Explained with ayahs 57–65
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ ؑ
(یصدون) کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا۔ قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آگیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہوگیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کریم کی آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة الزُّخْرُف 52
اس سے پہلے آیت 45 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ " تم سے پہلے جو رسول ہو گزرے ہیں ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے " ؟ یہ تقریر جب اہل مکہ کے سامنے ہو رہی تھی تو ایک شخص نے، جس کا نام روایت میں عبداللہ ابن الزبعریٰ آیا ہے، اعتراض جڑ دیا کہ کیوں صاحب، عیسائی مریم کے بیٹے کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں ؟ پھر ہمارے معبود کیا برے ہیں ؟ اس پر کفار کے مجمع سے ایک زور کا قہقہہ بلند ہوا اور نعرے لگنے شروع ہوگئے کہ وہ مارا، پکڑے گئے، اب بولو اس کا کیا جواب ہے۔ لیکن ان کی اس بیہودگی پر سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
خلاصہ تفسیر
(ایک مرتبہ آنحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کے سوا جتنوں کی ناحق عبادت کی جاتی ہے ان میں کسی میں کوئی خیر نہیں۔ اس پر قریش کے بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ نصرانی لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی عبادت کرتے ہیں مگر ان کے بارے میں آپ بھی مانتے ہیں کہ ان میں خیر ہی خیر تھی اس کے جواب میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں) اور جب (عیسیٰ) ابن مریم ؑ کے متعلق (ایک معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا (عجیب اس لئے کہ سرسری نظر ہی سے اس کا بطلان خود ان کو معلوم ہوسکتا تھا، پس عقل رکھ کر ایسا اعتراض کرنا بہت عجیب تھا، غرض جب یہ اعتراض کیا گیا) تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ اس (اعتراض کے سننے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
-6 آگے آیات 65-57 کا مضمون
جس مقصد سے اوپر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشتیں سنائی گی ہیں اسی مقصد کی تائید کے لئے آگے حضرت عیسیٰ ؑ کی سرگزشت کا بھی ایک حصہ اجمالاً بیان ہوا ہے کہ انہوں نے بھی اللہ کی توحید ہی ہی کی دعوت دی لیکن ان کی پیروی کے مدعی مبتدعین نے ان کی صریح تعلیمات کے خلاف بدعتیں ایجاد کر کے ان کو ابن اللہ بنا کر رکھ دیا۔
اس سرگزشت کا آغاز اس تمہید سے فرمایا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ کا نام لیا جاتا ہے تو قریش کے جھگڑا لو لوگ یہ فتنہ اٹھاتے ہیں کہ یہ شخص عیسیٰ کی تعریف کرتا ہے، حالانکہ عیسیٰ سے اچھے تو ہمارے ہی معبود ہیں کہ وہ فرشتے اور خدا کی بیٹیاں ہیں جب کہ عیسیٰ ؑ مریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
58۔ 1 شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بےوقعتی کی وضاحت کے لئے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے نہ کہ وہ نیک لوگ جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کردیا ان کی بابت قرآن کریم نے ہی واضح کردیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
17: جب حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر آیا تو اللہ نے واضح فرما دیا کہ نہ خود انہوں نے اپنی خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور نہ ہم نے انہیں اپنا بیٹا قرار دیا تھا، بلکہ انہیں اپنی قدرت کی ایک نشانی بنا کر بھیجا تھا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی لوگ اس بناء پر انہیں خدا کہنے لگے، حالانکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا خدائی کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ حضرت آدم ؑ ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، اور انہیں کوئی بھی خدا نہیں مانتا، در حقیقت ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک مظاہرہ تھا، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس سے بھی زیادہ عجیب کام کردیں کہ انسانوں سے فرشتے پیدا کردیں جو اسی طرح ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
درس نمبر 233 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
1 حضرت مسیح (علیہ السلام) کا جب ذکر آتا تو عرب کے مشرکین خوب شور مچاتے اور قسم قسم کی آوازیں اٹھاتے تھے۔ روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :98) کہنے لگے نصاریٰ حضرت مسیح کی عبادت کرتے ہیں۔ اب بتاؤ ! تمہارے خیال میں ہمارے معبود اچھے ہیں یا مسیح (علیہ السلام) ظاہر ہے تم مسیح کو اچھا کہو گے۔ جب وہ ہی (معاذ اللہ) آیت کے عموم میں داخل ہوئے تو ہمارے معبود بھی سہی۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا " لیس احد یعبد من دون اللہ فیہ خیر۔ " کہنے لگے کیا مسیح…
