Explained with ayahs 52–56
فرعون کے دعوے
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں ؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں ؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے ؟ پھر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔ کلام پاک میں اور جگہ ہے اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند وبالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا (ام) معنی میں (بل) کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت (اما انا) بھی ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہوجائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 49
قدیم زمانے میں جب کسی شخص کو کسی علاقے کی گورنری، یا کسی غیر ملک کی سفارت کے منصب پر مقرر کیا جاتا تو بادشاہ کی طرف سے اس کو خلعت عطا ہوتا تھا جس میں سونے کے کڑے یا کنگن بھی شامل ہوتے تھے، اور اس کے ساتھ سپاہیوں، چوبداروں اور خدام کا ایک دستہ بھی ہوتا تھا تاکہ اس کا رعب اور دبدبہ قائم ہو اور اس بادشاہ کی شان و شوکت کا اظہار ہو جس کی طرف سے وہ مامور ہو کر آ رہا ہے۔ فرعون کا مطلب یہ تھا کہ اگر واقعی موسیٰ ؑ کو آسمان کے بادشاہ نے ایں جانب کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا تھا تو اسے خلعت شاہی ملا ہوتا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اس کے ساتھ آئے ہوتے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ملنگ ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(آیت) وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ (اور جو قوت بیانہ بھی نہیں رکھتا) اگرچہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کی لکنت دور کردی تھی لیکن فرعون کو ان کا پہلا منظر ہی یاد تھا اس لئے اس نے حضرت موسیٰ پر یہ عیب لگایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں ”قوت بیانیہ“ سے مراد زبان کی روانی کے بجائے دلائل کی قوت و وضاحت ہو اور فرعون کا مطلب یہ ہو کہ حضرت موسیٰ کے پاس ایسے کافی دلائل نہیں ہیں جو مجھے مطمئن کرسکیں۔ حالانکہ یہ فرعون کا نرا اتہام تھا، ورنہ حضرت موسیٰ نے دلائل وبراہین کے مقابلہ میں فرعون کو قطعی لاجواب کردیا تھا۔ (تفسیر کبیر و روح المعانی)
Read the full tafseer →قلولاً القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجآء معہ الملٓئکۃ مقترنین 53
یعنی اس کے زعم کے مطابق اگر کوئی خدا ہے اور اس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو ہونا یہ تھا کہ آسمان سے اس کی زینت کے لئے کنگن اتارے جاتے اور فرشتے پرے بنا بنا کر اس کے جلو میں چلتے لیکن یہ مدعی تو ہے خدا کے رسول ہونے کا اور اس کی کسمپرسی کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ غور کرو کہ کوئی خدا کا رسول ہوگا تو وہ اس حال میں کیوں آئے گا !
یہ امر محلوظ رہے کہ اس عہد میں عام طور پر سلاطین، بالخصوص مصر اور ایران کے سلاطین، اظہار شان و شوکت کے لئے سونے کے کنگن پہنتے تھے اور فوجی دستوں کے جلو میں نکلنا تو جس طرح آج شکوہ خسروی کے اظہار کے لئے…
Read the full tafseer →53۔ 1 اس دور میں مصر اور فارس کے بادشاہ اپنی امتیازی شان اور خصوصی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لئے سونے کے کڑے پہنتے تھے۔ اسی طرح قبیلوں کے سردار کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کڑے اور گلے میں سونے کے طوق اور زنجریں ڈال دی جاتی ہیں۔ اسی اعتبار سے فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی حیثیت اور امتیازی شان ہوتی تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے ہونے چاہیے تھے۔
53۔ 2 جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا رسول ہے یا بادشاہوں کی طرح اس کی شان کو نمایاں کرنے کے لئے اس کے ساتھ ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت نمبر 51 تا 53
مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔
رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی…
Read the full tafseer →9 کہتے ہیں کہ وہ خود جواہرات کے کنگن پہنتا تھا اور جس امیر وزیر پر مہربان ہوتا سونے کے کنگن پہناتا تھا اور اس کے سامنے فوج پر باندھ کر کھڑی ہوتی تھی۔ مطلب یہ تھا کہ ہم کسی کو عزت دیتے ہیں تو ایسا کرتے ہیں۔ کیا خدا کسی کو اپنا نائب بنا کر بھیجے تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کنگن اور جلو میں فرشتوں کی فوج بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →آیت 53 { فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَہَبٍ } ”تو کیوں نہیں اتارے گئے اس پر سونے کے کنگن ؟“
