Az-Zukhruf 43:44

Az-Zukhruf · from ayah 44

43:44

وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ— وَسَوْفَ تُسْـَٔلُوْنَ ۟وَاِنَّهٗ لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ‌ ۚ وَسَوۡفَ تُسۡئَـلُوۡنَ

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, it is a remembrance for you and your people, and you [all] are going to be questioned.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:44

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ یہ وحی تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک نیک نامی کا ذریعہ ہے، اور تم سب سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے اس کا کیا حق ادا کیا ؟)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ شرف ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یقیناً یہ (قرآن) آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے عظیم شرف ہے، اور (لوگو!) عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے قرآن کے ساتھ کتنا تعلق استوار کیا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ وہ یقینا تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کتاب بلاشبہ آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے نصیحت ہے اور جلد ہی تم سے (اس کے متعلق) باز پرس ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے یاد دہانی ہے اور عنقریب تم سب سے پرسش ہوتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ قرآن ایک بڑا شرف ہے آپ ﷺ کے لئے بھی اور آپ ﷺ کی قوم کے لئے بھی اور عنقریب ہی تم سب سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ (قرآن) آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے اور عنقریب تم سب سے پوچھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ (قرآن) آپ کے لیے بھی یاد دہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی اور عنقریب آپ سب سے پوچھ گچھ ہوگی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ قرآن تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے اور لوگو ! تم سے عنقریب باز پرس ہوگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily it is a great source of eminence for you and your people, and soon you will be called to account concerning that.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And certainly this (Qur‘an) is a word of honour for you and your people, and you will be questioned.

— Muhammad Taqi Usmani

And certainly this (Qur‘an) is a word of honour for you and your people, and you will be questioned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, this is indeed a Dhikr for you and your people, and you will be questioned.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! it is in truth a Reminder for thee and for thy folk; and ye will be questioned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, it is a remembrance for you and your people, and you [all] are going to be questioned.

— Saheeh International

The Quran is a reminder to you and to your people and you will soon be questioned about it.

— Muhammad Sarwar

And most surely it is a reminder for you and your people, and you shall soon be questioned.

— Muhammad Habib Shakir

And verily it is an admonition Unto thee and thy people; and presently ye will be questioned.

— Abdul Majid Daryabadi

The (Qur'an) is indeed the message, for thee and for thy people; and soon shall ye (all) be brought to account.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–45

شیطان سے بچو ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں (عشی فی العین) کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت (وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا01105ۧ) 4۔ النسآء :115) ، یعنی جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 44–45

سورة الزُّخْرُف 39 یعنی اس سے بڑھ کر کسی شخص کی کوئی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ تمام انسانوں میں سے اس کو اللہ اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے منتخب کرے اور کسی قوم کے حق میں بھی اس سے بڑی کسی خوش قسمتی کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کی دوسری سب قوموں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اس کے ہاں اپنا نبی پیدا کرے اور اس کی زبان میں اپنی کتاب نازل کرے اور اسے دنیا میں پیغام خداوندی کی حامل بن کر اٹھنے کا موقع دے۔ اس شرف عظیم کا احساس اگر قریش اور اہل عرب کو نہیں ہے اور وہ اس ناقدری کرنا چاہتے ہیں تو ایک وقت آئے گا جب انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ سورة الزُّخْرُف 40 رسولوں سے پوچھنے کا مطلب ان کی لائی ہوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

