی سازش خود انہی کے خلاف پڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت نمبر 78 تا 80
یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔
دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم…
Read the full tafseer →13 یعنی وہ سزا اس جرم پر ملی کہ تم میں سے اکثر سچائی سے چڑتے تھے (اور بہت سے اندھوں کی طرح ان کے پیچھے ہو لیے)
Read the full tafseer →آیت 78 { لَقَدْ جِئْنٰـکُمْ بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ } ”ہم تو تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تمہاری اکثریت حق کو ناپسند کرتی ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے تمہارے پاس سچا دین اور سچی تعلیمات پہنچا دی تھیں ‘ لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے بیزار ہی رہے ‘ جس کا نتیجہ آج تمہارے سامنے ہے۔
Read the full tafseer →73 یہ کلام دوزخ کے فرشتہ مالک کا بھی ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا نائب ہونے کی حیثیت سے بات کر رہا ہو۔ اور خود اللہ تعالیٰ کا بھی۔ یعنی ایسی سخت سزا تمہیں اس لیے دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی سچی باتیں تم سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے تمہاری اسی اکڑ کا یہ علاج کیا جارہا ہے۔
Read the full tafseer →61۔ دین حق کی تبلیغ کے بعد اس سے اسی انکاروکراہت واعتقادی ہی کا نتیجہ تو دوزخ کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →لقد جئنکم بالحق ولکن اکثرکم للحق کرھون ہم نے سچا دین تمہارے پاس پہنچایا ‘ لیکن تم میں سے اکثر آدمی سچے دین سے نفرت کرتے تھے۔
بِالْحَقِّ یعنی پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر دین حق تم کو پہنچایا۔
اگر قال کی ضمیر اللہ کی طرف راجع قرار دی جائے تو یہ آیت اللہ کے مقولہ کا تتمہ ہوگی ‘ ورنہ یہ اللہ کی طرف سے دوزخیوں کو جواب ہوگا ‘ گویا فرشتوں کے جواب کے بعد اللہ خود یہ فرمائے گا۔
کٰرِھُوْنَ یعنی سچا دین اور اسکا اتباع تمہارے نفسانی میلان کے خلاف تھا ‘ اسلئے تم میں سے اکثر لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔
Read the full tafseer →جبریل امین ہماری طرف سے تمہارے نبی حضرت محمد ﷺ کے پاس قرآن حکیم لے کر آئے مگر تم میں سے اکثر رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →لقد جئنکم بالحق ولکن اکثرکم…: اس ایٓ میں اللہ تعالیٰ کا خطاب اہل جہنم سے بھی مراد ہوسکتا ہے اور دنیا میں قریش اور دوسرے کفار سے بھی۔ پہلی صورت میں جو فرمایا کہ تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے تو اس لئے کہ ان کے قلیل لوگ حق کو ناپسند کرنے والے نہیں تھے، وہ تو اپنے اکابر و سادات کی اندھا دھند پیروی کرنے کی وجہ سے کفر پر قائم رہنے والے تھے۔ اکثر وہی تھے جو حق کو پہچانتے تھے مگر اپنے مفادات اور خواہشات سے متصادم ہونے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے۔ دوسری صورت میں دنیا میں کفار کا حال بیان فرمایا کہ ان کے اکثر حق آنے کے بعد اپنی خواہشات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کرنے والے ہوتے…
Read the full tafseer →یہ احتمال موجود ہے کہ یہ مالک کا قول ہے یعنی تم جہنم میں ہی رہو گے کیونکہ دنیا میں تمہارے پاس حق لائے تو تم نے اسے قبول نہ کیا۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ یہ آج ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کلام ہو یعنی ہم نے تمہارے لئے دلائل کو واضح کیا اور تمہاری جانب رسول بھیجے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں اکثر کل کے معنی میں ہے یہاں کثرت سے مراد روئوسا اور قائدین ہیں جہاں تک پیرو کاروں کے تعلق ہے تو ان کا کوئی اثر نہ ہوگا : اسلام کو اور اللہ تعالیٰ کے دین کو کرھون ناپسند کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
4:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) وابن الانباری نے المصاحف میں وابن مردویہ (رح) نے اور نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک “
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے منبر پر نبی ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا یملک “
6:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) والانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” ونادوا یملک “
7:۔ طبرانی (رح) نے یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” ونادوا…
Read the full tafseer →لَقَدْ جِئْنٰكُمْ [ بیشک ہم لاچکے تمہارے پاس ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ [ اور لیکن تم لوگوں کے اکثر ] لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ [ حق سے کراہیت کرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →﴿ لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ 0078﴾ مشرکین کو خطاب ہے کہ ہم نے تمہارے پاس حق پہنچا دیا حق واضح کردیا توحید کی دعوت سامنے رکھ دی اس کے دلائل بیان کردئیے لیکن تم نہیں مانتے تم میں سے اکثر لوگ حق کو برا جانتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں یہ حق سے دور بھاگنا انہی حالات کا پیش خیمہ ہے جو اہل دوزخ کے احوال میں بیان کیے گئے ہیں۔
