Explained with ayahs 57–65
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ
(یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة الزُّخْرُف 52
اس سے پہلے آیت 45 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ " تم سے پہلے جو رسول ہو گزرے ہیں ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے " ؟ یہ تقریر جب اہل مکہ کے سامنے ہو رہی تھی تو ایک شخص نے، جس کا نام روایت میں عبداللہ ابن الزبعریٰ آیا ہے، اعتراض جڑ دیا کہ کیوں صاحب، عیسائی مریم کے بیٹے کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں ؟ پھر ہمارے معبود کیا برے ہیں ؟ اس پر کفار کے مجمع سے ایک زور کا قہقہہ بلند ہوا اور نعرے لگنے شروع ہوگئے کہ وہ مارا، پکڑے گئے، اب بولو اس کا کیا جواب ہے۔ لیکن ان کی اس بیہودگی پر سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
خلاصہ تفسیر
(ایک مرتبہ آنحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کے سوا جتنوں کی ناحق عبادت کی جاتی ہے ان میں کسی میں کوئی خیر نہیں۔ اس پر قریش کے بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ نصرانی لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی عبادت کرتے ہیں مگر ان کے بارے میں آپ بھی مانتے ہیں کہ ان میں خیر ہی خیر تھی اس کے جواب میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں) اور جب (عیسیٰ) ابن مریم ؑ کے متعلق (ایک معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا (عجیب اس لئے کہ سرسری نظر ہی سے اس کا بطلان خود ان کو معلوم ہوسکتا تھا، پس عقل رکھ کر ایسا اعتراض کرنا بہت عجیب تھا، غرض جب یہ اعتراض کیا گیا) تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ اس (اعتراض کے سننے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
-6 آگے آیات 65-57 کا مضمون
جس مقصد سے اوپر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشتیں سنائی گی ہیں اسی مقصد کی تائید کے لئے آگے حضرت عیسیٰ ؑ کی سرگزشت کا بھی ایک حصہ اجمالاً بیان ہوا ہے کہ انہوں نے بھی اللہ کی توحید ہی ہی کی دعوت دی لیکن ان کی پیروی کے مدعی مبتدعین نے ان کی صریح تعلیمات کے خلاف بدعتیں ایجاد کر کے ان کو ابن اللہ بنا کر رکھ دیا۔
اس سرگزشت کا آغاز اس تمہید سے فرمایا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ کا نام لیا جاتا ہے تو قریش کے جھگڑا لو لوگ یہ فتنہ اٹھاتے ہیں کہ یہ شخص عیسیٰ کی تعریف کرتا ہے، حالانکہ عیسیٰ سے اچھے تو ہمارے ہی معبود ہیں کہ وہ فرشتے اور خدا کی بیٹیاں ہیں جب کہ عیسیٰ ؑ مریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
58۔ 1 شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بےوقعتی کی وضاحت کے لئے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے نہ کہ وہ نیک لوگ جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کردیا ان کی بابت قرآن کریم نے ہی واضح کردیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
16: جب سورة انبیاء کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں بت پرستوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں : 98۔ تو ایک کافر نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی عبادت کرتے ہیں، اس لیے اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ (معاذ اللہ) وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں، حالانکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ اس کی یہ بات سن کر دوسرے کافروں نے خوب شور مچایا کہ واقعی اس شخص نے بہت زبردست اعتراض کیا ہے۔ حالانکہ اعتراض بالکل لغو تھا، کیونکہ اس آیت میں بت پرستوں سے خطاب تھا، عیسائیوں سے نہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
درس نمبر 233 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
1 حضرت مسیح (علیہ السلام) کا جب ذکر آتا تو عرب کے مشرکین خوب شور مچاتے اور قسم قسم کی آوازیں اٹھاتے تھے۔ روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :98) کہنے لگے نصاریٰ حضرت مسیح کی عبادت کرتے ہیں۔ اب بتاؤ ! تمہارے خیال میں ہمارے معبود اچھے ہیں یا مسیح (علیہ السلام) ظاہر ہے تم مسیح کو اچھا کہو گے۔ جب وہ ہی (معاذ اللہ) آیت کے عموم میں داخل ہوئے تو ہمارے معبود بھی سہی۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا " لیس احد یعبد من دون اللہ فیہ خیر۔ " کہنے لگے کیا مسیح…