نیک شہرت بھی دین میں پسندیدہ ہے (آیت) وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ (اور یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے) ”ذکر“ سے یہاں مراد نیک ناموری ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے شرف عظیم اور نیک شہرت کا باعث ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نیک شہرت ایک قابل رغبت چیز ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کو ایک احسان کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا فرمائی تھی کہ (آیت) واجعل لی لسان صدق فی الآخرین (تفسیر کبیر) لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نیک شہرت اس وقت مستحسن ہے جب وہ مقصد زندگی بنائے بغیر انسان کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وانہ لذکر لک و لقوموک وسوف تسئلون 44 رسول اور قوم دونوں کی ذمہ داری یعنی یہ قرآن جو تمہاری طرف وحی کیا گیا ہے تمہارے لئے بھی یاددہانی ہے اور تمہاری قوم کے لئے بھی یاد دہانی ہے اور ایک دن تم سب سے پرسش ہونی ہے۔ تم سے یہ پرسش ہوگی کہ تم پر جو وحی کی گئی وہ تم نے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک بےکم وکاست پہنچا دی یا نہیں اور قوم کی طرف سے تم کو کیا جواب ملا، قوم سے یہ پرسش ہونی ہے کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر نہیں ایا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی۔ سورة اعراف میں اس بات کا یوں ذکر ہوا ہے۔ فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولتسئلن المرسلین فلنقصن علیھم بعلم وما کنا عآئبین، (الاعراف :7-6) پس لازماً ہم ان لوگوں سے پوچھیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

44۔ 1 یعنی یہ قرآن تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے شرف و عزت کا باعث ہے کہ یہ ان کی زبان میں اترا، اس کو وہ سب سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ پوری دنیا پر فضل و برتری پاسکتے ہیں اس لئے ہم کو چاہیے کہ اس کو اپنائیں اور اس پر سب سے زیادہ عمل کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–45

13: یعنی ان پر جو آسمانی کتابیں نازل ہوئی تھیں، ان میں دیکھ لو کہ ان کو کیا تعلیم دی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–45

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی قرآن کریم تیرے اور تیری قوم کے لیے خاص فضل و شرف کا سبب ہے۔ اس سے بڑی عزت اور خوش نصیبی کیا ہوگی کہ اللہ کا کلام اور ساری دنیا کی نجات و فلاح کا ابدی دستور العمل ان کی زبان میں اترا اور وہ اس کے اولین مخاطب قرار پائے۔ اگر عقل ہو تو یہ لوگ اس نعمت عظمیٰ کی قدر کریں۔ اور قرآن جو ان سب کے لیے بیش بہا نصیحت نامہ ہے اس کی ہدایات پر چل کر سب سے پہلے دنیاوی و اخروی سعادتوں کے مستحق ہوں۔ 8 یعنی آگے چل کر پوچھ ہوگی کہ اس نعمت عظمیٰ کی کیا قدر کی تھی ؟ اور اس فضل و شرف کا کیا شکر ادا کیا تھا ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 44 { وَاِنَّـہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ۔ } ”اور یہ قرآن آپ کے لیے بھی یاد دہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی ‘ اور عنقریب آپ سب سے پوچھ گچھ ہوگی۔“ یہ قرآن گویا آپ کا وظیفہ ہے۔ آپ ﷺ اسے ہمیشہ پڑھتے رہیے اور آپ ﷺ کی قوم کی ہدایت و فلاح بھی اسی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

43 یعنی یہ کتاب قرآن کریم ایک بہت بڑی نعمت ہے جو آپ کو اور آپ کی قوم کو دی جارہی ہے۔ تمہاری اور تمہاری قوم کی اس سے زیادہ خوش نصیبی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم آپ کی طرف وہ کتاب نازل کر رہے ہیں جو تاقیام قیامت ساری دنیا کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے گی اور دوسری قوموں کو چھوڑ کر آپ کی قوم اس پیغام الٰہی کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا ذریعہ بنے گی۔ لہذا اس وقت جو لوگ اس عظیم نعمت کا مذاق اڑاتے ہیں یا اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے ان سے یقیناً باز پرس ہونے والی ہے۔ اور اے مسلمانو ! تم سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اللہ کا یہ پیغام دنیا والوں کو پہنچا دیا تھا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–44