Read the full tafseer →آیت 58 { وَقَالُوْٓا ئَ اٰلِہَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ہُوَ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟“
{ مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًاط بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ } ”یہ باتیں وہ آپ سے نہیں کرتے مگر صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔“
Read the full tafseer →56 مشرکین مکہ نے غل یہ مچایا تھا کہ اللہ کے سوا سارے ہی معبود جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہمارے معبودوں سے اچھے کیسے ہوئے اور ہمارے معبود ان سے کمتر کیسے ہوئے ؟ پھر تو ہم اپنے ہی معبودوں کو اچھا کہیں گے۔
57 یعنی مشرکین ایسی بحث اس لیے نہیں چھیڑتے کہ اگر انہیں معقول جواب مل جائے تو اسے تسلیم کرلیں گے۔ بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ایسی کج بحثی ان کی فطرت میں داخل ہوچکی ہے۔ اور وہ حق بات کو کج بحثیوں میں الجھا کر لوگوں کو حق کے قریب آنے سے روکنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
44۔ قرآن مجید میں دوسرے پیغمبروں کی طرح حضرت مسیح کا بھی ذکر بارہا بطور نمونہ ونظیر کے آیا ہے۔ مشرکین عرب ان کا معبود ماناجانا بھی سن چکے تھے۔ اب جو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ان کی مدح و توصیف سنی تو اپنی سفاہت وحماقت سے مارے خوشی کے اچھل پڑے۔ گویا کوئی بڑی سخت گرفت ان کے ہاتھ آگئی، وہ بول اٹھے کہ جب مسیح باوجود اپنی معبودیت کے قابل مدح وداد ہوسکتے ہیں تو پھر آخر ہمارے دیوتاؤں، ٹھاکروں نے کیا برائی کی ہے ! کیوں نہ مسیح کی طرح یہ بھی بزرگ ومقبول سمجھے جائیں ؟
45۔ نہ کہ تحقیق وطلب حق کے لئے) مشرکوں نے عیسائیوں کے مسیح اور قرآنی مسیح کے درمیان خلط کردیا، کمال حماقت سے مسلمانوں کو مسیحی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی…
Read the full tafseer →وقالواء الھتنا خیر ام ھو اور انہوں نے کہا : کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ‘ یعنی محمد ﷺ کہ اپنے معبودوں کو ہم چھوڑ دیں اور ان کی عبادت و اطاعت کریں۔
ابن زید اور سدی نے کہا : اَمْ ھُو یا عیسیٰ (یعنی ھُوَ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے) یعنی کافروں نے کہا : محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ اللہ کے سوا جس کسی کی پوجا کی جائے گی تو وہ دوزخ میں جائے گا ‘ سو ہم راضی ہیں عیسیٰ ‘ عزیر اور ملائکہ کے ساتھ ہمارے معبود بھی جہنم میں چلے جائیں۔
ما ضربوہ لک الا جدلا ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے ‘ وہ محض جھگڑے کی وجہ سے ہے۔
یعنی حق کو باطل سے تمیز کرنے کیلئے نہیں بلکہ بیکار…
Read the full tafseer →اس نے کہا کہ بتایے عیسیٰ بن مریم بہترین ہیں یا ہمارے یہ معبود اگر وہ عیسائی کے ساتھ دوزخ میں جاسکتے ہیں تو ہم بھی اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں چلے جائیں گے ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ سے یہ بات محض جھگڑے کی وجہ سے بیان کی ہے بلکہ یہ لوگ ہیں ہی باطل پر جھگڑنے والے۔
Read the full tafseer →(1) وقالواء الھتنا خیراً ام ھو : اس جملے کی وضاحت اوپر کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے۔
(2) ماضربوہ لک الا جدلاً بل ھم قوم خصمون : یعنی ان مشرکین نے مسیح ؑ کا ذکر محض جھگڑے کے لئے کیا ہے، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ مسلمان ان کا عزت و تکریم سے ذکر معبود ہونے کے لحاظ سے نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ہونے کے لحاظ سے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی سخت جھگڑالو کہ متکلم کی مراد اپنے پاس سے گھڑ کر جھگڑنا اور شور مچانا شروع کردیتے ہیں۔
(3) اکثر مفسرین نے ان آیات کی شان نزول یہ بیان فرمایء ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :(انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم) (الانبیائ : 98) (بےشک تم اور…