اگر یہ واقعی اللہ کا فرستادہ ہے تو اللہ نے اسے سونے کے کنگن کیوں نہ مہیا کیے کہ ایک بادشاہ کے مقابلے میں جا رہے ہو ‘ کم از کم یہ سونے کے کنگن ہی پہنتے جائو۔
{ اَوْ جَآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ } ”یا اس کے ساتھ فرشتے چلے آ رہے ہوتے صفیں باندھے ہوئے !“
Read the full tafseer →52 فرعون کا قوم کے سامنے اپنا اور سیدنا موسیٰ کا تقابل پیش کرنا :۔ پرانے زمانے میں یہ رواج عام تھا کہ بادشاہ، نواب اور راجے مہاراجے سونے اور جواہرات کے کنگن پہنا کرتے اور اپنے جس درباری پر خوش ہوتے تو اسے بھی انعام و اکرام کے طور پر کنگن پہناتے اور جب کبھی سیر و سفر کو نکلتے تو ان کے آگے پیچھے فوجوں کے محافظ دستے ہوتے تھے اور یہ رواج آج کل بھی عام ہے۔ فرعون نے اپنے اور سیدنا موسیٰ کے تقابل میں ایک تو دولت اور حکومت کا ذکر کیا۔ دوسرے موسیٰ کی رسالت پر یہ اعتراض کیا کہ اگر وہ فی الواقع اللہ کا زمین پر نائب ہے۔ تو کم از کم نشانی کے طور پر اسے سونے کے کنگن تو پہنائے گئے ہوتے یا کم از کم اس کی…
Read the full tafseer →40۔ (جو جاہلی تہذیب و تمدن میں ایک اعلی معیار منصب و اعزاز تھا) مصری حکومت میں جب بادشاہ کی خاص نظر عنایت کسی پر ہوتی تھی۔ کسی معمولی انسان کو تو ارباب رائیس باختیار بنایا جاتا تھا تو بطور اعزاز اسے سونے کے زیور پہنائے جاتے تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
41۔ مشرکوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کوئی انسان محض عام اور معمولی انسانیت کے ساتھ نبی کیونکر ہوسکتا ہے۔ ان کے عقیدہ میں خدا کا اوتار جب دنیا میں آئے گا تو لازم ہے کہ فوق الانسان ہستیوں کے پورے سازوسامان کے ساتھ آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت نمبر 46 تا 56
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین تو سونے کے کنگن اس پر کیوں
نہیں ڈالے گئے یا فرشتے اس کے ساتھ پرا باندھ کر آئے ہوتے۔
مجاہد نے کہا : اہل مصر کا دستور تھا کہ جب کسی شخص کو اپنا سردار بناتے تھے تو اس کو سونے کے کنگن اور طوق پہناتے تھے۔ سردار ہونے کی یہ علامت تھی ‘ اسی لئے فرعون نے کہا کہ موسیٰ کے رب نے جب موسیٰ کو واجب الاطاعت سردار بنایا ہے تو اس کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے۔
اَوْجَآءَ مَعَہُ الْمَلآءِکَۃُ مُقْرِنِیْنَ ۔ مقرنین پے در پے ‘ یعنی موسیٰ کے ساتھ پے در پے ملائکہ کیوں نہیں آئے جو موسیٰ کی تصدیق اور مدد کرتے۔
Read the full tafseer →سو اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے اور فرشتے اس کے مددگار اور اس کی رسالت کے تصدیق کرنے والے بن کر اس کے ساتھ کیوں نہ آئے۔
Read the full tafseer →(فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب …:”اسورۃ“ ”سوار“ کی جمع ہے، کنگن۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ نہ موسیٰ ؑ سونے کے کنگن پہنیں گے ، نہ ان کے ساتھ فرشتے آئیں گے اور نہ ہمیں ان پر ایمان لانا پڑے گا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ پر ایمان لان کے لئے بھی کفار نے دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ سونے کے مکان اور اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو سامنے لانے کی شرط عائد کیھی، فرمایا :(وقالوا لن نومن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً اوتکون لک جنۃ من نحیل و عنب فتفجر الانھر خلھا تفجیراً او تسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا او تاتی باللہ والملئکۃ قلیلاً اویکون لک بیت من زخرف او ترقی فی السمآئ) (بنی اسرائیل :90 تا 93)”اور انہوں نے کہا ہم ہرگز…
