Az-Zukhruf 43:56

Az-Zukhruf · from ayah 56

43:56

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ ۟۠فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ

اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We made them a precedent and an example for the later peoples.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:56

اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں ایک گئی گزری قوم اور بعد والوں کے لیے عبرت کا نمونہ بنادیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو ہم نے انہیں گیا گزرا کر دیا اور پیچھے آنے والوں کے لئے نمونۂ عبرت بنا دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس ہم نے انھیں پیچھے آنے والوں کے لیے پیش رو اور مثال بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے انہیں گئے گزرے اور پچھلوں کے لئے نظیر بنادیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو ماضی کی ایک داستان اور دوسروں کے لئے ایک نمونہ عبرت بنا دیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے ان کو ایک قصہ پارینہ اور نمونہ عبرت بنادیا پچھلوں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

تو ہم نے انہیں پچھلوں کے حق میں (ایک خاص قسم کا) پیشرو اور نمونہ (عبرت) بنادیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

چناچہ ہم نے انہیں بنا دیا ماضی کی داستان اور بعد والوں کے لیے ایک نشان عبرت

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو گئے گزرے کردیا اور آنے والوں کے لیے عبرت بنا دیا ‘

— محترمہ رفعت اعجاز

and made them a thing of the past and an example for those who would come after them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and made them a people of the past, and an example for the later generations.

— Muhammad Taqi Usmani

and made them a people of the past, and an example for the later generations.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We made them a precedent, and an example to later generations.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We made them a thing past, and an example for those after (them).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We made them a precedent and an example for the later peoples.

— Saheeh International

We made them become of the people of the past and an example for the coming generations.

— Muhammad Sarwar

And We made them a precedent and example to the later generations.

— Muhammad Habib Shakir

And We made them a precedent and an ensample Unto those after.

— Abdul Majid Daryabadi

And We made them (a people) of the Past and an Example to later ages.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–56

فرعون کے دعوے فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں ؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں ؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے ؟ پھر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔ کلام پاک میں اور جگہ ہے اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند وبالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا (ام) معنی میں (بل) کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت (اما انا) بھی ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہوجائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة الزُّخْرُف 51 یعنی جو ان کے انجام سے سبق نہ لیں اور انہی کی روش پر چلیں ان کے لیے وہ پیش رو ہیں، اور جو سبق لینے والے ہیں ان کے لیے نمونہ عبرت۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–56

(آیت) (اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا، یہ اسف سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں افسوس، لہٰذا اس جملے کے لفظی معنی ہوئے ”پس جب انہوں نے ہمیں افسوس دلایا“ اور افسوس بکثرت غصہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کا با محاورہ ترجمہ عموماً اس طرح کیا جاتا ہے کہ ”جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔“ اور چونکہ باری تعالیٰ افسوس اور غصہ کی انفعالی کیفیات سے پاک ہے اس لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کام ایسے کئے جس سے ہم نے انہیں سزا دینے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فجعلنھم سلفاً و مثلاً للاخرین 56 قریش کو تنبیہ سلف کے اصل معنی گزرنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ گزرے ہوئے لوگوں کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ سلف اچھے بھی ہو سکتے ہیں، برے بھی۔ یہاں یہ برے معنوں میں ہے یعنی ہم نے ان کو اس طرح مٹایا کہ وہ ایک داستان ماضی اور ایک افسانہ پارینہ بن کے رہ گئے۔ یہی حقیقت بعض مقامات میں جعلنھم احادیث کے الفاظ سے بھی واضح فرمائی گی ہے۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اگر تم نے بھی انہی کی روش اختیار کی تو انہیں کی طرح تمہارا نام بھی حاضر کی لوح سے مٹا دیا جائے گا، صرف ماضی کی ایک داستان بن کر رہ جائو گے۔ ومثلاً للاخرین مثل کے معنی مثال اور نمونہ کے ہیں۔ مثال بھی اچھی اور بری دونوں ہو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–56

56۔ 1 یعنی ان کو بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت اور مثال بنادیا۔ کہ وہ اس طرح کفر و ظلم اور علو و فساد نہ کریں جس طرح فرعون نے کیا تاکہ وہ اس جیسے عبرت ناک حشر سے محفوظ رہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–57

16: جب سورة انبیاء کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں بت پرستوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں : 98۔ تو ایک کافر نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی عبادت کرتے ہیں، اس لیے اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ (معاذ اللہ) وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں، حالانکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ اس کی یہ بات سن کر دوسرے کافروں نے خوب شور مچایا کہ واقعی اس شخص نے بہت زبردست اعتراض کیا ہے۔ حالانکہ اعتراض بالکل لغو تھا، کیونکہ اس آیت میں بت پرستوں سے خطاب تھا، عیسائیوں سے نہیں،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 55–56

