Explained with ayahs 57–65
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ
(یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 58
یعنی ایک گروہ نے ان کا انکار کیا تو مخالفت میں اس حد تک پہنچ گیا کہ ان پر ناجائز ولادت کی تہمت لگائی اور ان کو اپنے نزدیک سولی پر چڑھوا کر چھوڑا۔ دوسرے گروہ نے ان کا اقرار کیا تو عقیدت میں بےتحاشا غلو کر کے ان کو خدا بنا بیٹھا اور پھر ایک انسان کے خدا ہونے کا مسئلہ اس کے لیے ایسی گتھی بنا جسے سلجھاتے سلجھاتے اس میں بیشمار فرقے بن گئے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حواشی، 211 تا 216، المائدہ، حواشی 39۔ 40۔ 101۔ 130)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
(آیت) وَلِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ (اور تاکہ میں بیان کروں تم سے بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو) چونکہ بنی اسرائیل میں عناد اور ہٹ دھرمی کا غلبہ تھا اس لئے انہوں نے بعض احکام شرعیہ میں تحریف کر ڈالی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس کی حقیقت واضح فرما دی اور ”بعض باتیں اس لئے فرمایا کہ بعض امور خالص دنیوی تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان میں اختلاف رفع کرنے کی ضرورت نہ سمجھی ہوگی۔ (بیان القرآن)
Read the full tafseer →فاختلف الاحزاب من بینھم فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم 65
عیسائیوں کے باہمی اختلافات
یعنی حضرت عیسیٰ ؑ نے دعوت تو نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں توحید کی دی لیکن ان کی امت کے اندر سے مختلف گروہوں نے مختلف مذہب اختیار کر لئے۔ ان اختلافات کی نوعیت اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد شمعون کے پیروئوں کے سوا دوسرے تمام فرقوں نے تثلیث اور کفار وغیرہ کے طریقے ایجاد کر کے حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیم توحید کا بالکل خاتمہ کردیا۔ موجودہ مسیحیت تمام ترپال (PAUL) کی بدعات کا مجموعہ ہے اور ان بدعات کی تعبیر میں بھی مختلف گروہ ہوگئے ہیں۔
فویل للذین ظلموا من عذاب الیم الذین ظلموا سے مراد وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
65۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ میں نقص نکالا اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا اور ایک فرقہ مسلمانوں ہی کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
درس نمبر 233 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…
Read the full tafseer →9 یعنی اختلاف پڑگیا۔ یہود ان کے منکر ہوئے اور نصاریٰ قاتل ہوئے۔ پھر نصاریٰ آگے چل کر کئی فرقے بن گئے، کوئی حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بتلاتا ہے، کوئی ان کو تین خداؤں میں ایک کہتا ہے، کوئی کچھ اور کہتا ہے۔ حضرت مسیح کی اصل تعلیم پر ایک بھی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 65 { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْ } ”پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہوگئے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو بڑے گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پید اہو گئے۔ یہودی آپ علیہ السلام کی مخالفت میں اس حدتک چلے گئے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو جادوگر ‘ مرتد اور ولد الزنا نقل کفر ‘ کفر نباشد قرار دے دیا۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے دوسری انتہا پر جا کر آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ کا بیٹا بنا دیا اور آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ بھی گھڑ لیا کہ آپ علیہ السلام اپنے نام لیوائوں کی طرف سے خود سولی پر چڑھ گئے ہیں اور یوں آپ علیہ السلام کی یہ ”قربانی“ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64 سیدنا عیسیٰ سے متعلق بنی اسرائیل کے اختلافات :۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اپنے اختلاف اور فرقہ بازی سے باز نہ آئے۔ مزید ستم یہ ڈھایا کہ سیدنا عیسیٰ کی ذات میں بھی اختلاف پیدا کرکے ان اختلافات کو اور بھی زیادہ کردیا۔ بنی اسرائیل کے ایک فرقہ نے سیدہ مریم پر تہمت لگائی اور سیدنا عیسیٰ کے ایسے دشمن بنے کہ حکومت وقت کے تعاون سے بزعم خویش انہیں سولی پر چڑھا کے دم لیا۔ اور جو لوگ سیدنا عیسیٰ پر ایمان لے آئے وہ دوسری انتہا کو جا پہنچے۔ کسی نے انہیں اللہ کا بیٹا، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک خدا اور کسی نے انہیں اللہ ہی قرار دے دیا۔ پھر اپنے اپنے موقف کی حمایت میں ایسی…
