Az-Zukhruf 43:67

Az-Zukhruf · from ayah 67

43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىِٕذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ۟ؕ۠اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Close friends, that Day, will be enemies to each other, except for the righteous

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:67

وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سارے دوست و احباب اُس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے (انہی کی دوستی اور ولایت کام آئے گی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن پرہیزگاروں کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے بجز خدا ترسوں کے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس دن گہرے دوست بھی آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگار لوگوں کے

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز (دنیا کے) جگری دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر ہاں متقین (نہیں)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بہت گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے متقین کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو آپس میں دوست ہیں اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگار کہ وہ (اس دن) آپس میں دوست ہی رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day even bosom friends shall become enemies to one another, all except the God-fearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Friends, on that day, will become enemies to one another, except the God-fearing,

— Muhammad Taqi Usmani

Friends, on that day, will become enemies to one another, except the God-fearing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Friends on that Day will be foes one to another except those who have Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Friends on that day will be foes one to another, save those who kept their duty (to Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Close friends, that Day, will be enemies to each other, except for the righteous

— Saheeh International

All intimate friends on that day will become each others enemies except for the pious,

— Muhammad Sarwar

The friends shall on that day be enemies one to another, except those who guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

The intimate friends on that Day Will be hostile Unto one another save the God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

Friends on that day will be foes, one to another,- except the Righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–73

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–67

سورة الزُّخْرُف 59 دوسرے الفاظ میں صرف وہ دوستیاں باقی رہ جائیں گی جو دنیا میں نیکی اور خدا ترسی پر قائم ہیں۔ دوسرے تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی، اور آج گمراہی، ظلم و ستم اور معصیت میں جو لوگ ایک دوسرے کے یار و مددگار بنے ہوئے ہیں، کل قیامت کے روز وہی ایک دوسرے پر الزام ڈالنے اور اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اسی دنیا میں اچھی طرح سوچ لے کہ کن لوگوں کا ساتھ دینا اس کے لیے مفید ہے اور کن کا ساتھ تباہ کن۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–77

معارف و مسائل دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض علدو الا المتقین 67 روز قیامت کی نفسی نفسی یعنی اس دنیا میں تو ان کو اپنے دوستوں، مددگاروں، اپنی قوم و قبیلہ اور اپنے شرکاء و شفعاء پر بھروسا ہے اور اس بھروسے نے انہیں آخرت سے بالکل نچنت کر رکھا ہے لیکن آگے جو دن آنے والا ہے اس دن کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار اور عزیز سے عزیز دوست بھی کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا بلکہ یہ سارے دوست آخرت میں باہمدگردشمن بن جائیں گے کہ ان کی یہ باہمی دوستی ہی ان کے لئے اس ابدی تباہی کا موجب ہوئی۔ اگر یہ ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہ ہوتے بلکہ اپنے خیر و شر پر آزادی و سنجیدگی سے غور کرتے تو نبی اور اس کے ساتھیوں کے کلمہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–68

68۔ 2 یہ قیامت والے دن ان متقین کو کہا جائے گا جو دنیا میں صرف اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی اس کی فضیلت ہے۔ بلکہ اللہ کے لئے بغض اور اللہ کے لئے محبت کو کمال ایمان کی بنیاد بتلایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–77

19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اس دن دوست سے دوست بھاگے گا کہ اس کے سبب سے کہیں میں نہ پکڑا جاؤں۔ دنیا کی سب دوستیاں اور محبتیں منقطع ہوجائیں گی۔ آدمی پچھتائے گا کہ فلاں شریر آدمی سے دوستی کیوں کی تھی جو اس کے اکسانے سے آج گرفتار مصیبت ہونا پڑا۔ اس وقت بڑا گرمجوشی محب محبوب کی صورت دیکھنے سے بیزار ہوگا۔ البتہ جن کی محبت اور دوستی اللہ کے واسطے تھی اور اللہ کے خوف پر مبنی تھی وہ کام آئے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 { اَلْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍم بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ”بہت گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘ سوائے متقین کے۔“ دنیا کی تمام دوستیاں اس دن دشمنیوں میں بدل جائیں گی ‘ سوائے مومنین ِصادقین کی باہمی دوستیوں کے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–67

