Explained with ayahs 57–65
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ
(یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 54
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض کو فرشتہ بنادیں۔
Read the full tafseer →(آیت) وَلَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰۗىِٕكَةً فِي الْاَرْضِ يَخْلُفُوْنَ ، یہ نصاریٰ کے اس مغالطہ کا جواب ہے جس کی بنا پر انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو معبود قرار دیا تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح ؑ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے ان کی خدائی پر استدلال کیا تھا۔ باری تعالیٰ ان کی تردید میں فرماتے ہیں کہ یہ تو محض ہماری قدرت کا ایک مظاہرہ تھا اور ہم تو اس سے بھی بڑھ کر خلاف عادت کاموں پر قادر ہیں۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا تو کوئی بہت زیادہ خلاف عادت نہیں، کیونکہ حضرت آدم ؑ تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے، اگر ہم چاہیں تو ایسا کام بھی کرسکتے ہیں جس کی اب تک کوئی نظیر نہیں اور وہ یہ کہ انسانوں سے…
Read the full tafseer →ولونشآء لجعلنا منکم ملٓئکۃ فی الارض یخلفون 60
مشرکین کے ایک مغالطہ کا ازالہ
اوپر مشرکین کا قول نقل ہوا ہے کہء ائھتنا خیر ام ھو (ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ ؟) یہ اسی پر استدراک ہے کہ تم نے اگر مجرد اس بنیاد پر فرشتوں کو معبود بنایا ہے کہ ان کی خلقت ایک اعلیٰ عنصر (نور) سے ہوئی ہے تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کو معبود بنا دینے کی دلیل بن سکے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ وہ جس طرح فرشتوں کو نور سے بنا سکتا ہے اسی طرح چاہے تو وہ خود تمہارے اندر سے فرشتوں کی صفات کے لوگ پیدا کر دے اور وہ زمین میں خلافت کا وہ فرض انجام دیں جو انسانوں کو سپرد ہوا ہے لیکن یہ بات اللہ تعالیٰکی حکمت…
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ زمین پر فرشتوں کو آباد کردیتے، جو تمہاری ہی طرح ایک دوسرے کی جانشینی کرتے، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کا آسمان پر رہنا اشرف نہیں ہے کہ ان کی عبادت کی جائے یہ تو ہماری مشیت ہے اور قضا ہے کہ فرشتوں کو آسمان اور انسانوں کو زمین پر آباد کیا، ہم چاہیں تو فرشتوں کو زمین پر بھی آباد کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
17: جب حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر آیا تو اللہ نے واضح فرما دیا کہ نہ خود انہوں نے اپنی خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور نہ ہم نے انہیں اپنا بیٹا قرار دیا تھا، بلکہ انہیں اپنی قدرت کی ایک نشانی بنا کر بھیجا تھا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی لوگ اس بناء پر انہیں خدا کہنے لگے، حالانکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا خدائی کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ حضرت آدم ؑ ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، اور انہیں کوئی بھی خدا نہیں مانتا، در حقیقت ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک مظاہرہ تھا، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس سے بھی زیادہ عجیب کام کردیں کہ انسانوں سے فرشتے پیدا کردیں جو اسی طرح ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
درس نمبر 233 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…
Read the full tafseer →3 یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) میں آثار فرشتوں کے سے تھے (جیسا کہ سورة مائدہ، آل عمران، اور کہف کے فوائد میں اشارہ کیا جا چکا ہے) اتنی بات سے کوئی شخص معبود نہیں بن جاتا۔ اگر ہم چاہیں تو تمہاری نسل سے ایسے لوگ پیدا کریں یا تمہاری جگہ آسمان سے فرشتوں ہی کو لا کر زمین پر آباد کردیں۔ ہم کو سب قدرت حاصل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 60 { وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ } ”اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے بنا دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔“