33۔ (کہ اپنے اپنے ذمہ کے حقوق قرآن کہاں تک ادا کئے) آپ ﷺ سے سوال تبلیغ سے متعلق ہوگا، اور ان لوگوں سے اس پر عمل کا۔ ذکر یہاں شرف کے معنی میں ہے۔ اے شرف لک ولقومک (راغب) معناہ لشرف لک ولقومک قالہ ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ والسدی وابن زید واختارہ ابن جریر (ابن کثیر) اے انہ یوجب الشرف العظیم لک ولقومک (کبیر) (آیت) ” لک ولقومک “۔ موجب شرف ہونا آپ ﷺ کے لئے تو اس لئے کہ آپ ﷺ براہ راست مخاطب تھے اور آپ کی قوم کے لئے اس واسطے کہ وہ بالواسطہ مخاطب تھی اور اس طرح اس کے واسطہ سے آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی قوم دونوں کی نیک نامی اور بلند نامی قیامت تک قائم رہے گی، فقہاء مفسرین نے یہاں سے یہ پہلو بھی پیدا کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–45

آیت نمبر 36 تا 45 ترجمہ : اور جو شخص رحمٰن کے ذکر یعنی قرآن سے اعراج کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے کہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور بلاشبہ وہ شیاطین ان اعراض کرنے والوں کو ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جمع لانے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہاں تک کہ جب وہ اعراض کرنے والا اپنے ساتھی کے ساتھ قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی جس قدر مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے یا تنبیہ کے لئے ہے تو میرا بڑا برا ساتھ ہے، (اے) اعراض کرنے والو ! آج ہرگز تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ لذکر لک ولقومک اور بلاشبہ یہ قرآن آپ کیلئے اور آپکی قوم (یعنی قریش) کیلئے عظیم الشان شرف ہے۔ 1 ؂ بغوی نے بروایت ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جب دریافت کیا جاتا کہ آپ کے بعد آپ کی بجائے کون ہوگا ؟ تو حضور ﷺ کوئی جواب نہیں دیتے تھے ‘ لیکن اس آیت کے نزول کے بعد جب آپ سے یہ بات دریافت کی تو فرمایا : یہ (جانشینی) قریش کو حاصل ہوگی۔ حضرت علی سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک دو آدمی بھی باقی ہوں گے یہ امر قریش کے ہاتھ میں ہوگا ‘ یا جب تک دو شخص یعنی مسلمان باقی ہوں یہ امر (خلافت) قریش کیلئے ہونا چاہئے۔ اول صورت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 43–44

(43۔ 44) آپ قرآن حکیم کے ہر حکم کی تعمیل کیجیے بیشک آپ پسندیدہ طریقہ پر ہیں اور یہ قران حکیم آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے بڑی عزت کی بات ہے کیونکہ ان کی زبان میں نازل ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وانہ لذکر لک و لقومک : ذکر کا معنی نصیحت و یاد دہانی بھی ہے اور عز و شرف اور شہرت و ناموری بھی، یہاں دونوں مراد ہیں۔ یعنی یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے اور آپ کے لئے اور آپ کی قوم قریش اور عرب کے لئے عز و شرف کا باعث بھی ہے۔ یہ عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کے اولین مخاطب اور سب سے پہلے عمل کرنے والے قریش اور عرب ہیں۔ جو عجمی قومیں اس پر ایمان لائیں گی انا کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے عربی زبان سیکھنا پڑے گی اور عربوں کا شاگرد بننا پڑے گا۔ قریش اور عربوں کے لئے یہ عزو شرف کیا کم ہے کہ بعد میں آنے والے تمام لوگ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ زمین کے مشرق و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 43–44