Read the full tafseer →وقالوا الھتنا خیر ام ھو یعنی کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا حضرت عیسیٰ ؟ یہ سدی کا قول ہے کہا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے جھگڑا کیا اور ہا : اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ جہنم میں ہوگا تو ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، فرشتوں اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کے ساتھ ہوں (1) تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون۔ (انبیائ) قتادہ نے کہا، وہ ام ھو سے حضرت محمد ﷺ مراد لیا کرتے تھے (2) حضرت ابن مسعود کی قرأت میں ہے آلھتنا خیرام ھذا یہ قتادہ کے قول کی تائید کرتا ہے یہ استفہام تقریری ہے کہ ان کے معبود بہتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں تو انہوں نے کہا کیا آپ یہ گمان نہیں کرتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے نبی اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے تھے اور نصاری نے ان کی عبادت کی اگر آپ سچے ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان کے بتوں کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون “ (اور جب ابن مریم کے متعلق عجیب مضمون بیان کیا گیا تو یکایک آپ کی قوم والے اس سے (مارے خوشی کے چلانے لگے) (آیت ) ” یصدون “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا [اور وہ لوگ کہتے ہیں ] ءَاٰلِهَتُنَا خَيْرٌ [کیا ہمارے الہ بہتر ہیں ] اَمْ هُوَ ۭ [ یا وہ ( عیسیٰ ) ] مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ [وہ لوگ نہیں بیان کرتے اس (سوال ) کو آپ سے ] اِلَّا جَدَلًا ۭ [ مگر مناظرہ کرنے کے لئے ] بَلْ هُمْ قَوْمٌ [ بلکہ یہ لوگ ایک ایسی قوم ہیں ] خَصِمُوْنَ [جو جھگڑالو ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
﴿اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ ﴾ (عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا) یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہم نے انعام کیا انہیں نبوت سے سرفراز کیا نبی تو اس لیے آتے تھے کہ وہ اللہ کی توحید کی دعوت دیں نہ یہ کہ وہ اپنی عبادت یا کسی بھی غیر اللہ کی طرف بلائیں جن لوگوں نے ان کی عبادت کی وہ ان کی حماقت ہے ان کے اعمال کی سزا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں ملنے لگی ؟ جنہوں نے ان کی عبادت کی وہی دوزخ میں جانے والے ہیں اور جن بتوں کی عبادت کی گئی وہ بھی دوزخ میں داخل ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) دیگر انبیائے کرام کی طرح اللہ کے نزدیک منعم و مکرم ہیں۔
﴿ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
تردید خصومت مشرکین دربارہ توحید و دعوت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولما ضرب ابن مریم مثلا ....... الی ....... ھذا صراط مستقیم “۔
(ربط) سابقہ مضامین انبیاء سابقین کی تعلیم کے بیان پر مشتمل تھے کہ ہر پیغمبر کی دعوت وتعلیم توحید ہی رہی ہے، اور اب نبی آخر الزمان محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اسی توحید کی دعوت دی ہے تو پھر کفار قریش کو اس دعوت پر کیا تامل اور اعتراض ہے اور وہ دعوت توحید جس پر ہر پیغمبر کا اتفاق رہا کیوں نہیں اس کو قبول کرتے، اب ان آیات میں کفار کے ایک معاندانہ اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کا منشاء نصاری کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنانا تھا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
35:۔ ” ولما ضرب ابن مریم مثلا “ تا ” من عذاب یوم الیم “ ” یصدون “ یصیحون و یضحکون (بحر، جلالین) ۔ یعنی شور مچاتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ جب عیسیٰ ابن مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے، تو آپ کی قوم یعنی مشرکین قریش مارے خوشی کے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں ہنستے اور شور مچاتے ہیں۔ ان آیتوں کا ماقبل سے ربط چار طرح پر ہے۔ سب سے زیادہ مناسب شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) کا قول ہے، کیونکہ اس کے مطابق اس آیت کا ماقبل سے ربط واضح تر ہے۔” واسئل من ارسلنا من قبلک الخ “ سے ثابت ہوگیا کہ کسی پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود (لائق عبادت) نہیں۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ، اور اس کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کا بھی جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا ، اور ان کی مثال میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اللہ نے دنیا میں ہی ان کی گرفت کی اور فرعن نبع اپنے لاکھوں لشکریوں کے بحیرہ قلزم کی موجودں کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں ان کو یہ سزا ملی جب کہ آخرت کا دائمی عذاب آگے آنے اولا ہے۔ اللہ نے ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنا دیا۔
قریش مکہ کا واویلا