Read the full tafseer →54۔ (آیت) ” للذین ظلموا “۔ ظلم یہاں بھی کفر کے مرادف ہے۔ اور الذین کفروا کے معنی کافرون ہی کے ہیں۔ (آیت) ” فاختلف الاحزاب من بینھم “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو سیدھے سادے مذہب توحید کی دعوت دے گئے تھے، یہ تو ان کے مخاطبین تھے۔ جنہوں نے مسلک توحید سے ہٹ کر طرح طرح کے مذہب تراش لئے۔ ان خرافات کی ذمہ داری مذہب اسلام پر یا حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل تعلیمات پر کیا آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…
Read the full tafseer →فاختلف الاحزاب من بینھم فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم سو مختلف گروہوں نے
(اس بارے میں) باہم اختلاف ڈال لیا ‘ سو ان ظالموں کیلئے ایک دردناک عذاب کی بڑی خرابی ہے۔
الْاَحْزَاب مختلف گروہ۔ مِنْم بَیْنِھِمْ یعنی امت عیسیٰ میں سے۔
مندرجۂ بالا حدیث میں بیان کردیا گیا ہے کہ امت عیسیٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئی۔ یا مِنْم بَیْنِھِمْ سے یہودیوں اور عیسائیوں کا مجموعہ مراد ہے۔ فَوَیْلٌ پس بڑی ہلاکت (اور خرابی) ہے۔
لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ان لوگوں کیلئے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کر کے اور کتاب و سنت کو ترک کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ یعنی آتش جہنم۔
حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں…
Read the full tafseer →سو جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف گروہ بنائے ان کے لیے درد دینے والا سخت ترین عذاب ہے۔
Read the full tafseer →(1) فاختلف الاحزاب من بینھم : عیسیٰ ؑ کے اس ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اختلاف سیب از نہیں آئے، بلکہ وہ عیسیٰ ؑ کی ذات کے بارے میں مزید گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض نے انھیں سچا رسول تسلیم کرلیا اور بعض نے انھیں جھوٹا اور مکار قرار دیا۔ پھر اناکار کرنے والے کئی اس حد تک جا پہنچے کہ ان کی والدہ پر تہمت لگا کر انھیں ولد الزنا قرار دیا اور اس قدر مخالفت کی کہ اپنے گمان میں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ اور ایمان لانے والے اگر کچھ راہ راست پر رہے تو بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بعض نے تین خداؤں میں سے ایک اور بعض نے اللہ ہی قرآن دے لیا اور ہر فرقے نے ایسی ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بیشمار فرقے وجود میں آکر…
Read the full tafseer →قتادہ نے کہا : یہاں من، ما کے معنی میں ہے ان کے بارے میں دو قول ہیں (1) اس سے مراد یہود و نصاری میں سے اہل کتاب ہیں انہوں نے ایک دوسرے کی مخالفت کی (1) یہ مجاہد اور سدی کا قول ہے (2) نصاری کی مختلف جماعتیں ہیں نسطوریہ، ملکیہ، یعاقبہ، انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کیا نسطوریہ نے کہا : وہ ابن اللہ ہیں : یعاقبہ نے کہا : وہ اللہ ہے : ملکیہ نے کہا : وہ تین میں سے تیسرا ہے ان میں سے ایک اللہ ہے، یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے : سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
انہوں نے کفر اور شرک کیا جس طرح سورة مریم میں ہے یعنی جس کا عذاب درد ناک ہے اسی کی مثل لیل نائم ہے اس رات میں سویا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…
Read the full tafseer →فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ [ پھر اختلاف کیا گروہوں نے ] مِنْۢ بَيْنِهِمْ ۚ [ ان کے مابین سے ] فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ [ تو تباہی ہے ان کے لئے جنھوں نے ] ظَلَمُوْا [ظلم کیا ] مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ [ ایک دردناک دن کے عذاب سے ]