65 قیامت کو دینی دوستی کے علاوہ سب قسم کے دوست باہم دشمن بن جائیں گے :۔ قیامت کے دن صرف وہ دوستی برقرار رہے گی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اور اللہ کے دین کی خاطر ایک دوسرے سے دنیا میں دوستی رکھی ہوگی باقی سب قسم کی دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اور ایسی دوستیاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً مشرکوں کی اپنے بتوں سے محبت اور آپس میں دوستی۔ اسلام کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں ہر قسم کے کافروں سے دوستی۔ مجرموں کی مجرموں سے جیسے ڈاکوؤں کی ڈاکوؤں سے دوستی، دنیوی مفادات کی خاطر دوستی۔ ایسی سب دوستیاں اور رشتے نہ صرف یہ کہ منقطع ہوجائیں گے بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ عالم آخرت کشف حقائق کا عالم ہے۔ دنیا کی جتنی بھی دوستیوں، محبتوں کیب بنیاد باطل پر ہے سب کا بطلان و فساد اس وقت قدرۃ آئینہ ہوکر رہے گا۔ اور ان دوستوں اور محبوں سے نفرت وبیزاری بھی اسی درجہ شدت کے ساتھ پیدا ہوجانی ناگزیر ہے۔ بخلاف اس کے جن دوستیوں، محبتوں کی بنیاد حق وصلاح پر ہوگی، ان کا نفع واجر بھی قدرۃ اس وقت پوری طرح مشاہدہ میں آئے گا۔ اور اس لئے ایسے محبوبوں کے ساتھ محبت اور بڑھے گی،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 57–67

آیت نمبر 57 تا 67 ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا خلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین۔ تمام (دنیوی) دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ‘ بجز اللہ سے ڈرنے والوں کے (اہل ایمان کو حق تعالیٰ کی طرف سے ندا ہوگی :)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تمام شرکیہ دوست جیسا کہ عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف قیامت میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو : یہ اس دن کے عذاب الیم کی ہولناکی کا کچھ بیان ہے۔ اس دن متقین کے سوا تمام دلی دوستوں کے ایک دوسرے کے دشمن ہوجانے کا خاص طور پر ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین نے دنیا میں ایک دوسرے کی دوستی ہی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں ایکا کیا ہوا تھا اور باہمی گٹھ جوڑ ہی کی وجہ سے شرک پر جمے ہوئے تھے۔ یہی دوستی قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے گی اور ہر شخص دور سے کو اپنی بربادی کا باعث قرار دے گا اور کہے گا :(یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلاً) (الفرقان : 28)”ہائے میری بربادی کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کا اپنی قوم سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یوم سے مراد یوم قیامت ہے۔ یعنی وہ دشمن ہیں جو ایک دوسرے سے دشمنی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں : کیونکہ وہی دنیا و آخرت میں دوست ہیں : یہ معنی حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے نقاش نے حکایت بیان کی ہے کہ یہ آیت امیہ بن خلف حجمی، عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی وہ دونوں دوست تھے (1) عقبہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھا تھا قریش نے کہا : عقبہ بن ابی معیط صابی ہوگیا۔ امیہ نے اس سے کہا : اگر تو محمد سے ملا اور تو نے اس کے منہ پر نہ تھوکا تو میرا تجھ سے ملنا حرام ہوگا۔ عقبہ نے ایسا ہی کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے قتل کی نذر مانی اور اسے غزوہ بدر کے موقع پر قتل کردیا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–71

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن معاذ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کا دن ہوگا۔ تو (آپس میں) رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی اور نسبت کمزور پڑجائیں گی اور بھائی چارہ بھی جاتا رہے گا مگر اللہ کے لئے جو بھائی چارہ تھا (وہ باقی رہے گا) اسی کو فرمایا (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ (تمام دنیوی دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے خدا سے ڈرنے والوں کے) دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرنے والے آپس میں دشمن ہوں گے : 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ سے مراد ہے دنیا میں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلْاَخِلَّاۗءُ [ سارے جگری دوست ] يَوْمَىِٕذٍۢ [ اس دن ] بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ [ ان کا کوئی کسی کے لئے ] عَدُوٌّ [ دشمن ہواگا ] اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ [ سوائے پرہیزگاروں کے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 67 ۔ میں یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے ، قیامت کے روز نہ صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گے بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ اسی لئے دنیا اور آخرت دونوں کے لحاظ سے بہترین دوستی وہ ہے جو اللہ کیلئے ہو ۔ جن دو مسلمانوں میں صرف اللہ کے لئے محبت ہوتی ہے ، احادیث میں ان کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ کہ میدان حشر میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن دنیا والے دوست آپس میں دشمن ہوں گے، نیک بندوں کو کوئی خوف اور رنج لاحق نہ ہوگا انہیں جنت میں جی چاہی نعمتیں ملیں گی جن سے آنکھوں کو بھی لذت حاصل ہوگی ان آیات میں قیامت کے دن کے بعض انعامات کا اور اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں دوست تھے قیامت کے دن آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائے گے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ﴿ يَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ﴾ یہ جو دنیا میں دوستی ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو ایمان پر نہیں آنے دیتے قیامت کے دن وبال بن جائے گی اور آپس کی دوستی کرنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ﴿اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ ﴾ ہاں جو لوگ متقی تھے کفر و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 66–67