Read the full tafseer →59 قریش مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کا رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف جواب مذکور ہیں۔ یہاں یہ جواب دیا جارہا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہمیں یہ قدرت حاصل ہے کہ تم میں سے ہی فرشتے بنا دیتے۔ پھر جو فرشتہ رسول بن کر آتا سب اس کو دیکھ سکتے۔ اسکی بات سن سکتے اور سمجھ سکتے۔ مگر فرشتوں کی فطرت میں اختیار نہیں رکھا گیا۔ وہ تو حکم کے بندے ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت اضطراری ہوتی ہے اختیاری نہیں ہوتی۔ اور یہ بات ہماری مشیئت کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →48۔ اور یہ چیز تو مسیح (علیہ السلام) کی بن باپ کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ہوتی) مطلب یہ کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ بےباپ کی ولادت سے بھی کہیں زیادہ عجیب و غریب چیزوں پر۔ (آیت) ” ولونشآء “۔ یعنی اگر ہماری مشیت تکوینی یہی ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…
Read the full tafseer →ولو نشاء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے
کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے۔
لَجَعَلْنَا تم میں سے ‘ یعنی انسانوں میں سے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہم تم کو ہلاک کردیتے اور تمہاری جگہ ملائکہ کو مقرر کردیتے۔
یَخْلُفُوْنَ یعنی تمہارے قائم مقام ہوجاتے ‘ زمین پر آباد ہوجاتے اور میری عبادت و اطاعت کرتے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ بعض ‘ بعض کے جانشین ہوتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عیسیٰ کا واقعہ اگرچہ تعجب آگیں ہے ‘ لیکن ہم اس سے بڑھ کر اچنبھا پیدا کرنے والے واقعات پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فرشتے تم جیسی مخلوق ہیں ‘ ان کی پیدائش بسلسلۂ تولید و تناسل…
Read the full tafseer →اور اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ یا تم میں سے فرشتوں کو پیدا کردیتے کہ وہ تمہاری جگہ زمین میں خلیفہ ہوتے یا یہ کہ تمہارے بجائے زمین پر چلتے پھرتے۔
Read the full tafseer →ولونشآء لجعلنا منکم …: یعنی اس زمین پر انسان باپ اور ماں سے پیدا ہوتے ہیں، عیسیٰ ؑ باپ کے بغیر پیدا ہوئے تو اس سے وہ معبود نہیں بن گئے، بلکہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح مخلوق ہیں، جیسا کہ فرشتے ماں باپ کے بغیر پیدا ہونے اور آسمانوں پر رہنے کے باوجود مخلوق ہیں، معبود نہیں بن گئے۔ بلکہ اگر ہم چاہیں تو تمہاری جگہ ان کو زمین پر لا کر تمہارے جانشین بنادیں، نہ تم انکار کرسکتے ہو نہ انہیں انکار کی مجال ہے، تو وہ معبود کیسے بن گئے۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو تمہیں ہلاک کردیں اور تمہاری جگہ فرشتوں کو لے آئیں جو زمین کو آباد کریں اور ہماری عبادت کریں۔
Read the full tafseer →ولو نشآء لجعلنا منکم اگر ہم چاہتے تو تمہارے بدلے بناتے ملئکۃ جو تمہارے خلیفہ ہوتے، یہ سدی کا قول ہے اسی کی مثل مجاہد سے مروی ہے کہا، فرشتے جو تمہاری بجائے زمین کو آباد کرتے (1) ازہری نے کہا : من بعض اوقات بدل کے لئے آتا ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ معنی سورة برأت اور دسوری سورتوں میں بھی گذر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اگر ہم چاہتے تو انسانوں میں سے فرشتے بنا دیتے اگرچہ یہ عادت نہیں ہے، جواہر سب ایک ہی جنس ہیں، اختلاف اوصاف کی بنا پر ہے معنی ہے اگر ہم چاہتے تو ہم زمین میں فرشتے بنا دیتے انہیں آسمانوں میں ٹھہرانا یہ ان کا شرف نہیں کہ ان کی عبادت کی جانے لگے اور انہیں کہا جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَلَوْ نَشَاۗءُ [ اور اگر ہم چاہتے ] لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ [ تو ہم ضرور بناتے تم میں سے ] مَّلٰۗىِٕكَةً [ کچھ ایسے فرشتے جو ] فِي الْاَرْضِ يَخْلُفُوْنَ [ زمین میں جانشین ہوتے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ ﴾ (الآیۃ) (اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تم سے فرشتے پیدا کردیتے جو یکے بعد دیگرے زمین میں رہا کرتے) یعنی انسانوں سے فرشتے پیدا کردیتے جو زمین میں رہتے ان کی پیدائش بھی آدمیوں کی طرح ہوتی اور موت بھی یعنی وہ دنیا میں آتے جاتے رہتے یہ الفاظ کا ظاہری ترجمہ ہے وھو قبول فی تفسیرہ اس کا دوسرا مطلب مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو فرشتوں کو زمین میں آباد کردیتے اپنی مخلوق کو ہم جہاں چاہیں آباد کریں مخلوق مخلوق ہی ہے، کہیں بھی رہے وہ عبادت کے لائق نہیں ہوسکتی فرشتوں کا آسمان میں ٹھہرانا کوئی ایسا شرف نہیں ہے کہ وہ معبود ہوگئے یا یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
