Explained with ayahs 46–51
قلاباز بنی اسرائیل
حضرت موسیٰ کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں آپ کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہوجانا لکڑی کا اژدھا بن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے انہیں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 45
غالباً پوری قوم میں پکارنے کی عملی صورت یہ رہی ہوگی کہ فرعون نے جو بات اپنے دربار میں سلطنت کے اعیان و اکابر اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں کو مخاطب کر کے کہی تھی، اسی کو منادیوں کے ذریعہ سے پورے ملک کے شہروں اور قریوں میں نشر کرایا گیا ہوگا۔ بےچارے کے پاس اس زمانہ میں یہ ذرائع نہ تھے کہ خوشامدی پریس، خانہ ساز خبر رساں ایجنسیوں اور سرکاری ریڈیو سے منادی کراتا۔
سورة الزُّخْرُف 46
منادی کا یہ مضمون ہی صاف بتارہا ہے کہ ہز میجسٹی کے پاؤں تلے زمین نکلی جا رہی تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے پے در پے معجزات نے ملک کے عوام کا عقیدہ اپنے دیوتاؤں پر سے متزلزل کردیا تھا۔ اور فراعنہ کا باندھا ہوا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو) اپنے دلائل (یعنی معجزات عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون کے اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا، سو انہوں نے (ان لوگوں کے پاس آ کر) فرمایا کہ میں رب العالمین کی طرف سے (تم لوگوں کی ہدایت کے لئے) پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں (مگر فرعون و اہل فرعون نے نہیں مانا) پھر (ہم نے دوسرے دلائل سزاؤں کے رنگ میں ان کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ظاہر کئے، یعنی قحط سالیاں وغیرہ مگر ان لوگوں کی پھر بھی یہ حالت رہی کہ) جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہماری (وہ) نشانیاں لے کر آئے (جو آیات تسعہ کہلاتی ہیں) تو وہ یکایک ان (معجزات) پر لگے ہنسنے (کہ یہ کیا اچھے معجزے ہیں، محض معمولی واقعات و حوادث…
Read the full tafseer →وفا دی فرعون فی قومہ قال یقوم الیس لی ملک مصر و ھذاہ الانھر تجری من تحتی افلاتبصرون 51
فرعون نے اپنی قوم میں پکارا، یعنی اپنی قوم میں منادی کرائی۔
حضرت موسیٰ کے مقابل میں فرعون کا دعوائے برتری
اوپر آیات 35-31 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں قریش کے لیڈروں کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ لولا نزل ھذا القرآن علی رجل ومن القریتین عظیم (اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے اترا ہے تو مکہ یا طائف کے سرداروں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا گیا) ٹھیک اسی طرح فرعون نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کے دلائل و معجزات سے قوم کی عقیدت اس کے ساتھ متزلزل ہو رہی ہے تو اس نے یہ منادی کرائی کہ ملک مصر کی بادشاہی اور اس کی بہتری ہوئی نہریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
51۔ 1 اس سے مراد دریائے نیل یا اس کی بعض شاخیں ہیں جو اس کے محل کے نیچے سے گزرتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت نمبر 51 تا 53
مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔
رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی…
Read the full tafseer →7 اس کے گردوپیش کے ملکوں میں مصر کا حاکم بہت بڑا سمجھا جاتا تھا اور نہریں اسی نے بنائی تھیں۔ دریائے نیل کا پانی کاٹ کر اپنے باغ میں لایا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ان سامانوں کی موجودگی میں کیا ہماری حیثیت ایسی ہے کہ موسیٰ جیسے معمولی حیثیت والے آدمی کے سامنے گردن جھکا دیں۔
Read the full tafseer →آیت 51 { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا“
{ قَالَ یٰـــقَوْمِ اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ } ”اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟“
نوٹ کیجیے ! یہ سیاسی شرک شرک کی بد ترین قسم ہے۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے ‘ اس کے علاوہ جو کوئی بھی حاکمیت کا مدعی ہو ‘ چاہے وہ ایک فرد ہو ‘ ایک قوم ہو یا پوری نسل انسانی ‘ وہ اللہ کے ساتھ برابری کا دعویدار ہے۔ اور فرعون نے خدائی کا دعویٰ اسی مدعیت کے ساتھ اور اسی مفہوم میں کیا تھا ‘ ورنہ وہ زمین و آسمان کے خالق ہونے کا دعویدار تو ہرگز نہیں تھا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ جس طرح تمام انسان…
