Az-Zukhruf 43:76

Az-Zukhruf · from ayah 76

43:76

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ ۟وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَ لٰـكِنۡ كَانُوۡا هُمُ الظّٰلِمِيۡنَ

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not wrong them, but it was they who were the wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:76

ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ﻇالم تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود ہی ظالم لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ خود ہی ظالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ظالم تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ ہم نے ان کے اوپر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ لوگ خود ہی (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی (اپنے حق میں) ظالم رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is not We Who wronged them; rather, it is they who wronged themselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not do injustice to them, rather, they themselves were the unjust.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not do injustice to them, rather, they themselves were the unjust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We wronged them not, but they were the wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We wronged them not, but they it was who did the wrong.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not wrong them, but it was they who were the wrongdoers.

— Saheeh International

They will cry out, "Guard, let your Lord destroy us".

— Muhammad Sarwar

And We are not unjust to them, but they themselves were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And We wronged them not, but they have been the wrong- doers themselves.

— Abdul Majid Daryabadi

Nowise shall We be unjust to them: but it is they who have been unjust themselves.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–80

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–77

سورة الزُّخْرُف 61 مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–77

معارف و مسائل دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین 76 یعنی اصورتحال سے ان کو جو سابقہ پیش آئے گا تو یہ اللہ تعالیٰکی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ اس کے اسباب انہوں نے خود فراہم کئے اس وجہ سے وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ ان کی ہدایت کے لئے جو اہتمام ضروری تھا وہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فرمایا لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں کہ بلکہ ساری زندگی اپنی خواہشوں کی غلامی میں گزاری جس کے نتیجہ میں اس انجام سے دوچار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 76–77

77۔ 1 مالک، دروغہ جہنم کا نام ہے۔ 77۔ 2 یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔ 77۔ 3 یعنی وہاں موت کہاں ؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی، تاہم اس کے بغیر بھی چارہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی ہم نے دنیا میں بھلائی برائی کے سب پہلو سمجھا دیے تھے اور پیغمبروں کو بھیج کر حجت تمام کردی تھی۔ کوئی معقول عذر ان کے لیے باقی نہیں چھوڑا تھا۔ اس پر بھی نہ مانے اور اپنی زیادتیوں سے باز نہ آئے۔ ایسوں کو سزا دی جائے تو ظلم کون کہہ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76 { وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا ہُمُ الظّٰلِمِیْنَ } ”اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 یعنی ہم نے انہیں ایسے عذاب سے بچاؤ کے لیے پوری طرح بروقت خبردار کردیا تھا۔ اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ سمجھنے کو انہیں عقل بھی دی تھی۔ رسول بھی بھیجے تھے اور کتاب ہدایت بھی۔ اس طرح ہم نے ہر طرح سے ان پر حجت تمام کردی تھی۔ پھر بھی انہوں نے اگر عذاب سے بچنے کی کوشش نہیں کی تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟ قصور تو ان کا اپنا ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 73–76

59۔ (کہ پیام اسلام کو سنا ان سنا کرکے اور کفر وشرک کے مرتکبین ہیں نہ کہ مطلقا عاصی، اسے الراسخین فی الاجرام الکاملین فیہ وھم الکفار صفات میں سے نہیں کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کردے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم یہاں بھی کافر کے مرادف ہے۔ اے واضعین الکفر موضع الایمان (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین اور ہم ان پر ظلم نہیں کریں گے بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–76

