Az-Zukhruf 43:71

Az-Zukhruf · from ayah 71

43:71

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّاَكْوَابٍ ۚ— وَفِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ۚ— وَاَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟ۚيُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ‌ۚ وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ‌ۚ وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‌ۚ‏

ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Circulated among them will be plates and vessels of gold. And therein is whatever the souls desire and [what] delights the eyes, and you will abide therein eternally.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:71

اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی ان سے کہا جائے گا، "تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا، ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے آگے سونے کے پیالے اور گلاس گردش میں لائے جائیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دلوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) اس جنت میں تم ہمیشہ رہو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان پر سونے کی پلیٹوں اور گلاسوں کا دور چلایا جائے گا اور وہاں وہ سب چیزیں (موجود) ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور (جن سے) آنکھیں راحت پائیں گی اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے گرد سونے کے تھال اور پیالے لے کر پھرا جائے گا اور اس میں وہ چیز ہوگی جس کی دل خواہش کرینگے اور آنکھیں لذت پائیں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے سامنے سونے کی پلیٹوں اور ساغر کا دور چلے گا اور وہاں وہ سب کچھ موجود ہوگا جو دلوں کو بھائے اور آنکھوں کو لذت بخشے اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے سامنے سونے کی طشتریاں اور سونے کے پیالے پیش کئے جائیں گے اور ان میں وہ چیزیں ہوں گی جو دل کو پسند اور آنکھوں کے لئے لذت بخش ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے آگے سونے کے تھال اور (مشروبات بھرے) ساغر گردش کرائے جا رہے ہوں گے اور ان کو وہاں ہر وہ چیز ملے گی جو ان کے جی چاہیں گے اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی اور (ان کو یہ بھی کہا جائے گا کہ) تم یہاں ہمیشہ رہو گے

— مولانا اسحاق مدنی

ان کے پاس سونے کی رکابیاں لائی جائیں گی اور گلاس (بھی) اور وہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کا چاہے گا اور جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم یہاں ہمیشہ رہوگے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

گردش کرائے جائیں گے ان پر سونے کی طشتریاں اور پیالے اور وہاں ہوگا وہ سب کچھ جس کی طلب ہوگی انسان کے نفس کو اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں گی اور تم اب اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیے پھریں گے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور آبخورے اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے موجود ہوگا اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Platters and cups of gold shall be passed around them, and there shall be all that they might desire and all that their eyes might delight in. (They shall be told): “Herein shall you abide for ever.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Circulated among them will be the bowls of gold, and glasses. And there will be whatever souls desire and that which eyes enjoy. :And you will be living in it for ever.

— Muhammad Taqi Usmani

Circulated among them will be the bowls of gold, and glasses. And there will be whatever souls desire and that which eyes enjoy. :And you will be living in it for ever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Trays of gold and cups will be passed round them; (there will be) therein all that their souls desire, and all that eyes could delight in and you will abide therein forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therein are brought round for them trays of gold and goblets, and therein is all that souls desire and eyes find sweet. And ye are immortal therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Circulated among them will be plates and vessels of gold. And therein is whatever the souls desire and [what] delights the eyes, and you will abide therein eternally.

— Saheeh International

Golden dishes and cups will be passed among them. All that the souls may desire and that may delight their eyes will be available therein. You will live therein forever.

— Muhammad Sarwar

There shall be sent round to them golden bowls and drinking-cups and therein shall be what their souls yearn after and (wherein) the eyes shall delight, and you shall abide therein.

— Muhammad Habib Shakir

Passed round amongst them will be dishes of gold and goblets, and therein will be whatsoever souls desire and eyes delight in; and ye will be therein abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

To them will be passed round, dishes and goblets of gold: there will be there all that the souls could desire, all that their eyes could delight in: and ye shall abide therein (for eye).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–73

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–77

سورة الزُّخْرُف 61 مالک سے مراد ہے جہنم کا داروغہ جیسا کہ فحوائے کلام سے خود ظاہر ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–77

