Explained with ayahs 46–51
قلاباز بنی اسرائیل
حضرت موسیٰ کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں آپ کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہوجانا لکڑی کا اژدھا بن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے انہیں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 41
یہ قصہ یہاں تین مقاصد کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ملک اور کسی قوم میں اپنا نبی بھیج کر اسے وہ موقع عطا فرماتا ہے جو محمد ﷺ کی بعثت سے اب اہل عرب کو اس نے عطا فرمایا ہے، اور وہ اس کی قدر کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس حماقت کا ارتکاب کرتی ہے جس کا ارتکاب فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا تو پھر اس کا وہ انجام ہوتا ہے جو تاریخ میں نمونہ عبرت بن چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ فرعون نے بھی اپنی بادشاہی اور اپنی شوکت و حشمت اور دولت و ثروت پر فخر کر کے موسیٰ ؑ کو اسی طرح حقیر سمجھا تھا جس طرح اب کفار قریش اپنے سرداروں کے مقابلے میں محمد ﷺ کو حقیر سمجھ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو) اپنے دلائل (یعنی معجزات عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون کے اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا، سو انہوں نے (ان لوگوں کے پاس آ کر) فرمایا کہ میں رب العالمین کی طرف سے (تم لوگوں کی ہدایت کے لئے) پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں (مگر فرعون و اہل فرعون نے نہیں مانا) پھر (ہم نے دوسرے دلائل سزاؤں کے رنگ میں ان کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ظاہر کئے، یعنی قحط سالیاں وغیرہ مگر ان لوگوں کی پھر بھی یہ حالت رہی کہ) جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہماری (وہ) نشانیاں لے کر آئے (جو آیات تسعہ کہلاتی ہیں) تو وہ یکایک ان (معجزات) پر لگے ہنسنے (کہ یہ کیا اچھے معجزے ہیں، محض معمولی واقعات و حوادث…
Read the full tafseer →-4 آگے کا مضمون … آیات :56-46
آگے باجمال حضرت موسیٰ ؑ اور فرعکن کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس سے مقصود ایک تو اس انتقام الٰہی کی تاریخی شہادت پیش کرنا ہے جس کا ذکر اوپر آیات 42-41 میں ہوا ہے کہ رسول کی تکذیب کے بعد اس کی قوم کا فیصلہ لازماً ہوجاتا ہے، خواہ رسول کی زندگی ہی میں ہو یا اس کی ہجرت یا موت کے بعد اللہ کا یہ اتقام اس کی ایک مقررہ سنت ہے جس کی گرفت سے کوئی قوم بھی نہیں بچی۔ فرعون جیسا جبار بھی جب اس کی زد میں آیا ہے تو وہ بھی اپنی تمام افواج سمیت غرق کردیا گیا۔ اس کی قوت وصولت اس کے کچھ کام نہ آئی۔
دوسرے یہ اس حقیقت کی مثال ہے جو آیت 40 میں بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
47۔ 1 یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو دعوت توحید دی تو انہوں نے ان کے رسول ہونے کی دلیل طلب کی، جس پر انہوں نے وہ دلائل و معجزات پیش کئے جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے تھے، جنہیں دیکھ کر انہوں نے مذاق کیا اور کہا یہ کون سی چیزیں ہیں۔ یہ تو جادو کے ذریعے ہم بھی پیش کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
14: ان سے مراد وہ بلائیں ہیں جن میں مصر والوں کو یکے بعد دیگرے مبتلا کیا گیا، اور جن کی تفصیل سورة اعراف : 133 تا 135 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت نمبر 46 تا 47
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے اور اس کا ذکر بطور تمہید ہوا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اس قصے کا متعلقہ حصہ پیش کیا جائے ، متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جس طرح قریش نے حضرت محمد ﷺ پر اعتراضات کئے ، ویسے ہی فرعون نے بھی کئے تھے ، جس طرح یہ اعتراضات دنیائے ونی کے جھوٹے معیار کے حوالے سے تھے اسی طرح فرعون نے بھی اپنی برتری کے لئے دنیاوی معیار پیش کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں اور تمام رسولوں نے کہا کہ ہم رسول ہیں ، یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی طرف اور ان کے مقابلے میں فرعونیوں کے رد عمل کی طرف بھی صریح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
1 یعنی معجزات کا مذاق اڑانے لگے۔
Read the full tafseer →آیت 46 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلاَ ئِہٖ } ”اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف“
ان سے مراد وہ ابتدائی نشانیاں ہیں جنہیں لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں گئے تھے ‘ یعنی عصا اور ید ِبیضا۔
{ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو اس نے کہا کہ دیکھو میں تمام جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں۔“
Read the full tafseer →45 یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ فرعون بھی اپنے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حقیر سمجھتا تھا۔ جس طرح کہ قریش مکہ اپنے سرداروں کے مقابلہ میں رسول اللہ کو حقیر سمجھ رہے تھے اور انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ بالآخر فرعون اللہ کے عذاب سے تباہ ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نجات اور کامیابی عطا فرمائی۔ تم اگر سمجھو تو تمہارا بھی ایسا ہی حشر ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