(75۔ 76) اور نہ وہ عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی دور کیا جائے گا اور وہ اسی عذاب میں اس کے ختم ہونے اور ہر قسم کی بھلائی سے مایوس پڑے رہیں گے اور ہم نے ان کو ہلاک کر کے اور عذاب نازل کر کے ان پر ظلم نہیں کیا مگر خود انہوں نے کفر و شرک کر کے خود ظلم کرلیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وما ظلمنھم ولکن کانوا …: یہاں خیال ہوسکتا تھا کہ اتنی بڑی اور دائمی سزا تو ظلم ہے، اس لئے فرمایا کہ ہم نے ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم کیر، بلکہ وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے، حتیٰ کہ یہی ظالم ہونا ان کی صفت اور پہچان بن گیا، کیونکہ ظلم ان کا دائمی عمل اور ان کی عادت اور جبلت بن چکا تھا، ان کی نیت اور ارادہ یہی تھا کہ جب تک رہیں گے اسی پر قائم رہیں گے، اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی نہ مرتے اور ہمیشہ ظلم و شرک پر جمے رہتے۔ چونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اس لئے انھیں ہمیشہ ظلم کی نیت پر ہمیشہ کا عذاب دیا گیا اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–76

جب اہل جنت کے احوال کا ذکر کیا تو اہل جن ہم کے احوال کا ذکر کیا تاکہ اطاعت شعار کی نافران پر فضلیت کو بیان کرے۔ ان سے عذاب تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ رحمت سے مایوس ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خاموش ہوں گے سکوت کا معنی نا امیدی ہے۔ سورة انعام میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ” ہم نے عذاب میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر شرک کا ارتکاب کر کے ظلم کرنے والے تھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الظالمون کو مرفوع پڑھا جائے یہ مبتدا اور خبر ہو اور جملہ کان کی خبر ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–76

وقولہ تعالیٰ : ان المجرمین “ 3:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھم فیہ مبلسون “ (اور وہ اس میں ناامید ہوں گے) یعنی وہ سرجھکائے گھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ [ اور ہم نے ظلم نہیں کیا ان لوگوں پر ] وَلٰكِنْ كَانُوْا هُمُ [ اور لیکن وہ لوگ ہی تھے ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–76

﴿وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِيْنَ 0076﴾ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ ہی ظلم کرنے والے تھے) دنیا میں ان کے پاس حق آیا ایمان کی دعوت پیش کی گئی انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اپنی جانوں کو انہوں نے خود ہی مبتلائے عذاب کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–77

43:۔ ” ان المجرمین “ تا ” انکم ماکثون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، جہنم کا عذاب نہ کبھی ختم ہوگا اور نہ اس میں کوئی تخفیف اور کمی ہی ہوگی اور وہ عذاب میں نجات سے مایوس ہو کر خاموش ہوں گے جس طرح ایک آدمی مایوس اور نامید ہو کر خاموش ہوجاتا ہے۔ والمبلس الیائس الساکت سکوت یائس من فرج (کبیر ج 7 ص 455) ۔ اس دائمی عذاب میں مبتلا کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی اور ان سے کوئی بےانصافی نہیں، بلکہ دنیا میں ہمارے احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ عذاب ان کے اپنے ہی گناہوں کی سزا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے ناامید ہوجائیں گے تو خازن جہنم سے التجاء…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–76

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْا ہُمُ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 76 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–78

تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا ظَلَمْنٰـہُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْا ھُمُ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الزخرف : 76) (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنے۔ ) غلط فہمی کا ازالہ آیاتِ بالا میں عذاب کا ذکر دیکھ کر ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ جہنم میں ہمیشہ کی سزا اور ایسی کڑی سزا جس میں امید کا ہر ٹانکا ٹوٹ جائے گستاخی نہ ہو تو اسے ظلم کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ یہ ظلم ہم نے ان پر نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔ یعنی ہم انھیں بار بار تنبیہ کرتے رہے کہ اگر تم نے اپنے ان کرتوتوں کو نہ چھوڑا، شرک سے توبہ نہ کی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–78

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزائیں۔ جنتی جنت میں ہر قسم کی نعمتوں اور خوشیوں سے سرفراز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جن پر فرد جرم ثابت ہوجائے گی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی آہ زاریوں کے باوجود ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنّم سے نجات پانے میں مایوس ہوجائیں گے اور اسی مایوسی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جہنم کا عذاب ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ ہوگا۔ جہنمی جہنم کی اذیّت ناکیوں سے تنگ آکر بالآخر جہنّم کے سردار فرشتے جس کا نام مالک ہے اس سے درخواست کریں گے کہ اے مالک ! ہماری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 76: وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا) ان کو عذاب دے کروَلٰکِنْ کَانُوْا ہُمُ الظّٰلِمِیْنَ (لیکن وہ خود ہی ظالم تھے) : ہم یہ ضمیر فصل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 74–77

73، لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ ومنھا تاکلون، اور حدیث میں ہے کہ کوئی آدمی جنت کا پھل نہیں توڑے گا مگر اس کی جگہ اس کی مثل اور اگ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–80

74۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–78

آیت 74 (ان المجرمین) جنہوں نے کفر اور تکذیب ک جرم کا ارتکاب کیا (فی عذاب جھنم) وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ (خلدون) وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔ (لایفترعنھم) ایک گھڑی کے لئے بھی انہیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں نرمی ہوگی۔ (وھم فیہ مبلسون) یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظلمون قال اخسوا فیھا ولاتکلمون) ” اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کئے تو ہم ظالم ہوں گے، اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

99 دوزخ ظالموں کے اپنے ظلم کا نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی ظالم تھے "۔ کہ ایمان و اسلام کی راہ ِحق و صواب کو چھوڑ کر انہوں نے کفر و باطل کو اپنایا۔ اور اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو ابدی سعادت اور حقیقی کامیابی سے محروم کر کے دارین کے نقصان و خسران سے دو چار کیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فِلَانْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ } ۔ (الروم : 44) ۔ یعنی " جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال خود اسی پر پڑے گا اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگ خود اپنے ہی لیے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 جو رسولوں ( علیہ السلام) کو سمجھانے کے باوجود گناہ پر گناہ کرتے رہے اور اپنی سرکشی سے باز نہ آئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:76) وما ظلمنہم یہ خدائے اسلام کی صفات میں سے نہیں ہے کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے۔ یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے۔ ولکن کانوا ہم الظلمین۔ بلکہ وہ خود ہی (اپنے حق میں) ظالم رہے ہیں۔ ظلمین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ خبر کانوا۔ ظلمین یہاں کفار کے مرادف ہے ای واضعین الکفر موضع الایمان۔ ایمان کے بجائے کفر کو اپنانے والے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–78

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے) تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–78

(ف 1) اوپر اہل جنت کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ کافر عذاب جہنم میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے نہ مریں گے اور نہ نکلیں گے ، دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ، عذاب کبھی ان پر ہلکا نہ کیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ناامید ہوکرخاموش پڑے رہیں گے، ہر بھلائی سے دور ہوں گے اور جب دوزخی لوگوں سے صبر نہ ہوسکے گا تو فریاد کریں گے اور دوزخ کے داروغہ سے یہ التجا کریں گے کہ کاش تمہارا خدا ہم کو موت ہی دے ہم ہلاک ہی ہوکر دوزخ سے چھٹیں، اپنے رب سے کہو کہ ایک دفعہ عذاب دے کر ہمارا کام ہی تمام کردے، گویا نجات سے مایوس ہوکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 73–78

[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 74–80

ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔ حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی بلکہ وہ خود ہی ظلم اور ناانصافی کرنے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–79

ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ 76 ؎ دوزخ میں وہ لوگ جس صورت حال سے دوچار ہوں گے وہ صورتحال خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کی ہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں کیا گیا کیونکہ جنت اور دوزخ انسان کے اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوگی۔ ان کو بار بار سمجھایا گیا تھا کہ تمہارے اعمال جانوروں کے سے اعمال نہیں ہیں اس لیے کہ تم کو صاحب شعور پیدا کیا گیا ہے اور نیک وبد دونوں کی تمیز تم کو دی گئی ہے اور یہ محض اس لیے ہے کہ تم اپنے ارادہ سے برائیوں سے بچو اور نیکیوں کو اختیار کرو کیونہ اس عقل وفکر کے باعث تم مکلف قرار دئے و گئے اور تمہارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–81

Commentary قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman, I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…

Read the full tafseer →