Az-Zukhruf 43:52

Az-Zukhruf · from ayah 52

43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ ۙ۬— وَّلَا یَكَادُ یُبِیْنُ ۟اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰذَا الَّذِىۡ هُوَ مَهِيۡنٌ وَّلَا يَكَادُ يُبِيۡنُ

بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or am I [not] better than this one who is insignificant and hardly makes himself clear?

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:52

میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا پھر مانو کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو بڑا حقیر قسم کا ہے، اور اپنی بات کھل کر کہنا بھی اس کے لیے مشکل ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا میں بہتر ہوں اس سے کہ ذلیل ہے اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا (یہ حقیقت نہیں کہ) میں اِس شخص سے بہتر ہوں جو حقیر و بے وقعت ہے اور صاف طریقے سے گفتگو بھی نہیں کر سکتا؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ایک ذلیل آدمی ہے اور بات بھی صاف طور پر نہیں کرسکتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا یہ بہتر ہوا یا میں بہتر ہوں اس سے جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات کھل کر کہہ بھی نہیں سکتا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا میں بہتر نہیں ہوں اس شخص سے جو کہ ذلیل ہے اور جو (اپنی بات بھی) کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور (بھلا بتاؤ) کہ کیا میں افضل (نہیں) ہوں اس شخص سے جو بےوقعت ہے اور بولنا تک اسے نہیں آتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا میں بہتر نہیں ہوں اس سے جو ایک بےعزت آدمی ہے ؟ اور صاف بات بھی نہیں کرسکتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ایک ذلیل آدمی ہے اور بات بھی صاف طور پر نہیں کرسکتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Am I better or this contemptible man who is scarcely able to express himself?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or (do you not see that) I am much better than this one (Musa) who is worthless and can hardly express himself?

— Muhammad Taqi Usmani

Or (do you not see that) I am much better than this one (Musa) who is worthless and can hardly express himself?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Am I not better than this one (Musa) who is despicable and can scarcely express himself clearly"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I am surely better than this fellow, who is despicable and can hardly make (his meaning) plain!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or am I [not] better than this one who is insignificant and hardly makes himself clear?

— Saheeh International

Am I not better than this lowly man who can barely express himself?

— Muhammad Sarwar

Nay! I am better than this fellow, who is contemptible, and who can hardly speak distinctly:

— Muhammad Habib Shakir

Aye! I am better than this one who is depicable, and well- nigh cannot make himself plain.

— Abdul Majid Daryabadi

"Am I not better than this (Moses), who is a contemptible wretch and can scarcely express himself clearly?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–56

فرعون کے دعوے فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں ؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں ؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے ؟ پھر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔ کلام پاک میں اور جگہ ہے اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند وبالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا (ام) معنی میں (بل) کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت (اما انا) بھی ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہوجائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 47 یعنی جس کے پاس نہ مال و دولت ہے نہ اختیار و اقتدار۔ وہی اعتراض جو کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ پر کیا تھا۔ سورة الزُّخْرُف 48 بعض مفسرین نے یہ خیال کیا ہے کہ فرعون کا اعتراض اس لکنت پر تھا جو حضرت موسیٰ کی زبان میں بچپن سے تھی۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ سورة طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ کو جب نبوت کے منصب پر سرفراز کیا جا رہا تھا اس وقت انہوں نے حق تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دیجیے تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ لیں، اور اسی وقت ان کی دوسری درخواستوں کے ساتھ یہ درخواست بھی قبول کرلی گئی تھی (آیات 27 تا 36)۔ پھر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–53

(آیت) وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ (اور جو قوت بیانہ بھی نہیں رکھتا) اگرچہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کی لکنت دور کردی تھی لیکن فرعون کو ان کا پہلا منظر ہی یاد تھا اس لئے اس نے حضرت موسیٰ پر یہ عیب لگایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں ”قوت بیانیہ“ سے مراد زبان کی روانی کے بجائے دلائل کی قوت و وضاحت ہو اور فرعون کا مطلب یہ ہو کہ حضرت موسیٰ کے پاس ایسے کافی دلائل نہیں ہیں جو مجھے مطمئن کرسکیں۔ حالانکہ یہ فرعون کا نرا اتہام تھا، ورنہ حضرت موسیٰ نے دلائل وبراہین کے مقابلہ میں فرعون کو قطعی لاجواب کردیا تھا۔ (تفسیر کبیر و روح المعانی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

