Explained with ayahs 57–65
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ
(یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 56
یعنی قیامت پر ایمان لانے سے روک دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(آیت) وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (اور بلاشبہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کا یقین کرنے کے لئے ایک ذریعہ ہیں) کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک وہ جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوئی، یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کا خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر ظاہری اسباب کے بھی لوگوں کو پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا دو بار آسمان سے نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔ اس مسئلہ کی کچھ تفصیل سورة آل عمران میں (آیت) انی متوفیک ورافعک الی۔ میں ص 69 ج 2 پر اور کچھ سورة مائدہ میں ص 279 ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا اصراط مستقیم ولایصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (62-61)
حضرت عیسیٰ کے نشانی قیامت ہونے کے بعض پہلو
یہ نبی ﷺ کی زبان مبارک سے جھگڑنے والوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش نہ کرو۔ حضرت عیسیٰ کو جس حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ معبود یا ابن اللہ ہیں بلکہ وہ توحید کے داعی اور قیامت کا علم یعنی اس کی ایک قاطع حجت ہیں تو قیامت کے باب میں شک میں نہ پڑو اور مناظرہ بازی میں الجھنے اور الجھانے کے بجائے میری پیروی کرو۔ ہدایت اور فلاح کی سیدھی راہ یہی ہے۔
حضرت عیسیٰ کے قیامت کی بہت بڑی حجت ہونے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
63۔ 1 اس کے لئے دیکھئے آل عمران (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ ۭ) 3۔ آل عمران :5) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
درس نمبر 233 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…
Read the full tafseer →5 یعنی قیامت کے آنے میں شک نہ کرو۔ اور جو سیدھی راہ ایمان و توحید کی بتلا رہا ہوں اس پر چلے آؤ۔ مبادا تمہارا ازلی دشمن شیطان تم کو اس راستہ سے روک دے۔
Read the full tafseer →آیت 62 { وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُج اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اور دیکھو شیطان تمہیں روک نہ دے ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
یعنی ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اس صراط مستقیم کی پیروی سے روک دے جس کی طرف میں بلا رہا ہوں۔ یہ مت بھولو کہ شیطان اس صراط مستقیم پر گامزن ہونے والوں کا کھلا دشمن ہے اور انہیں گمراہ کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزماتا ہے۔
Read the full tafseer →61 یعنی جو شخص بھی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے وہ سمجھ لے کہ وہ شیطان کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ اور یہ بھی سمجھ لے کہ شیطان کی سب سے بڑی دشمنی اور سب سے بڑی گمراہی یہی ہے کہ کوئی شخص قیامت کے بارے میں شک کرنے لگ جائے۔ اور شیطان سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ انسان اللہ کی دی ہوئی ہدایات پر ناک کی سیدھ چلتا جائے۔ ادھر ادھر بالکل نہ مڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
51۔ (آیت) ” بینات “ میں احکام، دلائل وخوارق سب آگئے۔ ایبالمعجزات وبالشرائع البینات الواضحات (کبیر) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کے جو سلسلہ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے ظہور وپیام پر حاشیے پہلے گذر چکے ہیں۔
52۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہود مختلف فرقوں میں شدید باہمی اختلافات کے ساتھ بٹے ہوئے تھے اور عقائد و احکام کے باب میں سخت خانہ جنگی برپاتھی یہ اشارے صاف اسی طرف ہیں اور قرآن کے اعجاز پر ایک دلیل مزید ہے۔ عرب کے ایک غریب امی کو ایک بالکل دوسری قوم اور دوسرے ملک کے اور وہ بھی ساڑھے پانسو سال قبل کے شدید باہمی اختلافات کی خبر از خود ہو ہی کیا سکتی تھی ؟ (آیت) ” جئتکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…
Read the full tafseer →ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین اور شیطان تم کو اس راستہ سے) نہ روکے (یعنی تم شیطان کے بہکانے سے اس راہ کو مت چھوڑو) بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
ھٰذَا یہ راستہ جس کی میں تم کو دعوت دے رہا ہوں۔
صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ سیدھا راستہ ہے ‘ اس پر چلنے والا کبھی گمراہ نہ ہوگا۔
عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ کھلا ہوا دشمن ہے۔ تم کو جنت سے نکلوانے کا سبب بنا اور مصائب کے گھر میں تمہارے آنے کا موجب ہوا اور اب بھی اتباع حق سے تم کو روک رہا ہے اور جنت میں داخل ہونے سے رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اور تمہیں دین اسلام اور قیام قیامت کے یقین سے شیطان روکنے نہ پائے وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →(ولا یصدنکم الشیطن…: یعنی دیکھنا شیطان اپنے ہتھکنڈوں کے ساتھ تمہیں قیامت پر ایمان سے روک نہ دے، کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس نے کبھی اپنی عداوت کو چھپایا نہیں، بلکہ ڈنکے کی چوٹ آدم ؑ اور اس کی اولاد کو گمراہ کرتے رہنے کا اعلان کیا، اس لئے تم بھی اسے دشمن سمجھو اور اس سے خبر دار رہو۔ (دیکھیے فاطر : 6۔ کہف : 50) معلوم ہوا جو شخص قیامت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کے ہتھکے چڑھ چکا ہے۔ شیطان کی بہت بڑی دشمنی اور گمراہ کرنا یہ ہے کہ وہ کسی شخص کو قیامت پر یقین سے محروم کر دے۔ شیطان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر سیدھا چلتا جائے، ادھر ادھر بالکل توجہ نہ دے۔…
Read the full tafseer →وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ : اس کے وساوس سے دھوکہ نہ کھائو۔ جھگڑا کرنے والے کفار کو شیطان سے تشبیہ دی گئی کیونکہ انبیاء کی شریعتیں توحید میں مختلف نہیں اور قیامت کے بارے میں انہوں نے جو خبریں دی ہیں اسی طرح جنت یا دوزخ کے بارے میں انہوں نے جو خبریں دی ہیں اس میں وہ مختلف نہیں۔
اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ : سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ [ اور ہرگز نہ روکے تم لوگوں کو ] الشَّيْطٰنُ ۚ [ شیطان ] اِنَّهٗ لَكُمْ [ بیشک وہ تمہارے لئے ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا دشمن ہے ]
Read the full tafseer →﴿ وَ لَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ 1ۚ﴾ (اور تمہیں ہرگز شیطان صراط مستقیم سے نہ روک دے) ﴿ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ0062﴾ (بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہے۔ اِتَّبِعُوْن سے پہلے لفظ قل مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
تردید خصومت مشرکین دربارہ توحید و دعوت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا ....... الی ....... ھذا صراط مستقیم “۔
(ربط) سابقہ مضامین انبیاء سابقین کی تعلیم کے بیان پر مشتمل تھے کہ ہر پیغمبر کی دعوت وتعلیم توحید ہی رہی ہے، اور اب نبی آخر الزمان محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اسی توحید کی دعوت دی ہے تو پھر کفار قریش کو اس دعوت پر کیا تامل اور اعتراض ہے اور وہ دعوت توحید جس پر ہر پیغمبر کا اتفاق رہا کیوں نہیں اس کو قبول کرتے، اب ان آیات میں کفار کے ایک معاندانہ اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کا منشاء نصاری کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنانا تھا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
36:۔ ” وانہ لعلم للساعۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قیامت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ پیدا کرسکتا ہے وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری زمانے میں نزول قرب قیامت کی علامت ہے۔ وقال ابن عباس و مجاھد وقتادۃ والحسن والسدی والضحاک وابن زید ای وان خروجہ لعلم للساعۃ یدل علی قرب قیامہا اذ خروجہ شرط من اشراطہا وھو نزولہ من السماء فی اخرا لزمان (بحر ج 8 ص 25) ۔ قیامت میں شک مت کرو وہ ضرور آنے والی ہے اور میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ، اور اس کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کا بھی جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا ، اور ان کی مثال میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اللہ نے دنیا میں ہی ان کی گرفت کی اور فرعن نبع اپنے لاکھوں لشکریوں کے بحیرہ قلزم کی موجودں کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں ان کو یہ سزا ملی جب کہ آخرت کا دائمی عذاب آگے آنے اولا ہے۔ اللہ نے ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنا دیا۔
قریش مکہ کا واویلا
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قوم قریش مکہ کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ 0 ۚ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 62