35۔ (اپنے کفر وعناد سے) (آیت) ” وما نریھم ..... اختھا “۔ یہاں ایت یا نشانی سے قحط وغیرہ کے نو مشہور معجزے یا خوارق مراد ہیں۔ ” مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں، اور یہ مطلب نہیں کہ ہر نشانی ہر نشانی سے بڑی تھی، یہ ایک محاورہ ہے۔ جب کئی چیزوں کا کمال بیان کرنا ہوتا ہے تو یوں ہی بولتے ہیں کہ ایک سے بڑھ کر ایک۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” ولقد ...... فرعون “۔ ایات سے مراد یہاں دلائل ومعجزات دونوں ہیں۔ (آیت) ” موسیٰ ، فرعون “۔ ان پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ (آیت) ” انی رسول رب العلمین “۔ قوم فرعون ایک پروردگار عالم کے تخیل سے بھی ناآشناتھی اور نبوت و رسالت کے عقیدہ سے بھی۔ قرآن مجید کے مختصر سے فقرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت نمبر 46 تا 56
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا ‘ موسیٰ نے پہنچنے کے بعد کہا : میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(46۔ 47) چناچہ ہم نے موسیٰ کو عصا اور ید بیضا کا معجزہ دے کر فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھیجا، چناچہ انہوں نے کہا میں تمہاری طرف اللہ کی جانب سے بھیجا گیا رسول ہوں مگر وہ ہماری ان نشانیوں پر تعجب کرنے لگے اور مذاق اڑانے لگے اور ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →(1) ولقد ارسلنا موسیٰ با یتنا الی فرعون وملائہ : یہاں موسیٰ ؑ کے ذکر کی مناسبت کئی طرح سے ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے سے پہلے رسولوں سے سوال کا حکم دیا کہ کیا اس نے اپنے سوا کوئی معبود مقرر کئے ہیں جن کی عبادت کی جائے، تو جن رسولوں کی کتابوں یا پیروکاروں سے یہ معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں ان میں سب سے پہلے موسیٰ ؑ تھے، کیونکہ ان کی کتاب موجود تھی اور ان کی امت کے لوگ بھی موجود تھے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے والے قوم کے سردار تھے، جو حق واضح ہونے کے باوجود اپنے مال و جاہ کی وجہ سے آپ کو حقیر کہہ کر آپ ﷺ کو رسالت کا اہل ماننے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنآ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ وہ آپ کے دشمن سے انتقام لینے والا ہے اور انبیاء کی شہادت اور تمام کے اتفاق سے توحید پر دلیل قائم کردی تو اس امر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصہ سے مئوکد کیا، فرعون نے جو تکیذب کی اور اس پر اور اس کی قوم پر غرق کی صورت میں جو عذاب آیا یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات کے ساتھ بھیجا وہ نو معجزات تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا اور اچھا انجام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں مقرر کیا گیا یہی صورتحال آپ ﷺ کی ہے۔
یصحکون۔ کا معنی ہے وہ استہزاء کرتے ہیں وہ اپنے پیروکاروں کو وہم دلاتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ (اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا پوچھ لیجئے) کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے شب معراج میں رسولوں سے ملاقات فرمائی۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کو شب معراج میں انبیاء دکھائے گئے آپ نے آدم (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان کو سلام کیا اور آپ نے دوزخ کے داروغہ مالک کو دیکھا اور دجال کذاب کو بھی دیکھا۔
3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى [ اور یقینا ہم بھیج چکے موسیٰ کو ] بِاٰيٰتِنَآ [اپنی نشانیوں کے ساتھ ] اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ [ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ] فَقَالَ اِنِّىْ [ تو انہوں نے کہا کہ میں ] رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم فرعون کے پاس پہنچنا اور ان لوگوں کا معجزات دیکھ کر تکذیب اور تضحیک کرنا، فرعون کا اپنے ملک پر فخر کرنا اور بالآخر اپنی قوم کے ساتھ غرق ہونا
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و رسالت اور فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں اور چودھریوں کی تکذیب پھر ہلاکت اور تعذیب کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اشراف قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یعنی معجزات لے کر پہنچے تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ اژدھا بن گئی تو فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا کہ اجی یہ کیا معجزہ ہے یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
30:۔ ” ولقد ارسلنا موسیٰ “ یہ دوسری دلیل نقلی تفصیلی ہے۔ از موسیٰ (علیہ السلام) اور ” لولانزل ھذا القران الخ “ سے متعلق ہے۔ جس طرح مشرکین عرب آپ پر ازراہ عناد و مکابرہ اعتراض کرتے ہیں، اسی طرح کے اعتراضات فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے تھے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دلائل و معجزات دے کر فرعون اور اس کے ارکانِ سلطنت کے پاس بھیجا، جب وہ ہماری آیت کے ساتھ ان کے پاس آئے تو وہ ان کو دیکھتے ہی استہزاء و تمسخر کے انداز میں ہنسنے لگے اور معجزات کو جادو کہنے لگے ” وما نریہم من ایۃ الخ “ ہم نے ان کو ایک سے ایک بڑھ کر اپنے نشانات اور معجزات دکھائے اور انہیں مختلف اقسام عذاب میں گرفتار کیا تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ فَقَالَ اِنِّىْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 46