آیت نمبر 55 تا 56 ذات باری کے غضب اور انتقام اور تباہی مچانے والے اقدام کو پیش کرنا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے غضب کے نتیجے میں اس کی قوت جو کام کرتی ہے وہ تاریخ میں مثال ہوتی ہے۔ فلما اسفونا (43 : 55) “ جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا ”۔ یعنی بہت زیادہ ناراض کردیا۔ انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین (43 : 55) “ ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو اکٹھا غرق کر دیا ”۔ فرعون ، اس کے سرداروں اور لشکر کو۔ یہی لوگ تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں ہلاک ہوئے ، ان کو پیشوا بنا دیا کہ ہر ظالم یہی کام کرے اور اسی انجام تک پہنچے۔ ومثلا للاخرین (43 : 56) “ اور نمونہ عبرت پچھلوں کے لئے ”۔ یعنی ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی پیچھے آنے والی نسلوں کے لیے ان کا قصہ ایک عبرتناک نظیر کے طور پر بیان ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 { فَجَعَلْنٰہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ } ”چناچہ ہم نے انہیں بنا دیا ماضی کی داستان اور بعد والوں کے لیے ایک نشان عبرت۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 55–56

54 یعنی انہیں صفحہ ہستی سے ایسا مٹا دیا کہ کوئی ان کا ذکر خیر کرنے والا باقی نہ رہ گیا۔ البتہ وہ پچھلے لوگوں کے لیے ایک نمونہ عبرت ضرور بن گئے کہ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کا کیا انجام ہوتا ہے کیونکہ فرعون اور آل فرعون دراصل اللہ کے باغیوں کے پیش رو تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 55–56

43۔ یعنی بعد کی نسلیں ان کی سرکشی اور پھر غرقابی کے قصے یاد کرکے ان کے حال سے عبرت پکڑیں۔ (آیت) ” اسفونا “۔ پر ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ غرقابی فرعون پر حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–56

آیت نمبر 46 تا 56 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فجعلنھم سلفا ومثلا للاخرین اور ہم نے ان کو آئندہ لوگوں کیلئے خاص طور پر سلف اور نمونۂ عبرت بنا دیا۔ سَلَفَ مصدر ہے ‘ یا سالِفٌ کی جمع ہے ‘ جیسے خدم ‘ خادم کی جمع ہے ‘ یعنی ہم نے ان کو متقدم بنا دیا تاکہ پچھلے لوگ ان سے نصیحت اندوز ہوں اور بعد والے لوگوں کیلئے وہ عبرت ہوجائیں۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے : ہم نے ان کو اس امت کے کافروں کیلئے دوزخ کی جانب پیشرو بنا دیا اور جو لوگ ان کے بعد باقی رہے ‘ ان کیلئے عبرت و نصیحت کردیا۔ بعض نے کہا : مثلاً سے مراد یہ ہے کہ ان کے عجیب واقعہ کو کہاوت بنا دیا کہ کہاوت کی طرح اس کو بیان کیا جاتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے : تمہاری حالت ایسی ہے جیسے قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 55–56

