Az-Zukhruf 43:66

Az-Zukhruf · from ayah 66

43:66

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Are they waiting except for the Hour to come upon them suddenly while they perceive not?

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:66

کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وه اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ بس اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے سامنے اچانک آکھڑی ہو، اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ لوگ کیا انتظار کر رہے ہیں (بس یہی) کہ قیامت اُن پر اچانک آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ قیامت کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آجائے اور وہ سو چتے بھی نہ ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا یہ لوگ اب اس انتظار میں ہیں کہ ان پر یکدم قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ تو بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر اچانک آدھمکے اور انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا اب یہ لوگ قیامت ہی کی انتظار میں ہیں کہ وہ ان پر ایسی اچانک ٹوٹ پڑے کہ ان کو خبر تک نہ ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ یوم قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ بس ان پر یکبارگی آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک آجائے اور ان کو خبر تک نہ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Are they awaiting anything other than the Last Hour that it should suddenly come upon them without their even perceiving it?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They are waiting for nothing but for the Hour to come upon them suddenly, while they would not even imagine (it).

— Muhammad Taqi Usmani

They are waiting for nothing but for the Hour to come upon them suddenly, while they would not even imagine (it).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do they only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Await they aught save the Hour, that it shall come upon them suddenly, when they know not?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Are they waiting except for the Hour to come upon them suddenly while they perceive not?

— Saheeh International

Are they waiting for the Hour of Doom when the torment will suddenly strike them and they will not even realize from where it came?

— Muhammad Sarwar

Do they wait for aught but the hour, that it should come! upon them all of a sudden while they do not perceive?

— Muhammad Habib Shakir

They await but the Hour: that it should come upon them of a sudden, while they perceive not.

— Abdul Majid Daryabadi

Do they only wait for the Hour - that it should come on them all of a sudden, while they perceive not?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–73

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–67

سورة الزُّخْرُف 59 دوسرے الفاظ میں صرف وہ دوستیاں باقی رہ جائیں گی جو دنیا میں نیکی اور خدا ترسی پر قائم ہیں۔ دوسرے تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی، اور آج گمراہی، ظلم و ستم اور معصیت میں جو لوگ ایک دوسرے کے یار و مددگار بنے ہوئے ہیں، کل قیامت کے روز وہی ایک دوسرے پر الزام ڈالنے اور اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اسی دنیا میں اچھی طرح سوچ لے کہ کن لوگوں کا ساتھ دینا اس کے لیے مفید ہے اور کن کا ساتھ تباہ کن۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر یہ لوگ (حق واضح ہونے کے باوجود باطل پر اصرار کر رہے ہیں تو) بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر دفعتاً آ پڑے اور ان کو خبر بھی نہ ہو (انکار کے باوجود انتظار سے مراد یہ ہے کہ ان کا دلائل کو نہ ماننا ایسا ہے جیسے کوئی شخص مشاہدہ کا منتظر ہو کہ جب آنکھوں سے دیکھ لوں گا تب مانوں گا، اور اس روز قیامت کے واقعات یہ ہیں کہ) تمام (دنیا کے دوست) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجاویں گے، بجز خدا سے ڈرنے والوں (یعنی اہل ایمان) کے (کیونکہ اس روز باطل کی دوستی کا نقصان محسوس ہوگا تو لا محالہ اس سے کراہت اور دوستوں سے نفرت ہوگی کہ یہ لوگ نقصان کا سبب ہوئے اور حق کی دوستی کا نفع اور ثواب محسوس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-8 آگے کا مضمون آیات 89-66 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے تو ایمان لانے والوں کے حسن انجام اور کفر کرنے والوں کے سوء انجام کی وضاحت فرمائی ہے اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ان لوگوں سے اعراض کا حکم دیا ہے جو اللہ کی ہدایت کا مذاق اڑاتے اور اپنے انجام سے بےفکر رہے۔ آخر میں توحید کی پھر یاد دہانی کردی ہے کہ جو لوگ شفاعت باطل کے بل پر آخرت سے نچنت ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس دن ہر ایک کو سابقہ اللہ واحد ہی سے پیش آئے گا اور کسی کی سفارش کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں بنے گی … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -9 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ وھم لاشعرون 66 اوپر کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–68