فاستمسک بالذی اوحی الیک۔ بالذی اوحی الیک سے مراد قرآن حکیم ہے اگرچہ اس کو جھٹلایا جس نے جھٹلایا انک علی صراط مستقیم، یہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کی رضا اور ثواب تک پہنچا دے گا وانہ لذکر لک ولقومک یعنی قرآن تیرے لئے اور تیرے قوم قریش کے لئے شرف ہے کیونکہ یہ ان کی لغت اور انہیں میں سے ایک فرد پر نازل ہوا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکرکم (الانبیائ : 10) یعنی تمہارے لئے شرف ہے قرآن حکیم قریش کی زبان میں نازل ہوا اور انہیں کو خطاب کیا پس تمام لغتوں والے اس امر کے محتاج ہیں جو بھی ایمان لایا وہ ان کے خوشہ چین ہوئے کیونکہ تمام لغتوں والے اس امر کے محتاج ہیں کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قرآن کریم کا باعث شرف ہونا : 1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لذکرلک ولقومک “ (اور بلاشبہ یہ قرآن آپ کیلئے اور آپ کی قوم یعنی قریش کے لئے عظیم الشان شرف ہے یعنی یہ قرآن عزت (کا باعث) ہے آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لذکرلک “ یعنی یہ قرآن (آپ کے لئے) اور آپ کی قوم کے لئے یعنی جو آپ کی تابعداری کرے گا آپ کی امت میں سے (سب کیلئے عزت کا باعث ہے ) ۔ 3:۔ الشافعی وعبد الرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ (قرآن ) ] لَذِكْرٌ [ یقینا ایک یاد دہانی ہے ] لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ [ آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے ] وَسَوْفَ [اور عن قریب ] تُسْـَٔــلُوْنَ [ تم سب سے پوچھ گچھ کی جائے گی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ ﴾ (اور بلاشبہ یہ قرآن شرف ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے ہے) اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے امتنان فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے باعث شرف ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ مالک الملک ہے اور ملک الملوک ہے سب کا بادشاہ ہے اس کا کسی سے خطاب فرمانا یہ بہت بڑا شرف ہے محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور بار بار آپ کو مخاطب فرمایا اس میں آپ کے لیے بڑے شرف اور فخر کی بات ہے پھر آپ کے واسطہ سے آپ کی قوم کو خطاب فرمایا اور ان کی زبان میں اور ان کی لغت میں قرآن مجید نازل فرمایا ان کے لیے بھی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–45

تنبیہ وتوبیخ برغفلت واعراض از ذکر خداوندی و حسرت وندامت مجرمین در آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن ....... الی ...... الھۃ یعبدون “۔ (ربط) اس قبل آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک خاص اسوہ یعنی توحید خداوندی پر استقامت اور کفر وشرک سے براء توبیزاری کا بیان فرمایا گیا تھا، ساتھ ہی دنیا کے سازوسامان اور اس کی آرائش و آسائش کی بےوقعتی کا ذکر تھا اور یہ کہ اصل شرف اور عظمت انسان کو صرف وحی الہی ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے، اب ان آیات میں حق تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غفلت واعراض پر تنبیہ وتوبیخ کی جارہی ہے، اور یہ کہ ایسے غافلوں اور بےحس لوگوں کا انجام نہایت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–44

ٖ 28:۔ ” فاستمسک۔ الایتین “ یہ دلیل وحی ہے۔ معاندین اگر نہیں مانتے، تو آپ اس سے غمگین نہ ہوں اور اس سے آپ کو یہ وہم بھی نہ ہو کہ شاید آپ صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ آپ اللہ کی وحی سے تمسک کریں اور دعوت توحید کو نہ چھوڑیں، آپ سیدھی راہ پر ہیں، آپ کا دین سچا اور آپ کی دعت سراپا حق ہے اور معاندین اس لیے نہیں مانتے کہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے ” وانہ لذکر لک۔ الایۃ “ ذکر کے معنی شرف کے ہیں یا پندو نصیحت یعنی یہ قرآن آپ کیلئے اور آپ کی قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے کیونکہ یہ قرآن ان کی زبان میں اور انہی میں سے ایک فرد پر نازل ہوا ہے۔ اس لیے انہیں چاہئے کہ وہ اس کو مان لیں تاکہ دنیا و آخرت میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–45

