Az-Zukhruf 43:72

Az-Zukhruf · from ayah 72

43:72

وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟وَتِلۡكَ الۡجَنَّةُ الَّتِىۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that is Paradise which you are made to inherit for what you used to do.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:72

تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی وه بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں اپنے اعمال کے بدلے وارث بنادیا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے پرہیزگارو!) یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو، اُن (اعمال) کے صلہ میں جو تم انجام دیتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، اس کی وجہ سے جو تم عمل کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، ان اعمال کے عوض جو تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے اپنے اعمال کے صلے میں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان سے مزید کہا جائے گا کہ) یہی ہے وہ جنت جس کا تم کو وارث بنادیا گیا تمہارے ان اعمال کے بدلے میں جو تم لوگ (دنیا میں) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہی وہ جنت ہے جس کے اپنے اعمال کے عوض میں تم مالک بنا دیئے گئے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُن اَعمال کی بنا پر جو تم کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ جنت جس کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such is the Paradise that you shall inherit by virtue of your good deeds in the life of the world.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is the Paradise you are made to inherit because of what you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

That is the Paradise you are made to inherit because of what you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is the Paradise, which you have been made to inherit because of your deeds that you used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is the Garden which ye are made to inherit because of what ye used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that is Paradise which you are made to inherit for what you used to do.

— Saheeh International

This is the Paradise which you have received as your inheritance by virtue of what you have done.

— Muhammad Sarwar

And this is the garden which you are given as an inheritance on account of what you did.

— Muhammad Habib Shakir

This is the Garden which ye have been made to inherit for that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Such will be the Garden of which ye are made heirs for your (good) deeds (in life).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–73

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–77

سورة الزُّخْرُف 61 مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–77

معارف و مسائل دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وتلک الجنۃ التی اور تثموھا بما کنتم تعملوکن 72 جنت مجرد انعام کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر ملے گی اوپر والی بشارت سے بھی بڑ بشارت اللہ تعالیٰ اہل جنت کو یہ دے گا کہ یہ جنت تمہارے اعمال کے صلہ میں تم کو عطا ہوئی ہے۔ یعنی یہ محض تم پر انعام نہیں بلکہ یہ تمہارا حق بھی ہے۔ اگر کوئی عزت افزائی بلا استحقاق ہو تو دل کو اس سے سچی خوشی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو بھی محلوظ رکھا ہے اس وجہ سے اس نے جنت کو مجرد فضل و احسان کے بجائے اہل جنت کا حق اور ان کی ان محنتوں کا ثمرہ قرار دیا ہے جو حق کی راہ میں انہوں نے دنیا کے اندر جھیلی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی تمہارے باپ آدم کی میراث واپس مل گئی، تمہارے اعمال کے سبب سے اور اللہ کے فضل سے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 { وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُن اَعمال کی بنا پر جو تم کرتے تھے۔“ یعنی جنت میں تمہارا داخلہ اور اس کی تمام نعمتیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہیں جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی قدر دانی اور قدر افزائی کا ایک شاہانہ انداز ہے جو قرآن میں جا بجا ملتا ہے۔ دوسری طرف بندوں کے اس اعتراف کا ذکر بھی قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں اہل جنت کا اعتراف سورة الاعراف میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے : { وَقَالُوا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

69 یعنی اب تم اس جنت کے ہمیشہ کے لیے مالک بن چکے۔ دنیا کی طرح عارضی ملکیت نہ ہوگی جو مرنے کے بعد دوسرے ورثاء کو از خود منتقل ہوجاتی ہے۔ وہاں نہ موت ہے اور نہ اس قسم کا کوئی خطرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 69–72

58۔ (جس سے اب کبھی بےدخل نہ ہوگے) یہ منظر سب جنت کے ہیں۔ ہر نعمت، ہر سرور، ہر لذت، مادی ومعنوی، جسمانی وروحانی ہر قسم کی اہل جنت کو حاصل ہوگی، اس میں کوئی استثناء ہی نہیں۔ (آیت) ” وفیھا “۔ ضمیر ھا جنت کی طرف ہے۔ (آیت) ” وانتم فیھا خلدون “۔ اور پھر یہ نعمتیں علاوہ بےاندازو بےحساب ہونے کے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دائمی ہوں گی جن کے قطع ہونیکا کبھی خطرہ ہی نہیں۔ (آیت) ” فیھا ..... الاعین “۔ نفس وعین “۔ کی لذات کی اس تصریح نے حسی وبصری لذات کی اس صراحت نے ان باطل فرقوں کی جڑ کاٹ دی جو سمجھتے ہیں کہ جنت صرف کیفیات روحانی کا محل ہے۔ اور لذات مادی کا وہاں پتہ نشان بھی نہ ہوگا (آیت) ” اور ثتموھابما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وتلک الجنۃ التی اور شتموھا بما کنتم تعلمون۔ اور (ان سے کہا جائے گا) یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دئیے گئے ‘ اپنے (نیک) اعمال کے بدلہ میں ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 72–73