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قوم قریش مکہ کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَ اٰلِہَتُنَا خَيْرٌ اَمْ ہُوَ 0 ۭ مَا ضَرَبُوْہُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا 0 ۭ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ 58
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا کہ پہلے انبیاء سے دریافت کرو اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا تو بعض نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر بطور معارضہ کیا کہ دیکھو عیسائی اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو خدا اور خدا کا بیٹا جانتے ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء سب توحید کے مروج تھے۔ عیسائیوں کا طریقہ عیسیٰ پرستی انہیں کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر جب عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا ہیں تو ہمارے معبود ملائکہ وغیرہ ان سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ ان مشرکین کی یہ بیجاحجت نقل کر کے جواب دیتا ہے جیسا کہ ان کے اوراقوال باطلہ کا جواب دیتا چلا آتا ہے فقال ولما ضرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ ۔ وَقَالُوْٓا ئَ اٰلِھَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ھُوَط مَاضَرَبُوْہُ لَـکَ اِلاَّ جَدَلاً ط بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ۔ (الزخرف : 57، 58)
(اور جب ابن مریم کی مثال دی جاتی ہے تو آپ کی قوم کے لوگ اس پر شور مچا دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کیا ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ، یہ مثال وہ آپ کے سامنے محض کج بحثی کے لیے اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک اعتراض کا جواب
اس سے پہلے آیت 45 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ سے پہلے جو رسول گزر چکے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھئے یعنی ان کی تعلیمات کو دیکھئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنایا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اہل مکہ اور دیگر لوگوں کے لیے قدرت کا نمونہ اور مثال بنایا ہے۔
اسی سورت کی آیت 45 میں نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ اپنے سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) سے پوچھیں۔ انبیاء ( علیہ السلام) سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابیں اور اہل کتاب کے منصف مزاج اہل علم سے پوچھنا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے علاوہ کوئی معبود اور مشکل کشا بنایا ہے ؟ جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں۔ ظاہربات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی کو معبود نہیں بنایا۔ جب آپ ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے ان آیات کی تلاوت تو…
Read the full tafseer →آیت 58: وَقَالُوْٓائَ اٰلِہَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ہُوَ (اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں یا وہ) ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے معبود تیرے ہاں عیسیٰ سے اچھے نہیں ہیں۔ تو جب عیسیٰ سے اچھے نہیں ہیں۔ تو جب عیسیٰ جہنم کا ایندھن ہے۔ تو پھر ہمارے معبودوں کا مسئلہ معمولی ہے۔ مَاضَرَبُوْہُ لَکَ (انہوں نے یہ مثال آپ سے بیان نہیں کی) اِلاَّ جَدَلًا (مگر صرف اس لئے تاکہ وہ مجادلہ کر کے غلبہ پائیں) ان کا مقصد حق و باطل میں امتیاز و فرق کرنا نہیں ہے۔ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (بلکہ یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں) خصم اور لد کا معنی سخت جھگڑالو۔ قریش کا مزاج شدید جھگڑے والا تھا۔ اور یہ اس سے بھی ظاہر ہو…
Read the full tafseer →57، ولما ضرب ابن مریم مثلا، ابن عباس ؓ اور اکثر مسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ بن زبعری کے نبی کریم ﷺ کے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں مجادلہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا قول انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم نازل ہوا اور تحقیق ہم نے اس کو سورة انبیاء (علیہم السلام) میں ذکر کیا ہے۔
، اذا قوم منہ یصدون، اہل مدینہ اور اہل شام اور کسائی رحمہم اللہ نے، یصدون، صاد کے پیش کے ساتھ یعنی وہ اعراض کرتے ہیں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ، یصدون عنک صدودا، ہے اور دیگر حضرات نے صاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کے معنی میں ان کا اختلاف ہے۔ کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
