Az-Zukhruf 43:73

Az-Zukhruf · from ayah 73

43:73

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ ۟لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ مِّنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For you therein is much fruit from which you will eat.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:73

تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس میں تمہارے لیے خوب افراط کے ساتھ میوے ہیں جن میں سے تم کھاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہارے لئے اس میں بکثرت پھل اور میوے ہیں تم ان میں سے کھاتے رہو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں، جن سے تم کھاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہوں گے جنہیں تم کھاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہوں گے جن میں سے تم کھائو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تمہارے لئے وہاں پر ہر طرح کے پھل بکثرت موجود ہوں گے جن سے تم کھاؤ گے

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم کھا رہے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں تمہارے لیے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Herein you will have abundant fruits of which you will eat.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For you there are fruits in abundance from which you will eat.

— Muhammad Taqi Usmani

For you there are fruits in abundance from which you will eat.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therein for you will be fruits in plenty, of which you will eat (as you desire).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therein for you is fruit in plenty whence to eat.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For you therein is much fruit from which you will eat.

— Saheeh International

You will have abundant fruits therein to consume".

— Muhammad Sarwar

For you therein are many fruits of which you shall eat.

— Muhammad Habib Shakir

For you therein will be fruits in plenty whereof ye will eat.

— Abdul Majid Daryabadi

Ye shall have therein abundance of fruit, from which ye shall have satisfaction.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–73

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–77

سورة الزُّخْرُف 61 مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–77

معارف و مسائل دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لکم فیھا فکھۃ کثیرہ منھا تاکلون 73 اوپر آیت 71 میں اہل جنت کے ماکولات و مشروبات کا ذکر تھا۔ یہ ان کے تفکہات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی لطف اندوزی کے لئے بےشما رقسم کے میوے ہوں گے ان میں سے جس میوے سے چاہیں گے لطف اٹھائیں گے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا کہ اس ذخیرے میں کوئی کمی ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 { لَـکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 73–75

70 یُفَتَّرُ فتر بمعنی کسی چیز کی قوت یا رفتار میں بتدریج کمی واقع ہوتے جانا۔ قوت کے بعد کمزوری، تیز رفتاری کے بعد آہستہ آہستہ رفتار سست ہوتے جانا اور فتور کے معنی تیزی کے بعد سستی یا ٹھہراؤ۔ گویا اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا اس میں نہ تو کمی واقع ہوگی اور نہ ہی کبھی کوئی وقفہ پڑے گا۔ مدت ہائے مدید جب ان پر ایسا سخت عذاب ہی ہوتا رہے گا اور اس میں کوئی کمی یا وقفہ نہ آئے گا تو ایسی کمی یا وقفہ سے وہ بالآخر مایوس ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 73–76

59۔ (کہ پیام اسلام کو سنا ان سنا کرکے اور کفر وشرک کے مرتکبین ہیں نہ کہ مطلقا عاصی، اسے الراسخین فی الاجرام الکاملین فیہ وھم الکفار صفات میں سے نہیں کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کردے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم یہاں بھی کافر کے مرادف ہے۔ اے واضعین الکفر موضع الایمان (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون اور تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں سے تم کھا رہے ہو۔ یُطَافُ عَلَیْھِمْ یعنی غلمان جو ہمیشہ ہی امرد رہیں گے ‘ اہل جنت کیلئے بڑے بڑے پیالوں اور کو زوں کا دور کریں گے۔ صِحَاف۔ صحفۃ کی جمع ہے ‘ صحفۃ بڑے پیالے کو کہتے ہیں۔ اکواب ‘ اکوب کی جمع ہے ‘ کو ب کوزہ یعنی ایسا گول برتن جس کا گلاس بھی مدور ہو اور قبضہ نہ ہو۔ یعنی ہر شخص کو جنت میں وہ چیز ملے گی جس کا وہ خواستگار ہوگا۔ صوفی طلبگار ہے ‘ ایسے وصل کا جس کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی اور ایسے دیدار کا جو کبھی غائب نہ ہو ‘ چناچہ یہ نعمت حاصل ہوگی۔ صوفیہ کے علاوہ دوسرے لوگ جو جنت کی نعمتوں کے خواستگار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 72–73

