Explained with ayahs 36–45
شیطان سے بچو
ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں (عشی فی العین) کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت (وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا01105ۧ) 4۔ النسآء :115) ، یعنی جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
سورة الزُّخْرُف 39
یعنی اس سے بڑھ کر کسی شخص کی کوئی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ تمام انسانوں میں سے اس کو اللہ اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے منتخب کرے اور کسی قوم کے حق میں بھی اس سے بڑی کسی خوش قسمتی کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کی دوسری سب قوموں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اس کے ہاں اپنا نبی پیدا کرے اور اس کی زبان میں اپنی کتاب نازل کرے اور اسے دنیا میں پیغام خداوندی کی حامل بن کر اٹھنے کا موقع دے۔ اس شرف عظیم کا احساس اگر قریش اور اہل عرب کو نہیں ہے اور وہ اس ناقدری کرنا چاہتے ہیں تو ایک وقت آئے گا جب انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
سورة الزُّخْرُف 40
رسولوں سے پوچھنے کا مطلب ان کی لائی ہوئی…
Read the full tafseer →(آیت) وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ، (آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ لیجئے) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) تو وفات پاچکے، ان سے پوچھنے کا حکم کیسے دیا جا رہا ہے ؟ اس کا جواب بعض مفسرین نے تو یہ دیا ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی معجزہ کے طور پر سابقہ انبیاء (علیہم السلام) سے آپ کی ملاقات کرا دے تو اس وقت ان سے یہ بات پوچھ لیجئے، چناچہ شب معراج میں آپ کی ملاقات تمام انبیاء سے ہوئی اور علامہ قرطبی نے بعض روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے انبیاء (علیہم السلام) کی امامت کرنے کے بعد ان سے…
Read the full tafseer →وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنآ اجعلنا من دون الرحمٰن الھۃ یعبدون 45
یہ مشرکین کے اس دعوے کی تردید ہے کہ جن کو وہ پوجتے ہیں ان کی عبادت کا حکم خدا نے دیا ہے فرمایا کہ خدا کے امرونہی کے معلوم کرنے کا ذریعہ اس کے رسول ہیں تو جو رسول تم سے پہلے آئے ہیں ان سے معلوم کرو کہ خدا نے اپنے سوا کچھ دوسرے معبود بھی عبادت کے حق دار ٹھہرائے ہیں ؟
وسئل من ارسلنا ایک بلیغ اسلوب کلام ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رسل سے مراد ان کے صحیفے اور ان کی تعلیمات ہیں جو ان کی دعوت کے ترجمان ہیں۔ کلام کا یہ اسلوب پچھلے صحیفوں میں اکثر استعمال ہوا ہے اور اعلیٰ خطیبوں کے خطبات میں بھی اس کی نہایت بلیغ مثالیں ملتی ہیں۔
Read the full tafseer →45۔ 1 جواب یقینا نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کو دعوت توحید کا حکم دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
13: یعنی ان پر جو آسمانی کتابیں نازل ہوئی تھیں، ان میں دیکھ لو کہ ان کو کیا تعلیم دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
آیت نمبر 40 تا 45
قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور…
Read the full tafseer →9 یعنی آپ کا راستہ وہی ہے جو پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا تھا۔ شرک کی تعلیم کسی نبی نے نہیں دی نہ اللہ تعالیٰ نے کسی دین میں اس بات کو جائز رکھا کہ اس کے سوا دوسرے کی پرستش کی جائے اور یہ ارشاد کہ " پوچھ دیکھو " یعنی جس وقت ان سے ملاقات ہو (جیسے شب معراج میں ہوئی) یا ان کے احوال کتابوں سے تحقیق کرو۔ بہرحال جو ذرائع تحقیق و تفتیش کے ہوں ان کو استعمال میں لانے سے صاف ثابت ہوجائے گا کہ کسی دین سماوی میں کبھی شرک کی اجازت نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →آیت 45{ وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَآ } ”اور آپ پوچھ لیجیے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اپنے رسولوں میں سے“
یعنی عالم ِارواح میں تو آپ ﷺ کی ملاقات تمام انبیاء ورسل علیہ السلام سے رہی تھی۔ معراج کے موقع پر بھی بیت المقدس میں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی امامت کرائی تھی۔ آپ ان میں سے کسی سے بھی پوچھ لیجیے۔
{ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِہَۃً یُّعْبَدُوْنَ۔ } ”کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی اور بھی ایسے معبود بنائے ہیں کہ جن کی پوجا کی جائے ؟“
آپ جس سے بھی پوچھیں گے ایسی کوئی گواہی آپ کو نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی نبی کی تعلیمات سے ایسی کسی…
Read the full tafseer →44 بعد از موت انبیاء کی زندگی کے قائلین اور ان کا رد :۔ اس آیت میں واسْئَلْ کا مطلب اکثر مفسرین نے دو طرح سے بیان کیا ہے ایک یہ کہ ان انبیاء کے وارث علماء یا علمائے بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ ان رسولوں کی کتابوں میں تلاش کرکے دیکھو کہ ان میں کہیں یہ لکھا ہے کہ ہم نے اپنے علاوہ کچھ اور بھی الٰہ بنا دیئے ہیں جن کی عبادت کی جایا کرے۔ لیکن کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو انبیاء و اولیائے کرام کی عرصہ برزخ میں مکمل زندگی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کی پکار سنتے بھی ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے ان کے تصرف کا یہ حال ہے۔ وہ پکارنے والے کی مشکل کشائی اور…
Read the full tafseer →34۔ یعنی ان کی کتابوں اور صحیفوں سے جیسے کچھ وہ موجودہ ہیں تحقیق کرلیاجائے۔ لیس المراد بسؤال الرسل حقیقۃ السؤال ولکنہ مجاز عن النظر فی ادیانھم والفحص عن مللھم (مدارک) والمراد بہ الاستشھاد باجماع الانبیاء علی التوحید (بیضاوی) ” اس سے اوروں کا سنانا منظور ہے کہ جس کا جی چاہے تحقیق کرلے اور کتابوں میں دیکھنے کو رسولوں سے پوچھنا مجازا کہہ دیا، جیسے ہمارا بھی محاورہ ہے کہ کسی مسئلہ طیبہ مختلف کتابوں میں دیکھا ہو، پھر کہتے ہیں کہ آؤ ذرا شیخ بوعلی سینا سے پوچھیں کہ وہ کیا کہتا ہے اور یہ کہہ کر قانون شیخ دیکھنے لگیں۔ “ (تھانوی (رح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
آیت نمبر 36 تا 45
ترجمہ : اور جو شخص رحمٰن کے ذکر یعنی قرآن سے اعراج کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے کہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور بلاشبہ وہ شیاطین ان اعراض کرنے والوں کو ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جمع لانے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہاں تک کہ جب وہ اعراض کرنے والا اپنے ساتھی کے ساتھ قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی جس قدر مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے یا تنبیہ کے لئے ہے تو میرا بڑا برا ساتھ ہے، (اے) اعراض کرنے والو ! آج ہرگز تم…
Read the full tafseer →وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون اور آپ ان
سب پیغمبروں سے (یعنی ان کی کتابوں سے اور تعلیم سے) جن کو آپ سے پہلے ہم نے بھیجا تھا ‘ پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا اور معبود مقرر کر رکھے تھے کہ ان کی عبادت کی جاتی ہو ؟
بغوی نے لکھا ہے : اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ آیت مذکورہ میں کن لوگوں سے دریافت کرنے کا حکم دیا گیا ہے (پیغمبروں سے یا پیغمبروں کی امتوں سے) عطاء کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب معراج میں رسول اللہ ﷺ کو لے جایا گیا تو حضرت آدم اور آپ کی نسل میں جو انبیاء ہوئے ‘ سب کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے کیلئے بھیجا گیا۔ حضرت جبرئیل نے اذان…
Read the full tafseer →اور تم سب سے اس برتری کے شکریہ کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔
اور محمد آپ ان سب پیغمبروں سے پوچھ لیجیے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم، حضرت موسی، اور حضرت عیسیٰ اور یہ گفتگو معراج کی رات میں پیش آئی جبکہ آپ نے ستر انبیاء کرام (علیہم السلام) کو نماز پڑھائی اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ کیا ہم نے اللہ مہربان کے سوا کبھی بھی دوسرے معبود ٹھہرائے تھے یا ان دوسرے معبودوں کی پرستش کا حکم دیا تھا۔
یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان اہل کتاب سے پوچھ لیجیے جن کی طرف ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے ہیں کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) توحید کے علاوہ اور کیا پیغام لے…
Read the full tafseer →(1) وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا…: یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے رسول تو فوت ہوچکے، ان سے کس طرح پوچھا جاسکتا ہے ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ رسولوں سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابوں سے معلوم کرنا ہے، جیسا کہ اللہ کے فرمان :(فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول) (النسائ : 59) (پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لٹواؤ) کا مطلب اب یہ نہیں کہ اگر تمہارا کسی معاملے میں تنازع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کے پاس لے جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کرو۔ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تمام رسولوں کی تعلیمات کا مطالعہ کر کے دیکھ لو، کیا کسی میں یہ بات ملتی…
Read the full tafseer →سے مراد مسجد بیت المقدس ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور آپ کی اولاد میں سے مرسلین کو بھیجا جبکہ جبریل امین نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے حضرت جبریل امین نے آذان کہی پھر نماز کے لئے اقامت کہی پھر کہا، اے محمد ! ﷺ آگے بڑھو اور انہیں نماز پڑھائو، جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے جبریل امین نے کہا، اے محمد ! آپ سے قبل جن رسولوں کو بھیجا گیا ہے ان سے پوچھئے : کیا اللہ تعالیٰ نے رحمٰن کے علاوہ اور الہ بنائے ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں نہیں پوچھوں گا تو ہی کافی ہے “ حضر ابن عباس نے کہا، وہ ستر نبی تھے جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے آپ نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ (اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا پوچھ لیجئے) کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے شب معراج میں رسولوں سے ملاقات فرمائی۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کو شب معراج میں انبیاء دکھائے گئے آپ نے آدم (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان کو سلام کیا اور آپ نے دوزخ کے داروغہ مالک کو دیکھا اور دجال کذاب کو بھی دیکھا۔
3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن…
Read the full tafseer →وَسْـَٔــلْ [ اور آپ پوچھ لیں ] مَنْ اَرْسَلْنَا [ ان سے جن کو ہم نے بھیجا ] مِنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْ رُّسُلِنَآ [ ہمارے رسولوں میں سے ] اَجَعَلْنَا [ کیا ہم نے (کبھی) بنائے ] مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ [ رحمان کے علاوہ ] اٰلِهَةً [ کچھ ایسے الہ جن کی ] يُّعْبَدُوْنَ [ بندگی کی جائے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم فرعون کے پاس پہنچنا اور ان لوگوں کا معجزات دیکھ کر تکذیب اور تضحیک کرنا، فرعون کا اپنے ملک پر فخر کرنا اور بالآخر اپنی قوم کے ساتھ غرق ہونا
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و رسالت اور فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں اور چودھریوں کی تکذیب پھر ہلاکت اور تعذیب کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اشراف قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یعنی معجزات لے کر پہنچے تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ اژدھا بن گئی تو فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا کہ اجی یہ کیا معجزہ ہے یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
تنبیہ وتوبیخ برغفلت واعراض از ذکر خداوندی و حسرت وندامت مجرمین در آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن ....... الی ...... الھۃ یعبدون “۔