57۔ 60۔ مسند امام احمد 2 ؎ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورة الانبیا کی آیت انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد اللہ ؓ بن زبعری ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ کو نبی اور ہمارے بتوں سے ضرور اچھا گنتے ہوں گے اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ کا ہوگا عبد اللہ ؓ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–65
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →79 سٹنٹ بازی منکرین و مشرکین کا قدیم وطیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ : سو اس سے کفار و مشرکین کی سٹنٹ بازی اور انکے جھگڑالوپن کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو ایسے لوگ صحیح بات کو جاننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے اور ان کی عادت اور وطیرہ ہی یہ سٹنٹ بازی اور جھگڑالو پن ہے۔ ورنہ یہ تو ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ } کے عموم میں تمہارے اوثان و اَصنام کے علاوہ ذوی العقول میں سے صرف وہی لوگ داخل ہوسکتے ہیں جو اپنی پوجا اپنے قصد و اختیار سے کراتے اور اس پر خوش ہوتے ہوں۔ جبکہ حضرت عیسیٰ اور اس طرح کی دوسری تمام مقدس ہستیوں نے تو عمر بھر ایک خدائے واحد کی عبادت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قوم کا قصہ
تشریح : یہاں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر کفار مکہ کے سامنے کیا گیا تو وہ لوگ پھولے نہ سمائے اور نعرے لگانے لگے اور شور مچانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو ان کی قوم اللہ مانتی ہے کوئی ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اگر ہم نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں تو کونسی عجیب بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب لوگوں کے اپنی گمراہی کے عقیدے ہیں کیونکہ عیسیٰ ابن مریم نے تو اللہ کے ایک ہونے اور لاشریک ہونے کی ہی تعلیم دی تھی یہ تو ان کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی جب ہر وہ شخص جس کی اللہ کے سواعبادت کی جاتی ہے دوزخ کا ایندھن ہے تو ہمارے بتوں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) میں کیا فرق رہا۔ ہمیں یہ بات منظور ہے کہ عزیز ( علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہما السلام) اور فرشتے بھی دوزخ میں جائیں اور ہمارے بت بھی۔ ( قرطبی)
13 ورنہ اس کی جو حقیقت ہے اسے یہ خود بھی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(43:58) قالواء الھتنا میں ہمزہ استفہامیہ ہے الھتنا مضاف مضاف الیہ ہمارے معبودان۔
ام ھو : ام بمعنی یا۔ ھو ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (ابن مرین) کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ : آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ بہتر ہیں تو اگر (معاذ اللہ) وہ جہنم میں ہوئے تو ہمارے معبود بھی ہوا کریں۔
فائدہ : جب اہل قریش سے حضرت عیسیٰ کی رسالت اور ان کے محاسن و مکارم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو کج بحثی اور کٹ حجتی کے طور پر مختلف لایعنی حجتیں پیش کرتے ہیں۔ مثلا
(1) امام احمد نے صحیح سند سے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش سے فرمایا تھا :۔ اللہ کے سوا جس کسی کی بھی پوجا کی جاتی ہے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 67 : خصمون ( وہ جھگڑتے ہیں) یخلفون (وہ قائم مقام ہوتے ہیں) لا تمترن ( تم ہرگز نہ کرو گے) لا یصدن ( ہرگز نہ روکنے پائے) الاحزاب ( جماعتیں ، فرقے ، گڑھے) الاخلائ (سارے دوست)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 67 : ایک مشہور مثال ہے کہ ” بد فطرت انسان کے لئے ایک بہانہ کافی ہوتا ہے “ یعنی جن لوگوں کی عقلیں اوندھی ہوجاتی ہیں اور وہ ہر نیک عمل کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کوئی ایسی بات لگ جائے جسے لے کر وہ اپنی انا کی تسکین کرسکیں ۔ کفار و مشرکین کا بھی یہی حال تھا وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے تھے کہ ان کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 1) شان نزول :
مسند امام احمد اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک روز سورة الانبیاء کی آیت، انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جہنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے یہ سن کر مشرکین کو بہت غصہ آیا اور ابن زیعری کہنے لگا، یامحمد ﷺ کیا یہ خاص ہمارے اور ہمارے معبودوں ہی کے لیے یاہرامت وگروہ کے لیے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے لیے بھی ہے اور سب امتوں کے لیے بھی، اس پر ابن زیعری نے کہا کہ آپ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم نبی ہیں اور آپ ان کی اور ان کی والدہ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
