Explained with ayahs 57–65
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ
(یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 55
اس فقرے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت کے علم کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ " وہ ‘’‘ سے کیا چیز مراد ہے ؟ حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر کے نزدیک اس سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن سے آدمی یہ علم حاصل کرسکتا ہے کہ قیامت آئے گی۔ لیکن یہ تفسیر سیاق وسباق سے بالکل غیر متعلق ہے۔ سلسلہ کلام میں کوئی قرینہ ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ اشارہ قرآن کی طرف ہے۔ دوسرے مفسرین قریب قریب بالاتفاق یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں اور یہی سیاق وسباق کے لحاظ سے درست ہے۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب کو قیامت کی نشانی یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(آیت) وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (اور بلاشبہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کا یقین کرنے کے لئے ایک ذریعہ ہیں) کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک وہ جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوئی، یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کا خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر ظاہری اسباب کے بھی لوگوں کو پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا دو بار آسمان سے نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔ اس مسئلہ کی کچھ تفصیل سورة آل عمران میں (آیت) انی متوفیک ورافعک الی۔ میں ص 69 ج 2 پر اور کچھ سورة مائدہ میں ص 279 ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا اصراط مستقیم ولایصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (62-61)
حضرت عیسیٰ کے نشانی قیامت ہونے کے بعض پہلو
یہ نبی ﷺ کی زبان مبارک سے جھگڑنے والوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش نہ کرو۔ حضرت عیسیٰ کو جس حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ معبود یا ابن اللہ ہیں بلکہ وہ توحید کے داعی اور قیامت کا علم یعنی اس کی ایک قاطع حجت ہیں تو قیامت کے باب میں شک میں نہ پڑو اور مناظرہ بازی میں الجھنے اور الجھانے کے بجائے میری پیروی کرو۔ ہدایت اور فلاح کی سیدھی راہ یہی ہے۔
حضرت عیسیٰ کے قیامت کی بہت بڑی حجت ہونے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →61۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جیسا کہ، صحیح متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ یہ نزول اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت قریب ہے اس لئے بعض نے اسے عین اور لام کے زبر کے ساتھ (عَلَم) پڑھا ہے، جس کے معنی نشانی اور علامت کے۔
Read the full tafseer →18: یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کا باپ کے بغیر پیدا ہونا قیامت میں تمام انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بھی ایک دلیل ہے، کیونکہ دوسری زندگی پر کافروں کو یہی تو اعتراض ہے کہ ایسا ہونا بہت عجیب اور خلاف عادت ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی خلاف عادت اور عجیب تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ واقعہ ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت سے تمام مردوں کو دوسری زندگی ملے گی۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جو حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اختیار فرمائی ہے۔ اور دوسرے بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کی علامتوں میں سے ہیں، یعنی وہ قیامت کے قریب آسمان سے دوبارہ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
درس نمبر 233 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…
Read the full tafseer →4 یعنی حضرت مسیح کا اول مرتبہ آنا تو خاص نبی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا کہ بدون باپ کے پیدا ہوئے اور عجیب و غریب معجزات دکھلائے اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کرلیں گے کہ قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 61 { وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ } ”اور یقینا وہ قیامت کی ایک علامت ہے“
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ورود اوّل میں بنی اسرائیل کے لیے نشانی یعنی مجسم معجزہ تھے ‘ جبکہ اپنے ورود ثانی میں آپ علیہ السلام کا نزول قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور قرب قیامت کے زمانے کی کیفیت احادیث میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔
{ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ } ”تو اس قیامت کے بارے میں تم ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“
Read the full tafseer →60 یعنی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کرلیں گے کہ اب قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب لیا ہے۔ اور بیشمار احادیث صحیحہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان سے نزول کی تائید بھی کرتی ہیں جو بالکل قیامت کے قریب ہوگا۔ تاہم اس سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بن باپ پیدائش اور آپ کو عطا کردہ معجزات بذات خود قیامت کی علامت بن سکتے ہیں۔ یعنی جو ہستی عام عادی طریقے سے ہٹ کر کسی کو بغیر باپ کے پیدا کرسکتی ہے اور اسے…
Read the full tafseer →49۔ یہ اشارہ ہے مسیح (علیہ السلام) کی آمد ثانی کی طرف۔ یعنی آپ کا دوبارہ ظہور قرب قیامت کی ایک یقینی علامت ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظہور ثانی کی پوری تفصیلات کتب حدیث میں ملے گی۔ ابواب الفتن، اشراط الساعۃ وغیرہا میں۔ (آیت) ” علم “۔ یہاں شرط کے معنی میں ہے۔ ؛ اے شرط من اشراطھا علم بہ فسمی الشرط علما لحصول العلم (کشاف) لان حدوثہ اونزولہ من اشراط الساعۃ یعلم بہ دنوھا (بیضاوی) صحابہ وتابعین سب سے یہی منقول ہیں۔ یدل علی قرب قیامھا اذ خروجہ شرط من اشراطھا وھو نزولہ من السمآء فی اخرالزمان (بحر) (عن ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادہ والحسن والسدی والضحاک وابن زید) ایۃ الساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…
Read the full tafseer →وانہ لعلم للساعق فلا تمترن بھا واتبعون اور وہ (عیسیٰ ) قیامت کے یقین کا ذریعہ ہیں تو تم لوگ اس
(کی صحت) میں شک ہرگز نہ کرو اور میرے پیچھے پیچھے چلو۔
یعنی حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کی علامات میں سے ہے ‘ ان کے نزول سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوجائے گا۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا ‘ رواہ الشیخان فی الصحیحین۔
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری کا بیان ہے کہ ہم لوگ کچھ باہم گفتگو کر رہے تھے ‘ اتنے میں حضور ﷺ برآمد ہوئے اور فرمایا : تم لوگ کیا تذکرہ کر رہے تھے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہم قیامت کا ذکر…
Read the full tafseer →اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نزول عیسیٰ قیام قیامت کے یقین کا ذریعہ ہے یا یہ کہ قیامت کے قائم ہونے کی علامت ہے تو تم لوگ اس کے ذریعے قیامت کے قائم ہونے میں شک مت کرو اور توحید میں میری پیروی کرو توحید سیدھا رستہ ہے یعنی یہ پسندیدہ دین اسلام کا راستہ ہے۔
Read the full tafseer →(1) وانہ لعلم للساعۃ :”علم“ سے مراد علم کا ذریعہ اور نشانی ہے، یعنی عیسیٰ ؑ کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لئے ایک نشان تھا، دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کریں گے کہ اب قیامت بالکل قریب آلگی ہے۔ ابن کثیر رحتہ اللہ نے فرمایا :”اس سے مراد قیامت سے پہلے ان کا نزول ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :(وان من اھل الکتب الالیومنن بہ قبل موتہ ، ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیداً) (النسائ : 159)”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔“ اس معنی کی تائید دوسری قرأت ”وانہ…
Read the full tafseer →وانہ لعلم للساعۃ فلاتمترن بھا حضرت حسن بصری، قتادہ اور سعید بن جبیر نے کہا، اس سے مراد قرآن ہے کیونکہ یہ قیامت کے قریب ہونے پر دلالت ہے یا اس کے ذریعے قیامت، اس کی ہولناکیوں اور احوال کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے (3) حضرت ابن عباس، مجاہد، ضحاک، سدی اور قتادہ نے یہی کہا ہے اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظاہر ہونا ہے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے وقوع سے تھوڑا پہلے انہیں آسمان سے نازل فرمائے گا جس طرح دجال کا ظاہر ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، قتادہ، مالک بن دینار اور ضحاک نے اسے وانہ لعلم الساعۃ عین اور لام کے فتحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَاِنَّهٗ [ اور (آپ کہیے ) بیشک وہ ( عیسیٰ )] لَعِلْمٌ [ یقینا ایک علم (خبر ) ہیں ] لِّلسَّاعَةِ [ اس گھڑی (قیامت ) کے لئے ] فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا [ تو تم لوگ ہرگز شک مت کرو اس میں ] وَاتَّبِعُوْنِ ۭ [ اور تم لوگ پیروی کرو میری ] ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ [ یہ ایک سیدھا راستہ ہے ]
