Explained with ayahs 26–35
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت
قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 30
دونوں شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ کفار کا یہ کہنا تھا کہ واقعی خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا اور وہ اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا تو ہمارے ان مرکزی شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو اس غرض کے لیے منتخب کرتا۔ رسول بنانے کے لیے اللہ میاں کو ملا بھی تو وہ شخص جو یتیم پیدا ہوا، جس کے حصے میں کوئی میراث نہ آئی، جس نے بکریاں چرا کر جوانی گزار دی، جو اب گزر اوقات بھی کرتا ہے تو بیوی کے مال سے تجارت کر کے، اور جو کسی قبیلے کا شیخ یا کسی خانوادے کا سربراہ نہیں ہے۔ کیا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ جیسے نامی گرامی سردار موجود نہ تھے ؟ کیا طائف میں عروہ بن مسعود،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(یہ تو کافروں نے قرآن کے بارے میں کہا) اور (رسول اللہ ﷺ کے بارے میں) کہنے لگے کہ یہ قرآن (اگر کلام الٰہی ہے اور بحیثیت رسالت آیا ہے تو) ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف کے رہنے والوں) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا (یعنی رسول کیلئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے اور آنحضرت ﷺ مال اور ریاست نہیں رکھتے تو یہ پیغمبر نہیں ہو سکتے۔ باری تعالیٰ ان کے اس شبہ کی تردید فرماتے ہیں کہ) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) کو (خود) تقسیم کرنا چاہتے ہیں (یعنی یہ چاہتا کہ نبوت ہماری رائے کے مطابق لوگوں کو ملنی چاہئے گویا خود تقسیم کرنے کی ہوس کرنا ہے کہ یہ تقسیم ہمارے سپرد ہو…
Read the full tafseer →وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (31)
عوام فریبی کے لئے ایک اور اشغلہ
قرآن اور نبی ﷺ سے اپنے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے یہ بات بھی قریش کے لیڈر کہتے کہ اگر یہ کتاب خدا کی نازل کی ہوئی ہے تو آخر یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کی گئی ! من القریتین سے مراد مکہ اور طائف ہیں اس لئے کہ یہی دو بستیاں عرب کے سادات و اشراف کا مرکز تھیں۔ پشتہاپشت سے عرب کی سیادت و قیادت انہی لوگوں کو حاصل رہی تھی اس وجہ سے سادہ لوح عوام کو یہ بات آسانی سے باور کرائی جاسکتی تھی کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کو اگر لوگوں کی رہنماء کے لئے کوئی چیز اتارنی ہی ہوتی تو وہ انہی دونوں بستیوں میں…
Read the full tafseer →31۔ 1 دونوں بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہے اور بڑے آدمی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک مکہ کا ولید بن مغیرہ اور طائف کا عروہ بن ثقفی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو…
Read the full tafseer →5 یعنی اگر قرآن کو اترنا ہی تھا تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر اترا ہوتا۔ یہ کیسے باور کرلیا جائے کہ بڑے بڑے دولت مند سرداروں کو چھوڑ کر خدا نے منصب رسالت کے لیے ایک ایسے شخص کو چن لیا ہو جو ریاست و دولت کے اعتبار سے کوئی امتیاز نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →آیت 31 { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ”اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟“
یہاں اصل مرکب اضافی ”رَجُلٍ عَظِیْمٍ“ ہے ‘ لیکن ان دو الفاظ کے درمیان ”مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ“ آجانے سے ”رجل“ کی صفت عظیم آخر پر چلی گئی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر مخصوص صوتی آہنگ کے باعث ہوتی ہے جس کی مثالیں قرآن میں جا بجا ملتی ہیں۔
مکہ اور طائف نزولِ قرآن کے زمانے میں پاکستان کے راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر twin cities سمجھے جاتے تھے۔ دونوں شہروں کے لوگوں کے آپس میں گہرے…