(72۔ 73) اور یہ وہ جنت ہے کہ جس کے تم مالک بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال صالحہ اور نیک باتوں کے صلے میں اور تمہارے لیے جنت میں قسم قسم کے بہت سے میوے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وتلک الجنۃ التی اور تتموھا…: اس آیت کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة اعراف (43) ، مومنوں (10، 11) اور سورة مریم (63)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ وہ جنت ہے جس کی صفت دنیا میں تمہاے لئے بیان کی جاتی تھی ابن خالویہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف اشارہ تلک سے اور جہنم کی طرف ہذھ سے کیا ہے تاکہ جہنم سے ڈرائے اور اسم اشارہ قریب کے ساتھ اشارہ کر کے اس کو موکد ذکر کیا اسم اشارہ قریب کے ساتھ اسے یوں بیان کردیا گیا جس طرح وہ چیز حاضر ہو جس کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کے لئے جنت اور دوزخ پیدا کی ہے۔ کافر مسلمان کی جن ہم کا وارث بنے گا اور مسلم کافر کی جنت کا وارث ہے۔ (المومنون) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث اور سورة الاعراف میں بھی یہ بحث گزر چکی ہے

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–74

ہر انسان کا ایک گھر جنت میں ایک دوزخ میں : 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا ایک گھر جنت میں ہو اور ایک گھر دوزخ میں ہو۔ کافر مؤمن کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو دوزخ میں ہوتا ہے اور مؤمن کافر کے اس گھر کا وارث بن جاتا ہے جو جنت میں ہوتا ہے اسی کو فرمایا (آیت ) ” وتلک الجنۃ التی اور ثتموھا بماکنتم تعملون “ (یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے اپنے نیک اعمال کے بدلے میں) 2:۔ ھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) نے الزھد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم لوگ پل صراط کو پار کرو گے اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ [ اور یہ وہ جنت ہے ] اُوْرِثْتُمُوْهَا [ تمہیں وارث بنایا گیا جس کا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل جنت کے ایمان اور اعمال صالحہ کی قدر دانی کرتے ہوئے ارشاد ہوگا ﴿ وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0072﴾ (اور یہ جنت ہے جو تمہیں تمہارے اعمال کے عوض دی گئی ہے۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–73

42:۔ ” یطاف علیہم “ جنت میں خوبرو غلمان ان کی خدمت میں ہوں گے اور کھانے پینے کی اشیاء سونے کی پلیٹوں اور پیالوں میں انہیں پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہیں جنت میں ہر وہ چیز میسر ہوگی جس کی ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہوگی اور جس چیز کو دیکھنے کا ان کی آنکھوں کو شوق ہوگا اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان پر موت آئیگی اور نہ جنت کی نعمتیں ہی فنا ہوں گی۔ اہل جنت سے کہا جائے گا دنیا میں جو تم نیک عمل کرتے رہے یہ جنت اور تمام نعمتیں اسی وجہ سے تمہیں عطا ہوئیں۔ اس میں تمہارے لیے بیشمار انواع و اصناف کے میوے اور پھل ہیں جو کبھی ختم نہ ہوں گے خواہ کس قدر تم کھاؤ جس قدر تم کھاؤ گے اس سے دگنے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–76

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتِلْكَ الْجَنَّۃُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 72 جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–78

تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–74

یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّاَکْوَابٍ ج وَفِیْھَا مَاتَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّالْاَعْیُنُ ج وَاَنْـتُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَتِلْـکَ الْجَنَّـۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْـتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ لَـکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (الزخرف : 71 تا 73) (ان کے آگے سونے کی طشتریاں اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ان میں وہ چیزیں ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور آنکھوں کے لیے لذت بخش ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور تمہارے لیے اس جنت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–73