Read the full tafseer →﴿وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ (اور بلاشہ وہ قیامت کے علم کا ذریعہ ہے)
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے اور مراد یہ ہے کہ قرآن مجید قرب قیامت کی نشانی ہے کیونکہ حضور اقدس ﷺ کا تشریف لانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اب قیامت قریب ہے کما قال النبی ﷺ بعثت انا والساعة کھاتین (میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں قریب قریب ہیں۔ )
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے ان کا نزول قرب قیامت کی دلیل ہوگا (یاد رہے کہ قرب اور بعد امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
تردید خصومت مشرکین دربارہ توحید و دعوت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا ....... الی ....... ھذا صراط مستقیم “۔
(ربط) سابقہ مضامین انبیاء سابقین کی تعلیم کے بیان پر مشتمل تھے کہ ہر پیغمبر کی دعوت وتعلیم توحید ہی رہی ہے، اور اب نبی آخر الزمان محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اسی توحید کی دعوت دی ہے تو پھر کفار قریش کو اس دعوت پر کیا تامل اور اعتراض ہے اور وہ دعوت توحید جس پر ہر پیغمبر کا اتفاق رہا کیوں نہیں اس کو قبول کرتے، اب ان آیات میں کفار کے ایک معاندانہ اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کا منشاء نصاری کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنانا تھا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
36:۔ ” وانہ لعلم للساعۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قیامت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ پیدا کرسکتا ہے وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری زمانے میں نزول قرب قیامت کی علامت ہے۔ وقال ابن عباس و مجاھد وقتادۃ والحسن والسدی والضحاک وابن زید ای وان خروجہ لعلم للساعۃ یدل علی قرب قیامہا اذ خروجہ شرط من اشراطہا وھو نزولہ من السماء فی اخرا لزمان (بحر ج 8 ص 25) ۔ قیامت میں شک مت کرو وہ ضرور آنے والی ہے اور میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ، اور اس کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کا بھی جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا ، اور ان کی مثال میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اللہ نے دنیا میں ہی ان کی گرفت کی اور فرعن نبع اپنے لاکھوں لشکریوں کے بحیرہ قلزم کی موجودں کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں ان کو یہ سزا ملی جب کہ آخرت کا دائمی عذاب آگے آنے اولا ہے۔ اللہ نے ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنا دیا۔
قریش مکہ کا واویلا
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قوم قریش مکہ کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ 0 ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 61
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَاِنَّـہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلاَ یَصُدَّنَّـکُمُ الشَّیْطٰنُ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 61، 62)
(اور بیشک وہ قیامت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے، پس اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ اور شیطان تم کو اس سے روکنے نہ پائے، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے استدلال
یعنی قریش نے جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات بابرکات کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا ہے اور ایک سیدھی بات کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ محض غیرسنجیدگی کی علامتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے ایک اور اعتراض کا جواب۔
جس طرح فرعون نے اپنی قوم سے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پر اسے لیے بھی ایمان نہیں لاتا کہ اس کی معاونت کے لیے ملائکہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اعتراض کی شکل میں اہل مکہ کا بھی یہ مطالبہ تھا کہ محمد ﷺ کی تائید میں ملائکہ مقرر کیوں نہیں کیے گئے۔ جس کا اس موقع پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو زمین میں فرشتے تمہارے جانشین بنا دیں۔ دوسرے موقع پر کفار کے اعتراض کے یہ جواب دیئے گئے۔
(قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَاءِکَۃٌ یَمْشُونَ مُطْمَءِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولًا) [ بنی اسرائیل : 95]
” اگر زمین میں…
Read the full tafseer →عیسیٰ ( علیہ السلام) قیامت کی علامت :
آیت 61: وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ (اور وہ قیامت کے یقین کا ذریعہ ہے) عیسیٰ (علیہ السلام) وہ ہیں کہ جن سے قیامت کی آمد کا ثبوت ملتا ہے۔ قراءت : ابن عباس ؓ نے لَعَلَمُ ۔ عین کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی علامت ہے۔ مطلب یہ ہے نزول عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک علامت ہے۔
فَـلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا (تو تم لوگ اس میں شک مت کرو) تم اس بارے میں شک مت کرو۔ المریۃ سے لیا گیا اس کا معنی شک ہے۔ وَاتَّبِعُوْنِ (اور تم لوگ میرا اتباع کرو)
قراءت : سہل و یعقوب نے دونوں میں یاء سے پڑھا ہے۔ یعنی میری ہدایت و شریعت کی اتباع کرو یا میرے رسول کی اتباع کرو۔ یا یہ…
Read the full tafseer →60، ولو نشاء لجعلنا منکم ملائکۃ، یعنی اور اگر ہم چاہتے تو ہم تمہیں ہلاک کردیتے اور تمہارے بدلہ فرشتے بناتے۔ ، فی الارض یخلفون، جو تمہارے خلیفہ ہوتے، زمین کو آباد کرتے اور میری عبادت کرتے اور میری ہی اطاعت کرتے اور کہا گیا ہے کہ وہ ایک دو وسرے کے نائب ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
57۔ 60۔ مسند امام احمد 2 ؎ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورة الانبیا کی آیت انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد اللہ ؓ بن زبعری ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ کو نبی اور ہمارے بتوں سے ضرور اچھا گنتے ہوں گے اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ کا ہوگا عبد اللہ ؓ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →83 حضرت عیسیٰ قیامت کے لیے ایک حجت قاطع : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ ایک عظیم الشان علم اور حجت قاطع ہے قیامت کی "۔ یعنی عیسیٰ کہ آپ (علیہ السلام) کی معجزانہ ولادت اور احیائِ موتی جیسے عظیم الشان معجزات، زندہ آسمان پر اٹھایا جانا، اور ایک زمانے کے بعد اسی طرح واپس اتارا جانا وغیرہ سب قیامت کے امکان اور اس کے وقوع کی کھلی نشانیاں ہیں۔ اور آخری زمانہ میں آپ (علیہ السلام) کا دوبارہ نزول تو قرب قیامت کی ایک اہم علامت ہوگا۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہو۔ کیونکہ قیامت اور اس کے ہولناک مناظر اور جنت و دوزخ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ
تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →ف 3 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اور بیشک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے اس وہ سے مراد اکثر مفسرین (رح) نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا لیا ہے جس کی خبر بکثرت احادیث میں دی گئی ہے اور بقول شوکانی وہ حد تواترکو پہنچ چکی ہیں اور ابن کثیر (رح) نے بھی ان کو متواتر کہا ہے اور ان کے نزول پر امت کا اجماع بھی ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل حجج الکرامۃ میں مذکور ہے بعض نے ہ کی ضمیر سے مراد قرآن اور بعض نے حضرت عیسیٰ کا بن باپ کے پیدا ہونا لیا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن آخری کتاب ہے لہٰذا یہ قیامت کی علامت بن سکتی ہے۔ ( شوکانی)
4 یعنی توحید کا راستہ جس کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔
Read the full tafseer →(43:61) وانہ لعلم للساعۃ ہ ضمیر واحد مذکر غائب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اصل میں وانہ لذوعلم للساعۃ تھا۔ مضاف محذوف ہے اور مضاف الیہ ہی اس کا قائم مقام ہے ای وانہ لصاحب اعلام الناس لقرب مجیئھا۔ تحقیق وہ لوگوں کو قیامت کے عنقریب وقوع پذیر ہونے کی اطلاع دینے ولا ہوگا۔
قیامت کے قریب آنے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں نیچے اس دنیا میں زمین پر اتریں گے اور شریعت محمدی کے مطابق بقایا زندگی گزاریں گے۔
فلاتمترن بھا : لاتمترن فعل نہی بتاکید نون ثقیلہ جمع مذکر حاضر۔ امتراء (افتعال) مصدر۔ بمعنی ایسی چیز کی بابت حجت کرنا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا علامات قیامت میں سے ہے جب وہ اتریں گے تو قیامت کا بہت ہی قرب معلوم ہوجائے گا اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیاجائے کہ اس دن کی آفتوں سے بچنے کے لیے خالص اللہ کی عبادت کرو اور قیامت میں شک نہ کرو، اور توحید میں میرا کہنا مانو، اتباع کرو اور توحید واسلام صراط مستقیم ہے اس پرچلوگے تو نجات پاؤ گے دیکھوایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس مقدس دین سے روک دے اور قیامت کا منکر بنادے وہ تمہارا سخت کھلاہوا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →[28] یعنی عیسیٰ علیہ السلام۔