ربط آیات پہلے توحید اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے رسالت کا ذکر فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک …81 (آیت 23- ) اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے جس بستی میں بھی رسول یا نبی بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اپنے آبائو اجداد کی فرسودہ رسوم پر کاربند رہنے پر اصرار کیا۔ قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون (آیت 24- ) کہنے لگے کہ جس چیز کو تم لے کر آئے ہو ، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہوا کہ جب بھی ان کے پاس حق بات ائٓی قالوآ ھذا سحر وانا بہ کفرون (آیت 30- ) کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو اسے یکسر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ۝ 0 ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ۝ 44 قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–45

تفسیر : اس سے پہلے فرمایا تھا کہ ایسے بہرے اندھے کو جو ضلال مبین میں گرفتار ہو تو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسی حالت میں ان ازلی گمراہوں کو اور بھی جرأت ہونا اور نبی کی تکذیب و ایذا پر کمر باندھ کر اس کہنے کا موقع ملنا (کہ تجھ سے ہماری ہدایت ممکن نہیں اور ہم ایسے بدراہ ہیں تو تیرا خدا اپنے وعدہ کے موافق ہمیں کچھ سزا دیوے تاکہ تیری سچائی معلوم ہو کہ تو اس کا بھیجا ہوا ہے) قرین قیاس ہے۔ ان کی اس شوخ چشمی کا جواب دیتا ہے فامانذھبن بک فانامنہم منقمون الخ کہ اگر تجھے اے محمد ﷺ ہم دنیا سے لے جاویں کیونکہ تو اپنا کام جو تھا سو کرچکا اور یہ ایک روز ہونا ہے تو یہ نہیں کہ پھر ہم ان سے بدلہ نہ لیں یا تیری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّـہٗ لَذِکْرٌ لَّـکَ وَلِقَوْمِکَ ج وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ ۔ (الزخرف : 44) (اور بیشک یہ ذکر ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب آپ سب سے پرسش کی جائے گی۔ ) آنحضرت ﷺ اور امت ایک ذمہ داری میں شریک ہیں ذکر کا ترجمہ بعض اہل علم نے شرف سے کیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم سے بڑا شرف کوئی نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور انسانی ہدایت کے لیے آخری پیغام۔ اور جس ذات عزیز پر اس کا نزول ہوتا ہے اس کے صاحب شرف اور ذی وجاہت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اور اسی طرح جس قوم میں وہ اللہ تعالیٰ کا رسول اٹھایا جاتا ہے اور جو قوم اس کتاب کی سب سے پہلی مخاطب بنتی ہے اس کے شرف کی بھی کیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 44–45

فہم القرآن ربط کلام : جس کے ساتھ آپ ﷺ کو تمسک کرنے کا حکم ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو آپ اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اس کا پہلا نقطہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ قرآن مجید وحی کے ذریعے نازل کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا ذریعہ اور اس کی طرف سے نصیحت ہے۔ جسے آپ ﷺ اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اب لوگوں کا فرض ہے وہ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سے بات پرس کرے گا۔ جو لوگ قرآن مجید کی آمد اور اس کے منع کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے استفسار فرمائیں جنہیں ہم نے آپ سے پہلے رسول بنایا تھا۔ کیا ہم نے الرحمن کے سوا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 44: وَاِنَّہٗٗ (اور وہ قرآن) وہ جو آپ کی طرف وحی سے بھیجا گیا۔ لَذِکْرٌ لَّکَ (وہ آپ کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے) وَلِقَوْمِکَ (اور آپ کی قوم کے لئے) اور آپ کی امت کے لئے۔ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ (اور عنقریب تم سب سے پوچھا جائے گا) قیامت کے دن اس قرآن کے متعلق کہ کیا تم نے اس کا حق ادا کیا اور کس قدر اس کی عظمت مانی اور اس عظیم نعمت پر کتنا شکریہ ادا کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 43–44