(55۔ 56) غرض کہ جب انہوں نے ہمارے نبی حضرت موسیٰ کو غصہ دلایا اور ہمیں بھی غصہ دلایا تو ہم نے بذریعہ عذاب ان سے بدلہ لیا، ہم نے سب کو دریا میں غرق کردیا اور ان کے بعد میں آنے والوں کے لیے عذاب کے ذریعے ہلاکت کا نمونہ بنا دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فجعلنھم سلفاً و مثلاً للاخرین :”سلفاً“ ”سالف“ کی جمع ہے، جیسے ”خادم“ اور ”حارس“ کی جع ”خدم“ اور ”حرس“ ہے۔”سالف“ اسے کہتے ہیں جو وجود میں یا کسی عمل یا کسی جگہ میں دوسرے سے پہلے ہو۔ چونکہ یہاں ذکر انتقام کا آیا ہے، اس لئے ”سلفا“ سے مراد وہ ہیں جو انتقام میں پہلے ہیں، یعنی ان کے بعد والوں کو بھی ان جیسے انتقام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ”مثلاً“ کا معنی مشابہ چیز ہے، مراد عبرت ہے جو اپنے جیسے لوگوں کو دیکھ کرلی جاتی ہے کہ اگر ہم نے ان جیسے عمل جاری رکھے تو ہمارا انجام بھی وہی ہوگا۔“ للاخرین“ وہ لوگ جو اس کلام میں مذکور آل فرعون کے ساتھ آخری مشابہ ہیں۔ مراد رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین ہیں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فجعلنھم سلفا ہم نے قوم فرعون کو پیش رو بنایا۔ ابوعجلز نے کہا، یعنی جوان جیسا عمل کرے ان کا پیش رو بنا دیا اور جوان جیسا عمل کرے اس کے لئے نمونہ بنا دیا (1) مجاہد نے کہا سلفا یعنی حضرت محمد ﷺ کی امت کو خبر دینے والا اور مثلاً یعنی امت محمد ﷺ کے لئے عبرت بنا دیا (2) ان سے یہ بھی قول مروی ہے آپ کی قوم کے کفار کے لئے قیادت کرنے والا بنا دیا وہ جہنم کی طرف ان کے آگے آگے چل رہے ہوں گے۔ قتادہ نے کہا، جہنم کی طرف آگے جانے والا اور بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت۔ سلف کا معنی آگے جانے والا ہے یہ جملہ کہا اجتا ہے : سلف یسلف سلفا، جس طرح طلب یطلب طلباء ہے جس کا معنی آگے جانا اور گذرنا۔ سلف لہ عمل صالح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–56

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا) 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَجَعَلْنٰهُمْ [پھر ہم نے بنایا ان کو ] سَلَفًا [ ایک گزری ہوئی چیز ] وَّمَثَلًا [اور ایک مثال ] لِّلْاٰخِرِيْنَ [ آخری لوگوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 56–57

قریش مکہ کی ایک جاہلانہ بات کی تردید، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی کا تعارف، اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت ہی صراط مستقیم ہے تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ قریش نے عبد اللہ بن زبعری سے کہا (اس وقت اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) کہ محمد ﷺ یہ سناتے ہیں : ﴿اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ 1ؕ﴾ بلاشبہ تم لوگ اور وہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو (یہ سورة الانبیاء کی آیت ہے) تو عبد اللہ بن زبعری یہ سن کر کہنے لگا کہ میں موجود ہوتا تو اس کی تردید کردیتا قریش نے کہا کہ تو کیا کہتا، اس پر عبد اللہ نے کہا کہ میں یوں کہتا کہ یہ مسیح (عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–56

قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 54–56

34:۔ ” فاستخف قومہ “ فرعون نے اپنی قوم کو جاہل اور خفیف العقل پایا اور انہیں گمراہی پر اکسایا، تو ساری قوم اس کے پیچھے چل پڑی وہ سب تھے ہی فاسق اور بدکردار اس لیے فورًا ہی انہوں نے اس کا طاعت قبول کرلی اور اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ استکف عقولہم فدعا ہم الی الضلالۃ فاستجابوا لہ (ابن کثیر ج 4 ص 130) ۔ ” فلما اسفونا انتقمنا “ جب فرعون اور اس کی قوم نے عناد و مکابرہ اور غرور و استکبار سے دعوت توحید کو ٹھکرا کر، ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ایمان والوں کو ہولناک اذیتیں پہنچا کر اور حق والوں کا تمسخر اڑا کر ہمارے غیظ و غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان سب کو دریا میں غرق کر کے ان سے انتقام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–56

ربط آیات گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 56–57

وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْہُ يَصِدُّوْنَ۝ 57 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–56

ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–56

فَلَمَّـآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰـہُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ فَجَعَلْنٰـھُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً لِّـلْاٰخِرِیْنَ ۔ (الزخرف : 55، 56) (پس جب ان لوگوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ہم نے ان کو ماضی کی ایک داستان اور بعد والوں کے لیے نمونہ ٔ عبرت بنادیا۔ ) اٰسَفَہٗ کے معنی ہیں اَغْضَبَہٗ یعنی ہم نے ایک مدت تک انھیں سنبھلنے کا موقع دیا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے ہر ممکن طریقے سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کی سرکشی اور تمرد کو توڑنے کے لیے انھیں مسلسل آزمائشوں میں ڈالا گیا۔ لیکن جب انھوں نے کسی طریقے سے بھی راہ ہدایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–56