Read the full tafseer →30 قریش کے آپ کی ذات پر اعتراضات :۔ قریش مکہ کا پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ ہم جیسا ایک بشر کیسے رسول ہوسکتا ہے پھر جب انہیں دلائل کے ساتھ سمجھایا گیا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی رسول ہوسکتا ہے اور تم لوگوں کی ہدایت کے لیے تمہاری زبان جاننے والا ہی رسول ہوسکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ تو اب تیسرا اعتراض یہ جڑ دیا کہ مکہ اور طائف دو مرکزی شہر ہیں۔ مکہ کا رئیس ولید بن مغیرہ تھا اور طائف کا عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ ان شہروں کا کوئی بڑا آدمی رسول بن جاتا تو بھی کوئی بات تھی۔ بھلا اللہ تعالیٰ کو رسول بنانے کے لیے ایسا ہی آدمی ملا تھا جو یتیم پیدا ہوا تھا اور جس کے پاس نہ دولت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
22۔ یہ آخری اعتراض ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر معاندین کی طرف سے ساحر وغیرہ قرار دیئے جانے کے بعد عائد کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ کہتے تھے کہ اگر یہ واقعی رسول ہیں تو یہ ہم میں سے کوئی بہت بڑے آدمی بلحاظ جاہ وتمول کے کیوں نہ ہوئے ؟ کہ عوام اپنے رؤساء کی راہ پر قدرۃ چلنے لگتے ہیں، گویا اعتراض کی اصل یہ تھی کہ ان لوگوں کے زعم میں جاہ و ریاست لوازم نبوت ومقبولیت میں سے ہے۔ (آیت) ” ھذا ..... کفرون “۔ معاندین نے اعجاز قرآنی سے عاجز ولاجواب ہو کر یہی کہنا شروع کیا تھا کہ یہ کلام جو اس درجہ مؤثر ہے، یہ تو سحر وساحری کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” القریتین “۔ دوشہروں سے مراد مکہ وطائف ہیں جو اس وقت حجاز کے مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…
Read the full tafseer →وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم اور کہنے لگے : یہ قرآن دونوں بستیوں
میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟
دو بستیوں سے مراد ہیں مکہ اور طائف۔ رجل عظیم سے مراد ہے بڑی عزت والا ‘ دنیوی آبرو دار اور بڑا مالدار۔ کافروں نے یہ سمجھا کہ رسالت بہت بڑا منصب ہے اور بڑا منصب بڑے آدمی کو ہی ملنا چاہئے ‘ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ نبوت ایک روحانی مرتبہ ہے ‘ جس کا دنیوی وجاہت و دولت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ مرتبہ چاہتا ہے کہ جس کو اس درجہ پر فائز کیا جائے ‘ وہ فضائل اور کمالات قدسیہ کا حامل ہو ‘ ذاتی اور صفاتی تجلیات کی جلوہ گاہ بننے کی اس میں صلاحیت ہو۔
ابن المنذر بروایت قتادہ بیان…
Read the full tafseer →اور ان مکہ والوں میں سے ولید اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ یہ قرآن حکیم مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی یعنی ولید بن مغیرہ اور ابی مسعود ثقفی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔
شان نزول : وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ (الخ)
اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا کہ محمد جو بات کہہ رہے ہیں اگر وہ صحیح ہوتی تو یہ قرآن حکیم مجھ پر یا مسعود ثقفی پر نازل کیا جاتا تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →وقالوا لو لا نزل ھذا القرآن…: پچھلی ایٓ میں ان کے قرآن پر طعن کا ذکر تھا تو اس آیت میں قرآن لانے والے پر اعتراض کا ذکر ہے۔ کفار پہلے تو کسی بشر کا رسول ہونا ہی ماننے کے لئے تیار نہ تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہیے۔ جب ناقابل تردید دلائل سے انھیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسول بشر ہی بھیجے ہیں، تمہارے جد امجد ابراہیم و اسماعیل ؓ اور دوسرے پیغمبر، مثلاً موسیٰ ؑ سب بشر ہی تھے، تو فرشتہ رسول کا مطالبہ چھوڑ کر یہ مطالبہ داغ دیا کہ یہ قرآن دو بستیوں میں سے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ دو بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہیں ، کیونکہ ان کی مرکزی بستیاں یہ دو ہی تھیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
