Az-Zukhruf 43:64

Az-Zukhruf · from ayah 64

43:64

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ؕ— هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ۟اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ‌ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him. This is a straight path."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:64

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راه راست (یہی) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اس لیے اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو، یہ سیدھی راہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ ہی میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ہی میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ لہذا اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہا را بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ جو ہے وہی رب ہے میرا بھی اور رب ہے تمہارا بھی یہی ہے سیدھا راستہ

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ ہی میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اللہ ہی ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے پس تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کچھ شک نہیں کہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah is my Lord and your Lord; therefore, serve Him. That is the Straight Way.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, it is Allah who is my Lord and your Lord; so worship Him. This is the straight way.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, it is Allah who is my Lord and your Lord; so worship Him. This is the straight way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, Allah! He is my Lord and your Lord. So worship Him. This is the straight path."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah, He is my Lord and your Lord. So worship Him. This is a right path.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him. This is a straight path."

— Saheeh International

God is your Lord and my Lord, so worship Him. This is the right path".

— Muhammad Sarwar

Surely Allah is my Lord and your Lord, therefore serve Him; this is the right path:

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah! He is my lord and your Lord, so worship Him: this is the straight path.

— Abdul Majid Daryabadi

"For Allah, He is my Lord and your Lord: so worship ye Him: this is a Straight Way."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–65

قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ (یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الزُّخْرُف 57 یعنی عیسیٰ ؑ نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں اور تم میری عبادت کرو، بلکہ ان کی دعوت وہی تھی جو دوسرے تمام انبیاء کی دعوت تھی اور اب جس کی طرف محمد ﷺ تم کو بلا رہے ہیں۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حواشی 45 تا 48، النساء، حواشی 213۔ 217۔ 218، المائدہ، حواشی 100۔ 130، جلد سوم، مریم، حواشی 21 تا 23)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–65

(آیت) وَلِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ (اور تاکہ میں بیان کروں تم سے بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو) چونکہ بنی اسرائیل میں عناد اور ہٹ دھرمی کا غلبہ تھا اس لئے انہوں نے بعض احکام شرعیہ میں تحریف کر ڈالی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس کی حقیقت واضح فرما دی اور ”بعض باتیں اس لئے فرمایا کہ بعض امور خالص دنیوی تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان میں اختلاف رفع کرنے کی ضرورت نہ سمجھی ہوگی۔ (بیان القرآن)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان اللہ ھو ربی و ربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم 64 حضرت عیسیٰ کی اصل دعوت توحید ہے بعینہ یہی مضمون صرف ایک لفظ کے معمولی فرق کے ساتھ آل عمران آیت 51 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم اس کی پوری وضاحت کرچکے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اصل دعوت بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے تمام نبیوں اور رسولوں کی طرح توحید ہی کی دعوت دی، اپنی یا کسی اور کی بندگی کی دعوت نہیں دی۔ آل عمران کی محولہ بالا آیت کے تحت ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ انجیلوں میں جو یہ آتا ہے کہ میرا باپ اور تمہارا باپ، اسی کی تعبیر قران نے ان اللہ ھو ری و ربکم کے الفاظ سے فرمائی ہے وہ اللہ تعالیٰ کو جس معنی میں اپنا باپ کہتے ہیں اس معنی میں دسروں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 64–65

65۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ میں نقص نکالا اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا اور ایک فرقہ مسلمانوں ہی کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–65

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یہ تعلیم تھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی۔ دیکھ لو کیسی صفائی سے خدائے واحد کی ربوبیت اور معبودیت کو بیان فرمایا ہے اور اسی توحید اور اتقاء و اطاعت رسول کو صراط مستقیم قرار دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 64 { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”یقینا اللہ ہی ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ پس تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 64–65

64 سیدنا عیسیٰ سے متعلق بنی اسرائیل کے اختلافات :۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اپنے اختلاف اور فرقہ بازی سے باز نہ آئے۔ مزید ستم یہ ڈھایا کہ سیدنا عیسیٰ کی ذات میں بھی اختلاف پیدا کرکے ان اختلافات کو اور بھی زیادہ کردیا۔ بنی اسرائیل کے ایک فرقہ نے سیدہ مریم پر تہمت لگائی اور سیدنا عیسیٰ کے ایسے دشمن بنے کہ حکومت وقت کے تعاون سے بزعم خویش انہیں سولی پر چڑھا کے دم لیا۔ اور جو لوگ سیدنا عیسیٰ پر ایمان لے آئے وہ دوسری انتہا کو جا پہنچے۔ کسی نے انہیں اللہ کا بیٹا، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک خدا اور کسی نے انہیں اللہ ہی قرار دے دیا۔ پھر اپنے اپنے موقف کی حمایت میں ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ دین کا اصل الاصول یہی مسئلہ توحید ہے۔ (آیت) ” ان ..... ربکم “۔ وہ ایک خدا جس طرح تمہارا پروردگار، میرا بھی پروردگار، جیسے تم اس کے بندے میں بھی اس کا بندہ ..... مسیحیت پر خاص زد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 57–67

