Explained with ayahs 52–56
فرعون کے دعوے
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں ؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں ؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے ؟ پھر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔ کلام پاک میں اور جگہ ہے اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند وبالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا (ام) معنی میں (بل) کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت (اما انا) بھی ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہوجائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة الزُّخْرُف 51
یعنی جو ان کے انجام سے سبق نہ لیں اور انہی کی روش پر چلیں ان کے لیے وہ پیش رو ہیں، اور جو سبق لینے والے ہیں ان کے لیے نمونہ عبرت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(آیت) (اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا، یہ اسف سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں افسوس، لہٰذا اس جملے کے لفظی معنی ہوئے ”پس جب انہوں نے ہمیں افسوس دلایا“ اور افسوس بکثرت غصہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کا با محاورہ ترجمہ عموماً اس طرح کیا جاتا ہے کہ ”جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔“ اور چونکہ باری تعالیٰ افسوس اور غصہ کی انفعالی کیفیات سے پاک ہے اس لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کام ایسے کئے جس سے ہم نے انہیں سزا دینے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ (روح)
Read the full tafseer →فلما اسفونا انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین 55
اسفہ کے معنی ہیں اغضبہ یعنی اس کو غضبناک کردیا۔ فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی ان حرکتوں سے ہم یہ غصہ دلایا تو بالآخر ہم نے بھی ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ یہا مر یہاں واضح رہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کا تعاقب اپنی تمام عسکری طاقت اور پانے جملہ اعیان و امراء کے ساتھ کیا تھا اس وجہ سے اس عذاب نے اس کی پوری جمعیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
56۔ 1 یعنی ان کو بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت اور مثال بنادیا۔ کہ وہ اس طرح کفر و ظلم اور علو و فساد نہ کریں جس طرح فرعون نے کیا تاکہ وہ اس جیسے عبرت ناک حشر سے محفوظ رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
16: جب سورة انبیاء کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں بت پرستوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں : 98۔ تو ایک کافر نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی عبادت کرتے ہیں، اس لیے اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ (معاذ اللہ) وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں، حالانکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ اس کی یہ بات سن کر دوسرے کافروں نے خوب شور مچایا کہ واقعی اس شخص نے بہت زبردست اعتراض کیا ہے۔ حالانکہ اعتراض بالکل لغو تھا، کیونکہ اس آیت میں بت پرستوں سے خطاب تھا، عیسائیوں سے نہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت نمبر 55 تا 56
ذات باری کے غضب اور انتقام اور تباہی مچانے والے اقدام کو پیش کرنا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے غضب کے نتیجے میں اس کی قوت جو کام کرتی ہے وہ تاریخ میں مثال ہوتی ہے۔
فلما اسفونا (43 : 55) “ جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا ”۔ یعنی بہت زیادہ ناراض کردیا۔
انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین (43 : 55) “ ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو اکٹھا غرق کر دیا ”۔ فرعون ، اس کے سرداروں اور لشکر کو۔
یہی لوگ تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں ہلاک ہوئے ، ان کو پیشوا بنا دیا کہ ہر ظالم یہی کام کرے اور اسی انجام تک پہنچے۔
ومثلا للاخرین (43 : 56) “ اور نمونہ عبرت پچھلوں کے لئے ”۔ یعنی ان…
Read the full tafseer →11 یعنی وہ کام کیے جن پر عادۃً خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 55 { فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”تو جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
