Az-Zukhruf 43:54

Az-Zukhruf · from ayah 54

43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ؕ— اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۟فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ‌ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So he bluffed his people, and they obeyed him. Indeed, they were [themselves] a people defiantly disobedient [of Allah].

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:54

اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طرح اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور انہوں نے اس کا کہنا مان لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب گنہگار لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس نے اپنی قوم کو کم عقل کرلیا تو وہ اس کے کہنے پر چلے بیشک وہ بے حکم لوگ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس اُس نے (اِن باتوں سے) اپنی قوم کو بے وقوف بنا لیا، سو اُن لوگوں نے اُس کا کہنا مان لیا، بیشک وہ لوگ ہی نافرمان قوم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس طرح اس نے اپنی قوم کو الو بنا لیا اور وہ اس کی بات مان گئے۔ وہ تو تھے ہی نافرمان لوگ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس طرح اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنا لیا اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ یہ لوگ نافرمان قسم کے لوگ تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس نے ہلکا (اور بےوقوف) بنا لیا اپنی قوم کو اور انہوں نے اس کی بات مان لی اور وہ تھے ہی فاسق (و بدکار) لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

غرض اس نے اپنی قوم کو مغلوب کرلیا اور انہوں نے اس کا کہا مان لیا وہ لوگ تھے بھی شرارت سے بھرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اس طرح) اس نے اپنی قوم کی مت مار دی اور انہوں نے اسی کا کہنا مانا یقینا وہ لوگ خود بھی نافرمان ہی تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

He incited his people to levity and they obeyed him. Surely they were an iniquitous people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus he made fool of his people, and they obeyed him. Surely they were a sinful people.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus he made fool of his people, and they obeyed him. Surely they were a sinful people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus he fooled his people, and they obeyed him. Verily, they were ever a people who were rebellious.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus he persuaded his people to make light (of Moses), and they obeyed him. Lo! they were a wanton folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So he bluffed his people, and they obeyed him. Indeed, they were [themselves] a people defiantly disobedient [of Allah].

— Saheeh International

Thus, he made dimwits out of his people and they followed him. They, certainly, were a sinful people. When they invoked Our anger,

— Muhammad Sarwar

So he incited his people to levity and they obeyed him: surely they were a transgressing people.

— Muhammad Habib Shakir

Then he incited his people and they obeyed him; verily they were ever a transgressing people.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus did he make fools of his people, and they obeyed him: truly were they a people rebellious (against Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–56

فرعون کے دعوے فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں ؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں ؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے ؟ پھر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔ کلام پاک میں اور جگہ ہے اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند وبالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا (ام) معنی میں (بل) کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت (اما انا) بھی ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہوجائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 50 اس مختصر سے فقرے میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جب کوئی شخص کسی ملک میں اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے کھلم کھلا ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ہر فریب اور مکر و دغا سے کام لیتا ہے، کھلے بازار میں ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا اور روندتا ہے، تو خواہ زبان سے وہ یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل اور اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے، اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بےوقوف، بےضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کرلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ) ، اس کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ فرعون نے ”اپنی قوم کو آسانی سے اپنا تابع بنا لیا“ (طلب منھم الخفة فی مطاوعتہ) اور دوسرے یہ کہ ”اس نے اپنی قوم کو بیوقوف پایا“ (وجدھم خفیفة احلامہم) (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاستنحف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوماً فسقین 54 استخف ضد ہے استثقل کا استثقال کے معنی کسی چیز کو بھاری بھرکم، وزن دار اور گراں سمجھنے کے ہیں اس وجہ سے استخفاف کے معنی کسی کو بےوزن، بےحقیقت اور بےحیثیت سمجھنے کے ہوں گے۔ استخف قومہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے اپنی قوم کو بالکل سادہ لوح پا کر اس کو پرفریب باتوں سے چٹکیوں میں اڑا دیا اور وہ بیوقوفوں کی طرح اس کے چکموں میں آگئی۔ انسان کے اندر وزن ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ انھم کانوا قوماً فسقین یعنی یہ لوگ خدا کے نافرمان اور اس کے ایمان سے محروم تھے اس وجہ سے بالکل بےوزن اور بےحقیقت تھے۔ اس طرح کے لوگ بڑی آسانی سے شیاطین کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور شیاطین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–56

56۔ 1 یعنی ان کو بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت اور مثال بنادیا۔ کہ وہ اس طرح کفر و ظلم اور علو و فساد نہ کریں جس طرح فرعون نے کیا تاکہ وہ اس جیسے عبرت ناک حشر سے محفوظ رہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–54