آیت نمبر 57 تا 67 ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی ‘ تو تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ الْبَیِِّّنٰتِ یعنی معجزات ‘ یا انجیل کی آیات ‘ یا واضح احکام۔ الَّذِیْ تَختَلِفُوْنَ فِیْہِ حضرت موسیٰ کے بعد میل نفسانی کے زیر اثر یہودیوں کے اکہتر فرقے بن گئے۔ جب حضرت عیسیٰ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو غلط عقائد سے روکا اور راہ حق پر چلنے کی ہدایت کی۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوگئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ‘ رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ۔ زجاج نے کہا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ میرا بھی خالق ہے اور تمہارا بھی خالق ہے اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ یہی توحید پسندیدہ دین ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان اللہ ھو ربی وربکم : یہ ہے وہ حکمت جس کے لئے تمام انبیاء مبعوث ہوئے۔”ربی و ربکم“ خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے اور ضمیر فصل ”ھو“ لانے سے تاکید مزید ہوگئی ہے کہم یرا رب اور تمہارا رب صرف اللہ ہے، کوئی فرشتہ یا پیغمبر یا کوئی اور رب نہیں۔ (2) فاعبدوہ : فاء تعلیل کے لئے ہے، یعنی جب ”رب“ (پرورش کرنے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہے تو عبادت بھی اسی کی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ عیسیٰ ؑ کا یہ کلام نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں خود اللہ ہوں یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہوں، اس لئے تم میری عبادت کرو، بلکہ ان کی دعوت وہی تھی جو تمام انبیاء ؑ کی تھی اور جس کی طرف محمد (ﷺ)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–64

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بینات سے مراد مردوں کو زندہ کرنا، مریضوں کو صحت مند کرنا، پرندوں کو بنانا، دستر خوانوں کا نزول وغیرہ اور بہت سی غیب کی خبریں دینا۔ قتادہ نے کہا : یہاں بینات سے مراد انجیل ہے۔ حکمت سے مراد نبوت ہے، یہ سدی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد ایسا علم ہے جو نیکی کی طرف لے جائے اور برائی سے روک دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد انجیل ہے : یہ قشیری اور ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : مراد ہے جو تورات میں تبدیلی کی گئی (1) زجاج نے کہا : میں انجیل میں بعض ایسی چیزیں تمہارے لئے بیان کر دوں گا تورات میں تبدیلی کے متعلق تم جن میں باہم اختلاف کرتے ہو۔ مجاہد نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–65

1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ [ وہی میرا رب ہے اور تم سب کا رب ہے ] فَاعْبُدُوْهُ ۭ [ تو تم لوگ بندگی کرو اس کی ] ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ [ یہ ایک سیدھا راستہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ﴾ (بلاشبہ اللہ ہی تمہارا رب ہے اور میرا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو) ﴿هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ0061﴾ (یہ سیدھا راستہ ہے) معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو معجزات ظاہر فرمائے تھے (جن میں مردوں کا زندہ کرنا اور مٹی کی چڑیا بنا کر اس میں روح پھونک کر اڑا دینا بھی تھا) ان کی وجہ سے اندازہ فرما لیا تھا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد لوگ میرے معبود ہونے کا عقیدہ بنا سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے پہلے ہی تردید کردی، نصاریٰ پر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمہارا رب ہے اور تم اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–64

تردید خصومت مشرکین دربارہ توحید و دعوت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا ....... الی ....... ھذا صراط مستقیم “۔ (ربط) سابقہ مضامین انبیاء سابقین کی تعلیم کے بیان پر مشتمل تھے کہ ہر پیغمبر کی دعوت وتعلیم توحید ہی رہی ہے، اور اب نبی آخر الزمان محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اسی توحید کی دعوت دی ہے تو پھر کفار قریش کو اس دعوت پر کیا تامل اور اعتراض ہے اور وہ دعوت توحید جس پر ہر پیغمبر کا اتفاق رہا کیوں نہیں اس کو قبول کرتے، اب ان آیات میں کفار کے ایک معاندانہ اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کا منشاء نصاری کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنانا تھا، اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ ” ان اللہ ربی۔ الایۃ “ یہ مشرکین کے شب ہے کا جواب ہے۔ نیز یہ وہ حکم ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا۔ یہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم کہ اللہ تعالیٰ میرا اور تم سب کا مالک و کارساز ہے۔ اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو، اس کی عبادت اور پکارو میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ یہی صراط مستقم اور سیدھی راہ ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کسی کو بھی اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ بعد میں مفسد اور گمراہ پادریوں نے ان کی عبادت کی اور لوگوں کو اس شرک کی تعلیم بھی دی۔ بیان لما امرھم بالطاعۃ فیہ وھو اعتقاد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–67

