Az-Zukhruf 43:75

Az-Zukhruf · from ayah 75

43:75

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ ۟ۚلَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ‌ۚ‏

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It will not be allowed to subside for them, and they, therein, are in despair.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:75

کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وه اسی میں مایوس پڑے رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ عذاب ان کے لیے ہلکا نہیں پڑنے دیا جائے گا، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں بے آ س رہیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو اُن سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں ناامید ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سے عذاب کبھی کم نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس ہو کر پڑے رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ ان کے لئے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے وہ (عذاب) ہلکا بھی نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں ہر طرح سے مایوس پڑے رہیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں پڑے رہیں گے بالکل ناامیدہو کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Never will their torment be lightened for them. They shall remain in utter despair.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will not be lightened for them, and they will be there, devoid of all hopes.

— Muhammad Taqi Usmani

It will not be lightened for them, and they will be there, devoid of all hopes.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(The torment) will not be lightened for them, and they will be plunged into destruction with deep regrets, sorrows and in despair therein.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is not relaxed for them, and they despair therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It will not be allowed to subside for them, and they, therein, are in despair.

— Saheeh International

We had not done any injustice to them but they had wronged themselves.

— Muhammad Sarwar

It shall not be abated from them and they shall therein be despairing.

— Muhammad Habib Shakir

It shall not be abated from off them, and they will be therein despondent.

— Abdul Majid Daryabadi

Nowise will the (Punishment) be lightened for them, and in despair will they be there overwhelmed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–80

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–77

سورة الزُّخْرُف 61 مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–77

معارف و مسائل دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لایفترعنھم وھم فیہ مبلسون 75 یہ عذاب ان پر اس طرح مسلط ہوگا کہ اس سے نجات پانا تو درکنار کبھی عارضی اور وقتی طور پر بھی نہ وہ ٹالا جائے گا اور نہ اس میں کوئی تخفیف ہی ہوگی۔ وھم فیہ مبلسون وہ اس میں بالکل مایوس ہوں گے۔ آخری درجے میں یہ موہوم امید بھی کبھی سہارا بن جاتی ہے کہ شاید اس عذاب سے کبھی رہائی حاصل ہوجائے یا کبھی اس میں کوئی تخفیف ہی ہوجائے لیکن ان بدبختوں کے لئے اس طرح کا کوئی موہم سہارا بھی نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 74–75

9 یعنی عذاب نہ کسی وقت ملتوی ہوگا نہ ہلکا کیا جائے گا۔ دوزخی ناامید ہو جایں گے کہ اب یہاں سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75 { لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَہُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ } ”وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں پڑے رہیں گے بالکل ناامیدہو کر۔“ انہیں جہنم سے چھٹکارا پانے کا کوئی امکان نظر نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 73–75

70 یُفَتَّرُ فتر بمعنی کسی چیز کی قوت یا رفتار میں بتدریج کمی واقع ہوتے جانا۔ قوت کے بعد کمزوری، تیز رفتاری کے بعد آہستہ آہستہ رفتار سست ہوتے جانا اور فتور کے معنی تیزی کے بعد سستی یا ٹھہراؤ۔ گویا اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا اس میں نہ تو کمی واقع ہوگی اور نہ ہی کبھی کوئی وقفہ پڑے گا۔ مدت ہائے مدید جب ان پر ایسا سخت عذاب ہی ہوتا رہے گا اور اس میں کوئی کمی یا وقفہ نہ آئے گا تو ایسی کمی یا وقفہ سے وہ بالآخر مایوس ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 73–76

59۔ (کہ پیام اسلام کو سنا ان سنا کرکے اور کفر وشرک کے مرتکبین ہیں نہ کہ مطلقا عاصی، اسے الراسخین فی الاجرام الکاملین فیہ وھم الکفار صفات میں سے نہیں کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کردے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم یہاں بھی کافر کے مرادف ہے۔ اے واضعین الکفر موضع الایمان (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون۔ انکے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور وہ عذاب میں پڑے ہوں گے (رہائی سے) ناامید ہوں گے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–76

(75۔ 76) اور نہ وہ عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی دور کیا جائے گا اور وہ اسی عذاب میں اس کے ختم ہونے اور ہر قسم کی بھلائی سے مایوس پڑے رہیں گے اور ہم نے ان کو ہلاک کر کے اور عذاب نازل کر کے ان پر ظلم نہیں کیا مگر خود انہوں نے کفر و شرک کر کے خود ظلم کرلیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لایفثر عنھم :”فتور“ کسی چیز میں وقفہ یا ٹھہراؤ آنا، یا اس کی قوت یا رفتار میں آہستہ آہستہ کمی آتے جانا، جیسے کہا جاتا ہے :”فترب الحثمی“ بخار میں کمی یا وقفہ آگیا۔“”لایفثر“ (باب تفعیل) کا مطلب یہ ہے کہ ان کے عذاب میں کسی قسم کا وقفہ یا کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ (2) وھم فیہ نبلسون : مصیبت سے نجات کی امید بھی کچھ نہ کچھ راحت کا باعث ہوتی ہے، یہ کہہ کر امید کی بھی نفی فرما دی کہ وہ اسی جہنم میں مایوس اور ناامید ہو کر رہنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–76