تردید خصومت مشرکین دربارہ توحید و دعوت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا ....... الی ....... ھذا صراط مستقیم “۔
(ربط) سابقہ مضامین انبیاء سابقین کی تعلیم کے بیان پر مشتمل تھے کہ ہر پیغمبر کی دعوت وتعلیم توحید ہی رہی ہے، اور اب نبی آخر الزمان محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اسی توحید کی دعوت دی ہے تو پھر کفار قریش کو اس دعوت پر کیا تامل اور اعتراض ہے اور وہ دعوت توحید جس پر ہر پیغمبر کا اتفاق رہا کیوں نہیں اس کو قبول کرتے، اب ان آیات میں کفار کے ایک معاندانہ اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کا منشاء نصاری کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنانا تھا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
35:۔ ” ولما ضرب ابن مریم مثلا “ تا ” من عذاب یوم الیم “ ” یصدون “ یصیحون و یضحکون (بحر، جلالین) ۔ یعنی شور مچاتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ جب عیسیٰ ابن مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے، تو آپ کی قوم یعنی مشرکین قریش مارے خوشی کے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں ہنستے اور شور مچاتے ہیں۔ ان آیتوں کا ماقبل سے ربط چار طرح پر ہے۔ سب سے زیادہ مناسب شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) کا قول ہے، کیونکہ اس کے مطابق اس آیت کا ماقبل سے ربط واضح تر ہے۔” واسئل من ارسلنا من قبلک الخ “ سے ثابت ہوگیا کہ کسی پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود (لائق عبادت) نہیں۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ، اور اس کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کا بھی جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا ، اور ان کی مثال میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اللہ نے دنیا میں ہی ان کی گرفت کی اور فرعن نبع اپنے لاکھوں لشکریوں کے بحیرہ قلزم کی موجودں کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں ان کو یہ سزا ملی جب کہ آخرت کا دائمی عذاب آگے آنے اولا ہے۔ اللہ نے ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنا دیا۔
قریش مکہ کا واویلا
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قوم قریش مکہ کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100]
( لو ) لو
( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 1 00] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
شاء
والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…
Read the full tafseer →وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْـنَا مِنْـکُمْ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ ۔ (الزخرف : 60)
(اور اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں خلافت کریں۔ )
مشرکین کی غلط فہمی کا ازالہ
یعنی فرشتوں کا نور سے پیدا ہونا انھیں مخلوق ہونے سے نہیں نکالتا، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ویسے ہی مخلوق ہیں جیسی تم مخلوق ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ اسی طرح عاجز ہیں جیسے تم عاجز ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اس بات کی پابند نہیں کہ وہ نور ہی سے فرشتوں کو بنائے۔ وہ تم میں بھی فرشتوں کو پیدا کرسکتی ہے۔ اور جس خلافت کی ذمہ داری پر تمہیں فائز کیا گیا ہے، اسی ذمہ داری پر وہ بھی فائز کیے جاسکتے ہیں۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے ایک اور اعتراض کا جواب۔
جس طرح فرعون نے اپنی قوم سے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پر اسے لیے بھی ایمان نہیں لاتا کہ اس کی معاونت کے لیے ملائکہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اعتراض کی شکل میں اہل مکہ کا بھی یہ مطالبہ تھا کہ محمد ﷺ کی تائید میں ملائکہ مقرر کیوں نہیں کیے گئے۔ جس کا اس موقع پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو زمین میں فرشتے تمہارے جانشین بنا دیں۔ دوسرے موقع پر کفار کے اعتراض کے یہ جواب دیئے گئے۔
(قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَاءِکَۃٌ یَمْشُونَ مُطْمَءِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولًا) [ بنی اسرائیل : 95]