توحید ، رسالت اور معاد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا مشرکین کا اعتراض یہ تھا کہ اگر عابد اور معبودان باطلہ سب جہنم میں جائیں گے تو پھر مسیح (علیہ السلام) کا کیا بنے گا کیونکہ ان کی بھی تو لوگ پرستش کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کے پجاری بھی ہیں اور مذکورہ اصول کے تحت ان کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ نہ تو یہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں۔ ملائکہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو کبھی لوگوں کو اپنی پرستش کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا ان کے صرف عابد جہنم میں جائیں گے ، انہوں نے تو ہمیشہ لوگوں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ ہُوَرَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْہُ۝ 0 ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ۝ 64 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–67

تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ رَبِّیْ وَرَبُّـکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ (الزخرف : 64) (بےشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل دعوت صرف رسوم اور الفاظ کی بحث میں پڑے رہنا اور روح دین کی طرف توجہ نہ کرنا، اس کی ایک واضح مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت ہے۔ آپ نے بالکل وہی دعوت اپنی قوم کے سامنے پیش کی جس کے داعی بن کر تمام رسولانِ گرامی تشریف لائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات اور اپنے حقوق میں یکتا اور بےمثال ہے۔ کسی حوالے سے بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس لیے اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–66

فہم القرآن ربط کلام : اس آیت سے پہلے عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ہورہا تھا۔ اب عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی دعوت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو انہوں نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں حکمت کی باتیں سکھلاؤں اور تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ بس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابعداری کرؤ۔ یقین جانو کہ ” اللہ “ ہی میرا اور تمہارا رب ہے صرف اسی کی عبادت کرو ! یہی صراط مستقیم ہے۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی ہدایت کے باوجود بنی اسرائیل کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ جن لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 64: اِنَّ اللّٰہَ ہُوَرَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (بےشک اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے) یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا تکملہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 64–66

63، ولما جاء عیسیٰ بالبینات قال قدجئتکم بالحکمۃ، نبوت کے ساتھ۔ ، ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ، توریت کے احکام میں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ان فرقوں کا اختلاف جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ پر کئی گروہ بن گئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل میں لائے وہ اس کا بعض ہے جس میں ان کا اختلاف ہوا اور انجیل کے علاوہ میں ان کے لیے وہ کچھ بیان کیا گیا جس کی ان کو حاجت تھی۔ ، فاتقوا اللہ واطیعون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–67

62۔ 67۔ اوپر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین پر آنے کو قیامت کی نشانی فرما کر یہ فرمایا تھا کہ قیامت ایک دن ضرور آنے والی ہے ان آیتوں میں فرمایا آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ تو تمام بنی آدم کو معلوم ہوچکا ہے کہ شیطان بنی آدم کا قدیمی کھلا کھلا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھاچکا ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ ہر طرح بنی آدم کو نیک راستہ سے روکے گا۔ مسند امام 2 ؎ احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو شیطان بنی آدم کو ہر طرح سے بہکانے اور نیک راستہ سے روکنے کی قسم کھاچکا ہے۔ یہ حدیث گویا اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–65

آیت 57 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–64

85 اللہ کا خوف اور پیغمبر کی اطاعت ذریعہ نجات : عیسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔ ان تمام چیزوں میں جن کا تعلق دین و شریعت سے ہے کہ وہ تو تمہاری عقلوں کے احاطہ و ادارک سے باہر ہیں۔ بخلاف ان دنیاوی امور کے جو تمہاری عقل میں آسکتے ہیں کہ ان میں تم لوگ شریعت کی مقرر فرمود حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی عقل و فکر اور فہم و فراست سے کام لے سکتے ہو جیسا کہ تابیر نخل کے قصے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ " اَنْتُمْ اَعْلَمُ بَاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دِیْنِکُمْ " ۔ سو دنیاوی امور میں تو انسان محض اپنی عقل و فکر کی بنا پر کام کرسکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–67

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–67

آیات 55 تا 67۔ اسرار ومعارف۔ اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–65

ف 6 بعض نے انہیں سچا پیغمبر ﷺ مانا، بعض نے غلو کر کے انہیں خدا کا بیٹا بنا لیا اور بعض نے ان کی اس حد تک مخالفت کی کہ جھوٹا اور مکار قرار دیا اور انہیں سولی دینے کی سکیم بنائی۔ 7 مراد آخری دو گروہ ہیں یعنی جنہوں نے انہیں خدا کا بیٹا قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی۔ 8 مراد قیامت کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:64) ھذا صراط مستقیم : قد جئتکم بالحکمۃ سے لے کر ھذا صراط مستقیم تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–67