(ربط) اس قبل آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک خاص اسوہ یعنی توحید خداوندی پر استقامت اور کفر وشرک سے براء توبیزاری کا بیان فرمایا گیا تھا، ساتھ ہی دنیا کے سازوسامان اور اس کی آرائش و آسائش کی بےوقعتی کا ذکر تھا اور یہ کہ اصل شرف اور عظمت انسان کو صرف وحی الہی ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے، اب ان آیات میں حق تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غفلت واعراض پر تنبیہ وتوبیخ کی جارہی ہے، اور یہ کہ ایسے غافلوں اور بےحس لوگوں کا انجام نہایت ہی…
Read the full tafseer →29:۔ ” واسئل من ارسلنا۔ الایۃ “ دلیل نقلی تفصیلی کے دلیل نقلی اجمالی ہے از جملہ انبیاء سابقین علیہم الصلوہ والسلام یعنی اپنے جد اعلی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال تو تم نے سن لیا کہ وہ توحید کے بہت بڑے داعی تھے۔ اب یہ بتاؤ کیا دیگر انبیاء سابقین (علیہم السلام) میں سے کسی کو ہم نے غیر اللہ کی عبادت اور پکار کا حکم دیا تھ ؟ یعنی ہم نے تو اس کا حکم نہیں دیا تاھ پھر تم نے یہ مسئلہ کہاں سے نکال لیا ؟ انبیاء (علیہم السلام) سے سوال کرنے سے حقیقۃ سوال کرنا مراد نہیں، بلکہ مجازاً ان سے سوال کرنا مراد ہے جس کی دو صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ ان کی اصل اور غیر محرف کتابوں اور ان کے صحیفوں کی روشنی میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ربط آیات
پہلے توحید اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے رسالت کا ذکر فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک …81 (آیت 23- ) اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے جس بستی میں بھی رسول یا نبی بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اپنے آبائو اجداد کی فرسودہ رسوم پر کاربند رہنے پر اصرار کیا۔ قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون (آیت 24- ) کہنے لگے کہ جس چیز کو تم لے کر آئے ہو ، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہوا کہ جب بھی ان کے پاس حق بات ائٓی قالوآ ھذا سحر وانا بہ کفرون (آیت 30- ) کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو اسے یکسر…
Read the full tafseer →وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِہَۃً يُّعْبَدُوْنَ 45 ۧ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
تفسیر : اس سے پہلے فرمایا تھا کہ ایسے بہرے اندھے کو جو ضلال مبین میں گرفتار ہو تو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسی حالت میں ان ازلی گمراہوں کو اور بھی جرأت ہونا اور نبی کی تکذیب و ایذا پر کمر باندھ کر اس کہنے کا موقع ملنا (کہ تجھ سے ہماری ہدایت ممکن نہیں اور ہم ایسے بدراہ ہیں تو تیرا خدا اپنے وعدہ کے موافق ہمیں کچھ سزا دیوے تاکہ تیری سچائی معلوم ہو کہ تو اس کا بھیجا ہوا ہے) قرین قیاس ہے۔ ان کی اس شوخ چشمی کا جواب دیتا ہے فامانذھبن بک فانامنہم منقمون الخ کہ اگر تجھے اے محمد ﷺ ہم دنیا سے لے جاویں کیونکہ تو اپنا کام جو تھا سو کرچکا اور یہ ایک روز ہونا ہے تو یہ نہیں کہ پھر ہم ان سے بدلہ نہ لیں یا تیری…
Read the full tafseer →وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَـآ اَجَعَلْـنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِھَۃً یُّعْبَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 45)
(اور پوچھئے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اپنے رسولوں میں سے، کیا ہم نے رحمن کے سوا دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔ )
مشرکین کے دعویٰ کی تردید
گزشتہ ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور حقوق میں یکتا ہے، کوئی اس کا کسی طرح بھی شریک نہیں۔ لیکن مشرکینِ عرب نے اپنے تمام تر دین کا دارومدار شرک پر بنا رکھا تھا۔ اور دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم جس شرک میں مبتلا ہیں یہ ہماری اپنی اختراع نہیں بلکہ ہم نے صدیوں پہلے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
فہم القرآن
ربط کلام : جس کے ساتھ آپ ﷺ کو تمسک کرنے کا حکم ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو آپ اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اس کا پہلا نقطہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