42، اونرینک ، آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں ، الذی وعدناھم، فانا علیھم مقتدرون، قادر ہیں ۔ جب ہم چاہیں ان کو عذاب دیں اور اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں کہ ان سے غزوہ بدر کے دن انتقام لیا اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے امت محمد یہ ﷺ کے اہل اسلام مراد ہیں اور تحقیق نبی کریم ﷺ کے بعد آپ (علیہ السلام) کی امت میں بڑی سخت لڑائی ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کا اکرام کیا کہ ان کو دنیا سے لے گئے اور ان کو امت کی صرف وہی چیزیں دکھائیں جوان کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیں اور لڑائیوں کو ان کے بعد کے لیے باقی رکھا اور روایت کیا ہے کہ نبی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–45

42۔ 45۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ یا تمہاری وفات کے بعد ضرور ہم کافروں پر عذاب نازل کریں گے اور بدلہ لیں گے اور یا تمہاری حیات میں وہ عذاب جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے دکھا دیں گے دونوں باتوں پر ہم قدرت رکھتے ہیں اوپر کی آیت کے وعدہ کا جو کچھ ظہور صحابہ کے زمانہ میں ہوا اس کا مختصر ذکر تو اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ بدر کی فتح سے لے کر اللہ کے رسول کی حیات تک جو فتوحات ہوئیں وہ قصے اس دوسرے وعدہ کے ظہور کی گویا تفسیر ہیں اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تم کسی کے جھٹلانے کی کچھ پرواہ نہ کرو اور قرآن کی نصیحت پر مضبوطی سے قائم رہو اب تو یہ قریش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–45

آیت 40 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے، نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انہیں ہدایت کی طرف بالئے۔ (افانت تسمع الصم) ” کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔ “ جو سنتے نہیں (اوتھدی العمی) ” یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں ؟ “ جو دیکھتے نہیں یا کیا آپ اس شخص کی راہنمائی کرسکتے ہیں (آیت) ” جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ؟ کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

56 قرآن حکیم ایک عظیم الشان ذکر وشرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن ایک عظیم الشان شرف ہے۔ ایسا عظیم الشان شرف کہ اس جیسا دوسرا کوئی شرف نہ کبھی انسانیت کو اس سے پہلے کبھی نصیب ہوا اور نہ کبھی آئندہ نصیب ہوگا۔ ایسا شرف جو کہ دارین کی فوز و فلاح اور سعادت و کامرانی کا کفیل وضامن ہے۔ ایسا شرف جو کہ پوری نوع انسانیت کے لئے کامل دستور اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سو فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان شرف ہے آپ ﷺ کیلئے اے پیغمبر ! کہ آپ ﷺ پر یہ عظیم الشان اور بےمثال کلام بذریعہ وحی نازل فرمایا گیا۔ اور اس کے ذریعے آپکو نبوت و رسالت بلکہ نبیوں کی امامت و پیشوائی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–56

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–45

آیات 36 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ اور جو کوئی اس عظیم ذات جو کہ بہت بڑا رخم کرنے والا ہے اس کی یاد سے منہ پھیرے جیسے یہ کفار اللہ کے قرآن سے منہ پھیر رہے ہیں تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیاجاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کے راستے سے روکتا ہے نیز وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور برائی کو کمال خیال کرنے لگتا ہے۔ ذکر الٰہی اور شیطان۔ ذکر الٰہی کی بنیاد ایمان ہے دوسرا درجہ عمل ہے اور تیسرا السانی کہ فرائض وواجبات کے بعد زبانی تسبیحات اور تلاوت کی جائے اور کامل درجہ ذکر قنبی ہے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور ترک ذکر پر جو شیطان مسلط ہوتا ہے یہ اس سے الگ ہے جوہر انسان کے ساتھ پہلے سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی قوم ( قریش) کے لئے شرف ہے کیونکہ یہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس کے اولین مخاطب قریش ہیں اور جو عجمی قومیں اس پر ایمان لائیں گی ان کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے عربی زبان حاصل کرنی پڑے گی۔ مگر قرآن شرف کا سبب اسی کے لئے ہے جو اس پر عمل پیرا ہوگا ( القرآن حجۃ لک اوعلیک) حدیث میں ہے ( لیس لاحد علی احد فضل الا بالتقوی) کہ کسی کو کسی پر کچھ فضلیت حاصل نہیں ہے الایہ کہ تقویٰ اختیار کرے۔ ( قرطبی) 11 یعنی قیامت کے دن کہ اس نصیحت کی کتاب پر عمل کر کے کسی حد تک اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:44) وانہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد القرآن ہے۔ لذکر میں لام تاکید کے لئے ہے ذکر شرف عظیم ۔ بیشک یہ تمہارے لئے شرف عظیم ہے۔ سوف تسئلون : سوف مضارع پر آنے سے اس کو مستقبل کے معنی میں خاص کردیتا ہے۔ عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے اس کے حقوق کو کہاں تک قائم رکھا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–45