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست) تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–64

(ف 2) اب یہاں خود عیسیٰ (علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا، جب عیسیٰ رسول ہوکر معجزے امرونہی لے کر دنیا میں آئے تھے تو کہا تھا کہ میں خدا کا قاصد ہوں حکمت لایاں ہوں امر ونہی اسرار نبوت سکھاتا ہوں اور جو یہود نے اختلاف ڈال رکھا تھا عیسیٰ نے اس اختلاف کو رفع کردیا اور فرمایا اے یہود تم خدا سے ڈرو اور اس کا کہا مانو میری نصیحت وصیت کی اطاعت کرو میں بندہ ہوں اللہ میرا تمہارا پروردگار ہے خالق ہے پس اے لوگو توحید مانو، اسی کی پوجا کرو بس یہی صراط مستقیم ہے اور سو اس کے مذاہب باطل یہی مذہب مقبول وپسندیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–65

[31] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت نہایت واضح الفاظ میں توحید ہی کی دی تھی لیکن ان کی امت میں اختلاف پڑگیا اور مختلف گروہوں نے مختلف مذہب اختیار کر لئے۔ ایک گروہ یعنی یہود نے ان کا انکار کیا، دوسرے گروہ یعنی نصاریٰ نے ان کا اقرار کیا لیکن عقیدت میں اتنا غلو کیا کہ اللہ کے درجے پر پہنچا دیا۔ پھر نصاریٰ میں بھی کئی فرقے ہوگئے۔ کوئی تو ان کو اللہ کا بیٹا کہتا ہے کوئی تین الہٰوں میں کا ایک کہتا ہے کوئی کچھ اور کہتا ہے۔ غرض عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم پر ایک بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–69

ف 2: ان آیات میں حضرت مسیح کی پہلی بعثت کا ذکر ہے ۔ کہ جب یہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا ۔ کہ میں آیات وبراہین کے ساتھ آیا ہوں ۔ تاکہ تمہیں زندگی کے حکیمانہ نکات سے آگاہ کروں اور دین و مذہب کے نام سے جو تم نے اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کو مٹادوں ۔ اور تقویٰ و اطاعت کے جذبات سے تم میں ترقی کی روح پھونک دوں ۔ دیکھو اللہ ایک ہے ۔ وہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس کی عبادت سے منہ نہ موڑو ۔ اس تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے ۔ کہ توحید کے اسراء سے واقفیت حاصل کرو ۔ اور اپنے سر کو جبرا اس کے آشانہ جلال وقدس کے اور کسی کے سامنے نہ جھکاؤ۔ ان کی قوم نے یہ باتیں سنیں ۔ اور جب دستور ان کو کوئی اہمیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(64) بلا شبہ اللہ تعالیٰ جو ہے وہی میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے سو تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ ہے اس میں کہیں ان کے معبود ہونے کا ذکر نہیں ، بنیات سے مراد معجزات مختلف فیہ سے مراد وہ بعض دینی مسائل جس میں بعض لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی میرا رب ہے اور تمہارا بھی ، عبادت اسی کی ہے اور یہی سیدھی راہ ہے 64 ؎ عیسیٰ (علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح دوسرے نبیوں اور رسولوں کی عمروں کے مقابلہ میں بہت پہلے ہی نبوت و رسالت سے سرفراز فرمادیا گیا تھا اور وہ لوگوں تک بچپنے ہی سے نبوت و رسالت کا پیغام پہنچانے لگے تھے اور ان کا سب سے پہلا اعلان و فرمان یہی تھا کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ ہی میرا رب ہے اور تمہارا بھی میں بھی اسی کی عبادت کرتا ہوں اور تم بھی اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ اچھی طرح سن لو کہ میں نہ تو خدا ہوں اور نہ ہی خدا کا بیٹا اور نہ ہی میں نے یہ کہا ہے کہ تم میری عبادت کرو بلکہ میری دعوت تو وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–67

Commentary The only real friendship is that which is in the sake of Allah الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (Friends, on that day, will become enemies to one another, except the God-fearing 43:67). This verse tells us plainly that the friendly relations in which we take so much pride in this world, and for which we don't even care about halal (permitted) and Haram (unlawful), will be of no use on the Day of judgment, rather they will turn into enmity. In this connection, Hafiz Ibn Kathir has reproduced a discourse of Sayyidna ` Ali ؓ narrated by ` Abdur…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

57 That is, "The Prophet Jesus himself had never claimed that he was God or son of God, and that the people should worship him, but, on the contrary, his message was the same as of all other Prophets, the same as was now being conveyed to you through Muhammad (upon whom be Allah's peace)." (For explanation, see Al-`Imran: 50-51, An-Nisa: 171-172, Al-Ma'idah: 72, 116-117, Maryam: 30-36).

Read the full tafseer →