قرآن مجید وحی کے ذریعے نازل کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا ذریعہ اور اس کی طرف سے نصیحت ہے۔ جسے آپ ﷺ اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اب لوگوں کا فرض ہے وہ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سے بات پرس کرے گا۔ جو لوگ قرآن مجید کی آمد اور اس کے منع کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے استفسار فرمائیں جنہیں ہم نے آپ سے پہلے رسول بنایا تھا۔ کیا ہم نے الرحمن کے سوا…
Read the full tafseer →ادیانِ وملل کی پڑتال ظاہر کرتی ہے کہ بت پرست باطل پر ہیں :
آیت 45: وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِہَۃً یُّعْبَدُوْنَ (اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے۔ پوچھ لیں کہ کیا ہم نے رب رحمان کے سوا دوسرے معبود ٹھہرا دیئے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے) اس مقام پر رسل سے سوال مقصود نہیں ہے اور نہ ہی حقیقی سوال مراد ہے۔ بلکہ یہ ان کے ادیان و ملل میں جانچ پڑتال سے مجاز ہے۔ کیا کسی بھی ملت و دین آسمانی میں کبھی بتوں کی عبادت کی اجازت ملی ؟ اور ہر ایسے متلاشی کو کتاب اللہ میں نظر کرنا کفایت کر جائے گا۔ کیونکہ قرآن پہلی…
Read the full tafseer →44، وانہ ، یعنی قرآن ، لذکرلک، یعنی اعزاز ہے آپ کے لیے ۔ ولقوم مک ، قریش میں سے۔ اس کی نظیر ، لقد انزلناالیکم کتابافیہ ذکر کم ، یعنی تمہاراعزاز ہے۔ ، وسوف تسئلون، اس کے حق اور اس کے شکر ادا کرنے کے بارے میں۔ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جب پوچھا جاتا کہ آپ (علیہ السلام) کے بعد یہ امر کس کے لیے ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) کچھ جواب ارشاد نہ فرماتے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر اس کے بعد جب پوچھاجاتا کس کے لیے یہ ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) فرماتے قریش کے لیے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ امرہمیشہ قریش میں باقی رہے گا جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
42۔ 45۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ یا تمہاری وفات کے بعد ضرور ہم کافروں پر عذاب نازل کریں گے اور بدلہ لیں گے اور یا تمہاری حیات میں وہ عذاب جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے دکھا دیں گے دونوں باتوں پر ہم قدرت رکھتے ہیں اوپر کی آیت کے وعدہ کا جو کچھ ظہور صحابہ کے زمانہ میں ہوا اس کا مختصر ذکر تو اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ بدر کی فتح سے لے کر اللہ کے رسول کی حیات تک جو فتوحات ہوئیں وہ قصے اس دوسرے وعدہ کے ظہور کی گویا تفسیر ہیں اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تم کسی کے جھٹلانے کی کچھ پرواہ نہ کرو اور قرآن کی نصیحت پر مضبوطی سے قائم رہو اب تو یہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
آیت 40
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے، نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انہیں ہدایت کی طرف بالئے۔ (افانت تسمع الصم) ” کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔ “ جو سنتے نہیں (اوتھدی العمی) ” یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں ؟ “ جو دیکھتے نہیں یا کیا آپ اس شخص کی راہنمائی کرسکتے ہیں (آیت) ” جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ؟ کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →59 مشرکین کے دعوے کی تردید : مشرکین کا کہنا تھا کہ جن معبودان باطلہ کی پوجا وہ کرتے ہیں ان کی پوجا کا حکم ان کو اللہ نے دیا ہے۔ سو انکے اس دعوے کی تردید کے لیے فرمایا گیا کہ پوچھ لو ان رسولوں سے جن کو ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھیجا ہے۔ کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا ایسے معبود بنائے ہیں جنکی پوجا کی جائے۔ یعنی ان کی قوموں اور کتابوں سے پوچھ لیجئے کہ یہ بھی درحقیقت ان انبیائے کرام ہی سے پوچھنا ہے۔ جیسا کہ اسلاف کرام کی تمام تفسیروں میں لکھا ہے۔ اور مقصود اس ارشاد سے یہ بتانا ہے کہ توحیدسب کا اجماعی عقیدہ ہے۔ تمام انبیائے کرام نے اسی کی دعوت دی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنْ کُنْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