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 45 : یعش (جو اندھا بنتا ہے ( آنکھیں بند کرلیتا ہے) نقیض (ہم ساتھ لگا دیتے ہیں ، ہم مقرر کردیتے ہیں) قرین ( ساتھی) یصدون ( وہ روکتے ہیں) یلیت (اے کاش) استمسک (مضبوط تھام لے) تسئلون ( تم پوچھے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 45 : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین کے سچے اصولوں کی پابندی انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات دلانے کا یقینی ذریعہ ہے لیکن جو لوگ ان سچائیوں سے منہ موڑ کر اللہ کی یاد سے غفلت اور کوتاہی اختیار کرتے ہیں ان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسے شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر برے خیالات اور وسوسوں کے ذریعہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–44

(ف 2) اے محبوب، تم کسی کے جھٹلانے کی کچھ پرواہ نہ کرو، اور جو قرآن بذریعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تم پر وحی بھیجا گیا ہے اس کو مضبوط پکڑو کوئی نہ مانے یا نہ مانے تم بیشک سیدھے مستقیم رستہ پر ہو، اے محبوب یہ قرآن تو نصیحت ہے جو تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے خاص فضل وشرف کا سبب ہے اس سے بڑی عزت اور خوش نصیبی کیا ہوگی کہ اللہ کا کلام اوساری دنیا کی نجات و فلاح کا ابدی دستورالعمل ، ان کی زبان میں اترا، اور وہ اس کے اولین مخاطب قرار پائے اگر عقل ہو تو یہ لوگ اس نعمت عظمی کی قدر کریں، اور قرآن جو ان سب ک لیے بیش بہانصیحت نامہ ہے اس کی ہدایت پڑھ کر سب سے پہلے دنیاوی اور اخروی سعادتوں کے مستحق ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–44

[19] یعنی قرآن کریم تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے خاص عزت و شرف کا سبب ہے۔ اس سے بڑی عزت اور خوش نصیبی ایک شخص کے لئے کیا ہوگی کہ تمام انسانوں میں اللہ تعالیٰ اسے نبوت کے لئے انتخاب فرمائے۔ پھر اس کی قوم کے لئے اس سے بڑا شرف کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاں نبی پیدا کرے اور اس کی زبان میں اپنا کلام نازل فرمائے۔ [20] یعنی آگے چل کر پوچھ گچھ ہوگی کہ اس نعمت عظمیٰ کی کیا قدر کی تھی اور اس عزت و شرف کا کیا شکر ادا کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–44