Read the full tafseer →﴿ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ ﴾ (آپس میں جماعتوں کے درمیان اختلاف ہوگیا) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عقیدت رکھنے والوں نے ان کے بارے میں گروہ بندی کردی اور مختلف جماعتیں بن گئیں ایک جماعت کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ایک جماعت کہتی ہے کہ تین معبود ہیں (جیسا کہ سورة مائدہ میں ان کے قول نقل فرمائے ہیں) اور ان میں سے ایک جماعت کہتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں (جیسا کہ سورة التوبہ میں نصاریٰ کا یہ قول نقل فرمایا ہے) پھر جن لوگوں نے ان تینوں باتوں کو نہیں مانا انہوں نے بھی اس اعتبار سے کفر اختیار کرلیا کہ محمد رسول اللہ خاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →39:۔ ” فاختلف الاحزاب۔ الایۃ “۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا تو پھر انہیں کیوں پکارا گیا، تو جواب دیا گیا کہ ان کے رفع کے بعد ان کے متبعین میں اختلاف پڑگیا اور وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور ان میں سے بعض فرقوں نے ان کو معبود بنا لیا تو ایسے ظالموں کے لیے دردناک عذاب سے ہلاکت و تباہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
توحید ، رسالت اور معاد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا مشرکین کا اعتراض یہ تھا کہ اگر عابد اور معبودان باطلہ سب جہنم میں جائیں گے تو پھر مسیح (علیہ السلام) کا کیا بنے گا کیونکہ ان کی بھی تو لوگ پرستش کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کے پجاری بھی ہیں اور مذکورہ اصول کے تحت ان کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ نہ تو یہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں۔ ملائکہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو کبھی لوگوں کو اپنی پرستش کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا ان کے صرف عابد جہنم میں جائیں گے ، انہوں نے تو ہمیشہ لوگوں کو کفر اور شرک سے…
Read the full tafseer →فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِہِمْ 0 ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ 65
الاختلافُ والمخالفة
والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال :
فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37]
( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ
الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…
Read the full tafseer →فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ م بَیْنِھِمْ ج فَوَیْلٌ لِّـلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ ۔ (الزخرف : 65)
(ان کے اندر سے مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف برپا کیا، پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، ایک دردناک دن کے عذاب کی۔ )
رسوم پرستوں نے اختلافات پیدا کیے
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے واضح ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن رسوم پرستی کے خوگر لوگوں نے ان میں اختلافات کی راہیں نکال لیں۔ ایک گروہ نے انھیں ماننے سے انکار کردیا اور ان کے تمام کمالات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان پر ناجائز ولادت کی تہمت لگائی اور غلط الزامات سے انھیں حکومت کی نگاہ میں ایسا مجرم ثابت کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے پہلے عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ہورہا تھا۔ اب عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی دعوت کا ذکر کیا جاتا ہے۔
جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو انہوں نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں حکمت کی باتیں سکھلاؤں اور تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ بس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابعداری کرؤ۔ یقین جانو کہ ” اللہ “ ہی میرا اور تمہارا رب ہے صرف اسی کی عبادت کرو ! یہی صراط مستقیم ہے۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی ہدایت کے باوجود بنی اسرائیل کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ جن لوگوں نے…
Read the full tafseer →آیت 65: فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ (پس مختلف گروہوں نے باہم اختلاف ڈال لیا) اس سے وہ گروہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنے وہ مراد ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ یعقوبیہ۔ نسطوریہ۔ ملکانیہ۔ شمعونیہ۔ مِنْم بَیْنِہِمْ (نصاری کے مابین) فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس ظالموں کے لئے خرابی ہے) اس طرح کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق وہ بات کہی جس نے ان کا انکار کردیا۔ مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ (ایک پُر درد دن کے عذاب سے) اور وہ قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