[29] یعنی جو اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بےباپ کے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ قیامت میں مردوں کو زندہ اٹھائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
حضرت مسیح کی دوبارہ آمد
1: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ حضرت مسیح قریب قیامت میں تشریف لائیں گے ۔ اور ان کی یہ تشریف آوری قیامت کی شروط میں سے ہے ۔ اس لئے تم لوگ اس میں مطلقاً شک نہ کرو ۔ یہی صراط مستقیم ہے ۔ اور یاد رکھو ۔ کہ شیطان عقل وخرد تم کو اس عقیدے سے باز رکھنے کی کوشش کریگا اور کہے گا ۔ کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ حضرت مسیح دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں ۔ اور قیامت کے علائم میں سے ہوں تمہیں یہ سمجھنا چاہیے ۔ کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کی باتیں محض تمہیں گمراہ کرنے کے لئے ہیں اس لئے ان پر اعتماد نہ کرو ۔ یہ واضح رہے کہ جن لوگوں کی نظریں اس وقت یورپ والوں پر ہیں ۔ اور…
Read the full tafseer →(61) اور بیشک وہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک علامت ہے سو تم لوگ اس قیامت کے وقوع میں شک نہ کرو اور میراکہا مانو یہی سیدھی راہ ہے - یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش خود اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت اور بعث کا وقوع ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ سب کو فنا کرنے کے بعد سب کو دوبارہ پیدا کردے میری پیروی کرو یعنی میں نے جو احکام بھیجے ہیں ان پر چلو یا میرے رسول کی پیروی کرو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دوبارہ آسمان سے آنا قیامت کے وقوع کی بہت بڑی دلیل ہے سو تم قیامت میں شبہ نہ کرو اور میری شریعت کی پیروی کرو۔ یہ معنی ظاہر ہیں اور حضرت ابن مریم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
ف 6۔ یعنی خلاف توحید طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلئے۔
Read the full tafseer →قیامت کے بارے شک میں نہ پڑو قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بالکل سچ ہے
61 ؎ (انہ) کی ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ سید مودودی (رح) فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں ہیں بلکہ ” عیسیٰ (علیہ السلام) کے بےپدری پیدائش ہے اور ان کا مٹی سے پرند بنانا اور مردے جلانے کو قیامت کے امکان کی ایک دلیل قرار دیا گیا ہے اور ارشاد خداوندی کا منشاء یہ ہے کہ جو خدا باپ کے بغیر بچہ پیدا کرسکتا ہے اور جس خدا کا ایک بندہ مٹی کے پتلے میں جان ڈال سکتا ہے اور مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اس کے لیے آخر اس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اور تمام انسانوں کو مرنے کے…
Read the full tafseer →وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (And he (Isa علیہ السلام) is a source of knowledge of the Hour [ the day of judgment ] - 43:61). This verse has been explained in two different ways. One is that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) being born without a father is a proof to the fact that Allah Almighty can create people without apparent causes. Thus resurrecting the dead is not at all difficult for Him. But most exegetes have taken this verse in another sense. According to them it means that the descent of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) from the sky is a sign of the Doomsday. And his coming to this world…
Read the full tafseer →55 Another translation of this sentence can be: "He is a means of the knowledge of Resurrection." Here the question arises: What is implied by "he°? According to Hadrat Hasan Basri and Said bin Jubair it implies the Quran. That is, one can learn from the Qur'an that Resurrection will come. But this commentary is irrelevant to the context. There is nothing in the context on the basis of which it may be said that it refers to the Qur'an. Other commentators almost unanimous]y have expressed the opinion that it implies the prophet Jesus Christ, and this is suitable to the context. Now the…
Read the full tafseer →