” اگر زمین میں…
Read the full tafseer →آیت 60: وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰٓپکَۃً فِی الْاَرْضِ (اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کردیتے زمین میں) تمہاری بجائے زمین پر۔ زجاج احمد کا قول یہی ہے۔
قول صاحب جامع العلوم :
جعلنا منکم ای جعلنا بدلکم تمہارے بدلے اور مِن بدل کے معنی میں ہے۔
یَخْلُفُوْنَ (وہ یکے بعد دیگرے رہتے) وہ تمہارے بعد زمین پر رہتے یا وہ ایک دوسرے کے بعد رہتے۔
ایک قول یہ ہے :
اگر ہم چاہتے تو عجائبات پر چونکہ ہم قادر ہیں۔ تو ہم تمہیں میں سے اے مردو ! فرشتے پیدا کردیتے۔ جو زمین میں تمہارے نائب بنتے جیسا کہ تمہاری اولاد تمہاری نائب بنتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو صرف عورت سے غیر مرد کے…
Read the full tafseer →59، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکرکر تے ہوئے فرمایا، ان ھو، نہیں ہے وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، الاعبد انعمنا علیہ ، منبوت کے ساتھ۔ ، وجعلناہ مثلا، آیت اور عبرت ، لنبی اسرائیل ، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچانیں کہ جو چاہے کرتا ہے کہ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
57۔ 60۔ مسند امام احمد 2 ؎ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورة الانبیا کی آیت انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد اللہ ؓ بن زبعری ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ کو نبی اور ہمارے بتوں سے ضرور اچھا گنتے ہوں گے اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ کا ہوگا عبد اللہ ؓ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →82 اعجوبہ پرستی اور اساس شرک کی بیخکنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو تم لوگوں سے بھی ایسے فرشتے پیدا کردیں جو تمہاری جگہ رہیں اس میں "۔ پس نہ یہ دین تمہارا محتاج ہے اور نہ خداوند قدوس کی عبادت و بندگی تم پر موقوف ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ } ۔ (محمد : 38) ۔ اور دوسرے معنیٰ آیت کریمہ کے یہ کئے گئے ہیں کہ ہم نے اگر عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا ہے تو ہم اس سے بڑھ کر عجیب کام یہ کرسکتے ہیں کہ خود تم لوگوں میں سے اور تمہاری نسل میں سے فرشتے پیدا کردیں جو تمہاری جگہ یہاں رہنے بسنے لگیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ
تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ایک عیسیٰ کو بن باپ پیدا کرنا کیا مشکل ہے، تم تو اگر چاہیں تمہاری نسل سے فرشتے پیدا کردیں۔ یا تم میں سے بعض کو فرشتے بنادیں جو زمین میں تمہارے قائم مقام ہوں۔ آیت کے یہ دونوں مطلب اس صورت میں ہیں جب منکم کا ترجمہ تم میں کیا جائے اور اگر اس کا ترجمہ تمہارے بجائے کیا جائے جو دراصل بدلا منکم کا ترجمہ ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر ہم چاہیں تو تم سب کو ہلاک کر کے تمہارے بجائے زمین میں فرشتوں کو بسا دیں جو تمہاری طرح آپس میں ایک دوسرے وارث ہوں۔ یعنی فرشتوں کے آسمان میں رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی عبادت کی جائے یا ان کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر پکارا جائے۔ ( قرطبی وغیرہ)
Read the full tafseer →(43:60) ولو نشائ۔ جملہ شرط ہے اور اگر ہم چاہیں لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون۔ واجب شرط۔ لام جواب شرط کے لئے ہے یخلفون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب خلف باب نصر مصدر۔ (تمہارے) خلیفہ (ہوکر) رہتے۔
اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔ اس کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض کو فرشتہ بنادیں (ہر دو ترجمے تفہیم القرآن سے لئے ہیں) حضرت تھانوی صاحب (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں : یکے بعد دیگرے رہا کریں۔ (یہ جملہ معترضہ ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا علامات قیامت میں سے ہے جب وہ اتریں گے تو قیامت کا بہت ہی قرب معلوم ہوجائے گا اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیاجائے کہ اس دن کی آفتوں سے بچنے کے لیے خالص اللہ کی عبادت کرو اور قیامت میں شک نہ کرو، اور توحید میں میرا کہنا مانو، اتباع کرو اور توحید واسلام صراط مستقیم ہے اس پرچلوگے تو نجات پاؤ گے دیکھوایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس مقدس دین سے روک دے اور قیامت کا منکر بنادے وہ تمہارا سخت کھلاہوا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