63، ولما جاء عیسیٰ بالبینات قال قدجئتکم بالحکمۃ، نبوت کے ساتھ۔ ، ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ، توریت کے احکام میں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ان فرقوں کا اختلاف جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ پر کئی گروہ بن گئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل میں لائے وہ اس کا بعض ہے جس میں ان کا اختلاف ہوا اور انجیل کے علاوہ میں ان کے لیے وہ کچھ بیان کیا گیا جس کی ان کو حاجت تھی۔ ، فاتقوا اللہ واطیعون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
62۔ 67۔ اوپر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین پر آنے کو قیامت کی نشانی فرما کر یہ فرمایا تھا کہ قیامت ایک دن ضرور آنے والی ہے ان آیتوں میں فرمایا آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ تو تمام بنی آدم کو معلوم ہوچکا ہے کہ شیطان بنی آدم کا قدیمی کھلا کھلا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھاچکا ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ ہر طرح بنی آدم کو نیک راستہ سے روکے گا۔ مسند امام 2 ؎ احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو شیطان بنی آدم کو ہر طرح سے بہکانے اور نیک راستہ سے روکنے کی قسم کھاچکا ہے۔ یہ حدیث گویا اس بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
88 منکرین کے اتمام حجت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اب یہ لوگ قیامت ہی کے انتظار میں ہیں " کہ وہ ان پر بالکل اچانک ٹوٹ پڑے اور اس وقت یہ کف افسوس ملنے لگیں۔ مگر انہیں اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے۔ مطلب یہ کہ حق کی توضیح و تشریح اور ان لوگوں کی تفہیم و تذکیر میں اب کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اور کوئی فرق اب باقی نہیں رہ گیا سوائے اس کے کہ وہ دن آجائے اور اچانک وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ اور یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے رویے اور انکے طرز عمل سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ متنبہ ہونے اور قیامت کیلئے تیاری کرنے کی بجائے اس کی آمد ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ
تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 6 بعض نے انہیں سچا پیغمبر ﷺ مانا، بعض نے غلو کر کے انہیں خدا کا بیٹا بنا لیا اور بعض نے ان کی اس حد تک مخالفت کی کہ جھوٹا اور مکار قرار دیا اور انہیں سولی دینے کی سکیم بنائی۔
7 مراد آخری دو گروہ ہیں یعنی جنہوں نے انہیں خدا کا بیٹا قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی۔
8 مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →(43:65) الاحزاب : حزب کی جمع ۔ گروہ۔ ٹولیاں ۔ جماعتیں۔
من بینھم : باہم۔ آپس میں ، یعنی حضرت عیسیٰ کی امت میں سے مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف ڈال لیا۔
ویل : ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی۔ عذاب کی شدت۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ویل دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے جن بدبختوں کیلئے کلمہ ویل استعمال کیا ہے ان کا ٹھکانہ دوزخ میں بن گیا یہ مراد نہیں کہ یہ لفظ وادی دوزخ کیلئے وضع کیا گیا ہے (المفردات)
عذاب یوم الیم۔ موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف الیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے دردناک ۔ دکھ دینے والا یوم الیم ۔ دردناک دن۔ یوم آخرت۔
للذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔
(ف 2) حضرت عیسیٰ کے بعد ان کی امت کے لوگ مختلف ہوگئے آپس میں جھگڑنے لگے یہود تو حضرت عیسیٰ کی نبوت اور انجیل کے بالکل منکر ہوگئے اور نصاری نے ایک خدا کے کئی خدا ٹھہرادیے، کسی نے کہا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تھے، کسی نے کہا خدا کے بیٹے، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک کہا اور نجیل کی کی انجیلیں بنادیں ۔ پس ان ظالموں کو بڑے دن میں خرابی اور عذاب ہے ۔ اور اب بھی یہ باز نہیں آتے تو کیا قیامت کو باز آویں گے اور کیا قیامت کے منتظر ہیں کہ اچانک آجائے اور ان کو مہلت بھی نہ دے، اب آگے قیامت کے دن نفسا نفسی کا ذکر فرمایا کہ قیامت کے دن جو نفسانی شیطانی دوست تھے مثلا کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