(72۔ 73) اور یہ وہ جنت ہے کہ جس کے تم مالک بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال صالحہ اور نیک باتوں کے صلے میں اور تمہارے لیے جنت میں قسم قسم کے بہت سے میوے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون، انسان کی مطلوبہ چیزوں یعنی کھانے پینے، نکاح اور آرام و آسئاش لذت میں انھیں بہت برتری حاصل ہے۔ ”فاکھۃ“ کے لفظ ہی میں لذت کا مفہوم شامل ہے۔ دنیا میں فواکہ جتنے بھی ہوں کم ہیں جبکہ آخرت میں مسلمانوں کے لئے فوا کہ کثیر تعداد میں ہوں گے، جو اتنے وافر ہوں گے کہ وہ ان میں سے کچھ ہی کھا سکیں گے، یعنی ”منھا تاکلون“ ن اور وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے، فرمایا :(لامقطوعۃ ولاممنوعۃ) (الواقعہ : 3 و)”جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کا لفظ معروف ہے اس کی جمع فواکہ ہے فاکھان اسے کہتے ہیں جو پھل بیچتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام پھل ہیں تر بھی اور خشک بھی، یعنی جنت میں کھانے اور پینے کے علاوہ کثیر پھل جن کو جنتی کھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–74

ہر انسان کا ایک گھر جنت میں ایک دوزخ میں : 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا ایک گھر جنت میں ہو اور ایک گھر دوزخ میں ہو۔ کافر مؤمن کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو دوزخ میں ہوتا ہے اور مؤمن کافر کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو جنت میں ہوتا ہے اسی کو فرمایا (آیت ) ” وتلک الجنۃ التی اور ثتموھا بماکنتم تعملون “ (یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے اپنے نیک اعمال کے بدلے میں) 2:۔ ھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) نے الزھد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم لوگ پل صراط کو پار کرو گے اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَكُمْ فِيْهَا [ تمہارے لئے اس میں ] فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ [ بہت سارا پھل ہے ] مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ [ جس میں سے تم لوگ کھاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا ﴿ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ ﴾ (تمہارے لیے جنت میں بہت سارے میوے ہیں) ﴿ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ 0073﴾ (جن میں سے تم کھا رہے ہو)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–73

42:۔ ” یطاف علیہم “ جنت میں خوبرو غلمان ان کی خدمت میں ہوں گے اور کھانے پینے کی اشیاء سونے کی پلیٹوں اور پیالوں میں انہیں پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہیں جنت میں ہر وہ چیز میسر ہوگی جس کی ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہوگی اور جس چیز کو دیکھنے کا ان کی آنکھوں کو شوق ہوگا اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان پر موت آئیگی اور نہ جنت کی نعمتیں ہی فنا ہوں گی۔ اہل جنت سے کہا جائے گا دنیا میں جو تم نیک عمل کرتے رہے یہ جنت اور تمام نعمتیں اسی وجہ سے تمہیں عطا ہوئیں۔ اس میں تمہارے لیے بیشمار انواع و اصناف کے میوے اور پھل ہیں جو کبھی ختم نہ ہوں گے خواہ کس قدر تم کھاؤ جس قدر تم کھاؤ گے اس سے دگنے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–76

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 73–74

لَكُمْ فِيْہَا فَاكِہَۃٌ كَثِيْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْكُلُوْنَ۝ 73 فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–78

تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–74

یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّاَکْوَابٍ ج وَفِیْھَا مَاتَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّالْاَعْیُنُ ج وَاَنْـتُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَتِلْـکَ الْجَنَّـۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْـتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ لَـکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (الزخرف : 71 تا 73) (ان کے آگے سونے کی طشتریاں اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ان میں وہ چیزیں ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور آنکھوں کے لیے لذت بخش ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور تمہارے لیے اس جنت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–73