40:۔ ” ھل ینظرون “ یہ مشرکین قریش کے لیے تخویف اخروی ہے۔ یہ مشرکین ایمان نہیں لاتے۔ وہ قیامت کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے۔ تمام مشرکین جو دنیا میں نہایت ہی گہرے دوست ہیں قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور ایک دوسرے کو طعن و ملامت کریں گے اور ہر ایک گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گا۔ یعادی بعضہم بعضا ویلعن بعضہم بعضا (قرطبی ج 16 ص 109) ۔ البتہ ایمان والوں کی باہمی دوستی قائم رہے گی اور اس میں کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ ” الا المتقین “ استثناء منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–67

توحید ، رسالت اور معاد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا مشرکین کا اعتراض یہ تھا کہ اگر عابد اور معبودان باطلہ سب جہنم میں جائیں گے تو پھر مسیح (علیہ السلام) کا کیا بنے گا کیونکہ ان کی بھی تو لوگ پرستش کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کے پجاری بھی ہیں اور مذکورہ اصول کے تحت ان کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ نہ تو یہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں۔ ملائکہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو کبھی لوگوں کو اپنی پرستش کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا ان کے صرف عابد جہنم میں جائیں گے ، انہوں نے تو ہمیشہ لوگوں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلْاَخِلَّاۗءُ يومئذبَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ۝ 67 ۭ ۧ خلیل : المودّة، إمّا لأنّها تتخلّل النّفس، أي : تتوسّطها، وإمّا لأنّها تخلّ النّفس، فتؤثّر فيها تأثير السّهم في الرّميّة، وإمّا لفرط الحاجة إليها، يقال منه : خاللته مُخَالَّة وخِلَالًا فهو خلیل، وقوله تعالی: وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْراهِيمَ خَلِيلًا [ النساء/ 125] ، قيل : سمّاه بذلک لافتقاره إليه سبحانه في كلّ حال الافتقار المعنيّ بقوله : إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] ، وعلی هذا الوجه قيل :( اللهمّ أغنني بالافتقار إليك ولا تفقرني بالاستغناء عنك) وقیل : بل من الخلّة، واستعمالها فيه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–67

تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَ لْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ م بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّالْمُتَّقِیْنَ ۔ (الزخرف : 67) (اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، سوائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے۔ ) قیامت کے روز نفسی نفسی آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی دینے کے بعد کہ قیامت کے بارے میں ان کی بےنیازیوں سے آپ کوئی اثر قبول نہ کریں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو کسی حد تک بھی غور و فکر کے عادی ہیں سوچنے کی بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ منکرینِ قیامت کو جس چیز نے سہارا دے رکھا ہے اور یہ چند روزہ زندگی ان کے لیے محبوب اور محترم ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ صرف ان کے باہمی دوستانہ تعلقات ہیں اور ایک دوسرے پر وہ اعتماد ہے جس نے ان کو ایک دوسرے کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–70