[31] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت نہایت واضح الفاظ میں توحید ہی کی دی تھی لیکن ان کی امت میں اختلاف پڑگیا اور مختلف گروہوں نے مختلف مذہب اختیار کر لئے۔ ایک گروہ یعنی یہود نے ان کا انکار کیا، دوسرے گروہ یعنی نصاریٰ نے ان کا اقرار کیا لیکن عقیدت میں اتنا غلو کیا کہ اللہ کے درجے پر پہنچا دیا۔ پھر نصاریٰ میں بھی کئی فرقے ہوگئے۔ کوئی تو ان کو اللہ کا بیٹا کہتا ہے کوئی تین الہٰوں میں کا ایک کہتا ہے کوئی کچھ اور کہتا ہے۔ غرض عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم پر ایک بھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–69
ف 2: ان آیات میں حضرت مسیح کی پہلی بعثت کا ذکر ہے ۔ کہ جب یہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا ۔ کہ میں آیات وبراہین کے ساتھ آیا ہوں ۔ تاکہ تمہیں زندگی کے حکیمانہ نکات سے آگاہ کروں اور دین و مذہب کے نام سے جو تم نے اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کو مٹادوں ۔ اور تقویٰ و اطاعت کے جذبات سے تم میں ترقی کی روح پھونک دوں ۔ دیکھو اللہ ایک ہے ۔ وہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس کی عبادت سے منہ نہ موڑو ۔ اس تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے ۔ کہ توحید کے اسراء سے واقفیت حاصل کرو ۔ اور اپنے سر کو جبرا اس کے آشانہ جلال وقدس کے اور کسی کے سامنے نہ جھکاؤ۔
ان کی قوم نے یہ باتیں سنیں ۔ اور جب دستور ان کو کوئی اہمیت…
Read the full tafseer →(65) پھربنی اسرائیل کے بہت سے گرو آپس میں پھٹ گئے اور آپس میں اختلاف ڈال لیا۔ سوای سے ظالموں کے لئے ایک درد ناک دن کے عذاب سے بڑی تباہی اور بڑی خرابی ہے۔ یعنی یہود ان کے منکر ہوئے نصاریٰ ان کے قائل ہوئے پھر نصاریٰ میں بھی فرقے فرقے ہوگئے کوئی اقانیم ثلثہ کا قائل ہوا کسی نے ان کو اللہ کہا کسی نے خدا کا بیٹا کہا ایسے لوگوں کے لئے وعید فرمائی کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جنہوں نے اختلاف ڈال کر ابن مریم کی صحیح تعلیم کو برباد کردیا آگے منکروں کے لئے تہدید بیان فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
ف 6۔ یعنی خلاف توحید طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلئے۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل نے آپس میں اختلاف کیا
65 ؎ بنی اسرائیل مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے ہی بہت سے گروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے جیسا کہ پیچھے آیت 63 میں ذکر کیا گیا ہے تاہم ایک عقیدہ ان سب کے ہاں مشترک چلا آرہا تھا اور وہ مسیح (علیہ السلام) کی بعثت کا ہے لیکن جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اور وہ ان کی موہوم امیدوں کو پورا نہ کرسکے بلکہ ان سارے فرقوں کو مخاطب کرکے ان کے عقائد پر بحث شروع کردی اور ان کی بنائی ہوئی باتوں کے ساتھ اتفاق نہ کیا تو یہودیوں کے سارے فرقے مخالف ہوگئے اور صرف چند حواری رہ گئے جنہوں نے آپ کی سچے دل سے تصدیق کی اور اس طرح بظاہر دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
Commentary
The only real friendship is that which is in the sake of Allah
الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (Friends, on that day, will become enemies to one another, except the God-fearing 43:67). This verse tells us plainly that the friendly relations in which we take so much pride in this world, and for which we don't even care about halal (permitted) and Haram (unlawful), will be of no use on the Day of judgment, rather they will turn into enmity. In this connection, Hafiz Ibn Kathir has reproduced a discourse of Sayyidna ` Ali ؓ narrated by ` Abdur…
Read the full tafseer →58 That is, one group of the people denied him and in their antagonism went to the extent of accusing him of illegitimate birth and got him crucified as they thought; the other group believed in him but owing to exaggerated reverence made him son of God, and then the question of man's being God became such a riddle for it that every effort to resolve it caused it to be divided into countless sects. (For explanation, see An-Nisa: 171, AI-Ma'idah 17, 77,116-117 and the corresponding E.N.'s),
Read the full tafseer →