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْـنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِـنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الزخرف : 46)
(اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ )
قریش کی تنبیہ کے لیے فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان ہوئی ہے
قریش اور دیگر اہل مکہ کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہ رسول کی تکذیب کیا معنی رکھتی ہے اور اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں، فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی گئی ہے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ فرعون اور اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ غرور اور تکبر کی بنا پر نبی محترم ﷺ کو رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس لیے اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش کا کچھ حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ تاکہ مکہ والوں اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو کہ فرعون نے تکبر کی بنیاد پر موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی جس بنا پر اس کا بدترین انجام ہوا۔ اے مکہ والو ! تم نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو لہٰذا اپنا انجام سوچ لو۔۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غلام قوم کے ایک فرد تھے۔ جب جوان ہوئے تو ان کے ہاتھوں سرکاری پارٹی کا ایک آدمی سہواً قتل ہوا جس بنا پر موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف ہجرت کرگئے۔ مدین…
Read the full tafseer →آیت 46: پھر رسول اللہ ﷺ کو اس قول سے تسلی دی۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَائِہٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اور ہم نے موسیٰ کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا۔ پس انہوں نے فرمایا میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں) انہوں نے اس پیغام پر جواب دیا اس پر ارشاد باری تعالیٰ جو اگلی آیت میں ہے دلالت کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
45، واسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمنالھۃ یعبدون، ان مسئو لین کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو معراج کرایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں سے جن کو رسول بنا کر بھیجا ان رسولوں کو اٹھا یا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اذان دی ، پھر اقامت کہی اور کہا اے محمد ! (ﷺ) آگے آئیں اور ان کو نماز پڑحائیں۔ پھر جب آپ (علیہ السلام) نماز سے فارغ ہوئے تو آپ (علیہ السلام) کو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا، سل یامحمد من ارسلناقبلک من رسلنا، آیت پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میں نہیں پوچھتا تحقیق میں نے اکتفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت 46
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →61 حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا موسیٰ کو اپنی آیتوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف "۔ جبکہ فرعون اور اس کے اہل کاروں کے پاس دنیاوی مال و منال اور جاہ و جلال کے اعتبار سے بہت کچھ تھا۔ اور اس کے مقابلے میں حضرت موسیٰ کے پاس ایسی کوئی بھی چیز نہیں تھی۔ پس آنحضرت ﷺ پر تمہارا یہ اعتراض کرنا اے دور حاضر کے منکرو ! کہ نبوت و رسالت سے ان کو کیوں نوازا گیا ؟ آپ ﷺ کی بجائے یہ شرف مکہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی کو کیوں نہیں بخشا گیا بالکل ہی لغو اور بےہودہ اعتراض ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں سے نبوت و رسالت کا یہ اعلیٰ ترین شرف اور مقدس ترین مرتبہ و اعزاز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیات 46 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…
Read the full tafseer →ف 14 نشانیوں سے مراد نشانیاں ہیں جن کا ذکر سورة اعراف ( آیت 133) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(43:46) بایتنا : باء تعدیہ کا ہے ایتنا مضاف مضاف الیہ ۔ ہماری آیات۔ ہماری نشانیاں۔ یہاں نشانیوں سے مراد معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا نے دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ وہ نشانیاں یہ تھیں۔ عصا۔ یدبیضاء وغیرہ۔
ملائہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے سردار ملأ اسم جمع ہے۔ ملأ اصل میں ملأ یملأ (باب فتح) کا مصدر ہے بمعنی بھر دینا کسی چیز کو کسی چیز سے۔ قوم کے سردار اور اہل الرائے اشخصاص اپنی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں اسی لئے ان کو ملأ کہتے ہیں۔ م ل ء مادہ۔
فقال : ای قال موسیٰ لہم۔
رسول رب العلمین : رب العالمین مضاف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے)
تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ جس طرح قریش کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تم کو رسول بناکربھیجا ہے اسی طرح فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ کو رسول بناکربھیجا گیا تھا اور جس طرح قریش تمہاری نصیحت کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں اسی طرح فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ کی نصیحت کو مسخراپن میں اڑایا۔ تب ہم نے طرح طرح کے عذاب ایک سے ایک بڑھ کر بھیجے، طوفان ، ٹڈی ، جوں، مینڈک ، خون ، قحط ، بیماری کہ کسی طرح تو یہ مانیں اور کفر چھوڑیں جب عذاب اترتا تو فرعون وغیرہ حضرت موسیٰ کو پکارتے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کرکے کہتا کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو اب کی مرتبہ ہم پر…
Read the full tafseer →[22] یہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت شروع ہوتی ہے جس سے مقصود ایک تو اس انتقام الہٰی کی تاریخی شہادت پیش کرنا ہے اور جس کا ذکر آیات 42-41 میں ہوا ہے کہ رسول کی تکذیب کرنے والوں کا فیصلہ لازماً ہوجاتا ہے خواہ رسول کی زندگی میں ہو یا اس کی وفات یا ہجرت کے بعد۔ دوسرے یہ کہ فرعون نے بھی اپنی بادشاہی اور حشمت و دولت پر گھمنڈ کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح حقیر سمجھا تھا جس طرح سرداران قریش اپنے مقابلے میں نبی ﷺ کو سمجھ رہے تھے۔ تیسرے یہ اس حقیقت کی مثال ہے جو آیت 04 میں بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر گمراہی اختیار کرلیتے ہیں ان کو کسی نشانی سے بھی ہدایت حاصل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
کیا ایک خدا ساری دنیا کا مالک ہے
1: ان لوگوں کے لئے جو تعلیم سب سے زیادہ ناقابل قبول تھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ایک خدا کی پرستش کرنا چاہیے ۔ اور صرف اسی کی چوکھٹ پر جھکنا چاہیے ۔ یہ لوگ کہتے تھے ۔ کہ ہم کیونکر اپنے آباء و اجداد کی تقلید چھوڑدیں ۔ اور اپنے معبودان باطل ترک کردیں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پرانے عقائد سے دست بردار ہوجائیں ۔ اور یکہ و تنہا خدا کو ساری دنیا کا مالک قراردے لیں ۔ فرمایا ۔ یہ توحید کا عقیدہ کوئی نادر اور انوکھا عقیدہ نہیں ہے ۔ بڑا پرانا عقیدہ ہے ۔ تمام انبیاء اسی کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے آئے ہیں ۔ سب کی زندگی کا مقصد یہی رہا ہے ۔ کہ مولا سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو مولا کے…
Read the full tafseer →(46) اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو موسیٰ نے کہا کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ یعنی عصا اور یدبیضا لے کر آئے اور اس کے دربار میں اپنے رسول ہونے کا اعلان کیا مگر اس نے نہیں مانا اور ان کے فرستادہ خدا ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ف 5۔ مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں۔
6۔ یعنی وہ نشانیاں دلالات نبوت بھی تھیں اور ان کے لئے عقوبات بھی تھیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف روانہ کیا
46 ؎ قریش مکہ اور مشرکین عرب کو طرح طرح سے سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں ورنہ ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے تحت کئی بار اس سے قبل بھی موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی داستان ان کے سامنے رکھی گئی اور اس جگہ بھی اس داستان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ آج تم لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کر رہے ہو یہی کچھ فرعون اور اس کے اعوان و انصار نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی روا رکھا تھا اور پھر جو انجام فرعون اور اس کی قوم کا ہوا اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو اور یاد رکھو کہ یہ ہماری سنت ہے کہ…
Read the full tafseer →Commentary
Incidents related to Sayyidna Musa (علیہ السلام) have been stated by the Qur'an at many places repeatedly, and the incidents referred to in the present verses have been described in detail in Surah Al-A` raf. The reason for reminding these incidents here is to show that the objection of the infidels of Makkah that the Holy Prophet ﷺ is not a wealthy man is not a new objection; Fir'aun had expressed the same doubt against Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his prophethood. His contention was that being the ruler of Egypt, and owner of the palaces and rivers flowing beneath them, how…
Read the full tafseer →41 This story has been narrated here for three objects: (1) That when Allah sends His Prophet to a country and nation and affords it the opportunity which He has now given to the Arabs by appointing the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) to Prophet hood, and it, instead of taking advantage of it, commits the folly of Pharaoh and his people, it meets the same. fate which has become an object lesson in history. (2) That just as Pharaoh also on account of his arrogance and pride of kingdom and grandeur and wealth and possessions had belittled the Prophet Moses as mean and…
Read the full tafseer →