15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 54 جمہور عوام کو ڈکٹیٹروں کی طرف سے خفیف و حقیر سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے وہ پہلے تو عوام سے ہر بات کو چھپا کر رکھتے ہیں۔ ان سے حقائق کو چھپاتے ہیں تا کہ وہ بھول جائیں۔ اور ان کے بارے میں وہ دوبارہ کھوج ہی نہ لگائیں۔ ان کے دل و دماغ کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ ان کی شخصیت عوام کے ذہنوں پر چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ان کے لئے عوام کو ہلکا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مطیع ہوجاتے اور جدھر چاہتے ہیں ، ادھر جاتے ہیں۔ لیکن کوئی ڈکٹیٹر عوام کو اس قدر ہلکا نہیں بنا سکتا جب تک وہ خود فاسق و فاجر نہ ہوں اور بےراہ روی نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے اللہ کی رسی نہ پکڑی ہو۔ معاملات کو ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اپنی ابلہ فریب باتوں سے قوم کو الو بنا لیا۔ وہ سب احمق اسی کی بات ماننے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی طبائع میں خدا کی نافرمانی پہلے سے رچی ہوئی تھی، اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ } ”تو اس طرح اس نے اپنی قوم کی مت مار دی اور انہوں نے اسی کا کہنا مانا۔“ یہاں پر لفظ اِسْتَخَفَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ان کو بالکل ہی خفیف اور ہلکا سمجھا۔ مراد یہ ہے کہ اس نے ان کی عقل ہی گنوا دی ‘ ان کو بیوقوف بنا لیا۔ اسی طرح آج کے سیاسی شعبدہ باز demagogs اپنے عوام کو نت نئے طریقوں سے بیوقوف بناتے ہیں۔ کوئی ان کے سامنے روٹی کپڑا اور مکان کی ڈگڈگی بجاتا ہے تو کوئی اس مقصد کے لیے کسی دوسرے نعرے کا سہارا لیتا ہے۔ بقول اقبالؔ ابلیس کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ میں جب چاہوں ہر قسم کے انسانوں کو بیوقوف بنا سکتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 ایسی ہی باتیں کہہ کر فرعون نے اپنی قوم کو الو بنایا اور وہ الو بن گئے۔ اس لیے کہ وہ فاسق لوگ تھے۔ جن کو اپنے دنیوی مفادات کے علاوہ اور کسی بات سے غرض ہی نہ تھی۔ اور وہ انہیں فرعون کا غلام بنا رہنے میں ہی نظر آرہے تھے۔ فرعون پر اگرچہ حقیقت واضح ہوچکی تھی مگر وہ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیل رہا تھا کہ اس کی حکومت میں کمزوری اور تزلزل واقع نہ ہو۔ وہ عام لوگوں کی ذہنیت کو بھی خوب جانتا تھا کہ ایسے بےضمیر، بےاصول اور بےعقل لوگوں سے کیسے کام نکالا اور انہیں اپنی باتوں پر لگایا جاسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ یعنی مصری قوم بھی اپنے بادشاہ کی ہم زبان وہم خیال ہوگئی اور وہ تھی بھی پہلے ہی سے گمراہ ..... عقیدے تو مصریوں کے وہی تھے ہی جو خود فرعون کے تھے۔ اب سیاسی حیثیت سے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں قوم اپنے بادشاہ کی ہم خیال ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–56