[27] روایات میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشرکین کے سامنے سورة انبیاء کی یہ آیت پڑھی۔ ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) (تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں) تو اس پر ایک مشرک بول اٹھا کہ اس سے تو فرشتوں اور عیسیٰ کا جنہیں لوگ پوجتے ہیں دوزخی ہونا لازم آیا اور جب بتوں کے ساتھ فرشتے اور عیسیٰ بھی دوزخی ہوئے تو فی الحقیقت بت مزے میں رہے کیونکہ پتھر کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس بات پر مشرکین نے قہقہہ لگایا کہ بولو اس کا کیا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ تمہاری کٹ حجتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 2: حضور ﷺ کے جب قرآن کی آیتوں میں حضرت مسیح کا ذکر کیا ۔ تو مکہ والے یہ سمجھے کہ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کی طرح ان کی بھی پوجا ہو ۔ اس خیال سے انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے معبود تو بہرحال محمد (ﷺ) سے بہتر ہیں ۔ کیوں نہ ان کی پرستش کی جائے اس کے جواب میں فرمایا تمہیں محض غلط فہمی ہوئی ہے ۔ اور یہ محض دھوکا ہے ۔ ہمارے نزدیک تو مسیح ہمارے بندے تھے ۔ جن کو ہم نے نبوت کے انعام سے نوازا تھا ۔ اور بنی اسرائیل کے لئے مقتدا قرار دیا جاتا تھا ۔ اور اس مقام عبودیت کی تشریح و توضیح کے لئے انکار مذکور ہوا تھا ۔ یہ مقصد نہ تھا کہ تم خواہ مخواہ اس کو غلط معنے پہنچاؤ۔
حل لغات :۔ اسورۃ ۔ سونے کے کنگن ۔ یہ…
Read the full tafseer →(60) اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے قائم مقام ہوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عیسیٰ میں آثار فرشتے کے سے تھے اس سے معبود نہیں ہوگیا اگر چاہیں تمہاری نسل سے ایسے لوگ پیدا کریں۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمہارے ہاں فرشتے پیدا کرتے پھر جس طرح تم رہتے ہو اور مرتے ہو اسی طرح وہ بھی پیدا ہوتے اور مرتے اور فرشتوں کا آدمیوں سے پیدا ہونا یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونے سے زیادہ عجیب ہوتا یا یہ مطلب ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ تمہاری بجائے تمہارے بدلے زمین میں فرشتے پیدا کرتے۔
بہرحال ! ابن مریم (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اور اس منعم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
ف 6۔ یعنی خلاف توحید طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلئے۔
Read the full tafseer →60 ؎ خلافت ارضی کے لیے فقط انسان قانون قدرت میں طے کیا گیا تھا ، کیوں ؟ اس لیے کہ انسان ہی خیروشردونوں کا مجموعہ ہے اور دونوں چیزوں کے مجموعہ ہی کو زمین میں بسایا جانا منظور تھا اس لیے ان کی راہنمائی کے لیے بھی ان ہی جیسا انسان یعنی جس میں دونوں چیزیں خیروشر موجود ہوتیں مناسب تھا اور یہی کچھ کیا کہ ہر نبی ورسول کا تعلق انسانوں سے تھا اور اس میں دونوں قسم کی چیزیں یعنی خیروشر موجود تھے اس نے دنیا میں بسنے والے انسانوں میں رہ کر بطور نمونہ اپنے آپ کو پیش کیا اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے تو وہ دنیا والوں کے لیے نمونہ نہیں ہوسکتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں میں سے صرف انہی لوگوں کو خلیفہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ (and if we will, We may create angels from you who succeed you on the earth...43:60) This is in reply to the gravely mistaken conclusion drawn by Christians from the miraculous birth of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) without a father as a result of which they attributed godhead to him, and started worshipping him. Allah Ta ala states to controvert their argument that Sayyidna 'Isa's (علیہ السلام) birth was merely a demonstration of His power, and He has the power to do even more supernatural things like creating Sayyidna…
Read the full tafseer →54 Another translation can be: ".............make some of you angels.
Read the full tafseer →