جب اہل جنت کے احوال کا ذکر کیا تو اہل جن ہم کے احوال کا ذکر کیا تاکہ اطاعت شعار کی نافران پر فضلیت کو بیان کرے۔ ان سے عذاب تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ رحمت سے مایوس ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خاموش ہوں گے سکوت کا معنی نا امیدی ہے۔ سورة انعام میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ” ہم نے عذاب میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر شرک کا ارتکاب کر کے ظلم کرنے والے تھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الظالمون کو مرفوع پڑھا جائے یہ مبتدا اور خبر ہو اور جملہ کان کی خبر ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–76

وقولہ تعالیٰ : ان المجرمین “ 3:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھم فیہ مبلسون “ (اور وہ اس میں ناامید ہوں گے) یعنی وہ سرجھکائے گھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ [ اس (عذاب ) کو ہلکا نہیں کیا جائے گا ان سے ] وَهُمْ فِيْهِ [ اور وہ لوگ اس میں ] مُبْلِسُوْنَ [ شدید مایوس و غمگین ہونے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–76

﴿وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِيْنَ 0076﴾ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ ہی ظلم کرنے والے تھے) دنیا میں ان کے پاس حق آیا ایمان کی دعوت پیش کی گئی انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اپنی جانوں کو انہوں نے خود ہی مبتلائے عذاب کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–77

43:۔ ” ان المجرمین “ تا ” انکم ماکثون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، جہنم کا عذاب نہ کبھی ختم ہوگا اور نہ اس میں کوئی تخفیف اور کمی ہی ہوگی اور وہ عذاب میں نجات سے مایوس ہو کر خاموش ہوں گے جس طرح ایک آدمی مایوس اور نامید ہو کر خاموش ہوجاتا ہے۔ والمبلس الیائس الساکت سکوت یائس من فرج (کبیر ج 7 ص 455) ۔ اس دائمی عذاب میں مبتلا کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی اور ان سے کوئی بےانصافی نہیں، بلکہ دنیا میں ہمارے احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ عذاب ان کے اپنے ہی گناہوں کی سزا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے ناامید ہوجائیں گے تو خازن جہنم سے التجاء…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–76

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَہُمْ فِيْہِ مُبْلِسُوْنَ۝ 75 ۚ فتر الفُتُورُ : سکون بعد حدّة، ولین بعد شدّة، وضعف بعد قوّة . قال تعالی: يا أَهْلَ الْكِتابِ قَدْ جاءَكُمْ رَسُولُنا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ [ المائدة/ 19] ، أي : سکون حال عن مجیء رسول اللہ صلّى اللہ عليه وسلم، وقوله : لا يَفْتُرُونَ [ الأنبیاء/ 20] ، أي : لا يسکنون عن نشاطهم في العبادة . وروي عن النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أنه قال : «لكلّ عالم شرّة، ولكلّ شرّة فَتْرَةٌ ، فمن فَتَرَ إلى سنّتي فقد نجا وإلّا فقد هلك» «1» فقوله :«لكلّ شرّة فترة» فإشارة إلى ما قيل : للباطل جولة ثمّ يضمحلّ ، وللحقّ دولة لا تذلّ ولا تقلّ.…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–78

تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ یُفَتَّرُ عَنْھُمْ وَھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ ۔ (الزخرف : 75) (اور ان سے عذاب کبھی ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے۔ ) اہلِ جہنم کی ابدی مایوسی دنیا میں بڑی سے بڑی سزا بھی وقت کی قید کے ساتھ دی جاتی ہے یعنی یہ شخص اتنے سال جیل میں رہے گا اور یا اسے عمرقید دی جاتی ہے اور وہ بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسی طرح سزا کی شدت میں بھی آہستہ آہستہ کمی آجاتی ہے۔ جن لوگوں کو بامشقت سزا دی جاتی ہے انھیں مشقت کرتے ہوئے شروع میں ہاتھوں میں چھالے پڑتے ہیں، پھر یہ پھوٹتے ہیں اور پھر وفتہ رفتہ گٹوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اب ان میں وہ شدت نہیں رہتی جو سزا کے آغاز میں ہوتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–78