54 یعنی انہیں صفحہ ہستی سے ایسا مٹا دیا کہ کوئی ان کا ذکر خیر کرنے والا باقی نہ رہ گیا۔ البتہ وہ پچھلے لوگوں کے لیے ایک نمونہ عبرت ضرور بن گئے کہ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کا کیا انجام ہوتا ہے کیونکہ فرعون اور آل فرعون دراصل اللہ کے باغیوں کے پیش رو تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
43۔ یعنی بعد کی نسلیں ان کی سرکشی اور پھر غرقابی کے قصے یاد کرکے ان کے حال سے عبرت پکڑیں۔ (آیت) ” اسفونا “۔ پر ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ غرقابی فرعون پر حاشیے سورة البقرہ (پ 1) میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت نمبر 46 تا 56
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →فلما اسفونا انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین پھر جب انہوں نے ہم کو سخت غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو (نیل میں) ڈبو دیا۔
اٰسَفُوْنَا یعنی جب عناد اور نافرمانی میں وہ حد سے بڑھ گئے تو ان کی نافرمانی نے ہم کو غضبناک کردیا۔ اَسِفَ فُلاَنٌ فلاں شخص سخت غضبناک ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(55۔ 56) غرض کہ جب انہوں نے ہمارے نبی حضرت موسیٰ کو غصہ دلایا اور ہمیں بھی غصہ دلایا تو ہم نے بذریعہ عذاب ان سے بدلہ لیا، ہم نے سب کو دریا میں غرق کردیا اور ان کے بعد میں آنے والوں کے لیے عذاب کے ذریعے ہلاکت کا نمونہ بنا دیا۔
Read the full tafseer →فلما اسفونا انتقمنا منھم…: اس ایٓ سے ظاہر ہے کہ غصے ہونا اور انتقام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، جیسا کہ راضی ہونا اور انعام دینا اس کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بھی انہیں ہلاک کرسکتا تھا، مگر فرعون نے نہروں کے اپنے تحت چلنے پر فخر کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی ہی میں غقر کر کے انتقام لیا۔ عموماً انسان جس چیز پر فخر کرتا ہے اللہ کی طرف سے وہی چیز اس کی ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔
Read the full tafseer →فلما اسفونا انتقمنا منھم ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : وہ ہم پر غصے ہوا اور ہم پر غضبناک ہوا (2) علی بن ابی طلحہ نے ان سے روایت نقل کی ہے کہ وہ ہم سے ناراض ہوگیا۔ ماوردی نے کہا، دونوں کا معنی مختلف ہے دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ نحط سے مراد ناپسندیدگی کا اظہار ہے اور غضب سے مراد انتقام کا ارادہ ہے قشیری نے کہا : یہاں اسف سے مراد غضب ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف غضب کی نسبت کی جاتی ہے یا تو اس سے مراد سزا دینا ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ صفات ذات میں سے ایک صفت ہوگی یا عین سزا ہوگی تو اس صورت میں یہ صفات فعل میں سے ہوگی۔
ماوردی کے قول کا یہی معنی ہے۔ عمر بن ذر نے کہا، اے اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا [ پھر جب انہوں نے غصہ دلایا ہم کو ] انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ [ تو ہم نے انتقام لیا ان سے ] فَاَغْرَقْنٰهُمْ [ پھر ہم نے غرق کردیا ان کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]
Read the full tafseer →﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا ﴾ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ہے انہوں نے ہمیں غضبناک کیا اور غصہ دلایا، اور اللہ تعالیٰ کے غصہ کا مطلب اگر سزا دینے کا ارادہ ہو تو یہ ذات الٰہی کی صفت ہے اگر مراد سزا ہے تو یہ فعل کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
34:۔ ” فاستخف قومہ “ فرعون نے اپنی قوم کو جاہل اور خفیف العقل پایا اور انہیں گمراہی پر اکسایا، تو ساری قوم اس کے پیچھے چل پڑی وہ سب تھے ہی فاسق اور بدکردار اس لیے فورًا ہی انہوں نے اس کا طاعت قبول کرلی اور اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ استکف عقولہم فدعا ہم الی الضلالۃ فاستجابوا لہ (ابن کثیر ج 4 ص 130) ۔ ” فلما اسفونا انتقمنا “ جب فرعون اور اس کی قوم نے عناد و مکابرہ اور غرور و استکبار سے دعوت توحید کو ٹھکرا کر، ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ایمان والوں کو ہولناک اذیتیں پہنچا کر اور حق والوں کا تمسخر اڑا کر ہمارے غیظ و غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان سب کو دریا میں غرق کر کے ان سے انتقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ اَجْمَعِيْنَ 55 ۙ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فَلَمَّـآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰـہُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ فَجَعَلْنٰـھُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً لِّـلْاٰخِرِیْنَ ۔ (الزخرف : 55، 56)