Read the full tafseer →50 یہاں اپنی قوم میں سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے پکار پکار کر یہ باتیں کی ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنی ان باتوں کا اتنا پرزور پروپیگنڈا کیا ہو کہ اس کی قوم کے ہر فرد کے کانوں تک فرعون کی یہ آواز پہنچ گئی ہو۔
Read the full tafseer →37۔ فرعون کے اس اعلان خسروی کا مضمون یہ تھا کہ حکومت، جائز وقانونی حکومت تو مصر بھر اور اس کے توابع پر میری ہے، میری حکومت کے خلاف یہ باغی ہے کون جو کھڑا ہوا ہے ؟ (آیت) ” الانھر “۔ انھار کے مفہوم دو ہوسکتے ہیں اور اردو میں ان کے لئے لفظ بھی دو ہیں۔ ایک تو انسانی صنعت سے تیار کئے ہوئے پانی کے چشمے اور دھارے۔ انہیں اردو میں نہر کہتے ہیں۔ دوسرے قدرتی ندیاں یا دریا، یہاں دونوں مراد ہوسکتی ہیں۔ ندیاں تو عظیم الشان مصری دریانیل کی شاخیں ہیں۔ آگے چل کر دریائے نیل متعدد چھوٹی چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہوگیا ہے اور اگر نہریں سمجھی جائیں تو وہ نہریں مراد ہوں گی جن کا جال فرعونان مصر نے ملک بھر میں بچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت نمبر 46 تا 56
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →ونادی فرعون فی قومہ قال یقوم الیس لی ملک مصر وھذہ الانھر تجری من تحتی
افلا تبصرون اور فرون نے اپنی قوم میں منادی کرائی ‘ یہ بات کہی کہ اے میری قوم ! کیا مصر کی سلطنت اور یہ نہریں جو میرے (محلات کے) نیچے بہہ رہی ہیں ‘ میری نہیں ہیں ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟
یعنی عذاب دور ہونے کے بعد فرعون نے قوم کے مجمع میں پکار کر کہا ‘ کیونکہ اسکو اندیشہ پیدا ہوا کہ کوئی شخص ایمان نہ لے آئے۔
وَھٰذِہِ الْاَنْھَار نیل سے متعدد نہریں نکلتی تھیں ‘ جن میں چار بڑی تھیں : نہر شاہی ‘ نہر طولون ‘ نہر دمیاط ‘ نہر تینس۔
تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ یعنی میرے محلات کے نیچے جاری ہیں ‘ یا میرے زیر حکم بہہ رہی ہیں ‘ یا میرے…
Read the full tafseer →اور فرعون نے اپنی قبطی قوم میں اعلان کرایا کہ اے میری قوم کیا مصر کے چالیس فرسخ علاقہ میں حکومت میری نہیں اور یہ نہریں جو میرے چاروں طرف یا یہ کہ جو میرے محل کے نیچے بہہ رہی ہیں کیا میری نہیں کیا تم غور نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(1) ونادی فرعون فی قومہ : فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ ؑ کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے، جن سے انھیں ان کی نبوت کا یقین ہوگیا ، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے، بلکہ مقابلے میں جادو گروں کو لے آئے۔ اس میں منہ کی کھائی پھر بھی ایمان نہ لائے ، پھر بطور نشانی کتنے عذاب ان پر آئے جو اس وعدے کے ساتھ موسیٰ ؑ سے دعا کروانے پر دور ہوئے کہ ہم عذاب دور ہونے پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے ، مگر وہ کسی صورت موسیٰ ؑ کو رسول ماننے پر تیار نہ تھے۔ ادھر انھیں خطرہ تھا کہ عوام ان معجزات کے نتیجے میں ان کی طرف مائل ہوجائیں گے، اس لئے فرعون نے موسیٰ ؑ کے رسالت کے اہل نہ ہونے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ونادی فرعون فی قومہ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب فرعون نے ان معجزات کو دیکھا تو اسے خوف ہوا کہ قوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مائل ہو جائیگی تو اس نے کہا، نادی، قاتلک کے معنی میں ہے (1) یہ ابو مالک کا نقطہ نظر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کے پاس قبطیوں کے سردار لوگ ہوں تو ان کے درمیان آواز کو بلن کیا پھر وہ تمام قبطیوں میں اس بات کو عام کردیں گویا اس طریقہ سے ان میں ندا کی گئی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ اس نے کسی کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم میں ندا کرے، یہ ابن جریح کا قنطہ نظر ہے۔