Read the full tafseer →آیت 57 { وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ } ”اور جب قرآن میں ابن ِمریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو اس پر آپ کی قوم چلانے ّلگتی ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین ِمکہ ّکی چیخ و پکار ایک تو سورة الانبیاء کی اس آیت کے حوالے سے تھی : { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَط اَنْتُمْ لَہَا وٰرِدُوْنَ۔ } ”یقینا تم لوگ اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ‘ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں پہنچ کر رہنا ہے“۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے سوا جتنے معبود لوگوں نے بنا رکھے ہیں اگر وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام…
Read the full tafseer →55 معبودوں کا جہنم میں داخلہ اور سیدنا عیسیٰ کا معاملہ :۔ جب سورة انبیاء کی یہ آیت ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) یعنی تم بھی اور اللہ کے سوا تم جن چیزوں کو پوجتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے یہ اعتراض اٹھایا کہ عبادت تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی کی جاتی ہے۔ تو کیا وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے ؟ پھر اس اعتراض کا خوب پروپیگنڈا شروع کردیا۔ عبداللہ بن الزبعریٰ نے یہی سوال رسول اللہ سے کیا تو آپ خاموش رہے کیونکہ آپ خود کوئی جواب دینے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند فرماتے تھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
44۔ قرآن مجید میں دوسرے پیغمبروں کی طرح حضرت مسیح کا بھی ذکر بارہا بطور نمونہ ونظیر کے آیا ہے۔ مشرکین عرب ان کا معبود ماناجانا بھی سن چکے تھے۔ اب جو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ان کی مدح و توصیف سنی تو اپنی سفاہت وحماقت سے مارے خوشی کے اچھل پڑے۔ گویا کوئی بڑی سخت گرفت ان کے ہاتھ آگئی، وہ بول اٹھے کہ جب مسیح باوجود اپنی معبودیت کے قابل مدح وداد ہوسکتے ہیں تو پھر آخر ہمارے دیوتاؤں، ٹھاکروں نے کیا برائی کی ہے ! کیوں نہ مسیح کی طرح یہ بھی بزرگ ومقبول سمجھے جائیں ؟
45۔ نہ کہ تحقیق وطلب حق کے لئے) مشرکوں نے عیسائیوں کے مسیح اور قرآنی مسیح کے درمیان خلط کردیا، کمال حماقت سے مسلمانوں کو مسیحی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…
Read the full tafseer →ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون اور جب (عیسیٰ ) ابن مریم کے متعلق ایک عجیب
مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے) چلانے لگے۔
یعنی جب قریش نے عیسیٰ کا بطور مثال ذکر کیا۔ ابن مردویہ نے اور ضیاء نے مختار میں بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عبد اللہ بن زبعری نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد ﷺ ! آپ کا خیال ہے کہ اللہ نے (آیت) اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ حَصَبُ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُوْنَ آپ پر نازل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں ! ابن زبعری نے کہا : تو چاند ‘ سورج اور ملائکہ اور عزیر کی پوجا کی جاتی ہے ‘ یہ سب بھی…
Read the full tafseer →شان نزول : وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ (الخ)
امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ اور امام طبرانی نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے قریش سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی بھلائی نہیں اس پر ان لوگوں نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ نبی اور نیک بندے تھے حالانکہ ان کی بھی اللہ کے علاوہ عبادت کی گئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →ولما ضرب ابن مریم مثلاً …: رسول اللہ ﷺ جس طرح تمام پیغمبروں کا ذکر عزت و اکرام کے ساتھ کرتے تھے، عیسیٰ ؑ کا ذکر بھی ہمیشہ عزت و تکریم کیساتھ کرتے اور ان کی مثال آدم ؑ کے ساتھ دیا کرتے تھے کہ جس طرح ماں باپ کے بغیر آدم ؑ کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب و غریب کرشمہ ہے اسی طرح باپ کے بغیر عیسیٰ ؑ کی پیدائش بھی اس کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے۔ مدینہ جانے کے بعد وفد نجران کی آمد پر سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون) (آل عمران : 59)”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے کہ اسے تھوڑی سی مٹی سے بنایا، پھر اسے…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وسل من ارسلنا من قبلک من رسلنآ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون تو مشرکوں نے اسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے امر کے ساتھ جوڑا اور کہا، (حضرت) محمد ﷺ کسی چیز کا ارادہ نہیں کرتے مگر یہ کہ ہم اسے اپنا الہ بنا لیں جس طرح نصاری نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو الہ بنا لیا۔ یہ قتادہ کا قول ہے اسی کی مثل مجاہد کا قول ہے قریش نے کہا، حضرت محمد ﷺ تو یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت کریں جس طرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ مناظرہ ہے جو عبداللہ بن زبعری نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَلَمَّا ضُرِبَ [ اور جب بیان کیا جاتا ہے ] ابْنُ مَرْيَمَ [ بی بی مریم کے بیٹے کا ] مَثَلًا [بطور مثال کے ] اِذَا قَوْمُكَ [ تب ہی آپ کی قوم ] مِنْهُ يَصِدُّوْنَ [ اس سے شور مچاتی ہے ]
نوٹ۔ 1 : ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے قریش کے لوگو ! اللہ کے سوا جس کسی کی عبادت کی جاتی ہے اس میں کوئی خبر نہیں ۔ اس پر مشرکین نے کہا کہ نصاری حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور آپ خود مانتے ہیں کہ وہ اللہ کے نیک بندے اور اس کے نبی تھے ۔ اسی طرح جب آیت ۔ 21 :98 نازل ہوئی کہ بلاشبہ اے مشرکو ! تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جن ہم کا ایندھن بنیں گے ، تو ایک کافر نے کہا کہ نصاری حضرت مسیح کی عبادت کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
قریش مکہ کی ایک جاہلانہ بات کی تردید، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی کا تعارف، اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت ہی صراط مستقیم ہے
تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ قریش نے عبد اللہ بن زبعری سے کہا (اس وقت اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) کہ محمد ﷺ یہ سناتے ہیں : ﴿اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ 1ؕ﴾ بلاشبہ تم لوگ اور وہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو (یہ سورة الانبیاء کی آیت ہے) تو عبد اللہ بن زبعری یہ سن کر کہنے لگا کہ میں موجود ہوتا تو اس کی تردید کردیتا قریش نے کہا کہ تو کیا کہتا، اس پر عبد اللہ نے کہا کہ میں یوں کہتا کہ یہ مسیح (عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
تردید خصومت مشرکین دربارہ توحید و دعوت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا ....... الی ....... ھذا صراط مستقیم “۔
(ربط) سابقہ مضامین انبیاء سابقین کی تعلیم کے بیان پر مشتمل تھے کہ ہر پیغمبر کی دعوت وتعلیم توحید ہی رہی ہے، اور اب نبی آخر الزمان محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اسی توحید کی دعوت دی ہے تو پھر کفار قریش کو اس دعوت پر کیا تامل اور اعتراض ہے اور وہ دعوت توحید جس پر ہر پیغمبر کا اتفاق رہا کیوں نہیں اس کو قبول کرتے، اب ان آیات میں کفار کے ایک معاندانہ اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کا منشاء نصاری کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنانا تھا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