بل متعت اسے بل معتنا بھی پڑھا گیا ہے ھولاء وبآء ھم انہیں اور ان کے آباء کو دنیا میں حتی جآء ھم الحق یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ توحید اور سالام ان کے پاس لے آئے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل ہے یہی وہ کلمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے خاندان میں باقی رکھا رسول مبین۔ وہ رسول ان کے لئے ایسی چیزوں کی وضاحت کترا ہے جن کی انہیں ضروتر ہوتی ہے۔ ولما جآئھم الحق حق سے مراد قرآن حکیم ہے قالوا ھذا سخر و انا بہ کفرون۔ یعنی انکار کرنے والے ہیں وقالوا لولا نزل یہاں لولا، ھلا کے معنی میں ہے ھذا القرآن علیر جل اسے علی رجل بھی پڑھا گیا ہے من القریتین عظیم۔ دونوں بستیوں میں سے ایک میں جس طرح اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →نبوت خالص اللہ کی رحمت ہے :
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کا قول (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ کے بارے میں پوچھا کہ ہو کونسی دو بستیاں ہیں ؟ تو فرمایا طائف اور مکہ۔ پھر پوچھا وہ دو آدمی کون ہیں ؟ فرمایا عروہ بن مسعود اور قریش کے سردار۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ (اور کہنے لگے یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا) کے بارے میں…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] لَوْلَا [ کیوں نہیں ] نُزِّلَ [اتارا جاتا ] ھٰذَا الْقُرْاٰنُ [ اس قرآن کو ] عَلٰي رَجُلٍ [ کسی ایسے مرد پر جو ] مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ [ ان دو بستیوں میں سے ] عَظِيْمٍ [ عظیم ہے ]
Read the full tafseer →مکہ والوں کا جاہلانہ اعتراض کہ مکہ یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے نبی کیوں نہ آیا، اہل دنیا کو دنیا ہی محبوب ہے، سونے چاندی کے اموال دنیا میں کام آتے ہیں اور آخرت متقیوں کے لیے ہے
دنیا دار دنیا ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیاوی مال و اسباب زیادہ ہوں یا چودھری قسم کا آدمی ہو کسی قسم کی سرداری اور بڑائی حاصل ہو اسی کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں، خواہ کیسا ہی بڑا ظالم، خائن، سودخور، کنجوس مکھی چوس ہو، جب کسی بستی یا محلہ میں داخل ہو اور دریافت کرو کہ یہاں کا بڑا آدمی کون ہے تو وہاں کے رہنے والے کسی ایسے ہی شخص کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مالدار اور صاحب اقتدار ہو، اخلاق فاضلہ والے انسان، اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک :
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 21:۔ ” وقالوا لولا نزل “ یہ شکوی ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت اور ان کے عناد و انکار کی ایک اور طرح ہے۔ وہ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ اول تو کوئی بشر پیغمبر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر اللہ کو یہی منظور تھا کہ وہ کسی انسان و بشر ہی کو یہ رتبہ عطاء فرمائے تو اس کے لیے کوئی ایسا آدمی منتخب ہونا چاہئے جو دنیاوی اعتبار سے بہت بڑا آدمی ہو یعنی اس کے پاس دولت زیادہ ہو اور وہ دنیوی شان و شوکت اور وجاہت میں سب پر فرائق ہو۔ اس لیے یہ قرآن محمد ﷺ پر کیوں نازل ہوا جس کے پاس دولت ہے نہ جائیداد اور مکہ و طائف دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ ہوا ؟ ” اھم یقسمون “۔ یہ جواب شکوی ہے ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ربط آیات
اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفریہ اور شرکیہ رسوم کا رد فرمایا جو کافر اور مشرک اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید میں انجام دیتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ آبائواجداد کی تقلید ہی کرنی ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اختیار کرو جو تم سب کے جد امجد ہیں ۔ انہوں نے تو اپنے باپ اور قوم سے صاف کہہ دیا تھا کہ میں ان چیزوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو ، سوائے اس ذات خداوندی کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری ہنمائی…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31
«لَوْلَا»
يجيء علی وجهين :
أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] .
والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن .
( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
تفسیر : کفار مکہ کا آنحضرت ﷺ کی نبوت پر یہ بھی ایک بیہودہ شبہ تھا جس کو یہاں نقل کر کے جواب دیتا ہے فقال وقالوا الولانزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہ نازل ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریتین سے مراد ان کی دو شہر تھے مکہ اور طائف اور رجل عظیم یعنی بڑے عظیم شخص سے مراد وہ کہ جو بڑا مالدار ‘ صاحب شوکت وجاہ ہو۔ مکہ میں ایسا شخص جو منصب نبوت کا مستحق ‘ دنیاوی مال وجاہ کے لحاظ سے ان حمقاء کے نزدیک سمجھا گیا تھا ولید بن المغیرہ تھا اور طائف والوں میں سے عروہ بن مسعود ثقفی۔ یہ کہنا تو ان کا درست تھا کہ کسی بڑے شخص پر قرآن اترنا تھا مگر یہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ۔ (الزخرف : 31)
(اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ )
ایک اعتراض اور اس کا جواب
یہ ایک اعتراض ہے جو اہل مکہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر کیا جاتا تھا اور اسی کے ذریعے آپ کی نبوت سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ شروع شروع میں انھیں یہ اعتراض رہا کہ بشر رسول کیسے ہوسکتا ہے، رسالت بہت بڑا مقام ہے اور بشر ایک فروتر مقام کی حامل مخلوق ہے۔ اس لیے بشریت اور رسالت میں کوئی مناسبت نہیں۔ لیکن جب قرآن کریم نے مسلسل دلائل سے ان کی اس بات کو پوری طرح غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مختصر ذکر کرنے کے بعد اب پھر اہل مکہ کو برائے راست مخاطب کیا گیا ہے۔
اہل مکہ تعصّب میں آکر اس قدر بوکھلا چکے تھے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ جس بنا پر نئی سے نئی بات اور انوکھے سے انوکھا الزام لگاتے تھے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پہ مہلت دئیے جارہا تھا۔ جب کسی ظالم شخص کو طویل مدت تک مہلت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا۔ اہل مکہ بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کی گمراہی اور مخالفت کا بنیادی سبب…
Read the full tafseer →نبوت کے لئے کفار کا تحکمانہ فیصلہ :
آیت 31: وَقَالُوْا (اور کہنے لگے) باطل استدلال اور ضد بازی کرتے ہوئے۔ لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ (کہ یہ قرآن کیوں نہیں نازل کیا گیا) اس میں آپ کی تحقیر کرنا ان کی غرض ہے۔ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (کسی بڑے آدمی پر ان دو بستیوں میں سے) یعنی ان دو بستیوں میں کسی بستی کے بڑے مالدار آدمی پر جیسا کہ فرمایا۔ یخرج منہما اللؤلؤ۔ ] الرحمن۔ 22[ ان دونوں میں سے کسی ایک سے۔ القریتان سے مکہ وطائف اور عظیم مکہ سے ولید بن المغیرہ اور عظیم طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی مراد لیا۔ ان کے نزدیک عظیم وہ تھا جو مال و جاہ والا ہو۔ انہوں نے اس بات کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
29، بل متعت ھؤلاء وآبائھم یعنی مشرکین دنیامیں اور میں نے ان کے کفر پر دنیا میں جلدی ان کو سزا نہیں دی۔ ، حتی جاء ھم الحق ، یعنی قرآن۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں حق سے اسلام مراد ہے ۔ ، ورسول مبین، ان کے لیے احکام کو بیان کرے اور وہ محمد ﷺ ہیں اور ان احکام کا حق یہ تھا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نافرمانی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
31۔ 35۔ جب قریش ان باتوں میں بالکل لاجواب ہوگئے کہ جس طریقے پر وہ تھے وہ طریقہ ملت ابراہیمی کے سرتاپا مخالف ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا یہ سب کفر کی رسمیں جاری ہو کر ملت ابراہیمی کی کوئی بات ان لوگوں میں باقی نہیں رہی تو لاجواب اور قائل ہونے کے بعد قریش نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور عزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلاً مکہ میں ولید ؓ بن مغیرہ اور طائف میں عمروہ ؓ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپنا سرگروہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یا عروہ جیسے کسی مالدار شخص پر نازل ہوتا تو خوب ہوتا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
37 منکرین کی فریب کاری کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو منکرین نے عوام کالانعام کو فریب دینے کے لیے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور " قریتین " سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ جیسا کہ روایات میں اس کی تصریح موجود ہے کہ " قریتین " سے یہاں پر مراد مکہ اور طائف ہی کی دو بستیاں ہیں۔ (ابن کثیر، جامع البیان اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو ان بدبختوں کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہے تو یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کی گئی کہ مکہ اور طائف کی یہ دو بستیاں عربوں کے اشراف اور سادات کا مرکز تھیں۔ پشتہا پشت کی عربوں کی سیادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیات 26 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 5 یعنی مکہ اور طائف کے کسی سردار پر۔ جس کی شخصیت اس کے شایان شان ہوتی۔ ایک ایسے شخص پر اس کا اترنا باور نہیں کیا جاسکتا جو ریاست و دولت کے اعتبار سے کسی امتیازی شان کا مالک نہیں ہے۔ گویا انہوں نے شرافت کا معیار مال و دولت کو ٹھہرایا۔ ( فتح)