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں میں شرک کی ابتدا حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی محبت میں غلو کی بنا پر ہوئی۔ جس وجہ سے قیامت کے دن کے بارے میں بتلایا ہے کہ اس دن متقین کی دوستی کے علاوہ کسی کی دوستی اور محبت باقی نہیں رہے گا۔ قیامت کے لمحات کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ قیامت کے تین مراحل جب کوئی کسی کو یاد نہیں کریگا : (عَنْ عَاءِشَۃ أَنَّہَا ذَکَرَتِ النَّارَ فَبَکَتْ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا یُبْکِیک قالَتْ ذَکَرْتُ النَّارَ فَبَکَیْتُ فَہَلْ تَذْکُرُونَ أَہْلِیکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَمَّا فِی ثَلاَثَۃِ مَوَاطِنَ فَلاَ یَذْکُرُ أَحَدٌ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مؤمنین کے علاوہ پر دوستی منقطع : آیت 67: اَ لْاَخِلَّآئُ یہ جمع خلیل کی ہے۔ یَوْمَئِذٍم (قیامت کے دن) بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہونگے سوائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے) المتقین سے مؤمنین مراد ہیں۔ : یومئذ کا نصب یہ عدوٌ کی وجہ سے ہے۔ تقدیر کلام تنقطع فی ذلک الیوم کل خلۃ بین المتخالین فی غیر ذات اللّٰہ۔ اس دن تمام دوستیاں جو دوستوں کے مابین ہونگی وہ سب منقطع ہوجائینگی وہ دوستیاں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ اور کسی غرض سے ہونگی۔ اور غصے اور ناراضگی میں بدل جائیں گی۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی کرنے والوں کی دوستی باقی رہے گی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

66، ھل ینظرون، نہیں وہ انتظار کرتے ۔ ، الا الساعۃ، یعنی وہ ان کے پاس آئے گی یقینا پس گویا کہ وہ اس کا انتظار کررہے ہیں۔ ، ان تاتیھم بغتہ، اچانک، وھم لایشعرون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–67

62۔ 67۔ اوپر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین پر آنے کو قیامت کی نشانی فرما کر یہ فرمایا تھا کہ قیامت ایک دن ضرور آنے والی ہے ان آیتوں میں فرمایا آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ تو تمام بنی آدم کو معلوم ہوچکا ہے کہ شیطان بنی آدم کا قدیمی کھلا کھلا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھاچکا ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ ہر طرح بنی آدم کو نیک راستہ سے روکے گا۔ مسند امام 2 ؎ احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو شیطان بنی آدم کو ہر طرح سے بہکانے اور نیک راستہ سے روکنے کی قسم کھاچکا ہے۔ یہ حدیث گویا اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–73

آیت 66 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

89 قیامت کے روز گہرے دوست بھی دشمن ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز گہرے دوست بھی دشمن بن جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے "۔ یعنی دنیا کی ہر دوستی اس روز دشمنی میں بدل جائے گی بجز اس دوستی کے جو ایمان وتقویٰ کی بنیاد پر اور خالص اللہ پاک کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو کہ ایسی پاکیزہ دوستی اس روز بھی باقی رہے گی اور کام آئے گی۔ سو اصل تعلق دین و ایمان کا تعلق ہے۔ پس اب ہر شخص خود دیکھ لے اور اپنا محاسبہ خود کرلے کہ اس کی دوستیاں کس کس کے ساتھ اور کس کس اساس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–67

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–67

آیات 55 تا 67۔ اسرار ومعارف۔ اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

ف 9 یعنی صرف انہی لوگوں کی دوستی باقی رہے گی جو دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے دوستی رکھتے تھے۔ دوسری تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:67) الاخلائ۔ دوست ۔ احاب ۔ خیل کی جمع ہے۔ الاخلا مبتدا ۔ عدو خبر۔ یومئذ یوم اسم ظرف منصوب اذ مضاف الیہ اس روز۔ اس واقعہ کے دن (ای یوم الساعۃ۔ روز قیامت) بعضہم مضاف مضاف الیہ۔ لبعض۔ لام حرف جار بعض مجرور۔ یومئذ اور بعضھم لبعض متعلق خبر۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو مبتداء اپنی خبر اور متعلق خبر کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہے۔ اس روز ان میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ یعنی دنیوی دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ الا المتقین۔ استثناء متصل۔ کلام مثبت تام میں مستثنیٰ منصوب آتا ہے لہٰذا المتقین منصوب آیا ہے اتقاء (افتعال) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ منصوب ہے تقوی رکھنے والے۔ خدا سے ڈرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–67

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست) تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–67

