Explained with ayahs 74–80
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت : اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہوگی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہوجائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کردی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
سورة الزُّخْرُف 61
مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
معارف و مسائل
دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو
(آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…
Read the full tafseer →ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون 74
اہل دوزخ کے لئے ابدی مایوسی
متقی بندوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب مجرموں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیش دوزخ کے عذاب ہی میں رہیں گے۔ اس سے ان کو کبھی رہائی نہیں نصیب ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
75۔ 1 یعنی نجات سے مایوس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–77
جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔
آیت نمبر 66 تا 77
یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔
ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
9 یعنی عذاب نہ کسی وقت ملتوی ہوگا نہ ہلکا کیا جائے گا۔ دوزخی ناامید ہو جایں گے کہ اب یہاں سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 74 { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ } ”اس کے برعکس جو مجرم ہوں گے وہ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
70 یُفَتَّرُ فتر بمعنی کسی چیز کی قوت یا رفتار میں بتدریج کمی واقع ہوتے جانا۔ قوت کے بعد کمزوری، تیز رفتاری کے بعد آہستہ آہستہ رفتار سست ہوتے جانا اور فتور کے معنی تیزی کے بعد سستی یا ٹھہراؤ۔ گویا اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا اس میں نہ تو کمی واقع ہوگی اور نہ ہی کبھی کوئی وقفہ پڑے گا۔ مدت ہائے مدید جب ان پر ایسا سخت عذاب ہی ہوتا رہے گا اور اس میں کوئی کمی یا وقفہ نہ آئے گا تو ایسی کمی یا وقفہ سے وہ بالآخر مایوس ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
59۔ (کہ پیام اسلام کو سنا ان سنا کرکے اور کفر وشرک کے مرتکبین ہیں نہ کہ مطلقا عاصی، اسے الراسخین فی الاجرام الکاملین فیہ وھم الکفار صفات میں سے نہیں کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کردے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم یہاں بھی کافر کے مرادف ہے۔ اے واضعین الکفر موضع الایمان (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون بیشک نافرمان (یعنی کافر) دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔
الْمُجْرِمِیْنَ یعنی پکے مجرم۔ مراد کافر ہیں ‘ کیونکہ مؤمنوں کے مقابل مجرموں کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اسلئے مجرموں سے مراد کافر ہیں۔
Read the full tafseer →اور نافرمان لوگ جیسا کہ ابو جہل اور اس کے ساتھی وہ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون : ایمان والوں کا حسن انجام بیان کرنے کے بعد کفار کا انجام بد بیان فرمایا۔ یہاں ”المجرمین“ سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ان کا ذکر ”مسلمین“ کے مقابلے میں آیا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنے والے کفار ہی ہیں۔ سورة مطففین میں بھی کفار کے لئے ”الذین اجرفوا“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، فرمایا :(ان الذین اجرموا کانوا من الذین امنوا یضحکون) (المطففین : 29) ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے جرم کئے، ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
جب اہل جنت کے احوال کا ذکر کیا تو اہل جن ہم کے احوال کا ذکر کیا تاکہ اطاعت شعار کی نافران پر فضلیت کو بیان کرے۔ ان سے عذاب تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ رحمت سے مایوس ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خاموش ہوں گے سکوت کا معنی نا امیدی ہے۔ سورة انعام میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ” ہم نے عذاب میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر شرک کا ارتکاب کر کے ظلم کرنے والے تھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الظالمون کو مرفوع پڑھا جائے یہ مبتدا اور خبر ہو اور جملہ کان کی خبر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