امرانا خیرمن ھذا الذی ھو مھین، ولایکاد یبین 52 اس آیت میں کلام کا ایک حصہ حذف ہے۔ پچھلی سورتوں میں متعدد ثمالیں اس قسم کے استفہامیہ جملوں میں حذف کی گزر چکی ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ جب مصر کی بادشاہی، اس کے دریا اور نہریں میرے قبضہ میں ہیں تو یہ شخص بہتر ٹھہرا جو ایک غلام قوم کا فرد ہے۔ اور اپنی بات کھول کر بیان بھی نہیں کرسکتا یا میں بہتر ہوں جو اس پورے ملک اور اس کی تمام دولت و ثروت کا بلا شرکت غیرے مالک ہوں ! مطلب یہ کہ جب صورتحال یہ ہے تو آخر اس شخص میں ایسی کیا بات تھی کہ خدا نے اس کو رسول بنایا۔ مھین سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ موسیٰ ؑ ایک غلام قوم کے فرد ہیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–54

15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–53

آیت نمبر 51 تا 53 مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی موسیٰ کے پاس نہ روپیہ نہ پیسہ، نہ حکومت نہ عزت، نہ کوئی ظاہری کمال، حتی کہ بات کرتے ہوئے بھی زبان پوری طرح صاف نہیں چلتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 { اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ} ”کیا میں بہتر نہیں ہوں اس سے جو ایک بےعزت آدمی ہے ؟“ میں مصر کی حکومت اور اس کے معاشی وسائل کا بلاشرکت ِغیرے مالک ہوں۔ کیا یہ موسیٰ میرا مقابلہ کرسکتا ہے جو محض ہماری محکوم قوم کا ایک فرد ہے ! { وَّلَا یَکَادُ یُبِیْنُ۔ } ”اور صاف بات بھی نہیں کرسکتا !“ یہ خطابت پر بھی قادر نہیں ہے اور اپنا مدعا واضح طور پر بیان نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 فرعون کا اپنی قوم میں پروپیگنڈہ :۔ فرعون کے اس اعلان سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی جڑیں اندر ہی اندر کافی مضبوط ہوچکی تھیں۔ اور وہ اس دعوت سے خائف تھا مگر اپنی رعایا میں اپنا بھرم قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اور اپنی قوم سے اسی طرح کا استصواب چاہتا تھا۔ جیسے الیکشن کے دنوں میں امیدوار اپنی خوبیاں اور اپنے حریف کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ اس نے اپنا اور سیدنا موسیٰ کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو ! یہ ملک مصر میں میری حکومت کس قدر مضبوط ہے۔ آبپاشی کا نظام بہت عمدہ ہے۔ جس پر تمہاری معیشت کا دارومدار ہے۔ ہم لوگوں نے دریائے نیل سے کئی نہریں ملک بھر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

39۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قومی برتری کی نفی تو فرعون ابھی اوپر کرچکا۔ اب ذاتی وشخصی تنقیص کررہا ہے۔ کہتا ہے۔ اسے تقریر تو آتی نہیں۔ (آیت) ” ام “۔ مفسرین اور اہل نحو کا ایک گروہ اس طرف بھی گیا ہے کہ ام یہاں کلمہ استفہام نہیں بلکہ بل کے مرادف ہے۔ ام بمعنی بل ولیس بحرف عطف علی قول اکثر المفسرین (معالم) قال السدی یقول بل انا خیر من ھذا الذی ھو مھین وھکذا قال بعض نحاۃ البصرۃ ان ام ھھنا بمعنی بل (ابن کثیر) (آیت) ” لا یکادیبین “۔ خوش تقریری اس دور تمدن میں بھی ایک اعلی کمال وفضیلت سمجھی جاتی تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت تقریر کی کمی پر ملاحظہ ہوسورۂ طہ (پ 16) کے حاشیے۔ (آیت) ” ھذا الذی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–56