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزائیں۔ جنتی جنت میں ہر قسم کی نعمتوں اور خوشیوں سے سرفراز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جن پر فرد جرم ثابت ہوجائے گی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی آہ زاریوں کے باوجود ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنّم سے نجات پانے میں مایوس ہوجائیں گے اور اسی مایوسی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جہنم کا عذاب ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ ہوگا۔ جہنمی جہنم کی اذیّت ناکیوں سے تنگ آکر بالآخر جہنّم کے سردار فرشتے جس کا نام مالک ہے اس سے درخواست کریں گے کہ اے مالک ! ہماری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 75: لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ (وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا) فائدہ : یہ تیسری خبر ہے۔ یعنی وہ عذاب ان سے کم نہ کیا جائے گا اور نہ اس میں تخفیف ہوگی۔ وَہُمْ فِیْہِ (اور وہ اسی میں) عذاب میں۔ مُبْلِسُوْنَ (مایوس پڑے رہیں گے) وہ کشادگی سے مایوس اور حیران ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 74–77

73، لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ ومنھا تاکلون، اور حدیث میں ہے کہ کوئی آدمی جنت کا پھل نہیں توڑے گا مگر اس کی جگہ اس کی مثل اور اگ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–80

74۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–78

آیت 74 (ان المجرمین) جنہوں نے کفر اور تکذیب ک جرم کا ارتکاب کیا (فی عذاب جھنم) وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ (خلدون) وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔ (لایفترعنھم) ایک گھڑی کے لئے بھی انہیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں نرمی ہوگی۔ (وھم فیہ مبلسون) یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظلمون قال اخسوا فیھا ولاتکلمون) ” اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کئے تو ہم ظالم ہوں گے، اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

99 دوزخ ظالموں کے اپنے ظلم کا نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی ظالم تھے "۔ کہ ایمان و اسلام کی راہ ِحق و صواب کو چھوڑ کر انہوں نے کفر و باطل کو اپنایا۔ اور اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو ابدی سعادت اور حقیقی کامیابی سے محروم کر کے دارین کے نقصان و خسران سے دو چار کیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فِلَانْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ } ۔ (الروم : 44) ۔ یعنی " جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال خود اسی پر پڑے گا اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگ خود اپنے ہی لیے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:75) لایفتر مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب تفتیر (تفعیل) مصدر کم نہیں کیا جائے گا۔ ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ الفتور کے معنی تیزی کے بعد ٹھہرنے ، سختی کے بعد نرمی اور قوت کے بعد کمزور پڑجانا کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے یاہل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل (5:19) اے اہل کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہا تو اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں۔ اور جگہ کلام باری تعالیٰ ہے یسبحوں الیل والنھار لایفترون (21:20) وہ سب رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں نہ تھمتے ہیں) ۔ مبلسون : اسم فاعل جمع مذکر مرفوع ۔ مبلس واحد۔ غمگین ، مایوس، پشیمان، متحیر،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–78

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے) تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–78

(ف 1) اوپر اہل جنت کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ کافر عذاب جہنم میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے نہ مریں گے اور نہ نکلیں گے ، دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ، عذاب کبھی ان پر ہلکا نہ کیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ناامید ہوکرخاموش پڑے رہیں گے، ہر بھلائی سے دور ہوں گے اور جب دوزخی لوگوں سے صبر نہ ہوسکے گا تو فریاد کریں گے اور دوزخ کے داروغہ سے یہ التجا کریں گے کہ کاش تمہارا خدا ہم کو موت ہی دے ہم ہلاک ہی ہوکر دوزخ سے چھٹیں، اپنے رب سے کہو کہ ایک دفعہ عذاب دے کر ہمارا کام ہی تمام کردے، گویا نجات سے مایوس ہوکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 73–78

[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 74–80

ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔ حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(75) ان پر سے کسی وقت بھی وہ عذاب ہلکا اور سست نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی عذاب میں مایوس اور ناامید پڑے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–79

ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ عذاب ان پر اس طرح مسلط ہوگا کہ کبھی اس سے رہائی نہیں پائیں گے 75 ؎ (یفتر) کا اصل مادہت ر ہے اور (یفتر) واحد مذکر مضارع مجہول منفی (تفتیر) مصدر (وز تفعیل ) کم نہیں کیا جائے گا ۔ ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ یہ عذاب اہل دوزخ پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ اس سے نجات پانا تو درکنا اس میں کمی بھی نہیں کی جائے گی اور ان سے نالا بھی نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ اس میں بالکل مایوس پڑے رہیں گے اور کسی طرح کی کوئی امید کی کرن بھی نہیں رہے گی کہ شاید کسی طرح یا کبھی اس سے نجات حاصل کرلیں اور دنیا میں جتنے سہارے انہوں نے اس وقت کے لیے بنارکھے تھے وہ بھی ایک ایک کرکے ختم کردئیے جائیں گے۔ جس کی وضاحت عزوۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–81

Commentary قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman, I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…

Read the full tafseer →