معارف و مسائل دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب، وفیھا ماتشتھیہ الانفس وتلذالاعین وانتم فیھا خلدون 71 صحاف کے معنی طشتریوں کے ہیں، اکواب کے معنی پیالوں کے لفظ ذھب، جس طرح صحاف کے ساتھ آیا ہے اسی طرح اکواب کے ساتھ بھی ہے لیکن تکرار سے بچنے کے لئے اس کو حذف فرما دیا ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی غلمان جنت ان کی تواضع و ضیافت کے لئے ان کے سامنے سونے کی طشتریاں اور جام لئے ہوئے ہر وقت گردش میں ہوں گے۔ وفیھا ماتشتھیہ الانفس وتلذ الاعین ان طشتریوں اور پیالوں میں کھانے اور پینے کی وہ چیزیں ہوں گی جو دل پسند بھی ہوں گی اور باصرہ نواز بھی۔ بعض چیزیں ذائقہ کے لحاظ سے اچھی ہوتی ہیں لیکن دیکھنے میں اچھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

71۔ 1 مطلب ہے اہل جنت کو جو کھانے ملیں گے، وہ سونے کی رکابیوں میں ہوں گے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 70–71

5 یعنی غلمان لیے پھریں گے۔ 6 سب سے اعلیٰ چیز جس سے آنکھیں آرام پائیں گی وہ دیدار ہے حق سبحانہ ' و تعالیٰ کا (رزقنا اللہ بفضلہ ومنہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 { یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَکْوَابٍ } ”گردش کرائے جائیں گے ان پر سونے کی طشتریاں اور پیالے۔“ { وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُج وَاَنْتُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ } ”اور وہاں ہوگا وہ سب کچھ جس کی طلب ہوگی انسان کے نفس کو اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں گی ‘ اور تم اب اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے۔“ جنت کے پھول ‘ باغیچے ‘ مناظر اور اہل جنت کی بیویاں غرض وہاں کی ہرچیز انتہائی حسین اور دلکش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 اگرچہ جنت کی ساری نعمتیں ہی ایک دوسری سے بڑھ چڑھ کر ہوں گی مگر جو لذت و سرور اہل جنت کو دیدار الٰہی سے حاصل ہوگا۔ اتنا اور کسی نعمت سے نہ ہوگا اور یہ نعمت بھی اہل جنت کو وہاں حاصل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 69–72

58۔ (جس سے اب کبھی بےدخل نہ ہوگے) یہ منظر سب جنت کے ہیں۔ ہر نعمت، ہر سرور، ہر لذت، مادی ومعنوی، جسمانی وروحانی ہر قسم کی اہل جنت کو حاصل ہوگی، اس میں کوئی استثناء ہی نہیں۔ (آیت) ” وفیھا “۔ ضمیر ھا جنت کی طرف ہے۔ (آیت) ” وانتم فیھا خلدون “۔ اور پھر یہ نعمتیں علاوہ بےاندازو بےحساب ہونے کے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دائمی ہوں گی جن کے قطع ہونیکا کبھی خطرہ ہی نہیں۔ (آیت) ” فیھا ..... الاعین “۔ نفس وعین “۔ کی لذات کی اس تصریح نے حسی وبصری لذات کی اس صراحت نے ان باطل فرقوں کی جڑ کاٹ دی جو سمجھتے ہیں کہ جنت صرف کیفیات روحانی کا محل ہے۔ اور لذات مادی کا وہاں پتہ نشان بھی نہ ہوگا (آیت) ” اور ثتموھابما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب وفیھا ما تشتبھیہ الا نفس وتلذ الاعین وانتم فیھا خلدون ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو دل چاہے گا اور جن سے آنکھیں لذت یاب ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 70–71

(70۔ 71) یعنی وہ بندے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور توحید و عبادت میں مخلص تھے تم اور تمہاری بیویاں جنت میں خوشی کے ساتھ داخل ہوجاؤ کہ تحائف کے ساتھ وہاں تمہیں عزت دی جائے گی اور تم جنت کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرو گے۔ اور ان کے پاس سونے کی پلیٹیں جو کھانے کی چیزوں سے بھری ہوں گی اور گول بغیر کنارے کے گلاس لائے جائیں گے جو مشروبات سے بھرے ہوں گے اور جنت میں وہ چیزیں ملیں گی جن کو جی چاہے گا اور جن کو دیکھنے سے آنکھوں کو فرحت و سرور حاصل ہوگا اور تم جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یطاف علیھم بصحاف من ذھب و اکواب : ”صحاف“”صحفۃ“ کی جمع ہے، تھال جو بہت بڑا نہ ہو، رکابیاں۔ ”اکواب“ ”کو ب“ کی جمع ہے، پینے کا برتن جس کی دسوتی نہ ہو، ایسے برتن دستی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ صاٹف ہوتے ہیں۔ تھالوں میں طرح سرح کے کھانے اور میوے ہوں گے اور پیالوں میں طرح طرح کے پینے کی چیزیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا، ”صحاف“ جمع کثرت ہے اور ”اکواب“ جمع قلت، کیونکہ کھانے کے بتن پینے کے برتنوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ (2) وفیھا ماتشتھیہ الانفس : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (31) اور سورة سجدہ (17)۔ (3) وتلذالاعین : آنکھوں کی لذت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ یعنی ان کے لئے جنت میں کھانے اور مشروبات ہوں گے جنہیں سونے اور چاندی کے تھالوں میں ان پر گھمایا جائے گا یہاں کھانوں اور مشروبات کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ تھالوں او پیالوں کے گھمانے کا کوئی مطلب نہیں جب ان میں کھانے اور مشروبات نہ ہوں۔ صحاف میں سونے کا ذکر کیا جبکہ اکواب میں اس کے ذکر سے استغنا برتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (احزاب 35) صحیحین میں حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : (1) ۔ ریشم اور دیباج کا لباس نہ پہنو اور سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو ان کے پیایوں میں نہ کھائو کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–71