Read the full tafseer →فلولا یہ ھلا کے معنی میں ہے القی علیہ اسورۃ من ذھب اس نے یہ بات اس لئے کی تھی کیونکہ اس وقت یہی معمول تھا اور معزین کا لباس تھا۔ حفص نے اسے اسورۃ پڑھا ہے جو سوار کی جمع ہے طرح خمار کی جمع اخمرہ آتی ہے باقی قراء نے اس اورۃ پڑھا ہے جو ا سورة کی جمع ہے حضرت ابن مسعود نے اسے اسویر پڑھا ہے باقی قراء نے اس اورۃ پڑھا ہے جو ا سورة کی جمع ہے یہ جمع کی جمع ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس اورۃ، اسوار کی جمع ہو جمع میں ھاء، یاء کے عوض میں لاحق کی گئی ہے، جس طرح زنادیق، زنا دقہ، بطاریق بطارقہ کی جمع ہے۔ ابو عمرو نے کہا : اس اورہ، اساور اور اساویر کی واحد اسوار ہے یہ سوار میں ایک لغت ہے۔ مجاہد نے کہا، جب وہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ [ تو کیوں نہیں ڈالے (اتارے ) گئے اس پر ] اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ [ کچھ کنگن سونے میں سے ] اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ [ یا (کیوں نہیں ) آئے اس کے ساتھ ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ [فرشتے حاضر رہنے والے ہوتے ہوئے ]
نوٹ ۔ 2 قدیم زمانے میں جب کسی شخص کو کسی علاقہ کا گورنر یا کسی غیر ملک کا سفیر مقرر کیا جاتا تھا تو بادشاہ کی طرف سے اسے خلعت عطا ہوتی تھی جس میں سونے کے کڑے یا کنگن بھی شامل ہوتے تھے ۔ اور اس کے ساتھ سپاہیوں ، چوبداروں اور خادموں کا ایک دستہ بھی ہوتا تھا تاکہ اس کا دبدبہ قائم ہو اور اس بادشاہ کی شان و شوکت کا اظہار ہو جس کی طرف سے وہ مامور ہوکر آیا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…
Read the full tafseer →33:۔ فلولا القی علیہ۔ الایۃ “ اما مجاہد فرماتے ہیں اس زمانے کا دستور تھا کہ جس شخص کو سرداری کیلئے منتخب کرتے اسے سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہناتے یہ چیز سیادت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ فرعون نے کہا اگر واقعی اللہ نے موسیٰ کو رسالت کے لیے چنا ہے جیسا کہ اس کا خیال ہے تو یہ تو بہت بڑی سیادت ہے پھر اس کو اس کے خدا نے سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے ؟ گویا جو پیگمبر ہو اسے دنیوی شان و شوکت بھی حاصل ہونی چاہئے جیسا کہ مشرکین عرب کا خیال تھا کہ رسالت مکہ اور طائف کے کسی بڑے رئیس کو ملنی چاہئے تھی۔ یا اگر وہ واقعی خدا کا رسول ہے تو فرشتوں کی ایک جماعت ہر وقت اس کے ساتھ رہتی۔ وہ اس کی تصدیق کرتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…
Read the full tafseer →فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَہَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَہُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ مُقْتَرِنِيْنَ 53
«لَوْلَا»
يجيء علی وجهين :
أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] .
والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن .
( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْـکُ مِصْرَوَھٰذِہِ الْاَنْھٰـرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ج اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌمِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ 5 لا وَّلاَ یَکَادُیُبِیْنُ ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ اَوْجَـآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ (الزخرف : 51 تا 53)
(اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی، کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو۔ تو کیا میں بہتر ہوں اس سے جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا تکبر کی انتہا اور اس کی ہرزہ سرائی۔
فرعون اور اس کے ساتھی عذاب ٹل جانے کے بعد بار بار عہد شکنی کرتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے باوجود لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے متاثر ہورہے تھے۔ متاثر ہونے والوں میں فرعون کا ایک قریبی رشتہ دار بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا۔ قریب تھا کہ جادو گروں کی طرح فرعون کے اور رشتہ دار بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اظہار کرتے۔ لیکن فرعون بڑا جابر اور شاطر انسان تھا۔ جونہی وہ لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے متاثر ہوتے ہوئے محسوس کرتا تو وہ کوئی نہ کوئی نیا…