آیت نمبر 46 تا 56 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوما فسقین غرض اس نے (ایسی باتیں کر کے) اپنی قوم کو مغلوب کردیا اور وہ اس کے کہنے میں آگئے اور وہ لوگ کچھ پہلے ہی بدکار تھے۔ اسْتَخَفَ قَوْمَہٗ اپنی قوم یعنی قبطیوں کو جاہل پایا ‘ ان کو سبک سر اور جاہل ہونے پر آمادہ کیا۔ استخفاف رائے ‘ کسی کی رائے کو غلط بنانا اور صحیح راستہ سے ہٹا دینا۔ بعض علماء نے کہا : فرعون نے قوم سے اپنی اطاعت میں خفت (اور تیزی) کی خواہش کی ‘ چناچہ موسیٰ سے جو لوگوں نے ایمان کا وعدہ کیا تھا ‘ فرعون کے حکم کو مان کر اس وعدہ کو توڑ دیا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ بلاشبہ وہ سب فاسق تھے ‘ اسلئے انہوں نے فاسق کی اطاعت کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاستخف قومہ فاطاعوہ : لفظی معنی ہے ”اس نے پانی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا۔“ یعنی اس نے اپنی قوم کے لوگوں کی رئاے کو کوئی وزن نہ دیا اور نہ ہی انہیں اپنی عقل سے سوچنے سمجھنے کا موقع دیا، بلکہ انھیں مجبور کیا کہ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا لیں۔ (دیکھیے مومن : 29) چناچہ وہ انھیں پھسلانے اور الو بنانے میں کامیاب ہوگیا اور وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے۔ (2) انھم کانوا قوماً فسقین :”ان“ تعلیل کے لئے ہوتا ہے، یعنی انہوں نے اس کی اطاعت اس لئے اختیار کی کہ فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔ وہ گمراہی کے راستے پر ہی چل سکتے تھے، سیدھی راہ پر چلنا ان کے بس کی بات ہی نہ تھی، جیسا کہ فرمایا :(ساصرف عن ایتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فاستخف قومہ ابن اعربای نے کہا، معنی ہے اس نے اپنی قوم کو اجہل جانا فاطعوہ تو انہوں نے اپنی کم عقل کی وجہ سے اس کی اطاعت کی یہ جملہ کی یہ جملہ کہا اجتا ہے : استخفہ یعنی اسے جہالت پر برانگیختہ کیا اسی معنی میں ہے ولا یستخفنک الذین لایوقنون ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس نے انہیں گفتگو کے ساتھ دھمکایا تو قوم نے جھٹلانے میں اس کی اطاعت کی (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے، استخف قومہ۔ یعنی اس نے انہیں کم عقل پایا۔ یہ امر اس چیز پر دلالت نہیں کرتا کہ ان پر اطاعت کرنا واجب تھا تو اس صورت میں اضمار کی ضرورت ہوگی اس کی تقدیر کلام یہ ہے وجدھ خفاف العقول فدعا ھم الی الغوایہ فاطاعوۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–56

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا) 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاسْتَخَفَّ [ تو اس نے مت مار دی ] قَوْمَهٗ [ اپنی قوم کی ] فَاَطَاعُوْهُ ۭ [ پھر انھوں نے اطاعت کی اس کی ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ہی ] قَوْمًا فٰسِقِيْنَ [ایک نافرمانی کرنے والی قوم ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–54

﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–56

قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 54–56

34:۔ ” فاستخف قومہ “ فرعون نے اپنی قوم کو جاہل اور خفیف العقل پایا اور انہیں گمراہی پر اکسایا، تو ساری قوم اس کے پیچھے چل پڑی وہ سب تھے ہی فاسق اور بدکردار اس لیے فورًا ہی انہوں نے اس کا طاعت قبول کرلی اور اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ استکف عقولہم فدعا ہم الی الضلالۃ فاستجابوا لہ (ابن کثیر ج 4 ص 130) ۔ ” فلما اسفونا انتقمنا “ جب فرعون اور اس کی قوم نے عناد و مکابرہ اور غرور و استکبار سے دعوت توحید کو ٹھکرا کر، ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ایمان والوں کو ہولناک اذیتیں پہنچا کر اور حق والوں کا تمسخر اڑا کر ہمارے غیظ و غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان سب کو دریا میں غرق کر کے ان سے انتقام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–56

ربط آیات گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۝ 54 خفیف الخَفِيف : بإزاء الثّقيل، ويقال ذلک تارة باعتبار المضایفة بالوزن، و قیاس شيئين أحدهما بالآخر، نحو : درهم خفیف، ودرهم ثقیل . والثاني : يقال باعتبار مضایفة الزّمان، نحو : فرس خفیف، وفرس ثقیل : إذا عدا أحدهما أكثر من الآخر في زمان واحد . الثالث : يقال خفیف فيما يستحليه الناس، وثقیل فيما يستوخمه، فيكون الخفیف مدحا، والثقیل ذمّا، ومنه قوله تعالی: الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ [ الأنفال/ 66] ، فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ [ البقرة/ 86] وأرى أنّ من هذا قوله : حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً [ الأعراف/ 189] . الرّابع :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–56

ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (الزخرف : 45) (پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا کردیا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی، بیشک وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ ) حکمران کی ساحری گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جادوگروں کے مقابلے اور ان کی شکست اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پے در پے آنے والی نشانیوں کی وجہ سے قوم فرعون میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ایک میلان پیدا ہوگیا تھا اور وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ فرعون اور اس کے عمائدین محض طاقت کے بل بوتے پر ایک صحیح بات کو غلط قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور اس طرح سے ان کے دلوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–56