آیت نمبر 46 تا 56 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد یبین بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں جو حقیر ‘ ذلیل ہے اور (اپنا مدعیٰ ) واضح طور پر بیان بھی نہیں کرسکتا۔ مَھِیْنٌ۔ مہانت سے مشتق ہے ‘ مہانت کا معنی ہے قلت ‘ اس سے مراد ہے حقیر ‘ کمزور ‘ ذلیل ‘ جو سردار ہونے کا اہل نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ کی زبان صاف نہیں تھی ‘ توتلے تھے۔ آپ نے دعا کی تھی : اے اللہ ! میری زبان کی گرہ کھول دے کہ لوگ میری بات سمجھیں۔ دعا سے زبان کچھ کھل گئی (اتنی کہ لوگ بات سمجھنے لگے) پھر بھی کچھ بندش رہ گئی ‘ اسی کو فرعون نے نقص اور عیب قرار دیا۔ اَمْ منقطعہ ہے ‘ اس کے اندر ہمزۂ استفہام کا معنی ہے اور استفہام تقریری ہے (یعنی میں بہتر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین :”مھن یمھن مھانہ“ (ؐ) کے معنی ہیں ”خضر و ضعف“”مھین“ بروزن ”فعیل ‘ حقیر، ضعیف۔ ”ام“ سے پہلے ایک جملہ ہمزہ استفہام پر مشتمل ہوتا ہے، جو یہاں اس مفہوم کا ہوگا کہ ”کیا یہ شخص یعنی موسیٰ ؑ بہتر ہے یا میں بہتر ہوں…؟“”ام“”بل“ کے معنی میں بھی آتا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔”بلکہ میں بہتر ہوں…۔“ (2) فرعون موسیٰ ؑ کی تحقیر کے لئے زیادہ سے زیادہ جو الفاظ استعمال کرسکتا تھا اس نے وہ کئے۔ ان میں سے لفظ ”ھذا“ بھی حقارت کے اظہار کے لئے ہے، یعنی ”اس شخص سے جو حقیر ہے۔“ وہ موسیٰ ؑ کو اسلئے حقیر کہہ رہا تھا کہ ان کے پاس اس جیسی نہ دولت تھی نہ قوت و سلطنت ، بلکہ وہ اس کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–52

ونادی فرعون فی قومہ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب فرعون نے ان معجزات کو دیکھا تو اسے خوف ہوا کہ قوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مائل ہو جائیگی تو اس نے کہا، نادی، قاتلک کے معنی میں ہے (1) یہ ابو مالک کا نقطہ نظر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کے پاس قبطیوں کے سردار لوگ ہوں تو ان کے درمیان آواز کو بلن کیا پھر وہ تمام قبطیوں میں اس بات کو عام کردیں گویا اس طریقہ سے ان میں ندا کی گئی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ اس نے کسی کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم میں ندا کرے، یہ ابن جریح کا قنطہ نظر ہے۔ قال یقوم الیس لی ملک مصر یعنی اسب ارے میں مجھ سے کوئی جھگڑا نہ کرے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ وہ مصر کے چالیس فرسخ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–56

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا) 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ اَنَا خَيْرٌ [ (کیا وہ بہتر ہے ) یا میں بہتر ہوں ] مِّنْ ھٰذَا الَّذِيْ [ اس سے جو (کہ ) هُوَ مَهِيْنٌ ڏ [ وہی بےوقعت ہے ] وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ [ اور لگتا نہیں کہ وہ واضح کرے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–54

﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–56

قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

32:۔ ” ونادی فرعون “ تا ” مقترنین “ فرعون کے غرور و استکبار اور اس کی تعلی کا بیان ہے۔ فرعون نے جب دیکھا کہ بار بار موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ہٹ جاتا ہے، تو اسے خطرہ لاحق ہوا کہیں اس کی قوم کے دلوں میں اس کی عظمت نہ بیٹھ جائے اور ان کے دل اس کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لیے اپنی ساری رعیت میں یہ اعلان کرایا تاکہ اس کی حکومت و سلطنت اور شان و شوکت کا رعب قوم کے دلوں پر مضبوط ہوجائے۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اس کو ترجیح دیں۔ میری قوم کے لوگو ! کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ملک مصر کا مطلق العنان حکمران ہوں اور یہ نہریں میرے حکم سے چل رہی ہیں۔ کیا میں جو اس وسیع سلطنت کا بادشاہ اور اس ملک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–56

ربط آیات گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ اَنَا خَيْرٌ مِّنْ ھٰذَا الَّذِيْ ہُوَمَہِيْنٌ۝ 0ۥۙ وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ۝ 52 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–56

ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 51–53

وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْـکُ مِصْرَوَھٰذِہِ الْاَنْھٰـرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ج اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌمِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ 5 لا وَّلاَ یَکَادُیُبِیْنُ ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ اَوْجَـآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ (الزخرف : 51 تا 53) (اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی، کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو۔ تو کیا میں بہتر ہوں اس سے جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–53

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا تکبر کی انتہا اور اس کی ہرزہ سرائی۔ فرعون اور اس کے ساتھی عذاب ٹل جانے کے بعد بار بار عہد شکنی کرتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے باوجود لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے متاثر ہورہے تھے۔ متاثر ہونے والوں میں فرعون کا ایک قریبی رشتہ دار بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا۔ قریب تھا کہ جادو گروں کی طرح فرعون کے اور رشتہ دار بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اظہار کرتے۔ لیکن فرعون بڑا جابر اور شاطر انسان تھا۔ جونہی وہ لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے متاثر ہوتے ہوئے محسوس کرتا تو وہ کوئی نہ کوئی نیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

میں اس حقیر سے بہتر ہوں : آیت 52: اَمْ اَنَا خَیْرٌ (بلکہ میں افضل ہوں) ام منقطعہ بل کے معنی میں ہے۔ گویا اس طرح کہا۔ اثبت عندکم واستقر یہ تمہارے ہاں ثابت اور پختہ ہوچکا کہ میں بہت بہتر ہوں اور یہ میرا حال ہے ؟ مِّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ (اس شخص سے جو کم قدر ہے) مہین۔ کمزور ٗ حقیر۔ وَّلَایَکَادُ یُبِیْنُ (اور وہ قوت بیانیہ بھی نہیں رکھتا) اس لئے کہ اس کے کلام میں عجمیت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 51۔ ، ونادی فرعون فی قومہ قال باقوم الیس لی ملک مصر وھذہ الانھار، نیل کی نہریں۔ تجری من تحتی ، میرے محلوں کے نیچے سے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ نہریں میرے سامنے میرے باغوں میں چلتی ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ میرے حکم کے ساتھ۔ ، افلا تبصرون، میری عظمت اور میری بادشاہت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–56

46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–56

آیت 46 جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 فرعون کا حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنی برتری کا دعویٰ : سو اس بدبخت نے کہا " کیا میں اس شخص سے بہتر نہیں جو کہ ذلیل ۔ اور بےقدرا ۔ ہے ؟ "۔ کہ نہ اس کے پاس دنیا کا کوئی مال و دولت ہے نہ حکومت و اقتدار۔ استفہام تقریری ہے یعنی یقینا میں ہی اس سے بہتر ہوں کہ میرے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔ اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سو مادی ترقی کا یہ پہلو بڑا ہی خطرناک ہے کہ اس کی بنا پر دنیا پرست انسان اپنے آپ کو صحیح اور حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس طرح اس کی حق سے دوری اور محرومی مزید بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دائمی خسارے کے اس ہاوئے میں جا گرتا ہے جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت اس کے لئے باقی نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–56

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

آیات 46 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی حقیہ جس کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ قوت و اقتدار۔ 5 علمائے تفسیر (رح) نے لکھا ہے کہ فرعون کی مراد وہ لکنت ( عقدہ) ہے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان میں تھی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے دعا کرنے سے وہ دور ہوگئی تھی۔ لہٰذا فرعون کا یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر طعن اور جھوٹ ہے۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:52) ام انا خیر من ھذا۔ (1) ام منقطعہ ہے اس کے اندر ہمزہ استفہامیہ کا معنی ہے اور استفہام تقریری ہے (یعنی مخاطب کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ ایسا ہی ہے) یعنی میں بہتر ہوں۔ (2) ام متصلہ ہے اور تقدیر کلام ہے افلا تبصروں، ام تبصرون انا خیر من ھذا الذی ھو مہین (کشاف) کیا تم دیکھتے ہو یا نہیں کہ میں اس حقیر اور ذلیل سے بہتر ہوں۔ (3) ام زائدہ ہے (شوکانی ، لین، لسان اور تقدیر کلام ہے افلا تبصرون انا خیر من ھذا الذی ھو مھین۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں اس شخص سے جو حقیر اور ذلیل ہے بہتر ہوں۔ خیر افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہتر۔ ھذا الذی۔ یہ شخص یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ مھین : ھون ھوان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–56

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے) تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