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں داخل ہونے کے بعد متقی لوگوں کی ضیافت۔ جونہی جنتی جنت میں پہنچ کر اپنے محلّات میں داخل ہوں گے تو جنت کے خدّام شراب طہور سے بھرے ہوئے سونے کے جام جنتیوں کے سامنے پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ہی سونے، چاندی کی پلیٹوں میں رکھے ہوئے پھل اور خورد نوش کی دوسری چیزیں پیش کی جائیں گی۔ جنتیوں کے کھانے کے لیے جنت میں بیشمار قسم کے پھل ہوں گے۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں فی الفور پیش کردیا جائے گا۔ وہ جدھر دیکھیں گے انہیں آنکھوں کی لذت اور دل کا سرور حاصل ہوگا۔ جب سب کے سب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ اعلان کریں گے کہ جس جنت کے تم مالک بنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 72: وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے اپنے اعمال کے بدلے) : تلک وہ جنت جس کا ذکر ہوا۔ اس کی طرف اشارہ ہے اور یہ مبتدأ ہے۔ الجنۃ خبر ہے اور الَّتِیْ اُوْرِثْتُمُوْہَا یہ جنت کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ التی اور ثتموہا یہ صفت ہے۔ اور بما کنتم تعملون یہ خبر ہے اور باء یہ محذوف سے متعلق ہے۔ ای حاصلۃ یا کائنۃ جیسا کہ خبر واقع ہونے والے ظروف میں ہوتا ہے۔ اور پہلی صورت میں اس کا تعلق اور ثتموہا فعل سے ہے۔ فائدہ : جنت کو میراث سے تشبیہ دی یہ بھی اسی طرح باقی رہنے والی ہے جیسا کہ میراث و رثہ کے لئے باقی رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 72–73

71، یطاف علیھم بصحاف، صحفۃ کی جمع ہے اور وہ وسیع پیالہ کو کہتے ہیں۔ ، من ذھب واکواب ، کو ب کی جمع ہے اور وہ گول برتن جس کے کڑے نہ ہوں ۔ ، وفیھا، یعنی جنت میں ۔ ، ماتشتھیہ الانفس، اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص رحمہم اللہ نے، تشتھیہ الانفس، پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے اور دیگر حضرات نے ھاء کے حذف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، وتلذالاعین وانتم فیھا خالدون، عبدالرحمن بن سابط (رح) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا جنت میں گھوڑ ہوں گے ؟ کیونکہ مجھے گھوڑے پسند ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردیں گے تو اگر تو یہ چاہے گا کہ تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–73

68۔ 73۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن نیک لوگوں سے فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اسے ایماندار بندوں تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو تم اپنی نیک بیبیوں کو ساتھ لے کر جنت میں چلے جاؤ پھر جنتیوں کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہاں سونے کے برتنوں میں کھانے کی چیزیں اور سونے کے آب خوروں میں پینے کی چیزیں لے کر خدمت گار حاضر اور کثرت سے طرح طرح کے میوے موجود ہوں گے اور ہر طرح کا راحت و آرام کا سامان مہیا ہوگا۔ ابن 1 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے واسطے ایک مکان جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–73

آیت 66 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

95 اہل جنت کے لیے جنت کی میراث کی خوش خبری : سو اس سے اہل جنت کے لیے اس خوش کن اعلان کا ذکر فرمایا گیا کہ تمہیں جنت کا واث بنادیا گیا۔ سو جنتیوں کے سرور کو دوبالا کرنے کے لیے اعلان و ارشاد ہوگا کہ " یہ ہے وہ جنت جس کا وارث بنادیا گیا تم لوگوں کو "۔ پس جس طرح وراثت سے حاصل ہونے والی ملکیت سب سے پختہ اور یقینی ہوتی ہے اسی طرح جنت سے تمہاری یہ سرفرازی بھی دائمی اور مستقل ہوگی۔ نیز جس طرح وراثت انسان کو اپنے کسی عمل کے بدلے میں نہیں ملتی اسی طرح جنت بھی انسان کو محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ملے گی۔ اسی لئے اسے فضل خداوندی اور اس کی مہربانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نیز مومن کافر کے حصے کی جنت کا بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:72) وتلک الجنۃ : اسم اشارہ ومشار الیہ، اور یہ جنت وہی ہے جس کی نسبت عباد اللہ سے کہا گیا ہے ادخلوا الجنۃ ۔۔ تحبرون (آیت 70) اور اب حکم ہو رہا ہے کہ یہی جنت ہے جس کے تم وارث بنا دے گئے ہو اپنے اعمال صالحہ کے باعث ۔ التی : اسم موصول واحد مؤنث۔ اور ثتموھا۔ اور ثتموا میں واؤ اشباع کا ہے۔ اصل صیغہ اور ثتم ہے۔ جو ایراث (افعال) مصدر سے ہے اور جس کے معنی وارث بنانا یا میراث میں دینے کے ہیں ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ہے جس کے تم وارث بنا دئیے گئے ہو، یا جو تم کو میراث میں دی گئی ہے۔ بما کنتم تعلمون : میں ب سببیہ ہے ما موصولہ۔ کنتم تعلمون ۔ ماضی استمراری کا سیغہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–78