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے تشدد اور پراپیگنڈہ کے قوم پر منفی اثرات۔ فرعون نے قوم کو ہر اعتبار سے مرعوب اور اپنے تابع رکھنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جس کے نتیجہ میں قوم نے فرعون کی ہر بات کو تسلیم کیا جس کا سبب یہ تھا کہ یہ قوم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمان تھی۔ فرعون اور اس کی قوم نے جب اللہ تعالیٰ کو ناراض کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور سب کو سمندر میں غرق کرڈالا اور انہیں ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت بنادیا۔ فرعون کی قوم کے لیے ” فَاسْتَخَفَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفسرین نے دو معانی بیان کیے ہیں۔ 1 فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا۔ 2 اس نے اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرعون نے قوم کو ذلیل بنایا : آیت 54: فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ (غرض اس نے اپنی قوم کو مغلوب کردیا) زبان سے ان کو مضطرب کردیا اور ان کو ہلکا اور ذلیل قرار دیا۔ اس کی بات ان میں اثر کرگئی۔ ایک قول یہ ہے : کہ ان کو جلد اس نے اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ فَاَطَاعُوْہُ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (وہ لوگ اس کے کہنے میں آگئے وہ لوگ شرارت سے بھرے ہوئے تھے) وہ اللہ تعالیٰ کے دین سے نکلنے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53، فلولاالقی علیہ، اگر وہ سچا ہو۔ ، اسورۃ من ذھب، حفص اور یعقوب رحمہما اللہ نے ، اسورۃ، مسوار کی جمع پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے، اس اورۃ، پڑھا ہے، اسورۃ، کی جمع اور یہ جمع الجمع ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب وہ لوگ کسی کو سردار بناتے تھے تو اس کو کنگن پہناتے تھے اور گردن میں سونے کے ہار ڈالتے تھے یہ اس کی سرداری کی دلیل ہوتی تھی تو فرعون نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے ان پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے۔ اگر وہ سردار ہیں اور ہم پر ان کی اطاعت واجب ہے۔ ، اوجاء معہ الملائکۃ مقترنین، لگاتار ایک دوسرے کے پیچھے جو اس کی سچائی کی گواہی دیتے اور ان کی مدد کرتے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–56

46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–56

آیت 46 جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

72 فرعون کے اپنی قوم کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھانے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے ہلکا پایا اپنی قوم کو "۔ اس طرح کی اپنی پر فریب باتوں اور مختلف قسم کی چالوں سے۔ اور اپنی ڈکٹیٹر شپ کی قوت و زور کے بل بوتے پر اور طرح طرح کے حیلے حوالوں سے۔ یہاں تک کہ اس نے ان احمقوں کو اپنے پیچھے چلنے والوں اور اس کے اشارئہ ابرو پر ناچنے والوں کی ایک بھیڑ بنادیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ " استخف " ضد ہے " استثقل " کی۔ استثقال کے معنیٰ کسی چیز کو بھاری، بوجھل اور گراں سمجھنے کے ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں استخفاف کے معنیٰ کسی کو ہلکا، بےوزن اور بےحیثیت سمجھنے کے ہوں گے۔ سو اس لعین نے اپنی قوم کو سادہ اور بدھو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–56

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

آیات 46 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” اس نے اپنی قوم کو ہلکا جانا “ یعنی اس نے اپنے ملک کے باشندوں کی عقل اور سمجھ کو بکائو مال سمجھا اس لئے وہ اپنی مکاریوں اور چال نازیوں سے انہیں پھسلانے اور الو بنانے میں کامیاب ہوگیا یا ان کو مجبور کیا کہ اس کا ساتھ دیں۔ ( قرطبی) ۔ 8 یعنی فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:54) استخف۔ ماضی واحد مذکر غائب استخفاف (استفعال) مصدر۔ بمعنی بیوقوف اور جاہل بنانا۔ اور راہ حق سے ہٹانا۔ ای استجھل غرض اس نے (اپنی قوم کی) عقل مار دی اور لوگوں نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا اس کو توڑنے پر ان کو آمادہ کرلیا۔ قومہ اس کی قوم یعنی فرعون کی قوم (قبطیوں) کو۔ اطاعوہ : اطاعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اطاعۃ (افعال) مصدر بمعنی حکم ماننا۔ فرمانبرداری کرنا۔ اطاعت کرنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع فرعون ہے انہوں نے (فرعون کی قوم نے) اس کا کہا مان لیا (اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کئے گئے وعدوں سے پھر گئے انھم کانوا قوما فسقین : قوما فسقین موصوف و صفت مل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–56

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے) تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