فرعون کی ہلاکت۔ (ف 1) فرعون نے اپنی فارغ البالی اور حضرت موسیٰ کی تنگ دستی جتانے کے لیے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰ کے رد کا خطبہ سنایا اور کہا کہ اے قوم ، غور کرو کہ بادشاہ کون ہے کیا میرے قبضہ میں مصر جیسا عالی شان شہر نہیں ہے کہ چالیس درچالیس کوس مربع ہے اور پھر کیسا سبزوشاداب تروتازہ ہے، میرے اردگرد نہریں بہتی ہیں کیا یہ بات کچھ پوشیدہ ہے کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھتے، اب یہ بتاؤ کہ میں جو اتنا بڑاجلیل القدر بادشاہ ہوں میں بہتر ہوں یا موسیٰ جو ذلیل آدمی ہے اور طاقت میں بہت کم، موسیٰ (علیہ السلام) کو سیدھی طرح بات کرنا بھی تو نہیں آتی ، اپنامطلب بھی تو صاف صاف نہیں کہہ سکتے تو اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–54

[26] جب کوئی شخص اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے، ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا ہے تو خواہ زبان سے یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ درحقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل، اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بےوقوف، بےضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کرلے جاسکتا ہوں۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہوجاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا تھا واقعی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–52

یہ پرانا اعتراض ہے 1: مکہ والوں نے حضور ﷺ پر یہ اعتراض کیا تھا ۔ کہ یہ امیر اور بڑا آدمی نہیں ہے ۔ اس لئے ہم ایسے صاحب دولت و ثروت لوگ کیونکر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں ۔ اس کا جواب دیا ہے ۔ کہ یہ اعتراض انبیاء کے باب میں بہت پرانا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب تشریف لائے اور فرعون کو ایمان کی دعوت دی ۔ تو اس نے بھی یہی کہا تھا ۔ کہ میں ارض مصر کا بادشاہ ہوں ۔ جس میں نہریں رواں ہیں ۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ اور یہ میرے مقابلہ میں کہیں کم حیثیت ہے ۔ حل لغات :۔ مھین ۔ ضعیف ۔ ذلیل ۔ کم حیثیت

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(52) بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جس کی کوئی عزت نہیں اور نہ وہ صاف طور سے بول ہی سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بےقدر کہا اور ان کی زبان کی لکنت پر طعن کیا اور اس طرح اپنی برتری جتائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–52

ف 7۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے۔ 1۔ یعنی باعتبار مال و ترفع کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا میں بہتر ہوں یا وہ شخص جس کی بات ہی واضح نہیں ہے کہ وہ کیا کہتا ہے 52 ؎ غور کرو کہ فرعون اپنا مقابلہ کس شخصیت سے کررہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو الفاظ اس نے استعمال کیے ہیں ان پر غور کرو کہ وہ ان کی ذات پر صادق آتے ہیں ؟ لاریب یہ الفاظ خود اس کی ذات پر صادق آتے ہیں لیکن جس کو آمر (Dictator) کہتے ہیں اس کو اس لیے آمر (Dictator) کہتے ہیں کہ اس کی مرضی میں جو آتا ہے وہ کہتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ وہی کچھ کہیں جو میں کہہ رہا ہوں اور اگر کوئی اس طرح نہ کہے تو اس کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ اہل مصر کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–52

وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (and can hardly express himself - 43:52). Although as a result of his own supplication, the stammering of Sayyidna Musa (علیہ السلام) had been removed by Allah Ta` ala, Fir'aun remembered his previous state only, and hence this aspersion. And it is possible also that by saying this, Fir'aun did not mean stammering in speech, but he meant that Sayyidna Musa (علیہ السلام) could not put forward adequate logical arguments to satisfy him, although this was nothing but a false accusation, because Sayyidna Musa (علیہ السلام) had completely overwhelmed Fir'aun through his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47 "Wretched person" : the person who has neither wealth, power nor authority. This same objection had been raised by the disbelieving Quraish against the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace). 48 Some commentators have expressed the opinion that Pharaoh referred to the impediment of speech from which the Prophet Moses suffered since childhood. But this is not a correct opinion. As has been mentioned in Surah Ta Ha above, when the Prophet Moses was being appointed to Prophet hood, he had implored Allah Almighty to remove the defect from his tongue so that the people might…

Read the full tafseer →