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن معاذ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کا دن ہوگا۔ تو (آپس میں) رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی اور نسبت کمزور پڑجائیں گی اور بھائی چارہ بھی جاتا رہے گا مگر اللہ کے لئے جو بھائی چارہ تھا (وہ باقی رہے گا) اسی کو فرمایا (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ (تمام دنیوی دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے خدا سے ڈرنے والوں کے) دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرنے والے آپس میں دشمن ہوں گے : 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ سے مراد ہے دنیا میں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يُطَافُ عَلَيْهِمْ [ گردش میں لائی جائیں گی ان پر ] بِصِحَافٍ [ رکابیاں ] مِّنْ ذَهَبٍ [ سونے میں سے ] وَّاَكْوَابٍ ۚ [اور جام ] وَفِيْهَا مَا [ اور اس میں وہ ہے ] تَشْتَهِيْهِ [ خواہش کریں گی جس کی ] الْاَنْفُسُ [ جانیں ] وَتَلَذُّ [اور مزے دار ہوجائیں گی (جس سے ) ] الْاَعْيُنُ ۚ [ آنکھیں ] وَاَنْتُمْ فِيْهَا [ اور تم لوگ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 68–71

اہل جنت کے انعامات بتاتے ہوئے ﴿وَ تَلَذُّ الْاَعْيُنُ ﴾ بھی فرمایا کہ جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی یعنی جنت میں ایسی کوئی چیز سامنے نہ آئے گی جس کا دیکھنا ناگوار ہو، جو بھی کچھ ہوگا جس پر نظر پڑے گی آنکھوں کو مزہ ہی آئے گا وہاں ایسے مواقع نہ ہوں گے کہ کوئی چیز سامنے آئے اور اس کے دیکھنے سے روکا جائے یہ ابتلا اور امتحان دنیا میں ہی ہے وہاں بد نظری کا کوئی موقعہ نہ ہوگا بلکہ نظر ہی بد نہ ہوگی مزید فرمایا ﴿ وَ اَنْتُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَۚ0071﴾ (اور تم اس جنت میں ہمیشہ رہو گے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–73

42:۔ ” یطاف علیہم “ جنت میں خوبرو غلمان ان کی خدمت میں ہوں گے اور کھانے پینے کی اشیاء سونے کی پلیٹوں اور پیالوں میں انہیں پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہیں جنت میں ہر وہ چیز میسر ہوگی جس کی ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہوگی اور جس چیز کو دیکھنے کا ان کی آنکھوں کو شوق ہوگا اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان پر موت آئیگی اور نہ جنت کی نعمتیں ہی فنا ہوں گی۔ اہل جنت سے کہا جائے گا دنیا میں جو تم نیک عمل کرتے رہے یہ جنت اور تمام نعمتیں اسی وجہ سے تمہیں عطا ہوئیں۔ اس میں تمہارے لیے بیشمار انواع و اصناف کے میوے اور پھل ہیں جو کبھی ختم نہ ہوں گے خواہ کس قدر تم کھاؤ جس قدر تم کھاؤ گے اس سے دگنے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–76

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُطَافُ عَلَيْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَكْوَابٍ۝ 0 ۚ وَفِيْہَا مَا تَشْتَہِيْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُ۝ 0 ۚ وَاَنْتُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 71 ۚ طوف الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها . قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–78

تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–74

یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّاَکْوَابٍ ج وَفِیْھَا مَاتَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّالْاَعْیُنُ ج وَاَنْـتُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَتِلْـکَ الْجَنَّـۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْـتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ لَـکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (الزخرف : 71 تا 73) (ان کے آگے سونے کی طشتریاں اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ان میں وہ چیزیں ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور آنکھوں کے لیے لذت بخش ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور تمہارے لیے اس جنت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–73

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں داخل ہونے کے بعد متقی لوگوں کی ضیافت۔ جونہی جنتی جنت میں پہنچ کر اپنے محلّات میں داخل ہوں گے تو جنت کے خدّام شراب طہور سے بھرے ہوئے سونے کے جام جنتیوں کے سامنے پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ہی سونے، چاندی کی پلیٹوں میں رکھے ہوئے پھل اور خورد نوش کی دوسری چیزیں پیش کی جائیں گی۔ جنتیوں کے کھانے کے لیے جنت میں بیشمار قسم کے پھل ہوں گے۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں فی الفور پیش کردیا جائے گا۔ وہ جدھر دیکھیں گے انہیں آنکھوں کی لذت اور دل کا سرور حاصل ہوگا۔ جب سب کے سب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ اعلان کریں گے کہ جس جنت کے تم مالک بنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 71: یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَکْوَابٍ (اور ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے) صحاف جمع صحیفہ۔ چوڑا پیالہ۔ من ذہب کہہ کر بتلایا کہ وہ سونے کے بھی ہونگے۔ الکوب۔ وہ پیالہ جس کے ساتھ دستہ نہ ہو۔ وَفِیْہَا (اور اس جنت میں) مَاتَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ (وہ چیزیں ملیں گی۔ جن کو جی چاہے گا جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی) قراءت : مدنی ٗ شامی ٗ حفص نے تشتہیہ کو اثبات ہاء سے پڑھا ہے۔ اور یہ ضمیر موصول کی طرف راجع ہے اور دیگر قراء نے اس کو حذف کیا کیونکہ فعل ٗ فاعل و مفعول کے سلسلہ میں موصول کے متعلق وسعت ہے۔ تلذ الاعین کہہ کر نعمتوں کی اقسام کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–73

68۔ 73۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن نیک لوگوں سے فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اسے ایماندار بندوں تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو تم اپنی نیک بیبیوں کو ساتھ لے کر جنت میں چلے جاؤ پھر جنتیوں کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہاں سونے کے برتنوں میں کھانے کی چیزیں اور سونے کے آب خوروں میں پینے کی چیزیں لے کر خدمت گار حاضر اور کثرت سے طرح طرح کے میوے موجود ہوں گے اور ہر طرح کا راحت و آرام کا سامان مہیا ہوگا۔ ابن 1 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے واسطے ایک مکان جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–73

آیت 66 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 جنتیوں کی ہر خواہش کی تکمیل : سو اس سے جنتیوں کی ہر خواہش کی تکمیل کی بشارت سنائی گئی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ } ۔ (حم السجدۃ : 31) ۔ یعنی " تم لوگوں کو وہاں پر ہر وہ چیزملے گی جو تمہارے دل چاہیں گے " اور تمہارے لیے وہاں پر وہ سب کچھ ہوگا جو تم طلب کرو گے۔ سو اس سے جنت کی حقیقت اور اس کی عظمت شان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو من چاہی زندگی اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے لئے بھی ممکن نہیں وہ وہاں پر یہ ایک عام جنتی کو بھی نصیب ہوگی ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الَّذِیْ لَا حَدَّ لَعِظَمِتِہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 رکابیوں میں طرح طرح کے کھانے اور میوے ہونگے اور کو زوں میں طرح طرح کے پینے کی چیزیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:71) یطاف علیہم : یطاف مضارع واحد مذکر غائب اطافۃ (افعال) مصدر دور چلایا جائے گا۔ صحاف : جمع ہے صحفۃ کی۔ اتنی بڑی رکابی جس میں پانچ آدمی پیٹ بھر کر کھانا کھالیں۔ صحاف من ذھب سونے کی رکابیاں۔ واکواب واؤ عاطفہ ہے۔ اکواب معطوف ہے جس کا عطف صحاف پر ہے۔ کو ب واحد۔ کوزہ۔ آنجورہ۔ پیالہ۔ ایسا گول برتن جس کا گلا بھی مدور ہو اور قبضہ نہ ہو۔ ان پر بڑی بڑی رکابیوں اور پیالوں کے دور چلائے جائیں گے یعنی ان کو کھانے کی چیزیں اور پینے کے مشروبات سونے کی رکابیوں اور پیالوں میں مہیا کی جائیں گے۔ وفیہا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع (آیت سابقہ ادخلوا الجنۃ ۔۔ میں جنۃ ہے۔ ما تشتھیہ الانفس : ما موصولہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–78

لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے) تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–73

(ف 1) خدا قیامت کے دن کہے گا کہ اے ایماندار بندو، تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو، یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری آیتوں پر اور رسول پر اور قرآن پر ایمان لائے۔ اب تم اور تمہاری بی بیاں سب جنت میں جاؤ، مکرم معظم نعمت راحت ناز عیش تحفے پاؤ اور ان کے پاس ان کے خادم حوروغلمان ، سونے کی رکابیاں، قسم قسم کے کھانوں اور میوؤں سے بھرے ہوئے ، اور طرح طرح کے کو زے، گول گلاس پیالے شرابوں اور شربتوں سے بھرے ہوئے لیے پھریں گے اور آپس میں بیٹھ کردورے ہوں گے، وہاں ان کو وہ ملے گا جو خیال میں گزرے گا، جو جی چاہے گا دل میں ارادہ آیا، اور چیز حاضر۔ اور وہ ملے گا جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی یعنی دیدار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–72

[33] جنت کو میراث اس لئے فرمایا کہ سب کے باپ آدم (علیہ السلام) بہشت میں رہے اور وہی ان کا اصلی گھر تھا۔ اس سے تمام انسان آدم (علیہ السلام) کے رشتے سے جنت کے وارث ہیں بشرطیکہ ایمان رکھتے ہوں اور نیکوکار بھی ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–71

جنت اسلامی نقطہ نگاہ سے 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے جنت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ زندگی کا کامل اور جامع ترین مفہوم رہے ۔ جہاں نفس کی تمام خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے جہاں وہ سب کچھ مہیا ہے ۔ جس کے حصول کے لئے انسان دنیا میں تگ ودو کرتا ہے جہاں غم واندوہ اور احتیاج نہیں ہوتی ہے ۔ جہاں مسرت واجتہاج کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔ اور تسکین وثانیت کی نہریں رواں ہیں ۔ جہاں مادہ اپنی پوری زیبائش کے ساتھ موجود ہے ۔ اور روح اپنی ساری آرائش کے ساتھ جلوہ گر ۔ جہاں انسان باہم دشمن نہیں ہوتے ۔ جہاں پورا امن و سکون ہوتا ہے ۔ اور اللہ کا قرب اور اس کی حضوری میسر ہوتی ہے ۔ جہاں فر لمحہ اور ہر آن اس کے جلوہ ہائے گوناگوں نظر اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(71) ان اہل جنت کے روبرو سونے کی رکابیاں اور سونے کے جام اور آپ خورے لئے پھرتے ہوں گے اور ان کے روبرو پیش کئے جارہے ہہوں گے اور وہاں جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دل خواہش کریں اور جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں اور تم اس جنت میں ہمیشہ رہوں گے۔ یعنی ہر قسم کی ماکولات سے بھری ہوئی قابیں اور رکابیاں اور ہر قسم کی مشروبات سے لبریز گلا اور آب خورے دل کی ہر خواہش اور آنکھیں جس سے لذت محسوس کریں وہ ہر چیزوہاں موجود ہوگی اور اہل جنت کو ارشاد ہوگا کہ تم اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–79

ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنت میں جو انعامات ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے ان کی ایک جھلک 71 ؎ یہ بات اس سے قبل کی بار عرض کی جاچکی ہے کہ اہل جنت کو جو کچھ جنت میں پیش کیا جائے گا اس کے وہی نام رکھے گئے ہیں جن سے اس وقت ہم معروف ہیں اور فطری طور پر ہر ایک انسان کی خواہش ہے کہ وہ چیزیں ہم کو ملیں خواہ وہ انسان کتنے ہی نیک اور پاکیزہ اخلاق و اعمال کے ہوں ہی شقی المزاج اور بدکار ہوں۔ ہاں نیکوکار ان چیزوں کو جائز اور درست طریقوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر ان کو میسر آئیں تو وہ ان سے مستفید ہوتے ہیں اور اگر میسر نہ آئیں تو ناجائز اور حرام طریقوں سے ان کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے امیدوار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–81

Commentary قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman, I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…

Read the full tafseer →