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں داخل ہونے کے بعد متقی لوگوں کی ضیافت۔ جونہی جنتی جنت میں پہنچ کر اپنے محلّات میں داخل ہوں گے تو جنت کے خدّام شراب طہور سے بھرے ہوئے سونے کے جام جنتیوں کے سامنے پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ہی سونے، چاندی کی پلیٹوں میں رکھے ہوئے پھل اور خورد نوش کی دوسری چیزیں پیش کی جائیں گی۔ جنتیوں کے کھانے کے لیے جنت میں بیشمار قسم کے پھل ہوں گے۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں فی الفور پیش کردیا جائے گا۔ وہ جدھر دیکھیں گے انہیں آنکھوں کی لذت اور دل کا سرور حاصل ہوگا۔ جب سب کے سب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ اعلان کریں گے کہ جس جنت کے تم مالک بنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 73: لَکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ (اور تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں سے تم کھا رہے ہو) من بعض کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ تم ان میں سے بعض کو کھائو گے۔ اور اس کے پیچھے باقی درخت پر رہیں گے۔ وہ درخت جنت کے پھلوں سے ہمیشہ مزین رہے گا۔ حدیث میں ہے۔ کہ جنت کے جس درخت کا پھل توڑا جائے گا۔ اس کی جگہ فوراً دوسرا لگ جائے گا۔ ] البزاز۔ 3530[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 72–73

71، یطاف علیھم بصحاف، صحفۃ کی جمع ہے اور وہ وسیع پیالہ کو کہتے ہیں۔ ، من ذھب واکواب ، کو ب کی جمع ہے اور وہ گول برتن جس کے کڑے نہ ہوں ۔ ، وفیھا، یعنی جنت میں ۔ ، ماتشتھیہ الانفس، اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص رحمہم اللہ نے، تشتھیہ الانفس، پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے اور دیگر حضرات نے ھاء کے حذف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، وتلذالاعین وانتم فیھا خالدون، عبدالرحمن بن سابط (رح) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا جنت میں گھوڑ ہوں گے ؟ کیونکہ مجھے گھوڑے پسند ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردیں گے تو اگر تو یہ چاہے گا کہ تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–73

68۔ 73۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن نیک لوگوں سے فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اسے ایماندار بندوں تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو تم اپنی نیک بیبیوں کو ساتھ لے کر جنت میں چلے جاؤ پھر جنتیوں کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہاں سونے کے برتنوں میں کھانے کی چیزیں اور سونے کے آب خوروں میں پینے کی چیزیں لے کر خدمت گار حاضر اور کثرت سے طرح طرح کے میوے موجود ہوں گے اور ہر طرح کا راحت و آرام کا سامان مہیا ہوگا۔ ابن 1 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے واسطے ایک مکان جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–73

آیت 66 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

97 اہل جنت کے لیے بکثرت فواکہ کا ذکر : اوپر آیت نمبر 71 میں جنتیوں کے ماکولات و مشروبات کا ذکر تھا۔ اب یہ ان کے فواکہ اور تفکہات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے لیے وہاں پر طرح طرح کے پھل بکثرت ہوں گے "۔ یعنی یہ کثرت نوع کے اعتبار سے ہے کہ وہاں اتنے قسما قسم کے پھل ہوں گے کہ یہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ (المراغی وغیرہ) اور کوئی بھی یہ نہیں جان سکتا کہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان وہاں پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح موجود ہے۔ اور یہاں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کے لیے وہاں پر ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی خواہش انکے دل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:73) فیہا ای فی الجنۃ : منھا میں من تبعیضیہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع الجنۃ ہے۔ یعنی جن میں سے تمہارا جی چاہے گا کھاؤ گے۔ فائدہ : آیات 67 تا 73 میں التفات ضمائر ہے بعض جگہ صیغہ جمع مذکر غائب لایا گیا ہے اور بعض جگہ جمع مذکر حاضر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے۔ قیامت کے روز دنیاوی دوست جن کی دوستی دنیاوی نفع و نقصان کی خاطر تھی ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ۔ اور ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے۔ کہ یہ ہمارے انجام بد کے ذمہ دار میں لیکن جن کی روشنی محض تقویٰ اور اللہ کے ڈر کی بنا پر تھی ان کی حالت ایسی نہ ہوگی۔ ان متقیوں سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! (آج) تم پر کوئی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–78