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے) تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–73

(ف 1) خدا قیامت کے دن کہے گا کہ اے ایماندار بندو، تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو، یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری آیتوں پر اور رسول پر اور قرآن پر ایمان لائے۔ اب تم اور تمہاری بی بیاں سب جنت میں جاؤ، مکرم معظم نعمت راحت ناز عیش تحفے پاؤ اور ان کے پاس ان کے خادم حوروغلمان ، سونے کی رکابیاں، قسم قسم کے کھانوں اور میوؤں سے بھرے ہوئے ، اور طرح طرح کے کو زے، گول گلاس پیالے شرابوں اور شربتوں سے بھرے ہوئے لیے پھریں گے اور آپس میں بیٹھ کردورے ہوں گے، وہاں ان کو وہ ملے گا جو خیال میں گزرے گا، جو جی چاہے گا دل میں ارادہ آیا، اور چیز حاضر۔ اور وہ ملے گا جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی یعنی دیدار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–72

[33] جنت کو میراث اس لئے فرمایا کہ سب کے باپ آدم (علیہ السلام) بہشت میں رہے اور وہی ان کا اصلی گھر تھا۔ اس سے تمام انسان آدم (علیہ السلام) کے رشتے سے جنت کے وارث ہیں بشرطیکہ ایمان رکھتے ہوں اور نیکوکار بھی ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 72–73

ف 1: جنت کے معنے اللہ کے مقام رضا کے ہیں ۔ اور جب وہ خوش ہوجائے ۔ جو آسمانوں اور زمینوں کا رب اور مالک ہے ۔ جس کے خزانے بیشمار معمور ہیں جو بمجرد اپنے ارادے کے ہزار در ہزار عوالم پیدا کرسکتا ہے ۔ تو پھر خوشیوں اور مسرتوں کا احاطہ کیونکر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ کھانے پینے کی چیزیں محض اس لئے ہیں ۔ کہ وہاں کی زندگی کا کچھ اندازاہ کرسکو ۔ ورنہ یہ ظاہر ہے ۔ کہ وہاں وہ بوقلمون نعمتیں ہیں ۔ کہ جن کو دنیا کی زبانوں میں ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ اور وہ مسرتیں ہیں ۔ جن کی تعبیر کے لئے الفاظ میسر نہیں ۔ بس یوں سمجھ لیجئے ۔ اس وقت وہ خوش ہوگا ۔ جو ساری کائنات کا پروردگار ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) اور وہ جنت یہی ہے جس کے تم اپنے اعمال کے عوض جو کچھ کیا کرتے تھے وارث یعنی مالک بنادیئے گئے ہو۔ یعنی تم جو نیک کا عمال دنیا میں کیا کرتے تھے تم سے ان نیک اعمال کے عوض جس جنت کا وعدہ کیا جاتا تھا یہ وحی جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–79

ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ جنت اہل جنت کو فقط انعام کے طور پر نہیں بلکہ بطور حق دی جائے گی 72 ؎ مستعارلی ہوئی چیز سے بھی انسان فائدہ حاصل کرتا ہے اور انعام واکرام میں ملی ہوئی چیز سے بھی اور اس سے بھی جو انسان کی اپنی ملکیت ہوتی ہے لیکن اس بات کو ہر انسان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جو چیز ذاتی ملکیت میں آجاتی ہے اس میں ایک طرح سے وہ کسی کا احسان نہیں سمجھتا بلکہ بطور حق اس کو استعمال کرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں ایمان والوں کو دئیے گئے ہو اور تم کو اس میں رہنے اور اس کی ساری چیزوں کے استعمال کرنے کا مکمل طور پر حق ہے لہٰذا تم اس کو بطور حق استعمال کرو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ مستعار ہے اور کسی وقت بھی تم سے واپس لی جاسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–81

Commentary قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman, I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…

Read the full tafseer →