35:۔ ” ولما ضرب ابن مریم مثلا “ تا ” من عذاب یوم الیم “ ” یصدون “ یصیحون و یضحکون (بحر، جلالین) ۔ یعنی شور مچاتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ جب عیسیٰ ابن مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے، تو آپ کی قوم یعنی مشرکین قریش مارے خوشی کے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں ہنستے اور شور مچاتے ہیں۔ ان آیتوں کا ماقبل سے ربط چار طرح پر ہے۔ سب سے زیادہ مناسب شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) کا قول ہے، کیونکہ اس کے مطابق اس آیت کا ماقبل سے ربط واضح تر ہے۔” واسئل من ارسلنا من قبلک الخ “ سے ثابت ہوگیا کہ کسی پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود (لائق عبادت) نہیں۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ، اور اس کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کا بھی جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا ، اور ان کی مثال میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اللہ نے دنیا میں ہی ان کی گرفت کی اور فرعن نبع اپنے لاکھوں لشکریوں کے بحیرہ قلزم کی موجودں کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں ان کو یہ سزا ملی جب کہ آخرت کا دائمی عذاب آگے آنے اولا ہے۔ اللہ نے ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنا دیا۔
قریش مکہ کا واویلا
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قوم قریش مکہ کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْہُ يَصِدُّوْنَ 57
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ ۔ وَقَالُوْٓا ئَ اٰلِھَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ھُوَط مَاضَرَبُوْہُ لَـکَ اِلاَّ جَدَلاً ط بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ۔ (الزخرف : 57، 58)
(اور جب ابن مریم کی مثال دی جاتی ہے تو آپ کی قوم کے لوگ اس پر شور مچا دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کیا ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ، یہ مثال وہ آپ کے سامنے محض کج بحثی کے لیے اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک اعتراض کا جواب
اس سے پہلے آیت 45 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ سے پہلے جو رسول گزر چکے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھئے یعنی ان کی تعلیمات کو دیکھئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنایا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اہل مکہ اور دیگر لوگوں کے لیے قدرت کا نمونہ اور مثال بنایا ہے۔
اسی سورت کی آیت 45 میں نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ اپنے سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) سے پوچھیں۔ انبیاء ( علیہ السلام) سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابیں اور اہل کتاب کے منصف مزاج اہل علم سے پوچھنا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے علاوہ کوئی معبود اور مشکل کشا بنایا ہے ؟ جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں۔ ظاہربات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی کو معبود نہیں بنایا۔ جب آپ ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے ان آیات کی تلاوت تو…
Read the full tafseer →عیسیٰ ( علیہ السلام) کی مثال :
آیت 57: وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً (جب ابن مریم کے متعلق ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا) جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ حصب جہنم۔] الانبیاء۔ 98[ تلاوت فرمائی تو۔
قریش غصے کے مارے لال پیلے ہوگئے۔ ابن الزبعری کہنے لگا اے محمد ﷺ ! کیا یہ بات خاص ہمارے لئے اور ہمارے معبودوں کے لئے ہے۔ یا تمام امتوں کے لئے آپ نے فرمایا۔ یہ تمہارے لئے اور تمہارے معبودوں اور تمام امتوں کے لئے ہے۔ اس پر وہ کہنے لگا۔ کیا تمہارا یہ اعتقاد نہیں عیسیٰ بن مریم نبی ہیں۔ اور تم عیسیٰ اور اس کی امت کی تعریف کرتے ہو۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ نصاریٰ تو عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(55۔ 56) ۔۔۔۔۔۔۔ ، فلما اسفونا، انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔ ، انتقمنا منھم فاغرقنا ھم اجمعین، فجعلنا ھم سلفا، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے، سلفا، سین اور لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یہ سلیف کی جمع سلف لام کے پیش کے ساتھ سیلف سے یعنی جو آگے چلا گیا اور دیگر حضرات نے سین اور لام کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے سالف کی جمع جیسے حارس اور حرس ، خادم اور خدم، راصد اور رصد۔ اور یہ دونوں امتوں میں گزرے ہوئے لوگ جو آگے چلے گئے ۔ کہا جاتا ہے سلف یسلف جب وہ گزرجائے اور السلف جو آباء میں سے مقدم ہوچکے ، پس ہم نے ان کو بنادیا آگے جانے والے تاکہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ، ومثلالل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