قال یقوم الیس لی ملک مصر یعنی اسب ارے میں مجھ سے کوئی جھگڑا نہ کرے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ وہ مصر کے چالیس فرسخ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَنَادٰى فِرْعَوْنُ [ اور ندا دی فرعون نے ] فِيْ قَوْمِهٖ [ اپنی قوم میں ] قَالَ يٰقَوْمِ [ اس نے کہا اے میری قوم ] اَلَيْسَ لِيْ [ کیا نہیں ہے میرے لئے ] مُلْكُ مِصْرَ [ مصر کی حکومت ] وَهٰذِهِ الْاَنْهٰرُ [ اور یہ نہریں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ ۚ [ جو بہتی ہیں میرے (محل کے ) نیچے سے ] اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [ تو کیا تم لوگوں کو سجھائی نہیں دیتا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
32:۔ ” ونادی فرعون “ تا ” مقترنین “ فرعون کے غرور و استکبار اور اس کی تعلی کا بیان ہے۔ فرعون نے جب دیکھا کہ بار بار موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ہٹ جاتا ہے، تو اسے خطرہ لاحق ہوا کہیں اس کی قوم کے دلوں میں اس کی عظمت نہ بیٹھ جائے اور ان کے دل اس کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لیے اپنی ساری رعیت میں یہ اعلان کرایا تاکہ اس کی حکومت و سلطنت اور شان و شوکت کا رعب قوم کے دلوں پر مضبوط ہوجائے۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اس کو ترجیح دیں۔ میری قوم کے لوگو ! کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ملک مصر کا مطلق العنان حکمران ہوں اور یہ نہریں میرے حکم سے چل رہی ہیں۔ کیا میں جو اس وسیع سلطنت کا بادشاہ اور اس ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…
Read the full tafseer →وَنَادٰى فِرْعَوْنُ فِيْ قَوْمِہٖ قَالَ يٰقَوْمِ اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ 0 ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ 51 ۭ
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْـکُ مِصْرَوَھٰذِہِ الْاَنْھٰـرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ج اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌمِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ 5 لا وَّلاَ یَکَادُیُبِیْنُ ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ اَوْجَـآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ (الزخرف : 51 تا 53)
(اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی، کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو۔ تو کیا میں بہتر ہوں اس سے جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا تکبر کی انتہا اور اس کی ہرزہ سرائی۔
فرعون اور اس کے ساتھی عذاب ٹل جانے کے بعد بار بار عہد شکنی کرتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے باوجود لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے متاثر ہورہے تھے۔ متاثر ہونے والوں میں فرعون کا ایک قریبی رشتہ دار بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا۔ قریب تھا کہ جادو گروں کی طرح فرعون کے اور رشتہ دار بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اظہار کرتے۔ لیکن فرعون بڑا جابر اور شاطر انسان تھا۔ جونہی وہ لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے متاثر ہوتے ہوئے محسوس کرتا تو وہ کوئی نہ کوئی نیا…
Read the full tafseer →فرعون کی منادی :
آیت 51: وَنَادٰی فِرْعَوْنُ (فرعون نے منادی کرائی) اس نے بذات خود قبطی قوم کے رؤساء کو بلایا یا اس سے منادی کرنے والے کو کہا۔ پس اس نے آواز دی۔ جیسا کہتے ہیں۔ قطع الامیر اللص۔ جب کہ وہ اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے۔ فِیْ قَوْمِہٖ (اپنی قوم میں) ۔ یعنی ان کو اپنی نداء کا موقعہ و محل بنایا۔ قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَ ہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ (کہا اے میری قوم کیا مصر کی سلطنت میری نہیں ہے اور یہ نہریں) یعنی نیل کی نہریں۔ ان میں سے چار بڑی نہریں تھیں۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ (میرے نیچے بہہ رہی ہیں) میرے محل کے نیچے سے۔ ایک قول : میرے سامنے میرے باغات میں۔
نحو :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