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَاِنَّـہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلاَ یَصُدَّنَّـکُمُ الشَّیْطٰنُ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 61، 62)
(اور بیشک وہ قیامت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے، پس اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ اور شیطان تم کو اس سے روکنے نہ پائے، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے استدلال
یعنی قریش نے جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات بابرکات کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا ہے اور ایک سیدھی بات کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ محض غیرسنجیدگی کی علامتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے ایک اور اعتراض کا جواب۔
جس طرح فرعون نے اپنی قوم سے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پر اسے لیے بھی ایمان نہیں لاتا کہ اس کی معاونت کے لیے ملائکہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اعتراض کی شکل میں اہل مکہ کا بھی یہ مطالبہ تھا کہ محمد ﷺ کی تائید میں ملائکہ مقرر کیوں نہیں کیے گئے۔ جس کا اس موقع پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو زمین میں فرشتے تمہارے جانشین بنا دیں۔ دوسرے موقع پر کفار کے اعتراض کے یہ جواب دیئے گئے۔
(قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَاءِکَۃٌ یَمْشُونَ مُطْمَءِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولًا) [ بنی اسرائیل : 95]
” اگر زمین میں…
Read the full tafseer →آیت 62: وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ (اور تم کو شیطان روکنے نہ پائے) قیامت پر ایمان لانے یا اتباع رسول ﷺ سے اِنَّہٗٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے) اس کی عداوت ظاہر ہے کہ اس نے تمہارے باپ کو جنت سے نکلوایا۔ اور ان سے نور کا لباس اتروا دیا۔
Read the full tafseer →61، وانہ، یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، لعلم للساعۃ، یعنی ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے جس کے ذریعے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا اور ابن عباس ؓ ، ابوہریرہ ؓ اور قتادہ (رح) نے، انہ لعلم للساعۃ، لام اور عین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی علامت۔ اور ہم تک نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے، عادل حاکم بن کر صلیب کو توڑدیں گے اور خنز یرکوقتل کریں گے اور جزیہ مقرر کریں گے اور ان کے زمانہ میں اسلام کے سواتمام ادیان ہلاک ہوجائیں گے اور روایت کیا گیا ہے کہ ارض مقدس کی ایک وادی پر اتریں گے اور ان پر دو چادریں ہوں گی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
62۔ 67۔ اوپر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین پر آنے کو قیامت کی نشانی فرما کر یہ فرمایا تھا کہ قیامت ایک دن ضرور آنے والی ہے ان آیتوں میں فرمایا آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ تو تمام بنی آدم کو معلوم ہوچکا ہے کہ شیطان بنی آدم کا قدیمی کھلا کھلا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھاچکا ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ ہر طرح بنی آدم کو نیک راستہ سے روکے گا۔ مسند امام 2 ؎ احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو شیطان بنی آدم کو ہر طرح سے بہکانے اور نیک راستہ سے روکنے کی قسم کھاچکا ہے۔ یہ حدیث گویا اس بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
85 اللہ کا خوف اور پیغمبر کی اطاعت ذریعہ نجات : عیسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔ ان تمام چیزوں میں جن کا تعلق دین و شریعت سے ہے کہ وہ تو تمہاری عقلوں کے احاطہ و ادارک سے باہر ہیں۔ بخلاف ان دنیاوی امور کے جو تمہاری عقل میں آسکتے ہیں کہ ان میں تم لوگ شریعت کی مقرر فرمود حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی عقل و فکر اور فہم و فراست سے کام لے سکتے ہو جیسا کہ تابیر نخل کے قصے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ " اَنْتُمْ اَعْلَمُ بَاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دِیْنِکُمْ " ۔ سو دنیاوی امور میں تو انسان محض اپنی عقل و فکر کی بنا پر کام کرسکتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ
تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ف 5 یعنی توراۃ کے بعض احکام جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہے، ان کی حقیقت تمہیں سمجھا دوں۔