Read the full tafseer →آیت 53: فَلَوْلَا یہ ہلاَّ کے معنی میں ہے۔ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ (کیوں نہیں ڈالے گئے اس کو سونے کے کنگن) قراءت : حفص ‘ یعقوب وسہل نے اسورۃٌ پڑھا۔ یہ سوار کی جمع ہے۔ دیگر قراء نے اس اورۃ پڑھا جو کہ جمع اسوار کی ہے اساویر کی یاء کو حذف کر کے آخر میں تاء لائے۔ معنی کنگن ہی ہے۔ مِّنْ ذَہَبٍ (سونے کے) القائے ا سورة بول کر القائے مفاتیح مراد لی گئی ہیں۔ ان کے ہاں رواج یہ تھا کہ جب وہ کسی شخص کو سردار بناتے تو اس کو کنگن پہناتے اور اس کے گلے میں سونے کا طوق ڈالتے۔ اَوْ جَآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓپکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ (یا فرشتے اس کے ساتھ پے درپے کیوں نہیں آتے) مقترنین۔ ساتھ مل کر چلنا۔ ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →52، ام انا خیر، بلکہ میں بہترہوں۔ ، ام، بل کے معنی میں ہے اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے قول پر حرف عطف نہیں ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ، ام، پر وقف ہے اور اس میں اضمار ہے۔ اس کی اصل عبارت، افلاتبصرون ام تبصرون، ہے ۔ پھر ابتداء کی اور کہا، انا خیرمن ھذا الذی ھو مھین، کمزور، حقیر یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ ، ولا یکادیبین ، اپنی زبان کی لکنت کی وجہ سے فصیح کلام نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت 46
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →70 سونے کے کنگن اتارے جانے کا مطالبہ : سو اس بدبخت نے حضرت موسیٰ کے بارے میں مزید کہا کہ " کیوں نہیں اتارے گئے اس شخص پر کنگن سونے کے ؟ "۔ جیسا کہ اس زمانے کے بادشاہ اور خاص کر مصر و ایران کے بادشاہ پہنا کرتے تھے۔ (القرطبی، الصفوہ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی اگرچہ یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے تو اللہ کی طرف سے اس پر سونے کے کنگن اتارے جاتے۔ جس سے اس کے ٹاٹھ باٹھ قائم ہوتے اور اس کی زینت کا سامان ہوتا اور پتہ چلتا کہ واقعی یہ اللہ کا رسول ہے جبکہ یہاں پر ایسی کوئی بات بھی موجود نہیں۔
71 فرشتوں کے اتارے جانے کا مطالبہ : سو اس نے مزید کہا کہ " یا اس کے ساتھ فرشتے ہوتے پرے باندھے ہوئے "۔ جو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیات 46 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…
Read the full tafseer →ف 6 اس زمانہ میں بادشاہت جب کسی شخص کو اعزاز بخشتے تو اسے سونے کے کنگن پہناتے اور اس کے ساتھ فوج کا ایک جتھہ رہتا۔ اس بناء پر فرعون نے کہا کہ اگر واقعی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کے پاس خلعت شاہی ہوتا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اس کے ساتھ ہوتے۔ اور اب کہ ایسا نہیں ہے تو ہم اسے رسول کیسے مان لیں۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توصیح میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →(43:53) لولا۔ کیوں نہیں۔ (لولا پر تفصیلی نوٹ کے لئے ملاحظہ ہو 2:118 اور 6:43)
القی : ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ القاء (افعال) مصدر۔ وہ ڈالا گیا۔ اسے ڈالا گیا۔
اسورۃ سوار کی جمع بمعنی کنگن۔ پہنچیاں۔
مقترنین : اسم فاعل جمع مذکر۔ الاقتران سے جس کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ مطلب یہ کہ یا اس کو سونے کے کنگن پہنائے گنے ہوتے کہ اس کو سردار بنا کر بھیجا گیا ہے یا اس کی معیت میں فرشتے جمع ہوکر ساتھ آتے۔
مجاہد نے کہا ہے کہ اہل مصر کا دستور تھا کہ جب کسی شخص کو اپنا سردار بناتے تھے تو اس کو سونے کے کنگن اور طوق پہناتے تھے۔ سردار ہونے کی یہ علامت تھی۔ اسی لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے)
تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
فرعون کی ہلاکت۔
(ف 1) فرعون نے اپنی فارغ البالی اور حضرت موسیٰ کی تنگ دستی جتانے کے لیے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰ کے رد کا خطبہ سنایا اور کہا کہ اے قوم ، غور کرو کہ بادشاہ کون ہے کیا میرے قبضہ میں مصر جیسا عالی شان شہر نہیں ہے کہ چالیس درچالیس کوس مربع ہے اور پھر کیسا سبزوشاداب تروتازہ ہے، میرے اردگرد نہریں بہتی ہیں کیا یہ بات کچھ پوشیدہ ہے کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھتے، اب یہ بتاؤ کہ میں جو اتنا بڑاجلیل القدر بادشاہ ہوں میں بہتر ہوں یا موسیٰ جو ذلیل آدمی ہے اور طاقت میں بہت کم، موسیٰ (علیہ السلام) کو سیدھی طرح بات کرنا بھی تو نہیں آتی ، اپنامطلب بھی تو صاف صاف نہیں کہہ سکتے تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