68۔ 2 یہ قیامت والے دن ان متقین کو کہا جائے گا جو دنیا میں صرف اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی اس کی فضیلت ہے۔ بلکہ اللہ کے لئے بغض اور اللہ کے لئے محبت کو کمال ایمان کی بنیاد بتلایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 ایسے ایسے کھلے بیانات اور واضح ہدایات کے باوجود بھی جو لوگ نہیں مانتے آخر وہ کا ہے کے منتظر ہیں۔ ان کے احوال کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بس قیامت ایک دم ان کے سر پر آکھڑی ہو تب مانیں گے۔ حالانکہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 { ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–67

65 قیامت کو دینی دوستی کے علاوہ سب قسم کے دوست باہم دشمن بن جائیں گے :۔ قیامت کے دن صرف وہ دوستی برقرار رہے گی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اور اللہ کے دین کی خاطر ایک دوسرے سے دنیا میں دوستی رکھی ہوگی باقی سب قسم کی دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اور ایسی دوستیاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً مشرکوں کی اپنے بتوں سے محبت اور آپس میں دوستی۔ اسلام کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں ہر قسم کے کافروں سے دوستی۔ مجرموں کی مجرموں سے جیسے ڈاکوؤں کی ڈاکوؤں سے دوستی، دنیوی مفادات کی خاطر دوستی۔ ایسی سب دوستیاں اور رشتے نہ صرف یہ کہ منقطع ہوجائیں گے بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

55۔ ذکر منکرین قیامت کا ہے۔ یہ منکرین انہیں غفلتوں میں پڑے ہوں گے کہ قیامت یک بیک آواقع ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 57–67

آیت نمبر 57 تا 67 ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ وھم لا یشعرون۔ یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر دفعۃً آپڑے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ لوگ جب اپنی باتوں سے توبہ نہیں کرتے تو صرف قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آپڑے اور اس کے عذاب کی ان کو خبر بھی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغثہ : یہ اس سوال کا جواب ہے جو پچلھی آیت کے آخری جملے سے پیدا ہوسکتا ہے کہ ظالموں کے لئے ”ویل“ (ہلاکت) کا وہ دن کب ہوگا اور اس عذاب الیم کی کیفیت کیا ہوگی۔ جواب یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے ، جلدی آئے یا دیر سے، اس لئے اس کی تیاری کرو، اس بحث میں مت پڑو کہ وہ کب آئے گی۔”بغتہ“ (اچانک) کا مطلب ہی یہ ہے کہ ت میں اس کے آنے کا وقت معلوم نہیں ہوسکتا، کیونکہ جس کے آنے کا وقت معلوم ہوجائے وہ اچانک نہیں ہوتی۔ دیکھیے سورة اعراف (187) اور سورة یٰسین (49، 50)۔ (2) وھو لایشعرون، یہاں ایک سوال ہے کہ ”بغتۃ“ (اچانک) کے لفظ کے بعد ”وھو لایشعرون“ کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وائو ضمیر سے مراد حزاب ہیں یعنی وہ انتظار نہیں کرتے سے مراد قیامت ہے یعنی اچانک وہ کچھ نہیں سمجھتے کئی اور مواقع پر یہ بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے عرب کے مشرک صرف قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس تعبیر کی بناء پر اضراب سے مراد وہ قبائل ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے خلا اکٹھ کیا تھا اور مشرکین میں سے جنہوں نے آپ کو جھٹلایا یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : کے ساتھ متصل ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت (اس حال میں) قائم ہوگی کہ دو آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ رہے ہوں گے اور دو آدمی کپڑا لپیٹ رہے ہوں گے، پھر یہ آیت پڑھی۔ (آیت ) ” ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیہم بغتۃ وھم لایشعرون “ (کیا وہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس اچانک آجائے اور ان کو پتہ بھی نہ چلے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هَلْ يَنْظُرُوْنَ [ وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا السَّاعَةَ [ سوائے اس گھڑی (قیامت ) کے ] اَنْ تَاْتِيَهُمْ [ کہ وہ پہنچے ان کے پاس ] بَغْتَةً [ بےسان و گمان ] وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ [ اس حال میں کہ وہ لوگ شعور نہ رکھتے ہوں ] ک و ب : (ن) کو با ۔ بےدستہ کے کوزہ سے پینا ۔ کو ب ۔ ج : اکواب ، بےدستے کا پیالہ ۔ آبخورہ ۔ جام ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 71 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 0066﴾ (بس یہ لوگ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے اور انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو) ﴿ هَلْ يَنْظُرُوْنَ ﴾ کی ضمیر مستتر کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ احزاب کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو لوگ اختلاف رکھتے ہیں راہ حق پر نہیں آتے حق کو قبول نہیں کرتے ان کا طریقہ کار ایسا ہے کہ انہیں قیامت کا انتظار ہے اچانک قیامت آجائے (جس کا انہیں پتہ بھی نہ ہو کیونکہ پہلے سے اس کی آمد کا وقت نہیں بتایا گیا) تو اس وقت توحید پر آئیں گے اور کفر و شرک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 66–67