49، وقالوا، موسیٰ (علیہ السلام) کو جب انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کیا۔ ، یایھا الساحر، اے عالم کامل ماہر اور انہوں نے یہ ان کی تعظیم کے لیے کہا۔ اس لیے کہ جادوان کے نزدیک بڑاعظمت والا علم اور قابل تعریف صفت تھا اور کہا گیا ہے کہ اس معنی یہ ہے کہ اے وہ آدمی جو ہم پر اپنے جادو کے ذریعے غالب آگیا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خطاب اس وجہ سے کیا کہ اس سے پہلے ان کے سامنے آپ (علیہ السلام) کو جادوگرکانام دیا گیا تھا۔ ، ادع لنا ربک بما عھد عندک ، یعنی جو آپ (علیہ السلام) نے ہمیں خبردی کہ اس نے آپ (علیہ السلام) سے عہد کیا ہے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو وہ ہم سے عذاب کو دور کردے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت 46
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
67 فرعون کا فرعونیت بھرا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرعون نے اپنی قوم میں اعلان کرایا کہ اے میری قوم کے لوگو کیا مجھے مصر کی بادشاہی حاصل نہیں اور کیا یہ نہریں میرے نیچے سے بہتی نہیں رہیں۔ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے "۔ سو اس نے اپنے تکبر کے گھمنڈ میں کہا کہ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم میں سے صحیح کون ہے اور غلط کون۔ یعنی وہی بات جو ہر مادہ پرست انسان کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیاوی ترقی اور مادی شان و شوکت کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دینے لگتا ہے۔ سو ابنائے دنیا کا حال اور انکا وطیرہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اس طرح ایسے بدنصیب لوگ حق سے مزید دور اور محروم ہوتے چلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیات 46 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 3 یعنی کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) میرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ فرعون نے جب وہ نشانیاں دیکھیں تو ڈر گیا کہ کہیں عوام حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لئے یہ بات کہی۔ ( قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(43:51) نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نداء (باب مفاعلۃ) مصدر ن د ء مادہ۔ اس نے پکارا۔ یعنی عذاب دور ہوجانے کے بعد فرعون نے اپنی قوم کے مجمع میں پکار کر کہا۔
ملک مصر : ملک مضاف مصر مضاف الیہ غیر منصرف ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔
وھذہ الانھر : اس کا عطف لک مصر پر ہے اور یہ نہریں (جو دریائے نیل سے نکلتی تھیں جن میں چار بڑی نہریں یہ تھیں۔ نہر الملک۔ نہر طوفان۔ نہر دمیاط اور نہر تینیس۔
تجری من تحتی۔ جملہ حالیہ ہے ھذہ الانھر سے۔ تجری مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ وہ چلتی ہیں ، وہ جاری ہیں۔ من تحتی میرے محلات کے نیچے سے۔ میرے ماتحت۔ میرے زیر حکم یا میرے سامنے باغوں میں۔
افلا تبصرون :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے)
تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
فرعون کی ہلاکت۔
(ف 1) فرعون نے اپنی فارغ البالی اور حضرت موسیٰ کی تنگ دستی جتانے کے لیے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰ کے رد کا خطبہ سنایا اور کہا کہ اے قوم ، غور کرو کہ بادشاہ کون ہے کیا میرے قبضہ میں مصر جیسا عالی شان شہر نہیں ہے کہ چالیس درچالیس کوس مربع ہے اور پھر کیسا سبزوشاداب تروتازہ ہے، میرے اردگرد نہریں بہتی ہیں کیا یہ بات کچھ پوشیدہ ہے کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھتے، اب یہ بتاؤ کہ میں جو اتنا بڑاجلیل القدر بادشاہ ہوں میں بہتر ہوں یا موسیٰ جو ذلیل آدمی ہے اور طاقت میں بہت کم، موسیٰ (علیہ السلام) کو سیدھی طرح بات کرنا بھی تو نہیں آتی ، اپنامطلب بھی تو صاف صاف نہیں کہہ سکتے تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
[26] جب کوئی شخص اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے، ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا ہے تو خواہ زبان سے یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ درحقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل، اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بےوقوف، بےضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کرلے جاسکتا ہوں۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہوجاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا تھا واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