(پس جب ان لوگوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ہم نے ان کو ماضی کی ایک داستان اور بعد والوں کے لیے نمونہ ٔ عبرت بنادیا۔ )
اٰسَفَہٗ کے معنی ہیں اَغْضَبَہٗ یعنی ہم نے ایک مدت تک انھیں سنبھلنے کا موقع دیا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے ہر ممکن طریقے سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کی سرکشی اور تمرد کو توڑنے کے لیے انھیں مسلسل آزمائشوں میں ڈالا گیا۔ لیکن جب انھوں نے کسی طریقے سے بھی راہ ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے تشدد اور پراپیگنڈہ کے قوم پر منفی اثرات۔
فرعون نے قوم کو ہر اعتبار سے مرعوب اور اپنے تابع رکھنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جس کے نتیجہ میں قوم نے فرعون کی ہر بات کو تسلیم کیا جس کا سبب یہ تھا کہ یہ قوم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمان تھی۔ فرعون اور اس کی قوم نے جب اللہ تعالیٰ کو ناراض کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور سب کو سمندر میں غرق کرڈالا اور انہیں ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت بنادیا۔ فرعون کی قوم کے لیے ” فَاسْتَخَفَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفسرین نے دو معانی بیان کیے ہیں۔
1 فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا۔ 2 اس نے اپنی…
Read the full tafseer →انتقام الٰہی پچھلوں کے لئے نمونہ :
آیت 55: فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ اَجْمَعِیْنَ (جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور ان سب کو ڈبو دیا) آسف یہ اسف اسفًا سے نقل ہو کر آیا ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی کا غصہ زیادہ تیز ہوجائے۔ معنی یہ ہے انہوں نے گناہوں میں افراط سے کام لیا اور اپنے کو جلد عذاب کا حقدار اور اس بات کا مستحق بنادیا کہ ہم ان کے متعلق حلم سے کام نہ لیں۔
Read the full tafseer →54، فاستخف قومہ، یعنی فرعون نے اپنی قوم قبط کو ہلا سمجھا یعنی ان کو بڑاجاہل پایا اور کہا گیا ہے کہ ان کو جہالت پر مجبور کردیا۔ کہاجاتا ہے، استخفہ عن رابہ، جب کوئی کسی کو جہالت پر مجبورکردے اور درستگی سے ہٹادے۔ ، فاطاعوہ، موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب پر۔ ، انھم کانواقوما فاسقین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت 46
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →75 فرعون اور اس کی قوم کے ہولناک انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار ہم نے ان سے انتقام لیا اور غرق کردیا ان سب کو "۔ اسی پانی کی موجوں میں جس کی نہروں پر وہ لوگ فخر جتلایا کرتے تھے۔ اور اسی بنا پر وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے تھے۔ اور یہ اس لئے بھی کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو کفر و معصیت اور عناد و سرکشی کے سمندر میں غرق کردیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ فرعون چونکہ اپنے اعیان و اَنصار اور پورے لاؤ لشکر سمیت بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا تھا اور وہ ان سب کو لیکر خود جاکر اس مقام پر پہنچا تھا جہاں اس کو اپنے انجام کو پہنچنا تھا۔ سو وہ سب وہاں غرق ہوئے۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–67
آیات 55 تا 67۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح کی جہالت اب ان سے ظاہر ہورہی ہے جن سے آپ کو واسطہ ہے جیسے بھی دیکھ لیجئے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کی گیء تو آپ کی قوم نے شور مچادیا اور لگے چلانے اور کہنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی بھلائی نہیں یا وہ دوزخ میں جائیں گے تو اب فرمائیے کہ عبادت توعیسی کی بھی کی جاتی ہے چلو آپ کے نزدیک ہمارے بتوں سے بہتر سہی مگر کیا ان میں بھی کوئی خیر نہیں یامعاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے تو یہ اعتراض محض جھگڑنے کے لیے کر رہے ہیں انہیں ہدایت مطلوب نہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات نہیں ہیں نہ کتب سابقہ اس…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی جب وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں بڑھتے ہی چلے گئے تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس گناہ گار کو چاہیے کہ اللہ کے غضب سے ڈر کر توبہ کرے اور اس کے علم و عفو پر مغرور نہ ہو (قرطبی)
Read the full tafseer →(43:55) فلما : لما حرف شرط (کلمہ ظرف) پھر جب۔