یہ بہرے اور اندھے ہیں 1: یعنی ہرچند ان لوگوں کو اسلام کے معارف وحقائق سے آگاہ کیا گیا ہے مگر یہ ہیں کہ ان میں پذیرائی اور قبولیت کی قطعاً استعداد موجود نہیں ہے ۔ یہ کانوں کے بہرے ہیں ۔ کلمہ حق کو سننا ہی نہیں چاہتے ۔ آنکھوں سے اندھے ہیں ۔ مظاہر صدق وصفا اور خوارق ومعجزات کو دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔ اس صورت میں اور گمراہی کی اس منزل میں آپ کا سمجھانا بالکل بےکار اور خبث ہے ۔ جب قومیں اس درجہ پست اور ذلیل ہوجائیں ۔ کہ سچائی کو قبول کرنا ان کے لئے موجب تنگ ہو ۔ تو پھر بہترین سزا قدرت کی طرف سے یہ ہوتی ہے ۔ کہ ان کو مٹا دیا جائے ۔ چناچہ ان لوگوں کو اللہ کی شدید ترین سزا کے لئے ہر لحظہ تیار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(44) اور قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سب سوال کئے جائو گے۔ اس آیت میں ذکر کا ترجمہ دو طرح کیا گیا ہے ایک نصیحت ایک شرف ہم نے دونوں ذکر کردیئے ہیں نصیحت کی بات تو ظاہر ہی ہے حضور ﷺ کے لئے بھی نصیحت ہے اور قوم کے لئے بھی۔ البتہ شرف کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا ہے تو چونکہ بلاواسطہ آپ مخاطب ہیں یہ آپ کے لئے بڑے شرف کی بات ہے اور آپ کی قوم سے بالواسطہ خطاب ہے اس لئے دونوں ہی کے لئے موجب شرف اور موجب عزت ہے ۔ حضرت حق تعالیٰ جس کو کلام کی عزت سے نوازیں اس کے اعزاز اور شرافت کا کیا ٹھکانا۔ سوال کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس قرآن اور اس شرف کا کیا حق ادا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ پس آپ سے صرف تبلیغ کے متعلق سوال ہوگا، جس کو آپ خوب ادا کرچکے ہیں اور عمل کے متعلق ان سے سوال ہوگا جس میں انہوں نے اخلال کیا، پس جب آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں باز پرس نہ ہوگی تو پھر آپ کیوں غم کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ کتاب آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کی قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے 44 ؎ یہ کتاب یعنی قرآن کریم آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کی قوم کے لیے عزت و شرف کا باعث ہے جو لوگ اس نعمت عظمیٰ کو ٹھکرا رہے ہیں وہ خود اپنے لیے محرومیاں اور ناکامیاں اکٹھی کر رہے ہیں۔ ایک کتاب کا کسی بندے پر نازل کیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور پھر جس قوم سے اس بندے کا تعلق ہے یہ چیز لاشبہ اس کے لیے بھی قابل فخر ہے لیکن ان باتوں کو اکثر لوگ نظر انداز کردیتے ہیں اور کر رہے ہیں خوش نصیب ہیں وہ جو حقیقت کو حقیقت تسلیمکر گئے اور نبی اعظم و آخر ﷺ پر ایمان لے آئے اور وہ عظمت و شرف کے اس مقام کو حاصل کر گئے اور جن لوگوں نے اس کی ناقدری کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–44

Good Fame is liked by Islam وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ‌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ (And certainly this Qur'an is a word of honor for you and your people... 43:44) The original word used in the text is dhikr which here means 'good name' or 'fame'. The verse means that the Noble Qur'an is a matter of great honour and good fame for the Holy Prophet t and his people. Imam Razi has concluded from this verse that good fame is a desirable thing, because Allah Ta ala has stated this as a matter of favor and that is why Sayyidna Ibrahim' (علیہ السلام) had supplicated: وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِ‌ينَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

39 That is, "There can be no greater good fortune for a person than that Allah should choose him from among all men to become the recipient of His Book, and there can be no greater good fortune also for a nation than that Allah should raise His Prophet in it, apart from all other nations of the world, and should send down His Book in its tongue, and give it the opportunity to rise as the standard-bearer of Divine Message in the world. If the Quraish and the people of Arabia have no sense of this great honour, and spurn it, a time will come when they will be called upon to account for it."

Read the full tafseer →