57۔ 60۔ مسند امام احمد 2 ؎ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورة الانبیا کی آیت انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد اللہ ؓ بن زبعری ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ کو نبی اور ہمارے بتوں سے ضرور اچھا گنتے ہوں گے اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ کا ہوگا عبد اللہ ؓ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →78 منکرین کی شرانگیزی کا ایک نمونہ و مظہر : روایات میں وارد ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 98) یعنی " تم بھی اور تمہارے وہ سب معبود بھی جن کی پوجا پاٹ تم لوگ کرتے ہو سب دوزخ کا ایندھن ہو۔ تم سب کو اس میں گرنا ہوگا تو اس پر کفار قریش میں سے عبد اللہ بن الزبعری نام کے ایک شخص نے کہا کہ اچھا تو پھر عیسیٰ بن مریم کے بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے ؟ کہ ان کی بھی تو پوجا کی گئی ہے۔ اگر ہمارے معبودوں کے ساتھ وہ بھی دوزخ میں چلے گئے تو یہ ہمارے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں کہ آخر ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ
تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی قرآن میں ان کا ذکر آوے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی خلق پوجتے ہیں انہیں کیوں خوبی سے یاد کرتے ہو اور ہمارے پوجون (بتوں) کو برا کہتے ہو۔ ( موضح) قتادہ (رح) اور مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ جب اس سورة کی آیت 45 نازل ہوئی۔ یعنی ” واسئل من ارسلنا “ تو مشرکین حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملے کو لے بیٹھے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( قرطی)
Read the full tafseer →(43:57) ولما۔ واؤ عاطفہ ہے اور لما کلمہ ظرف ہے۔ جب
ضرب ابن مریم مثلا : ضرب بیان کرنا۔ جب ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو بیان کیا گیا بطور مثال کے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ضرب لکم مثلا من انفسکم (30:28) وہ تمہارے لئے تم میں سے ہی ایک مثال بیان کرتا ہے۔
اذا : مفاجائیہ ہے تو یکایک۔ قومک تیری قوم ، اہل قریش، آیت ہذا میں رسول اکرم ﷺ سے خطاب ہے۔
یصدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدید (باب ضرب) مصدر۔ حیرت و تعجب کے باعث ہنسنا۔ (استغرب ضحکا) دوسرا معنی اس کا شور و غل مچانا۔ چیخنا چلانا ہے۔ منہ ای من المثل۔ اس مثال سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 1) شان نزول :
مسند امام احمد اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک روز سورة الانبیاء کی آیت، انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جہنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے یہ سن کر مشرکین کو بہت غصہ آیا اور ابن زیعری کہنے لگا، یامحمد ﷺ کیا یہ خاص ہمارے اور ہمارے معبودوں ہی کے لیے یاہرامت وگروہ کے لیے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے لیے بھی ہے اور سب امتوں کے لیے بھی، اس پر ابن زیعری نے کہا کہ آپ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم نبی ہیں اور آپ ان کی اور ان کی والدہ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