آیات 36 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
اور جو کوئی اس عظیم ذات جو کہ بہت بڑا رخم کرنے والا ہے اس کی یاد سے منہ پھیرے جیسے یہ کفار اللہ کے قرآن سے منہ پھیر رہے ہیں تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیاجاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کے راستے سے روکتا ہے نیز وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور برائی کو کمال خیال کرنے لگتا ہے۔
ذکر الٰہی اور شیطان۔
ذکر الٰہی کی بنیاد ایمان ہے دوسرا درجہ عمل ہے اور تیسرا السانی کہ فرائض وواجبات کے بعد زبانی تسبیحات اور تلاوت کی جائے اور کامل درجہ ذکر قنبی ہے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور ترک ذکر پر جو شیطان مسلط ہوتا ہے یہ اس سے الگ ہے جوہر انسان کے ساتھ پہلے سے…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی ان کی لائی ہوئی کتابوں سے یا ان کی امت کے لوگوں سے ( جامع) بعض علمائے تفسیر نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب انبیاء ( علیہ السلام) سے ملاقات ہو، جیسے شب معراج میں ہوئی تو ان سے دریافت کرلیجئے مگر آنحضرت ﷺ نے دریافت نہیں کیا۔ علامہ قرطبی نے اس دوسرے مطلب کو ترجیح دی ہے اور شاہ صاحب (رح) نے اپنی توضیح میں دونوں احتمال یکساں ذکر کردیئے ہیں۔ چناچہ لکھتے ہیں :” پوچھ دیکھ یعنی جس وقت ان کے ارواح سے ملاقات ہو یا ان کے احوال کتابوں میں دریافت کر۔ ( موضح)
13 ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ شرک کسی مذہب میں روا نہیں۔
Read the full tafseer →(43:45) اسئل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر سؤال (باب فتح) تو سوال کرلے تو پوچھ لے۔ تو دریافت کرلے۔
من اسم موصول۔ ارسلنا من قلبلک من رسلنا اس کا صلہ۔ اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو آپ سے پہلے ہم نے بھیجا تھا پوچھ لیجئے۔ اجعلنا۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ کیا ہم نے بنایا۔ مقرر کیا۔
الہۃ۔ بہت سے معبود۔ الہ کی جمع ۔ منصوب بوجہ مفعول جعلنا۔
یعبدون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ عبادۃ (باب نصر) مصدر۔ ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا اور معبود مقرر کر رکھے ہیں کہ ان کی عبادت کی جاتی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 45 : یعش (جو اندھا بنتا ہے ( آنکھیں بند کرلیتا ہے) نقیض (ہم ساتھ لگا دیتے ہیں ، ہم مقرر کردیتے ہیں) قرین ( ساتھی) یصدون ( وہ روکتے ہیں) یلیت (اے کاش) استمسک (مضبوط تھام لے) تسئلون ( تم پوچھے جائو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 45 : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین کے سچے اصولوں کی پابندی انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات دلانے کا یقینی ذریعہ ہے لیکن جو لوگ ان سچائیوں سے منہ موڑ کر اللہ کی یاد سے غفلت اور کوتاہی اختیار کرتے ہیں ان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسے شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر برے خیالات اور وسوسوں کے ذریعہ…
Read the full tafseer →توحید کابیان۔
(ف 3) اے محبوب یہ کفار توحید میں شک رکھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ توحید تمہاری نکالی ہوئی ہے تو تم ان کافروں سے ان کا حال پوچھو جو تم سے پہلے ہمارے رسول ان میں آئے تھے موسیٰ ، عیسیٰ ، ابراہیم وغیرہ، اور ان کے سامنے ان امتوں سے پوچھو کہ وہ کیا لے کر آئے تھے کیا ہم نے اپنے سوا اور بھی کوئی معبود بنائے ہیں جو مستحق پرستش ہوں کیا ہم نے اگلے پیغمبروں کو یہ حکم دیا تھا ہرگز بھی نہیں ، مطلب یہ کہ توحید تو تمام انبیاء ورسول کی اجماع یقینی خبر ہے کل انبیاء اسی کے لیے آئے ایک روایت یہ بھی ہے کہ شب معراج نبی ﷺ نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی ، جب حضور ﷺ نماز سے فارغ…
Read the full tafseer →[21] یعنی ان کے عقائد جو ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں دیکھ لو۔ ان کو دیکھنا گویا پیغمبروں سے پوچھنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