40:۔ ” ھل ینظرون “ یہ مشرکین قریش کے لیے تخویف اخروی ہے۔ یہ مشرکین ایمان نہیں لاتے۔ وہ قیامت کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے۔ تمام مشرکین جو دنیا میں نہایت ہی گہرے دوست ہیں قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور ایک دوسرے کو طعن و ملامت کریں گے اور ہر ایک گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گا۔ یعادی بعضہم بعضا ویلعن بعضہم بعضا (قرطبی ج 16 ص 109) ۔ البتہ ایمان والوں کی باہمی دوستی قائم رہے گی اور اس میں کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ ” الا المتقین “ استثناء منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–67

توحید ، رسالت اور معاد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا مشرکین کا اعتراض یہ تھا کہ اگر عابد اور معبودان باطلہ سب جہنم میں جائیں گے تو پھر مسیح (علیہ السلام) کا کیا بنے گا کیونکہ ان کی بھی تو لوگ پرستش کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کے پجاری بھی ہیں اور مذکورہ اصول کے تحت ان کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ نہ تو یہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں۔ ملائکہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو کبھی لوگوں کو اپنی پرستش کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا ان کے صرف عابد جہنم میں جائیں گے ، انہوں نے تو ہمیشہ لوگوں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِيَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۝ 66 نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–67

تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّالسَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (الزخرف : 66) (کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور کفار سے اعراض کا حکم بھی۔ آپ کی تذکیر و دعوت کا زور جس طرح توحید کے حوالے سے تھا اسی طرح آپ بار بار قیامت کے تصور کو بھی دلوں میں اتارنے کی کوشش فرماتے تھے۔ لیکن سننے والوں کا حال یہ تھا کہ کبھی تو قیامت کا مذاق اڑاتے، کبھی اسے سوالات کی سان پر چڑھاتے اور کبھی ایسی بےنیازی کا ثبوت دیتے کہ گویا یہ کوئی قابل ذکر دن ہی نہیں۔ اولاً تو اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–66

فہم القرآن ربط کلام : اس آیت سے پہلے عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ہورہا تھا۔ اب عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی دعوت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو انہوں نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں حکمت کی باتیں سکھلاؤں اور تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ بس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابعداری کرؤ۔ یقین جانو کہ ” اللہ “ ہی میرا اور تمہارا رب ہے صرف اسی کی عبادت کرو ! یہی صراط مستقیم ہے۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی ہدایت کے باوجود بنی اسرائیل کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ جن لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 66: ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ (وہ لوگ قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں) ہم کی ضمیر کا مرجع قوم عیسیٰ (علیہ السلام) یا کفار اَنْ تَاْتِیَہُمْ (کہ وہ قیامت ان پر آپڑے) : یہ الساعہ سے بدل ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ ہل ینظرون الا اتیان الساعۃ۔ وہ صرف قیامت کی آمد کے منتظر بیٹھے ہیں۔ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اچانک اور ان کو خبر بھی نہ ہو) یعنی وہ اپنے امور دنیا میں مشغولیت کی وجہ سے غافل ہوں اور قیامت آجائے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی میں ہے۔ تاخذہم وہم یخصمون۔ ] یسٰین : 49[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 64–66