ہر انسان کا ایک گھر جنت میں ایک دوزخ میں :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا ایک گھر جنت میں ہو اور ایک گھر دوزخ میں ہو۔ کافر مؤمن کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو دوزخ میں ہوتا ہے اور مؤمن کافر کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو جنت میں ہوتا ہے اسی کو فرمایا (آیت ) ” وتلک الجنۃ التی اور ثتموھا بماکنتم تعملون “ (یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے اپنے نیک اعمال کے بدلے میں)
2:۔ ھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) نے الزھد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم لوگ پل صراط کو پار کرو گے اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ [ بیشک مجرم لوگ ] فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ [ جہنم کے عذاب میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
نوٹ ۔ 1 مجرمین پر عذاب اس طرح مسلط ہوگا کہ اس سے نجات پانا تو درکنار ، کبھی عارضی اور وقتی طور پر بھی ، نہ تو وہ ٹالا جائے گا اور نہ ہی اس میں کوئی تخفیف ہوگی ۔ آخری درجے میں یہ موہوم امید بھی کبھی سہارا بن جاتی ہے کہ شاید اس عذاب سے کبھی رہائی مل جائے یا کبھی اس میں کوئی تخفیف ہی ہوجائے لیکن ان بدبختوں کے لئے اس طرح کا کوئی موہوم سہارا بھی نہ ہوگا اپنی ابدی مایوسی کی وجہ سے وہ دوزخ کے داروغہ سے کہیں گے کہ اے مالک ، اگر ہمارے لیے کسی رحم کی کوئی گنجائش نہیں رہی تو اپنے رب سے…
Read the full tafseer →مجرمین ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، ان کا عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا، دوزخ کے داروغہ سے ان کا سوال و جواب
اہل ایمان کی نعمتیں بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ مجرمین یعنی کافر لوگ دوزخ کے عذاب میں پڑے ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ عذاب بہت سخت ہوگا جیسا کہ دوسری آیت میں ذکر فرمایا ذرا دیر کو بھی ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہوکر پڑے رہیں گے یہ مبلسون کا ایک ترجمہ ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ فرمایا ہے : حَزِیْنُوْنَ مِنْ شِدَّةِ الْبَاْسِ یعنی سخت عذاب کی وجہ سے رنجیدہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
43:۔ ” ان المجرمین “ تا ” انکم ماکثون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، جہنم کا عذاب نہ کبھی ختم ہوگا اور نہ اس میں کوئی تخفیف اور کمی ہی ہوگی اور وہ عذاب میں نجات سے مایوس ہو کر خاموش ہوں گے جس طرح ایک آدمی مایوس اور نامید ہو کر خاموش ہوجاتا ہے۔ والمبلس الیائس الساکت سکوت یائس من فرج (کبیر ج 7 ص 455) ۔ اس دائمی عذاب میں مبتلا کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی اور ان سے کوئی بےانصافی نہیں، بلکہ دنیا میں ہمارے احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ عذاب ان کے اپنے ہی گناہوں کی سزا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے ناامید ہوجائیں گے تو خازن جہنم سے التجاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–76
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
لَكُمْ فِيْہَا فَاكِہَۃٌ كَثِيْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْكُلُوْنَ 73
فكه
الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ
[ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ :
حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل :
تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّاَکْوَابٍ ج وَفِیْھَا مَاتَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّالْاَعْیُنُ ج وَاَنْـتُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَتِلْـکَ الْجَنَّـۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْـتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ لَـکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (الزخرف : 71 تا 73)
(ان کے آگے سونے کی طشتریاں اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ان میں وہ چیزیں ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور آنکھوں کے لیے لذت بخش ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور تمہارے لیے اس جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزائیں۔
جنتی جنت میں ہر قسم کی نعمتوں اور خوشیوں سے سرفراز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جن پر فرد جرم ثابت ہوجائے گی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی آہ زاریوں کے باوجود ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنّم سے نجات پانے میں مایوس ہوجائیں گے اور اسی مایوسی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جہنم کا عذاب ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ ہوگا۔ جہنمی جہنم کی اذیّت ناکیوں سے تنگ آکر بالآخر جہنّم کے سردار فرشتے جس کا نام مالک ہے اس سے درخواست کریں گے کہ اے مالک ! ہماری…