[27] روایات میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشرکین کے سامنے سورة انبیاء کی یہ آیت پڑھی۔ ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) (تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں) تو اس پر ایک مشرک بول اٹھا کہ اس سے تو فرشتوں اور عیسیٰ کا جنہیں لوگ پوجتے ہیں دوزخی ہونا لازم آیا اور جب بتوں کے ساتھ فرشتے اور عیسیٰ بھی دوزخی ہوئے تو فی الحقیقت بت مزے میں رہے کیونکہ پتھر کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس بات پر مشرکین نے قہقہہ لگایا کہ بولو اس کا کیا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ تمہاری کٹ حجتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 2: حضور ﷺ کے جب قرآن کی آیتوں میں حضرت مسیح کا ذکر کیا ۔ تو مکہ والے یہ سمجھے کہ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کی طرح ان کی بھی پوجا ہو ۔ اس خیال سے انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے معبود تو بہرحال محمد (ﷺ) سے بہتر ہیں ۔ کیوں نہ ان کی پرستش کی جائے اس کے جواب میں فرمایا تمہیں محض غلط فہمی ہوئی ہے ۔ اور یہ محض دھوکا ہے ۔ ہمارے نزدیک تو مسیح ہمارے بندے تھے ۔ جن کو ہم نے نبوت کے انعام سے نوازا تھا ۔ اور بنی اسرائیل کے لئے مقتدا قرار دیا جاتا تھا ۔ اور اس مقام عبودیت کی تشریح و توضیح کے لئے انکار مذکور ہوا تھا ۔ یہ مقصد نہ تھا کہ تم خواہ مخواہ اس کو غلط معنے پہنچاؤ۔
حل لغات :۔ اسورۃ ۔ سونے کے کنگن ۔ یہ…
Read the full tafseer →(58) اور کہنے لگے ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی ابن مریم (علیہ السلام) یہ بات اور یہ مضمون اور یہ کہاوت انہوں نے آپ سے محض جھگڑا کرنے کی غرض سے بیان کی ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جھگڑالو واقع ہوئے ہیں۔ یعنی یہ اعتراض عبداللہ بن زبعری کا محض جھگڑا کرنے کی بنا پر ہے اور یہ لوگ جھگڑالو واقع ہوئے ہیں اور جھگڑالوہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ف 5۔ کیونکہ اکثر امور حق میں جھگڑے نکالتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →قریش مکہ نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ ؟ اس بات کو انہوں نے جھگڑا بنالیا
58 ؎ پیچھے ذکر کیا گیا ہے کہ جب ابن مریم کا ذکر انبیاء کرام کی فہرست میں دیکھتے ہیں اور آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتے ہیں تو آپ کی قوم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں اب بتایا جارہا ہے کہ جس بات پر سیخ پا ہوتے اور چیختے ہیں وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ یہی ہے کہ ان کو اعتراض ہے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کیوں ؟ اس لیے کہ وہ دوسری قوم کے معبود ہیں اور ہمارے معبود محمد ﷺ بھی اپنی قوم کے معبود ہیں حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اگر نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنالیا ہے تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ (and if we will, We may create angels from you who succeed you on the earth...43:60) This is in reply to the gravely mistaken conclusion drawn by Christians from the miraculous birth of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) without a father as a result of which they attributed godhead to him, and started worshipping him. Allah Ta ala states to controvert their argument that Sayyidna 'Isa's (علیہ السلام) birth was merely a demonstration of His power, and He has the power to do even more supernatural things like creating Sayyidna…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
52 In verse 45 above, it was said: "You may ask all other Messengers whom We sent before you whether We had appointed any other gods to be worshipped beside the Merciful God." When this discourse was being presented before the people of Makkah, a person called `Abdullah ibn az-Ziba'ra in the traditions, put forward the objection: "Well, is it not a fact that the Christians regard the son of Mary as the son of God and worship him ? What is then wrong with our gods?" This caused much laughter among the crowd of the disbelievers and they started clamoring for an answer to this objection. But at…
Read the full tafseer →