فرعون کی ہلاکت۔ (ف 1) فرعون نے اپنی فارغ البالی اور حضرت موسیٰ کی تنگ دستی جتانے کے لیے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰ کے رد کا خطبہ سنایا اور کہا کہ اے قوم ، غور کرو کہ بادشاہ کون ہے کیا میرے قبضہ میں مصر جیسا عالی شان شہر نہیں ہے کہ چالیس درچالیس کوس مربع ہے اور پھر کیسا سبزوشاداب تروتازہ ہے، میرے اردگرد نہریں بہتی ہیں کیا یہ بات کچھ پوشیدہ ہے کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھتے، اب یہ بتاؤ کہ میں جو اتنا بڑاجلیل القدر بادشاہ ہوں میں بہتر ہوں یا موسیٰ جو ذلیل آدمی ہے اور طاقت میں بہت کم، موسیٰ (علیہ السلام) کو سیدھی طرح بات کرنا بھی تو نہیں آتی ، اپنامطلب بھی تو صاف صاف نہیں کہہ سکتے تو اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–54

[26] جب کوئی شخص اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے، ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا ہے تو خواہ زبان سے یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ درحقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل، اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بےوقوف، بےضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کرلے جاسکتا ہوں۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہوجاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا تھا واقعی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–56

ف 1: اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں ۔ اور نہ یہ اتنا روحانیت میں بلندپرداز اور خدا کے ہاں مقبول ہے ۔ کہ اس کے آگے پیچھے فرشتے کھڑے نظر آتے ہوں ۔ قوم نے فرعون کے اس طرز استدلال کی تائید کی ۔ اور موسیٰ کی تعلیمات سے انکار کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ باوصف اس نے سروسامانی دنیا کے حضرت موسیٰ کو سارے بنی اسرائیل کا قائد قرار دیا گیا ۔ اور اس کی زندگی کو ان کے لائق متبع اور اطاعت بنایا گیا ۔ اور یہ فرعون اپنی مغرور قوم سمیت دریا میں غرق ہوگیا ۔ آج وہ موسیٰ بنی اسرائیل کی شکل میں اور اپنی تعلیمات کی شکل میں زندہ ہے ۔ جو دنیوی وجاہتوں سے محروم تھا ۔ اور وہ فرعون جس کے سونے کے کنگن تھے ۔ جو شاندار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) غرض ان باتوں سے فرعون نے اپنی قوم کو مغلوب اور متاثر کرلیا اور ان کی عقل کھودی پھر انہوں نے اسی کا کہا مانا اور اس کی اطاعت کی بیشک وہ پہلے ہی سے شرارت پسند لوگ تھے۔ یعنی فرعون نے اپنی باتوں سے قوم کو متاثر کرلیا اورر وہ اس کے ہاں میں ہاں ملانے لگے کیونکہ وہ حد سے نکل جانے والے اور شرارت پسند تو پہلے ہی سے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–56

ف 4۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کا قصہ یاد کر کے عبرت دلاتے ہیں کہ دیکھو متقدمین میں ایسے ایسے ہوئے ہیں اور ان کا ایسا ایسا حال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے اپنی قوم کو وبے وزن سمجھا اور بلاشبہ وہ ایسے ہی لوگ تھے 54 ؎ فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف اور احمق بنانے کی کوشش کی اور بلاشبہ اس کی قوم ایسی ہی ثابت ہوئی کیونکہ جو کچھ اس نے بنایا وہ ویسی ہی بن گئی اور پھر بنتی ہی چلی گئی اور اب اس کی حالت یہ تھی کہ وہ دن کو رات کہہ دے تو وہ بھی رات کہہ دیتے اور اگر وہ رات کو دن کہہ دیتا تو وہ بھی ہاں میں ہاں ملادیتے۔ غورکیجئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون نے خود مناظرہ طے کیا اور اس کے لیے ایک دن مقرر کیا ، منادی کرائی ، لوگوں کو اکٹھا کیا ، اپنے مناظرین کو مقابلے میں لایا ، مناظرین نے اپنے دلائل پیش کیے ، لوگوں کو ان کی جیت کا یقین ہونے گا ایسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ (Thus he made fool of his people - 43:54). According to the Arabic expression, this sentence may be translated in two ways; the translation adopted in the text above is based on one of them. The second one may be: "He (Fir'aun) easily made his people to follow him". (Ruh-u1-Ma’ ani)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50 A tremendous reality has been expressed in this brief sentence. When a person wishes to become autocratic in a country, and contrives every plan openly to achieve his object-practices every deception and trick, buys and sells consciences, and persecutes and crushes ruthlessly those who cannot be purchased-he, in fact, shows by his actions, whatever he may say to the contrary, that he takes the people of the country to be light as regards their intellect, morals and manliness, and has formed the impression that he can drive the foolish, unscrupulous and cowardly people wherever he likes.…

Read the full tafseer →