Read the full tafseer →کفار و مجرمین کی سزا :
آیت 74: اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ (بیشک مجرم عذاب جہنم میں ہمیشہ رہیں گے)
نحو : خالدون یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
73، لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ ومنھا تاکلون، اور حدیث میں ہے کہ کوئی آدمی جنت کا پھل نہیں توڑے گا مگر اس کی جگہ اس کی مثل اور اگ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
74۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
آیت 74
(ان المجرمین) جنہوں نے کفر اور تکذیب ک جرم کا ارتکاب کیا (فی عذاب جھنم) وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ (خلدون) وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔ (لایفترعنھم) ایک گھڑی کے لئے بھی انہیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں نرمی ہوگی۔ (وھم فیہ مبلسون) یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظلمون قال اخسوا فیھا ولاتکلمون) ” اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کئے تو ہم ظالم ہوں گے، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →98 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو جنتیوں کے حال کے بعد اب دوزخیوں کے حال کا ذکر فرمایا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اہل جنت کے بالمقابل اہل دوزخ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ مجرم لوگ دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ان سے وہاں کا عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔ سو ایسے نہیں ہوگا کہ ان کے اس عذاب کی شدت میں کچھ کمی کردی جائے یا کبھی کچھ وقت کے لئے اس کو ان سے اٹھا لیا جائے۔ یا ان کو اس سے کچھ وقت کے لئے رہائی مل سکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس کافر و منکر اور باطل پرست کا آخری انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
ف 2 نا امیدہونے سے مراد نجات سے ناامید ہونا۔
Read the full tafseer →(43:74) ان المجرمین ۔۔ الآیۃ۔ متقین کو دی جانیوالی نعمتوں کا ذکر ختم ہوا۔ اب مجرمین اور ان کے اعمال سوء کے نتیجہ میں جو عذاب ان کو ملے گا اس کا احوال شروع ہوتا ہے المجرمین بمعنی الکافرین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
(ف 1) اوپر اہل جنت کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ کافر عذاب جہنم میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے نہ مریں گے اور نہ نکلیں گے ، دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ، عذاب کبھی ان پر ہلکا نہ کیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ناامید ہوکرخاموش پڑے رہیں گے، ہر بھلائی سے دور ہوں گے اور جب دوزخی لوگوں سے صبر نہ ہوسکے گا تو فریاد کریں گے اور دوزخ کے داروغہ سے یہ التجا کریں گے کہ کاش تمہارا خدا ہم کو موت ہی دے ہم ہلاک ہی ہوکر دوزخ سے چھٹیں، اپنے رب سے کہو کہ ایک دفعہ عذاب دے کر ہمارا کام ہی تمام کردے، گویا نجات سے مایوس ہوکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔
حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔
Read the full tafseer →(74) بلا شبہ جو لوگ مجرم اور گناہ گار ہیں وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–79
ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →مجرم دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل کیے جائیں گے
74 ؎ اوپر اہل ایمان ویقین کی بات ہورہی تھی کہ ان کو کیا کیا پیش کیا جائے گا اور کس طرح ان کو وافر رزق دیا جائے گا اور کیا کیا نعمتیں ان کو عطا کی جائیں گی اب مجرمین کا ذکر کیا جارہا ہے کہ وہ دوزخ کے عذاب میں پابند کیے جائیں گے اور وہاں سے جب وہ نکلنا چاہیں گے تو ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی کیونکہ جس طرح اہل جنت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہنا ہے اسی طرح بعض اہل دوزخ کو بھی ہمیشہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہنا ہے اور ان کو اس سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے کہ دوزخ میں جانے کے لیے نہ تو کوئی تیار ہے اور نہ ہی کوئی امید رکھتا ہے کوئی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–81
Commentary
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman,
I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
61 "Malik" : a keeper of Hell as is evident from the context.
Read the full tafseer →