کیا ایک خدا ساری دنیا کا مالک ہے
1: ان لوگوں کے لئے جو تعلیم سب سے زیادہ ناقابل قبول تھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ایک خدا کی پرستش کرنا چاہیے ۔ اور صرف اسی کی چوکھٹ پر جھکنا چاہیے ۔ یہ لوگ کہتے تھے ۔ کہ ہم کیونکر اپنے آباء و اجداد کی تقلید چھوڑدیں ۔ اور اپنے معبودان باطل ترک کردیں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پرانے عقائد سے دست بردار ہوجائیں ۔ اور یکہ و تنہا خدا کو ساری دنیا کا مالک قراردے لیں ۔ فرمایا ۔ یہ توحید کا عقیدہ کوئی نادر اور انوکھا عقیدہ نہیں ہے ۔ بڑا پرانا عقیدہ ہے ۔ تمام انبیاء اسی کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے آئے ہیں ۔ سب کی زندگی کا مقصد یہی رہا ہے ۔ کہ مولا سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو مولا کے…
Read the full tafseer →(45) اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ دیکھئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمان کے علاوہ اور دوسرے معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے اور ان کو پوجا جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کی تحقیق کی جائے کہ کیا سابقہ پیغمبروں کے زمانہ میں بھی کبھی کسی پیغمبر کے وقت میں ہم نے سوائے رحمان کے کسی دوسرے معبود کو مقرر کرنے اور پوجنے کا حکم دیا ہے یعنی اگرچہ رسول اس وقت نہیں ہیں ان کی کتابوں کو دیکھ کر بتائو کہ کسی نبی نے آج تک شرک کی تعلیم دی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کسی دین میں شرک روا نہیں رکھا اور پوچھ دیکھ یعنی جس وقت ان کی ارواح سے ملاقات ہو یا ان کے احوال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ف 5۔ مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں۔
6۔ یعنی وہ نشانیاں دلالات نبوت بھی تھیں اور ان کے لئے عقوبات بھی تھیں۔
Read the full tafseer →45 ؎ مشرکین کا ایک اعتراض تھا کہ اگر ہم کو اللہ نے ان کی عبادت کا حکم نہ دیا ہوتا تو آخر ہم ان کی عبادت کیوں کرتے ؟ ان کی اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اللہ رب کریم کے احکام اوامرو نواہی کے لائے ہوئے رسول ہی ہوتے ہیں رسولوں کے علاوہ دوسرے سارے انسانوں کے پاس تو اللہ نہیں آیا کہ براہ راست کچھ ان کے کان میں کہہ گیا ہو پھر جتنے رسول آئے ان سب کی تعلیمات ان کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں جو ان پر اتاری گئیں اور قرآن کریم نے بھی ان باتوں کی نشاندہی کی ہے آپ کسی رسول و نبی کا پیغام بھی پڑھ کر دیکھ لیں کہ کہیں کسی ایک جگہ بھی اللہ نے ان سب میں سے کسی ایک کو بھی کوئی ایسا حکم دیا ہے کہ رحمن کے سوا…
Read the full tafseer →وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا (And ask Our messengers whom We sent before you...43:45) A question may arise here: Since all the earlier prophets (علیہم السلام) had expired at the time of the revelation of this verse, how could the Holy Prophet t ask any question from his predecessors? Some exegetes have taken the verse in the sense that if, as a miracle, Allah Ta` ala arranges for the Holy Prophet ﷺ to meet the earlier prophets (علیہم السلام) ، then he should ask them about it. And it is well-established that the Holy Prophet t met all the preceding prophets (علیہم…
Read the full tafseer →40 "Ask the Messengers": Find out from the Books brought by them. Just as the meaning of: "If there arises any dispute among you about anything, refer it to Allah and His Prophet," is not that the dispute should be taken before Allah and His Messenger, but that one should turn to the Book of Allah and the Sunnah of His Messenger for a decision, so "asking the .Messengers" also does not mean that one should approach all the Messengers who have left the world and ask them, but the right meaning is: "Discover what teachings the Messengers of Allah have left in the world as to which of them…
Read the full tafseer →