[27] روایات میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشرکین کے سامنے سورة انبیاء کی یہ آیت پڑھی۔ ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) (تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں) تو اس پر ایک مشرک بول اٹھا کہ اس سے تو فرشتوں اور عیسیٰ کا جنہیں لوگ پوجتے ہیں دوزخی ہونا لازم آیا اور جب بتوں کے ساتھ فرشتے اور عیسیٰ بھی دوزخی ہوئے تو فی الحقیقت بت مزے میں رہے کیونکہ پتھر کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس بات پر مشرکین نے قہقہہ لگایا کہ بولو اس کا کیا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ تمہاری کٹ حجتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 2: حضور ﷺ کے جب قرآن کی آیتوں میں حضرت مسیح کا ذکر کیا ۔ تو مکہ والے یہ سمجھے کہ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کی طرح ان کی بھی پوجا ہو ۔ اس خیال سے انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے معبود تو بہرحال محمد (ﷺ) سے بہتر ہیں ۔ کیوں نہ ان کی پرستش کی جائے اس کے جواب میں فرمایا تمہیں محض غلط فہمی ہوئی ہے ۔ اور یہ محض دھوکا ہے ۔ ہمارے نزدیک تو مسیح ہمارے بندے تھے ۔ جن کو ہم نے نبوت کے انعام سے نوازا تھا ۔ اور بنی اسرائیل کے لئے مقتدا قرار دیا جاتا تھا ۔ اور اس مقام عبودیت کی تشریح و توضیح کے لئے انکار مذکور ہوا تھا ۔ یہ مقصد نہ تھا کہ تم خواہ مخواہ اس کو غلط معنے پہنچاؤ۔
حل لغات :۔ اسورۃ ۔ سونے کے کنگن ۔ یہ…
Read the full tafseer →(57) اور جب ابن مریم (علیہ السلام) کے متعلق بعض معترضین نے ایک مضمون بیان کیا تب ہی آپ کی قوم کے لوگ اس مضمون پر خوشی کے مارے شور مچانے لگے۔ چونکہ قرآن میں اکثر بتوں کی برائی اور غیر اللہ کی پرستش کے مضامین بیان ہوتے تھے اس لئے دین حق کے منکر اس فکر میں رہتے تھے کہ کوئی ایسی بات نکال کر لائو جو ہمارے بتوں کا الزام اور ان کی برائی ہلکی ہو۔
نبی کریم ﷺ نے کسی موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجا جائے اس میں خیر نہیں یا ایک موقعہ پر سورة انبیاء کی آیت انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم یعنی جن چیزوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔
اسی قسم کے اور مضامین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ف 5۔ کیونکہ اکثر امور حق میں جھگڑے نکالتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →ابن مریم کون ہے ؟ اس کی مثال سے قریش مکہ نے کیوں چڑکھائی ؟
57 ؎ ابن مریم سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ آپ پیچھے عزوۃ الوثقی جلد پنجم ص 653 سے 679 تک پڑھ چکے ہیں اگر یاد نہ ہو تو وہیں سے ملاحظہ کرلیں۔ زیر نظر سورة مکی سورة ہے اور جن مکی سورتوں میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر آیا ہے وہ صرف پانچ سورتیں ہیں سورة الانعام ، سورة مریم ، سورة المومنون ، سورة الشوری اور سورة الزخرف جس کی اب تفسیر کی جارہی ہے ان سورتوں میں سے صرف سورة مریم ہے جس میں مسیح (علیہ السلام) کے متعلق چند آیات بیان ہوئی ہیں باقی سورتوں میں صرف دوسرے انبیاء کے ناموں کے ساتھ نام آیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
Commentary
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (And when the example of the son of Maryam was cited, your people started at once shouting at it [ in joy ]...43:57). Exegetes have narrated three events as background of the revelation of these verses. One is that once the Holy Prophet ﷺ had addressed the tribe of Quraish and said, "0 people of Quraish! there is no good in whatever is worshipped beside Allah." The polytheists responded by saying, "The Christians worship Sayyidna ` Isa ﷺ ، although you yourself say that he was a virtuous slave of Allah, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
52 In verse 45 above, it was said: "You may ask all other Messengers whom We sent before you whether We had appointed any other gods to be worshipped beside the Merciful God." When this discourse was being presented before the people of Makkah, a person called `Abdullah ibn az-Ziba'ra in the traditions, put forward the objection: "Well, is it not a fact that the Christians regard the son of Mary as the son of God and worship him ? What is then wrong with our gods?" This caused much laughter among the crowd of the disbelievers and they started clamoring for an answer to this objection. But at…
Read the full tafseer →