63، ولما جاء عیسیٰ بالبینات قال قدجئتکم بالحکمۃ، نبوت کے ساتھ۔ ، ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ، توریت کے احکام میں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ان فرقوں کا اختلاف جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ پر کئی گروہ بن گئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل میں لائے وہ اس کا بعض ہے جس میں ان کا اختلاف ہوا اور انجیل کے علاوہ میں ان کے لیے وہ کچھ بیان کیا گیا جس کی ان کو حاجت تھی۔ ، فاتقوا اللہ واطیعون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–67

62۔ 67۔ اوپر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین پر آنے کو قیامت کی نشانی فرما کر یہ فرمایا تھا کہ قیامت ایک دن ضرور آنے والی ہے ان آیتوں میں فرمایا آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ تو تمام بنی آدم کو معلوم ہوچکا ہے کہ شیطان بنی آدم کا قدیمی کھلا کھلا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھاچکا ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ ہر طرح بنی آدم کو نیک راستہ سے روکے گا۔ مسند امام 2 ؎ احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو شیطان بنی آدم کو ہر طرح سے بہکانے اور نیک راستہ سے روکنے کی قسم کھاچکا ہے۔ یہ حدیث گویا اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–73

آیت 66 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 65–66

88 منکرین کے اتمام حجت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اب یہ لوگ قیامت ہی کے انتظار میں ہیں " کہ وہ ان پر بالکل اچانک ٹوٹ پڑے اور اس وقت یہ کف افسوس ملنے لگیں۔ مگر انہیں اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے۔ مطلب یہ کہ حق کی توضیح و تشریح اور ان لوگوں کی تفہیم و تذکیر میں اب کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اور کوئی فرق اب باقی نہیں رہ گیا سوائے اس کے کہ وہ دن آجائے اور اچانک وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ اور یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے رویے اور انکے طرز عمل سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ متنبہ ہونے اور قیامت کیلئے تیاری کرنے کی بجائے اس کی آمد ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–67

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–67

آیات 55 تا 67۔ اسرار ومعارف۔ اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

ف 9 یعنی صرف انہی لوگوں کی دوستی باقی رہے گی جو دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے دوستی رکھتے تھے۔ دوسری تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:66) ہل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیہم بغتۃ وہم لاتشعرون۔ ہل استفہام انکاری ہے۔ کلام عرب میں ینظرون کا استعمال بمعنی ینظرون معروف ہے۔ مثلا فہل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیہم بغتۃ فقد جاء اشراطھا (47:18) سو یہ لوگ بس قیامت کے ہی انتظار میں ہیں کہ ان پر دفعۃ آپڑے سو اس کے آثار تو پیدا ہی ہوچکے ہیں۔ اور ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذھم وہم یخصمون (36:49) یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ لوگ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔ وغیرہ۔ الا الساعۃ میں الساعۃ مستثنیٰ ہے جس کا مستثنیٰ منہ محذوف ہے جو حالت مفعول میں واقع ہے لہٰذا مستثنیٰ کا اعراب اسی کی موافقت میں منصوب ہے ان مصدریہ ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–67

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست) تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–67

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) حضرت عیسیٰ کے بعد ان کی امت کے لوگ مختلف ہوگئے آپس میں جھگڑنے لگے یہود تو حضرت عیسیٰ کی نبوت اور انجیل کے بالکل منکر ہوگئے اور نصاری نے ایک خدا کے کئی خدا ٹھہرادیے، کسی نے کہا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تھے، کسی نے کہا خدا کے بیٹے، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک کہا اور نجیل کی کی انجیلیں بنادیں ۔ پس ان ظالموں کو بڑے دن میں خرابی اور عذاب ہے ۔ اور اب بھی یہ باز نہیں آتے تو کیا قیامت کو باز آویں گے اور کیا قیامت کے منتظر ہیں کہ اچانک آجائے اور ان کو مہلت بھی نہ دے، اب آگے قیامت کے دن نفسا نفسی کا ذکر فرمایا کہ قیامت کے دن جو نفسانی شیطانی دوست تھے مثلا کافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 66–67