یہ پرانا اعتراض ہے
1: مکہ والوں نے حضور ﷺ پر یہ اعتراض کیا تھا ۔ کہ یہ امیر اور بڑا آدمی نہیں ہے ۔ اس لئے ہم ایسے صاحب دولت و ثروت لوگ کیونکر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں ۔ اس کا جواب دیا ہے ۔ کہ یہ اعتراض انبیاء کے باب میں بہت پرانا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب تشریف لائے اور فرعون کو ایمان کی دعوت دی ۔ تو اس نے بھی یہی کہا تھا ۔ کہ میں ارض مصر کا بادشاہ ہوں ۔ جس میں نہریں رواں ہیں ۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ اور یہ میرے مقابلہ میں کہیں کم حیثیت ہے ۔
حل لغات :۔ مھین ۔ ضعیف ۔ ذلیل ۔ کم حیثیت
Read the full tafseer →(51) اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور ان کو پکارا اور کہا اے میری قوم کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اور میرے نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔ یعنی فرعون نے خیال کیا کہیں یہ عذاب کا سلسلہ اور یہ معجزات دیکھ کر میری قوم ڈگمگا نہ جائے اس خوف سے اپنی عظمت قائم رکھنے کو پکارا۔ یا تو لوگوں کو جمع کرکے کوئی خطاب کیا ہوگا یا منادی کے ذریعے لئے اعلان کرایا ہوگا کہ سلطنت مصر تمام کی تمام میری ہے اور میرے محل کے پائیں اور باغات میں نہریں بہہ رہی ہیں میری بارہ دری کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اب تم غور کرو کہ مجھ میں اور موسیٰ میں کون بہتر ہے جو بہتر ہو اس کے ساتھ دو ۔
حضرت شاہ صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ف 7۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے۔
1۔ یعنی باعتبار مال و ترفع کے۔
Read the full tafseer →فرعون جب موسیٰ (علیہ السلام) کے جوابات سے تنگ آگیا تو ایک روز بول اٹھا
51 ؎
فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کا معاملہ ایک مدت تک برابرچلتا رہا۔ فرعون نے خصوصاً رب العالمنم کے متعلق بہت سوال و جواب کیے اور انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) کے جوابات سے بہت تنگ آگیا اور جب ایک صاف سیدھی اور صحیح بات کا کوئی جواب نہ دے سکا تو بوکھلا کر مخاطب کیا اور کہا اے میری قوم کے لوگو ! کیا یہ مصر کی فرمانروائی میری نہیں ہے ؟ اور میں نے دریائے نیل سے پورے ملک میں نہروں کا جال نہیں بچھا دیا اور پورے ملک میں آبپاشی کا انتظام میں نے نہیں کیا گویا جو کام اس نے حکومت کے لیے اور اس کے دور میں جو اصطلاحات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (and can hardly express himself - 43:52). Although as a result of his own supplication, the stammering of Sayyidna Musa (علیہ السلام) had been removed by Allah Ta` ala, Fir'aun remembered his previous state only, and hence this aspersion. And it is possible also that by saying this, Fir'aun did not mean stammering in speech, but he meant that Sayyidna Musa (علیہ السلام) could not put forward adequate logical arguments to satisfy him, although this was nothing but a false accusation, because Sayyidna Musa (علیہ السلام) had completely overwhelmed Fir'aun through his…
Read the full tafseer →45 Pharaoh probably sent heralds to the cities and towns throughout the country to proclaim what he said in his address to his ministers and courtiers in the capital. Pharaoh could not have availed of the services of a sycophantic press, controlled news agencies and official radio.
46 The words of the proclamation clearly show that ground was slipping from under the Pharaoh's feet. The miracles performed one after the other by the Prophet Moses had caused the common people's beliefs in their gods to waver and the Pharaoh's spell under which their dynasty was ruling over Egypt as…
Read the full tafseer →