قریش مکہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے کے مشورے کرتے رہتے تھے موقع ملنے پر تکلیف بھی پہنچاتے تھے آپ کو شہید کرنے کا بھی مشورہ کیا آپ کی دعوت انہیں بہت ہی ناگوار تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا ﴾ (کیا انہوں نے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →44:۔” لقد جئنا کم “ التفات بسوئے اہل مکہ۔ ہم نے اپنا رسول تمہارے پاس حق و صداقت کا پیغام (توحید و شرائع دین) دے کر بھیجا ہے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے اور توحید اور خدائے واحد کی عبادت اور پکار کے مقابلے میں غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اما الحق المعہود الذی ھو التوحید او القران فکلہم کارھون لہ مشمئزون منہ (ابو السعود ج 7 ص 454) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔
داروغہ جہنم سے درخواست
اب آج…
Read the full tafseer →لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِہُوْنَ 78
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…
Read the full tafseer →لَقَدْ جِئْنٰـکُمْ بِالْحَقِّ وَلَـکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ ۔ (الزخرف : 78)
(ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے مگر تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے رہے۔ )
قریش کو تنبیہ
گزشتہ آیت میں کفار کی درخواست پر داروغہ جہنم کا جواب ذکر فرمایا گیا ہے، ممکن ہے یہ بھی اسی جواب کا حصہ ہو۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ داروغہ جہنم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں جواب دیتے ہوئے یہ کہے گا کہ آج تم جس انجام میں پکڑے گئے ہو یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، بلکہ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے، (یہ ہم کا استعمال داروغہ ٔ جہنم کی طرف سے اس لیے ہوگا کہ وہ ایک سرکاری افسر کی حیثیت سے بات کررہا ہے) ۔ لیکن تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزائیں۔
جنتی جنت میں ہر قسم کی نعمتوں اور خوشیوں سے سرفراز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جن پر فرد جرم ثابت ہوجائے گی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی آہ زاریوں کے باوجود ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنّم سے نجات پانے میں مایوس ہوجائیں گے اور اسی مایوسی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جہنم کا عذاب ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ ہوگا۔ جہنمی جہنم کی اذیّت ناکیوں سے تنگ آکر بالآخر جہنّم کے سردار فرشتے جس کا نام مالک ہے اس سے درخواست کریں گے کہ اے مالک ! ہماری…
Read the full tafseer →آیت 78: لَقَدْ جِئْنٰکُمْ بِالْحَقِّ (ہم نے سچا دین تمہارے پاس پہنچایا) حق سے کلام اللہ مراد ہے۔
نحو : قال میں ضمیر کا ہونا ضروری ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو۔ اس لئے کہ جب انہوں نے مالک سے موت کا سوال کرنے کو کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا۔
ایک قول یہ ہے :
یہ کلام مالک کے ساتھ متصل ہے۔ اور مراد جئناکم سے الملائکہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قاصد وہی ہیں اور وہ بھی من جملہ فرشتوں میں سے ایک ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ (لیکن تمہاری اکثریت سچے دین سے نفرت کرتی تھی) اور تم اس کو قبول نہ کرتے تھے اور اس سے بھاگتے تھے کیونکہ آرام باطل کی سنگت میں اور تھکاوٹ و…
Read the full tafseer →77 ، ونادوایامالک، جہنم کے داروغہ کو پکاریں گے۔ ، لیقض علینا ربک، چاہیے کہ تیرارب ہیں ماردے توہم راحت پائیں تو مالک ان کو ایک ہزار سال کے بعد جواب دے گا۔ ، قال انکم ماکثون، عذاب میں رہوگے۔
عبد اللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ بیشک جہنمی لوگ مالک کو پکاریں گے۔ پس وہ ان کو چالیس سال جواب نہ دے گا، پھر ان کو جواب دے گا کہ تم ٹھہرنے والے ہو۔ فرمایا کہ قسم ! ان کے مالک کو اور مالک کے رب کو پکار ناذلیل ہوگیا۔ پھر وہ اپنے رب کو پکاریں گے اور کہیں گے، ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوماضالین ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فان ظالمون، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے دنیا کی مقدار دومرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
74۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
آیت 74