[32] اس دن دوست دوست سے بھاگے گا کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں۔ دنیا کی سب دوستیاں اور محبتیں منقطع ہوجائیں گی۔ آدمی پچھتائے گا کہ فلاں شریر آدمی سے دوستی کیوں کی تھی جس کے اکسانے سے مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔ البتہ جن کی دوستی اللہ کے واسطے اور اللہ کے خوف پر مبنی تھی وہ وہاں قائم رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–69

ف 2: ان آیات میں حضرت مسیح کی پہلی بعثت کا ذکر ہے ۔ کہ جب یہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا ۔ کہ میں آیات وبراہین کے ساتھ آیا ہوں ۔ تاکہ تمہیں زندگی کے حکیمانہ نکات سے آگاہ کروں اور دین و مذہب کے نام سے جو تم نے اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کو مٹادوں ۔ اور تقویٰ و اطاعت کے جذبات سے تم میں ترقی کی روح پھونک دوں ۔ دیکھو اللہ ایک ہے ۔ وہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس کی عبادت سے منہ نہ موڑو ۔ اس تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے ۔ کہ توحید کے اسراء سے واقفیت حاصل کرو ۔ اور اپنے سر کو جبرا اس کے آشانہ جلال وقدس کے اور کسی کے سامنے نہ جھکاؤ۔ ان کی قوم نے یہ باتیں سنیں ۔ اور جب دستور ان کو کوئی اہمیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(66) یہ دین حق کے منکر نہیں انتظار کر رے ہیں مگر قیامت کا کہ وہ ان پر اچانک آپہنچنے اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔ یعنی جب دلائل واضحہ اور براہین ساطعہ کے بعد کفر کو ترک نہیں کرتے اور اسلام کے قائل نہیں ہوتے تو بس یہ لوگ قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر بیخبر ی میں اچانک آپہنچے اس وقت یہ ایمان لائیں حالانکہ اس وقت ایمان لانا ان کو نفع نہ دے گا آگے اس دن کی مختصر سی تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ انتظار سے باوجود انکار کے مجازا یہ مراد ہے کہ ان کا استدلال کو نہ ماننا مشابہ اس شخص کی حالت کے ہے جیسے کوئی مشاہدہ کا منتظر ہو کہ اس وقت مانگوں گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سب گروہ اس انتظار میں ہیں کہ قیامت آئے اور ان کا کام تمام کردے 66 ؎ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے انکار ہی نے ان کو اس حالت تک پہنچایا ہے اور آپ ﷺ کی تذکیر ونصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہورہا کیونکہ آپ ﷺ ان کو قیامت سے ڈراتے ہیں اور اس کو یہ سارے گروہ حقیقت میں نہیں مانتے اور اگر اقرار کرتے بھی ہیں تو وہ صرف رسمی اقرار ہے ورنہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی ایسی کیوں ہوتی بلکہ یہ تو آخرت کے لیے کچھ کمائی کرتے اور اس دنیا کی زندگی میں اس قدر نہ ریجھ جاتے لیکن یہ بات اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ قیام قیامت تو یقینی ہے اگر کوئی اس کو تسلیم کرے گا تو بھی وہ آئے گی اور اگر کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا تب بھی وہ آئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–67

Commentary The only real friendship is that which is in the sake of Allah الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (Friends, on that day, will become enemies to one another, except the God-fearing 43:67). This verse tells us plainly that the friendly relations in which we take so much pride in this world, and for which we don't even care about halal (permitted) and Haram (unlawful), will be of no use on the Day of judgment, rather they will turn into enmity. In this connection, Hafiz Ibn Kathir has reproduced a discourse of Sayyidna ` Ali ؓ narrated by ` Abdur…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–67

59 In other words, only those friendships will remain unaffected which are based on righteousness and piety in the world; alI other friendships will turn into enmities, and those who are cooperating with one another in deviation, tyranny and wickedness today, will on the Day of Resurrection, put the blame on others and try to escape. This subject has been treated repeatedly at many places in the Qur'an so that every person in this very world may fully realize with whom it would be beneficial for him to cooperate and with whom it is harmful.

Read the full tafseer →