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے تشدد اور پراپیگنڈہ کے قوم پر منفی اثرات۔ فرعون نے قوم کو ہر اعتبار سے مرعوب اور اپنے تابع رکھنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جس کے نتیجہ میں قوم نے فرعون کی ہر بات کو تسلیم کیا جس کا سبب یہ تھا کہ یہ قوم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمان تھی۔ فرعون اور اس کی قوم نے جب اللہ تعالیٰ کو ناراض کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور سب کو سمندر میں غرق کرڈالا اور انہیں ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت بنادیا۔ فرعون کی قوم کے لیے ” فَاسْتَخَفَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفسرین نے دو معانی بیان کیے ہیں۔ 1 فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا۔ 2 اس نے اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 56: فَجَعَلْنٰہُمْ سَلَفًا (ہم نے ان کو خاص قسم کے متقدمین میں سے بنادیا) سلف یہ سالف کی جمع ہے۔ جیسے خادم جمع ہے خدم کی۔ قراءت : سُلُفًا حمزہ ٗ علی نے یہ پڑھا اور سلیف کی جمع قرار دیا۔ یعنی ایک جماعت جو گزر چکی۔ وَّمَثَلاً (اور عجیب شان والی بات) اور مثل کی طرح چلنے والی بات جس سے مثالیں بیان کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے۔ تمہاری حالت تو قوم فرعون کی حالت جیسی ہے۔ لِّلْاٰخِرِیْنَ (آئندہ آنے والوں کے لئے نمونہ بنادیا) ان کے لئے جو ان کے بعد آئیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے۔ ہم نے ان کو پچھلے کفار کے لئے نمونہ بنادیا۔ جو ان جیسے عذاب اور سزا کے استحقاق کے لئے انہی کے نقش پا پر چلتے ہیں۔ اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 56–57

(55۔ 56) ۔۔۔۔۔۔۔ ، فلما اسفونا، انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔ ، انتقمنا منھم فاغرقنا ھم اجمعین، فجعلنا ھم سلفا، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے، سلفا، سین اور لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یہ سلیف کی جمع سلف لام کے پیش کے ساتھ سیلف سے یعنی جو آگے چلا گیا اور دیگر حضرات نے سین اور لام کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے سالف کی جمع جیسے حارس اور حرس ، خادم اور خدم، راصد اور رصد۔ اور یہ دونوں امتوں میں گزرے ہوئے لوگ جو آگے چلے گئے ۔ کہا جاتا ہے سلف یسلف جب وہ گزرجائے اور السلف جو آباء میں سے مقدم ہوچکے ، پس ہم نے ان کو بنادیا آگے جانے والے تاکہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ، ومثلالل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–56

46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–56

آیت 46 جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

76 انجام کار فرعون ایک قصہ پارینہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انجام کار فرعون اپنی قوم سمیت ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو ایک قصہ پارینہ بنادیا "۔ سو اب ان بدبختوں کا ذکر و وجود یا تو کہیں کتابوں کے اوراق و صفحات میں مل سکے گا یا ان آثار و نشانات اور کھنڈرات کی صورت میں جو اپنی زبان حال سے ان کی داستان عبرت سناتے ہیں۔ کہ یہ ہوتا ہے آخری انجام حق کی تکذیب و انکار کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سلف کے معنیٰ گزرنے کے ہیں۔ اور یہیں سے یہ لفظ گزرے ہوئے لوگوں کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور سلف اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ اور یہاں یہ برے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–56

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–67

آیات 55 تا 67۔ اسرار ومعارف۔ اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 دوسر ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہم نے انہیں بعد میں آنے والوں کیلئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنادیا کہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:56) فجعلنھم سلفا ومثلا للاخرین :عاطفہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ قوم فرعون کی طرف راجع ہے جس کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ ترجمہ :۔ اور ہم نے ان کو (قوم فرعون کو) پچھلے آنے والوں کے لئے سلف اور مثل بنادیا۔ سلفا۔ (باب نصر) مصدر۔ بمعنی واقعہ کا گزر جانا ہے۔ لیکن یہاں بطور اسم مفعول کے استعمال ہوا ہے یعنی گزرا ہوا واقعہ۔ یا یہ سالف کی جمع ہے جیسے خدم کی جمع خادم ہے اور اس کے معنی ہیں گزرا ہوا۔ گزشتہ۔ پہلے گزرا ہوا۔ پیش رو۔ یعنی آخرین میں سے جو ان کی روش پر چلتے رہے اور ان کے انجام (غرقابی) سے سبق حاصل نہ کیا ان کے لئے وہ جہنم کی طرف پیش رو ہوگئے۔ (تفہیم القرآن) مثلا تشبیہی قصہ۔ تمثیل۔ ایسا عجیب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–56

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے) تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