Read the full tafseer →(43:62) لایصدنکم : فعل نہی بتاکید نون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر غائب۔ صد باب نصر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر تم کو نہ روک دے
عدو مبین : موصوف و صفت، کھلا ہوا دشمن۔ صریح و چٹاننگا دشمن۔ مبین ابانۃ سے باب افعال مصدر۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر : ب ی ن مادہ۔ مادہ ب ی ن سے باب افعال ابانۃ باب تفعیل تبیین باب تفعل تبین اور باب استفعال استبانۃ لازم بھی آتے ہیں اور متعدی بھی۔ ظاہر ہونا ظاہر کرنا اس لئے بین کا معنی ظاہر بھی ہے اور ظاہر کرنے والا بھی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا علامات قیامت میں سے ہے جب وہ اتریں گے تو قیامت کا بہت ہی قرب معلوم ہوجائے گا اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیاجائے کہ اس دن کی آفتوں سے بچنے کے لیے خالص اللہ کی عبادت کرو اور قیامت میں شک نہ کرو، اور توحید میں میرا کہنا مانو، اتباع کرو اور توحید واسلام صراط مستقیم ہے اس پرچلوگے تو نجات پاؤ گے دیکھوایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس مقدس دین سے روک دے اور قیامت کا منکر بنادے وہ تمہارا سخت کھلاہوا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
[30] عیسیٰ (علیہ السلام) کسی نئی شریعت کے داعی نہیں تھے بلکہ شریعت موسوی کے پیرو تھے۔ البتہ انہوں نے حکمت یعنی روح دین سے بنی اسرائیل کو آشنا کرنا چاہا لیکن وہ اپنی ظاہر پرستی میں مبتلا رہے اور کچھ رسوم ادا کر کے سمجھتے رہے کہ انہوں نے دین کا حق ادا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
حضرت مسیح کی دوبارہ آمد
1: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ حضرت مسیح قریب قیامت میں تشریف لائیں گے ۔ اور ان کی یہ تشریف آوری قیامت کی شروط میں سے ہے ۔ اس لئے تم لوگ اس میں مطلقاً شک نہ کرو ۔ یہی صراط مستقیم ہے ۔ اور یاد رکھو ۔ کہ شیطان عقل وخرد تم کو اس عقیدے سے باز رکھنے کی کوشش کریگا اور کہے گا ۔ کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ حضرت مسیح دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں ۔ اور قیامت کے علائم میں سے ہوں تمہیں یہ سمجھنا چاہیے ۔ کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کی باتیں محض تمہیں گمراہ کرنے کے لئے ہیں اس لئے ان پر اعتماد نہ کرو ۔ یہ واضح رہے کہ جن لوگوں کی نظریں اس وقت یورپ والوں پر ہیں ۔ اور…
Read the full tafseer →(62) اور شیطان کو اس سیدھی راہ سے روک نہ دے کیونکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ یعنی جو باتیں توحید کی بیان ہوئیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا منعم علیہ ہونا مذکور ہوا اس سے شیطان تم کو روک نہ دے آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ قوم سے فرمایا اور بنی اسرائیل کو جو تلقین فرمائی اس کا ذکر ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
ف 6۔ یعنی خلاف توحید طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلئے۔
Read the full tafseer →شیطان تم کو روک نہ دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
62 ؎ روز قیامت کے تسلیم کرنے سے تم کو شیطان روک نہ دے کیونکہ قیامت کا تسلیم کرنا عقائد اسلام میں سے بنیادی عقیدہ ہے جس شخص نے قیامت کا انکار کیا گویا اس نے اللہ ، رسول اور اس کی کتابوں سے انکار کی۔ شیطان جو انسان کا ابدی دشمن ہے وہ اس معاملہ میں انسان کو شک وشبہ میں مبتلا کرتا آیا ہے ، کررہا ہے اور کرتا رہے گا یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ شیطان کے بہلاوے میں آئے ہوئے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ پیچھے آپ آیت 57 میں لفظ (یصدون) پڑھ چکے ہیں اور زیرنظر آیت میں (یصدنکم) آیا ہے اس لیے اس فرق کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اس سے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ (and to explain to you some of those matters in which you differ...43:63) Since Bana Isra'il were drowned in arrogance and obstinacy, they had tampered with the Divine laws. Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) disclosed the reality of such distortions. The words 'some matters' are used because some other matters were purely of mundane nature. He might have not felt the need to deal with those differences. (Bayan-ul-Qur an).
Read the full tafseer →56 " ...... hinder you from this" : hinder you from believing in Resurrection.
Read the full tafseer →