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) حضرت عیسیٰ کے بعد ان کی امت کے لوگ مختلف ہوگئے آپس میں جھگڑنے لگے یہود تو حضرت عیسیٰ کی نبوت اور انجیل کے بالکل منکر ہوگئے اور نصاری نے ایک خدا کے کئی خدا ٹھہرادیے، کسی نے کہا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تھے، کسی نے کہا خدا کے بیٹے، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک کہا اور نجیل کی کی انجیلیں بنادیں ۔ پس ان ظالموں کو بڑے دن میں خرابی اور عذاب ہے ۔ اور اب بھی یہ باز نہیں آتے تو کیا قیامت کو باز آویں گے اور کیا قیامت کے منتظر ہیں کہ اچانک آجائے اور ان کو مہلت بھی نہ دے، اب آگے قیامت کے دن نفسا نفسی کا ذکر فرمایا کہ قیامت کے دن جو نفسانی شیطانی دوست تھے مثلا کافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 66–67

[32] اس دن دوست دوست سے بھاگے گا کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں۔ دنیا کی سب دوستیاں اور محبتیں منقطع ہوجائیں گی۔ آدمی پچھتائے گا کہ فلاں شریر آدمی سے دوستی کیوں کی تھی جس کے اکسانے سے مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔ البتہ جن کی دوستی اللہ کے واسطے اور اللہ کے خوف پر مبنی تھی وہ وہاں قائم رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–69

ف 2: ان آیات میں حضرت مسیح کی پہلی بعثت کا ذکر ہے ۔ کہ جب یہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا ۔ کہ میں آیات وبراہین کے ساتھ آیا ہوں ۔ تاکہ تمہیں زندگی کے حکیمانہ نکات سے آگاہ کروں اور دین و مذہب کے نام سے جو تم نے اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کو مٹادوں ۔ اور تقویٰ و اطاعت کے جذبات سے تم میں ترقی کی روح پھونک دوں ۔ دیکھو اللہ ایک ہے ۔ وہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس کی عبادت سے منہ نہ موڑو ۔ اس تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے ۔ کہ توحید کے اسراء سے واقفیت حاصل کرو ۔ اور اپنے سر کو جبرا اس کے آشانہ جلال وقدس کے اور کسی کے سامنے نہ جھکاؤ۔ ان کی قوم نے یہ باتیں سنیں ۔ اور جب دستور ان کو کوئی اہمیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(67) اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر اہل تقویٰ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دن دوست سے دوست بھاگے گا کہ اس کے سبب سے میں نہ پکڑا جائوں۔ یعنی اہل ایمان کی دوستیاں باقی رہیں گی دنیا کے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے دوستیاں اور دوستانے اہل دنیا کے دشمنیوں سے بدل جائیں گے کیونکہ اس دن باطل کی دوستی کا ضرر اور حق کی دوستی کا نفع ظاہر ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس روز تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے متقین کے 67 ؎ آج اس دنیا میں جن آسروں اور وسیلوں پر ان لوگوں کا انحصار ہے اور جس بل بوتے پر یہ سب کچھ کرتے چلے جا رہے ہیں کہ ہمارے پیر ، بزرگ اور دوست و احباب ہماری سفارش کرکے ہم کو آنکھ جھپکتے آزاد کرادیں گے جب وہ وقت آئے گا تو وہ اس طرح آنکھیں پھیرجائیں گے گویا کہ وہ ان کو جانتے ہی نہیں اور سارے تعلقات ختم ہو کر رہ جائیں گے اور یہ بات فطری ہے کہ جس سے جس قدر پیار و محبت زیادہ ہوتا ہے اس سے اگر خدا نہ کرے دشمنی ہوجائے تو بھی اتنی ہی شدت اختیار کرجاتی ہے جتنی کہ دوستی تھی اور اس جگہ اس فطری حقیقت کا بیان ہے کہ جن لوگوں کے آسرے اور سہارے پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–67

Commentary The only real friendship is that which is in the sake of Allah الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (Friends, on that day, will become enemies to one another, except the God-fearing 43:67). This verse tells us plainly that the friendly relations in which we take so much pride in this world, and for which we don't even care about halal (permitted) and Haram (unlawful), will be of no use on the Day of judgment, rather they will turn into enmity. In this connection, Hafiz Ibn Kathir has reproduced a discourse of Sayyidna ` Ali ؓ narrated by ` Abdur…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–67

59 In other words, only those friendships will remain unaffected which are based on righteousness and piety in the world; alI other friendships will turn into enmities, and those who are cooperating with one another in deviation, tyranny and wickedness today, will on the Day of Resurrection, put the blame on others and try to escape. This subject has been treated repeatedly at many places in the Qur'an so that every person in this very world may fully realize with whom it would be beneficial for him to cooperate and with whom it is harmful.

Read the full tafseer →