اسفونا انتقمنا : اسفوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ ایساف (افعال) مصدر نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ انہوں نے ہم کو غصہ دلایا۔ اسف باب سمع سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے)
تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
فرعون کی ہلاکت۔
(ف 1) فرعون نے اپنی فارغ البالی اور حضرت موسیٰ کی تنگ دستی جتانے کے لیے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰ کے رد کا خطبہ سنایا اور کہا کہ اے قوم ، غور کرو کہ بادشاہ کون ہے کیا میرے قبضہ میں مصر جیسا عالی شان شہر نہیں ہے کہ چالیس درچالیس کوس مربع ہے اور پھر کیسا سبزوشاداب تروتازہ ہے، میرے اردگرد نہریں بہتی ہیں کیا یہ بات کچھ پوشیدہ ہے کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھتے، اب یہ بتاؤ کہ میں جو اتنا بڑاجلیل القدر بادشاہ ہوں میں بہتر ہوں یا موسیٰ جو ذلیل آدمی ہے اور طاقت میں بہت کم، موسیٰ (علیہ السلام) کو سیدھی طرح بات کرنا بھی تو نہیں آتی ، اپنامطلب بھی تو صاف صاف نہیں کہہ سکتے تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
[27] روایات میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشرکین کے سامنے سورة انبیاء کی یہ آیت پڑھی۔ ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) (تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں) تو اس پر ایک مشرک بول اٹھا کہ اس سے تو فرشتوں اور عیسیٰ کا جنہیں لوگ پوجتے ہیں دوزخی ہونا لازم آیا اور جب بتوں کے ساتھ فرشتے اور عیسیٰ بھی دوزخی ہوئے تو فی الحقیقت بت مزے میں رہے کیونکہ پتھر کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس بات پر مشرکین نے قہقہہ لگایا کہ بولو اس کا کیا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ تمہاری کٹ حجتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
ف 1: اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں ۔ اور نہ یہ اتنا روحانیت میں بلندپرداز اور خدا کے ہاں مقبول ہے ۔ کہ اس کے آگے پیچھے فرشتے کھڑے نظر آتے ہوں ۔ قوم نے فرعون کے اس طرز استدلال کی تائید کی ۔ اور موسیٰ کی تعلیمات سے انکار کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ باوصف اس نے سروسامانی دنیا کے حضرت موسیٰ کو سارے بنی اسرائیل کا قائد قرار دیا گیا ۔ اور اس کی زندگی کو ان کے لائق متبع اور اطاعت بنایا گیا ۔ اور یہ فرعون اپنی مغرور قوم سمیت دریا میں غرق ہوگیا ۔ آج وہ موسیٰ بنی اسرائیل کی شکل میں اور اپنی تعلیمات کی شکل میں زندہ ہے ۔ جو دنیوی وجاہتوں سے محروم تھا ۔ اور وہ فرعون جس کے سونے کے کنگن تھے ۔ جو شاندار…
Read the full tafseer →(55) پھرجب انہوں نے اپنے عناد اور سرکشی سے ہم کو سخت غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلا لیا اور ان سب کو ڈبو دیا۔ یعنی ان کی سرکشی کا انجام یہ ہوا کہ ہمارے تحمل کی انتہا ہوگئی اور ان کی ان حرکات نے ہم کو غصہ دلایا اور ہم نے ان سے بدلا لیا اور ان سے غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ف 4۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کا قصہ یاد کر کے عبرت دلاتے ہیں کہ دیکھو متقدمین میں ایسے ایسے ہوئے ہیں اور ان کا ایسا ایسا حال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →فرعون کی یہ حالت بدستور قائم رہی یہاں تک کہ وہ ہمارے انتقام کی نذر ہوگیا
55 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) برس ہا برس فرعون کی اصلاح کرنے کی کوشش میں مصروف رہے لیکن اس کی اصلاح نہ ہونا تھی نہ ہوئی اور وہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا۔ انجام کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل چلیں اور ہمارے انتقام لینے کی حالت کا نظارہ خود بھی کریں اور اپنی قوم کو بھی کرائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل میں سے جو آپ کے ساتھ نکلنے پر تیار ہوئے لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ فرعون نے اپنی افواج اور انصار کو ساتھ لے کر ان کا تعاقب کیا ، رات گزر…
Read the full tafseer →فَلَمَّا آسَفُونَا (So, when they provoked our anger, - 43:55). Since Allah Almighty is pure of the states of anger and sorrow, the meaning is that their behavior caused Us to decide that they should be punished. (Ruh-ul-Ma’ ani)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
51 That is, "They are a precedent for those who do not learn any lesson from their example, and an object lesson for those who are keen to learn a lesson. "
Read the full tafseer →