[26] جب کوئی شخص اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے، ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا ہے تو خواہ زبان سے یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ درحقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل، اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بےوقوف، بےضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کرلے جاسکتا ہوں۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہوجاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا تھا واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
ف 1: اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں ۔ اور نہ یہ اتنا روحانیت میں بلندپرداز اور خدا کے ہاں مقبول ہے ۔ کہ اس کے آگے پیچھے فرشتے کھڑے نظر آتے ہوں ۔ قوم نے فرعون کے اس طرز استدلال کی تائید کی ۔ اور موسیٰ کی تعلیمات سے انکار کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ باوصف اس نے سروسامانی دنیا کے حضرت موسیٰ کو سارے بنی اسرائیل کا قائد قرار دیا گیا ۔ اور اس کی زندگی کو ان کے لائق متبع اور اطاعت بنایا گیا ۔ اور یہ فرعون اپنی مغرور قوم سمیت دریا میں غرق ہوگیا ۔ آج وہ موسیٰ بنی اسرائیل کی شکل میں اور اپنی تعلیمات کی شکل میں زندہ ہے ۔ جو دنیوی وجاہتوں سے محروم تھا ۔ اور وہ فرعون جس کے سونے کے کنگن تھے ۔ جو شاندار…
Read the full tafseer →(53) پھر اگر یہ خدا کا فرستادہ ہے تو اس کے ہاتھوں میں سونے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے یا اس کے ساتھ فرشتے ہی جمع ہوکر اور پر اباندھ کر آتے۔ یعنی یہ خدا کا فرستادہ نہیں ورنہ تو عام بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ اپنے خاص امراء اور عہد یداروں کو سونے کے کنگن پہناتے ہیں ان کے جلو میں فوج چلتی ہے۔
یہ کیسا خدا کا خاص آدمی ہے نہ اس کے ہاتھوں میں کنگن نہ اس کے جلو میں فرشتوں کی فوج یہ کیسا خدا تعالیٰ کا فرستادہ ہے دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں۔
Read the full tafseer →ف 2۔ مطلب یہ کہ اگر اس شخص کو نبوت عطا ہوتی تو خدا کی طرف سے اس کے ہاتھ میں سونے کے کنگن ہوتے۔
3۔ یعنی یہ علامات اختصاص کی ظاہر ہوتیں، حالانکہ یہ حماقت محضہ ہے کیونکہ نبوت جس قسم کا کمال اور اختصاص ہے اسی قسم کے علامات و دلائل اس کے ساتھ موجود ہیں۔
Read the full tafseer →53 ؎ فرعون وقت کا حکمران بھی تھا اور اقتدار اعلیٰ پر قابض ہونے کے باعث قانون مصر کے مطابق رب اور الٰہ بھی کہلاتا تھا اور اس وقت کے رواج کے مطابق جب کوئی بادشاہ کسی کو کوئی بڑا عہدہ پیش کرتا تھا جیسے کسی علاقہ کا گورنر بنادینا تو اس آدمی کو خلعت فاخرہ بھی پہنائی جاتی تھی اور خلعت فاخرہ میں اس کو سونے کے کنگن بھی پہنائے جاتے تھے تاہک سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ شخص حکمران اعلیٰ کے مقربین میں سے ایک ہے۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی ربوبیت اور الوہیت سے انکار کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں اللہ رب العلمین کا تصور پیش کیا تھا اور یہ بھی وضاحت کردی تھی کہ اللہ جسمانی نہیں ہے کہ اس کی پہنچان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ (Thus he made fool of his people - 43:54). According to the Arabic expression, this sentence may be translated in two ways; the translation adopted in the text above is based on one of them. The second one may be: "He (Fir'aun) easily made his people to follow him". (Ruh-u1-Ma’ ani)
Read the full tafseer →49 In the ancient times when a person was appointed to be governor of a land or sent as an ambassador to a foreign country, a robe of honor was conferred on him by the king, which also included bracelets of gold, and he was also accompanied by a contingent of soldiers and servants for over-awing the people and for showing the glory and grandeur of the king who had appointed him. What Pharaoh meant to say was: "If the King of the heavens had really sent Moses (peace be upon him) as His ambassador to His counterpart on the earth, he should have been dressed in a robe of honor and come with…
Read the full tafseer →