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے) تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–73

(ف 1) خدا قیامت کے دن کہے گا کہ اے ایماندار بندو، تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو، یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری آیتوں پر اور رسول پر اور قرآن پر ایمان لائے۔ اب تم اور تمہاری بی بیاں سب جنت میں جاؤ، مکرم معظم نعمت راحت ناز عیش تحفے پاؤ اور ان کے پاس ان کے خادم حوروغلمان ، سونے کی رکابیاں، قسم قسم کے کھانوں اور میوؤں سے بھرے ہوئے ، اور طرح طرح کے کو زے، گول گلاس پیالے شرابوں اور شربتوں سے بھرے ہوئے لیے پھریں گے اور آپس میں بیٹھ کردورے ہوں گے، وہاں ان کو وہ ملے گا جو خیال میں گزرے گا، جو جی چاہے گا دل میں ارادہ آیا، اور چیز حاضر۔ اور وہ ملے گا جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی یعنی دیدار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 73–78

[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 72–73

ف 1: جنت کے معنے اللہ کے مقام رضا کے ہیں ۔ اور جب وہ خوش ہوجائے ۔ جو آسمانوں اور زمینوں کا رب اور مالک ہے ۔ جس کے خزانے بیشمار معمور ہیں جو بمجرد اپنے ارادے کے ہزار در ہزار عوالم پیدا کرسکتا ہے ۔ تو پھر خوشیوں اور مسرتوں کا احاطہ کیونکر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ کھانے پینے کی چیزیں محض اس لئے ہیں ۔ کہ وہاں کی زندگی کا کچھ اندازاہ کرسکو ۔ ورنہ یہ ظاہر ہے ۔ کہ وہاں وہ بوقلمون نعمتیں ہیں ۔ کہ جن کو دنیا کی زبانوں میں ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ اور وہ مسرتیں ہیں ۔ جن کی تعبیر کے لئے الفاظ میسر نہیں ۔ بس یوں سمجھ لیجئے ۔ اس وقت وہ خوش ہوگا ۔ جو ساری کائنات کا پروردگار ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(73) اس جنت میں تمہارے لئے بکثرت میوے ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔ آگے اہل جہنم کا ذکر فرمایا حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چن چن کر۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جو میوے پسندیدہ ہوں وہ کھاتے رہو گے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–79

ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس میں تمہارے لیے ہر طرح کے پھل ہیں جو تم کھاسکتے ہو 73 ؎ جس جنت کا ایمان والوں کو وارث بنایا گیا ہے اس کے ماکولات ومشربات کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہاں اس کے پھلوں کا بیان بھی دیا جارہا ہے کہ کھانے کے لیے جو کچھ پیش کیا جائے گا ان میں تمہارے لیے ہر قسم کے میوے اور پھل بھی موجود ہوں گے جو تم کو کثرت سے پیش کیے جائیں گے اور نہایت اعلیٰ قسم کے ہوں گے جن کو دیکھ کر آنکھیں لطف اندوز ہوں گی اور دل خوش ہوجائیں گے اور کھانے میں وہ بہت ہی لذیذ ہوں گے اور اس وقت کی جو چاہت ہوگی عین اس کے مطابق ہوں گے نہ محنت سے کمائی کرکے خریدنے پڑیں گے اور نہ ہی ہمت خرچ کرکے درختوں سے اتارنے پڑیں گے بلکہ خواہش پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–81

Commentary قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman, I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…

Read the full tafseer →