(ان المجرمین) جنہوں نے کفر اور تکذیب ک جرم کا ارتکاب کیا (فی عذاب جھنم) وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ (خلدون) وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔ (لایفترعنھم) ایک گھڑی کے لئے بھی انہیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں نرمی ہوگی۔ (وھم فیہ مبلسون) یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظلمون قال اخسوا فیھا ولاتکلمون) ” اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کئے تو ہم ظالم ہوں گے، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →102 منکرین و مکذبین کو تنبیہ : سو مجرموں کو ان کے ہولناک انجام سے آگاہ کرنے کے بعد منکرین و مکذبین اور خاص کر مشرکین مکہ اور صنادید قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے حق تمہارے پاس پہنچا دیا مگر تمہاری اکثریت کو حق ہی سے نفرت تھی "۔ یعنی ہم نے تو اپنے رسولوں کے ذریعے اور اپنی کتابیں اتار کر تمہارے لئے راہ حق و ہدایت کو واضح کرنے کا انتظام پوری طرح کردیا مگر تم نے ان سے منہ موڑ کر کفر و باطل کی راہ ہی کو اپنایا۔ تو اب تم چکھو مزہ اپنے کئے کا اور بھگتو بھگتان اپنی کرتوتوں کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں کفار قریش کو خاص طور پر تنبیہ ہے کہ اب قرآن حکیم کی صورت میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اس سے نفرت کرتے ہیں اور اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(43:77) ناروا۔ ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر غائب۔ نداء مصدر (باب مفاعلۃ) وہ پکاریں گے۔ ضمیر فاعل الظلمین کی طرف راجع ہے وہ دوزخی کافر پکاریں گے۔ شدت عذاب سے پکار اٹھیں گے۔ ای من شدۃ العذاب (روح المعانی)
یملک۔ یا حرف نداء مالک منادی۔ اے مالک : مالک ، دوزخ کے داروغہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔
لیقض علینا ربک : لیقض فعل امر واحد مذکر حاضر۔ چاہیے کہ تمہارا رب ہمیں موت دیدے۔ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دیدے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (18:5) اور موسیٰ نے اس کا مکا مارا اور اس کو جان سے مار دیا۔ اس کا کام تمام کردیا۔
تفسیر اضواء البیان میں ہے کہ لیقض میں لام ، لام الدعاء ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
(ف 1) اوپر اہل جنت کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ کافر عذاب جہنم میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے نہ مریں گے اور نہ نکلیں گے ، دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ، عذاب کبھی ان پر ہلکا نہ کیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ناامید ہوکرخاموش پڑے رہیں گے، ہر بھلائی سے دور ہوں گے اور جب دوزخی لوگوں سے صبر نہ ہوسکے گا تو فریاد کریں گے اور دوزخ کے داروغہ سے یہ التجا کریں گے کہ کاش تمہارا خدا ہم کو موت ہی دے ہم ہلاک ہی ہوکر دوزخ سے چھٹیں، اپنے رب سے کہو کہ ایک دفعہ عذاب دے کر ہمارا کام ہی تمام کردے، گویا نجات سے مایوس ہوکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔
حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔
Read the full tafseer →(78) بلاشبہ ہم نے تمہارے پاس سچا دین پہنچایا لیکن تم میں سے اکثر دین حق سے نفرت کرتے اور برا مانتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ یہ بھی مالک کا قول ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–79
ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →ہماری طرف سے تم پر حق نازل کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ تم لوگ حق کو ناخوش سمجھتے تھے
78 ؎ داروغہ جہنم ان کو ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد مزید اپنی طرف سے یہ بات بھی کہے گا کہ اب تم اس طرح کی معذرت پیش کرتے ہو حالانکہ وہ وقت بھی تھا جب تمہار سامنے حقیقت کو کھول کھول کر رکھا جارہا تھا لیکن تم اس حقیقت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے جو تمہارے دلوں میں پہلے ہی جم چکی تھیں اور جن کو تم باپ دادوں سے سنتے چلے آرہے تھے تو ان پر تم سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے اور عملی زندگی کو درست کرنے کی بجائے موہوم آسروں اور سہاروں پر زندگی گزارنا پسند کرتے تھے یہ جواب ان کو اس فرشتہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–81
Commentary
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman,
I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…
Read the full tafseer →62 That is, "We made the reality plain to you, but you were fond of the imaginary, and you had an aversion to the truth. Now, why do you lament at the fate of your foolish choice?" It may be a part of the Hell-keeper's answer, and it may also be that his answer ended with: "Here you must remain ! " and this second sentence an addition by Allah. In the first case, the keeper's saying: "We had brought the Truth to you," is just like an official's using the word "we" nn behalf of his government, when he wants to say, "Our government did this or gave such and such an order. "
Read the full tafseer →