فرعون کی ہلاکت۔ (ف 1) فرعون نے اپنی فارغ البالی اور حضرت موسیٰ کی تنگ دستی جتانے کے لیے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰ کے رد کا خطبہ سنایا اور کہا کہ اے قوم ، غور کرو کہ بادشاہ کون ہے کیا میرے قبضہ میں مصر جیسا عالی شان شہر نہیں ہے کہ چالیس درچالیس کوس مربع ہے اور پھر کیسا سبزوشاداب تروتازہ ہے، میرے اردگرد نہریں بہتی ہیں کیا یہ بات کچھ پوشیدہ ہے کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھتے، اب یہ بتاؤ کہ میں جو اتنا بڑاجلیل القدر بادشاہ ہوں میں بہتر ہوں یا موسیٰ جو ذلیل آدمی ہے اور طاقت میں بہت کم، موسیٰ (علیہ السلام) کو سیدھی طرح بات کرنا بھی تو نہیں آتی ، اپنامطلب بھی تو صاف صاف نہیں کہہ سکتے تو اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 55–60

[27] روایات میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشرکین کے سامنے سورة انبیاء کی یہ آیت پڑھی۔ ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21 ۔ الأنبیاء :98) (تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں) تو اس پر ایک مشرک بول اٹھا کہ اس سے تو فرشتوں اور عیسیٰ کا جنہیں لوگ پوجتے ہیں دوزخی ہونا لازم آیا اور جب بتوں کے ساتھ فرشتے اور عیسیٰ بھی دوزخی ہوئے تو فی الحقیقت بت مزے میں رہے کیونکہ پتھر کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس بات پر مشرکین نے قہقہہ لگایا کہ بولو اس کا کیا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ تمہاری کٹ حجتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–56

ف 1: اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں ۔ اور نہ یہ اتنا روحانیت میں بلندپرداز اور خدا کے ہاں مقبول ہے ۔ کہ اس کے آگے پیچھے فرشتے کھڑے نظر آتے ہوں ۔ قوم نے فرعون کے اس طرز استدلال کی تائید کی ۔ اور موسیٰ کی تعلیمات سے انکار کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ باوصف اس نے سروسامانی دنیا کے حضرت موسیٰ کو سارے بنی اسرائیل کا قائد قرار دیا گیا ۔ اور اس کی زندگی کو ان کے لائق متبع اور اطاعت بنایا گیا ۔ اور یہ فرعون اپنی مغرور قوم سمیت دریا میں غرق ہوگیا ۔ آج وہ موسیٰ بنی اسرائیل کی شکل میں اور اپنی تعلیمات کی شکل میں زندہ ہے ۔ جو دنیوی وجاہتوں سے محروم تھا ۔ اور وہ فرعون جس کے سونے کے کنگن تھے ۔ جو شاندار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(56) اور ہم نے پیچھے آنے والوں کے لئے ان لوگوں کو ایک گزری ہوئی قوم اور فسانہ عبرت بنادیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–56

ف 4۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کا قصہ یاد کر کے عبرت دلاتے ہیں کہ دیکھو متقدمین میں ایسے ایسے ہوئے ہیں اور ان کا ایسا ایسا حال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون اور اس کی قوم کو بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیا گیا 56 ؎ یہ بات اس وقت مکہ والوں کو بتائی گئی اور اس کے بعد آج تک بدستور بتائی جاتی رہی اور سب آنے والوں کے لیے وہ باعث عبرت تھی کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح مخالفت کی اور اس کا انجام اس طرح ہوا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا اگرچہ کسی نے بھی اس عبرت سے عبرت حاصل کرنے کی سعی و کوشش نہ کی آج ہمارے لیے اور ہماریقوم کے لیے یہ واقعات درس عبرت ہیں اور اسی طرح قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے درس عبرت رہیں گے۔ اگر کوئی عبرت حاصل کرکے اپنی اصلاح کرلے گا تو اس کا اپنا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو سن کریاد رکھنے والوں کا نقصان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–57

Commentary وَلَمَّا ضُرِ‌بَ ابْنُ مَرْ‌يَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (And when the example of the son of Maryam was cited, your people started at once shouting at it [ in joy ]...43:57). Exegetes have narrated three events as background of the revelation of these verses. One is that once the Holy Prophet ﷺ had addressed the tribe of Quraish and said, "0 people of Quraish! there is no good in whatever is worshipped beside Allah." The polytheists responded by saying, "The Christians worship Sayyidna ` Isa ﷺ ، although you yourself say that he was a virtuous slave of Allah, and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–56

51 That is, "They are a precedent for those who do not learn any lesson from their example, and an object lesson for those who are keen to learn a lesson. "

Read the full tafseer →