Read the full tafseer →(43:31) لولا : کیوں نہ۔
رجل من القریتین عظیم : ای رجل عظیم من القریتین دونوں بستیوں میں سے کوئی بڑا آدمی۔
القریتین دو بستیاں۔ مراد مکہ و طائف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(ف 1) کافروں نے ہم لوگ مالدار ارعزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپناسردار بنانا چاہتے ہیں اس واسطے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یاعروہ جیسے مالدار شخص پر نازل ہوتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کئی طرح دیا ہے۔ (1) ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو کس نے مختار بنادیا ہے جو یہ اللہ کی رحمت کے حصے اپنی غرض کے موافق لگا رہے ہیں کیا نبوت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دیدیں کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں اللہ نے اپنی حکمت کے موافق جس شخص کو نبوت کے قابل پایا اس کو نبوت عطا کی ان لوگوں کو اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[10] یعنی مکہ اور طائف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
آیت 26 ۔ 28:
3: ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مواعظ کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے اپنی مشرکانہ امثال وعواطف رکھنے والی قوم کی دلیرانہ مخالفت کی ۔ اور علی ا الاعلان اللہ کی توحید کو پیش کیا ۔
حل لغات :۔ عقبہ ۔ اولاد ۔
Read the full tafseer →(31) اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ یعنی مکہ اور طائف دونوں بڑے شہروں کے کسی بڑے آدمی پر اترتا۔ مطلب یہ کہ کسی مالدار اور بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا بڑے آدمی سے شاید ولید بن مغیرہ اور عروہ بن مسعود ثقفی ہوں کیونکہ پہلا مکہ کا بڑا تھا اور دوسرا طائف کا سردار تھا۔
گویا نبوت بھی ایسی ہے جو ان کے مشورے اور ان کی رائے سے دی جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 4۔ یعنی رسول کے لئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے، اور پیغمبر ﷺ مال اور ریاست نہیں رکھتے، تو یہ پیغمبر نہیں ہوسکتے مقصود انکار تھا پیغمبری کا۔
Read the full tafseer →سردارانِ قریش کا ایک اور اعتراض جو انہوں نے اپنی جہالت کے باعث کیا تھا
31 ؎ معترضین کسی ایک مجلس میں ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر اعتراض نہیں کرتے رہے بلکہ وقتاً فوقتاً جو اعتراض ان کو سوجھتا وہ کردیتے اور یہی کچھ اب بھی کیا جاتا ہے اس لیے اعتراضات کی صورتیں الگ الگ اٹھائی گئی ہیں کبھی تو وہ یہ اعتراض کرتے کہ کوئی انسان بھی بھلا نبی و رسول ہو سکتا ہے جب ان کے اعتراض کا جواب ان کو دیا گیا اور ان کے سلیم شدہ نبیوں اور رسولوں کی نشاندہی کی گئی کہ فلاں فلاں کو تم نبی و رسول مانتے ہو اور یہ بھی کہتے ہو کہ فلاں نبی کا فلاں بیٹا ہے تو کیا وہ صاحب اولاد نہیں تھے اس طرح ان کو باور کرایا گیا کہ گزشتہ سارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Commentary
Allah Ta ala has in these verses, has replied to an objection of the pagans of Arabia used to be raised against the Holy Prophet صلی اللہ علیہ . Actually, they were not prepared to accept, at the first place, that a man could be a messenger of Allah Ta’ ala. The Holy Qur'an has referred, at many places, to their objection that they could not accept Sayyidna Muhammad ﷺ as a messenger of Allah, while he eats and drinks and walks about in the market places like any ordinary man. When it was clarified through many verses of the Qur'an that not only the Holy Prophet ﷺ ، but all the…
Read the full tafseer →30 "The two cities": Makkah and Ta`if. What the disbelievers meant was: "Had Allah really willed to send a messenger and intended to send down a book to him, He would have selected a great man from our these central, cities for the purpose. For Allah could not have selected for this great mission a person who was born an orphan, who did not inherit much property, who passed his youth by tending goats, who even at present earned his living through business with his wife's money, and who was neither the chief of a tribe nor the head of a family. Were not there well known chiefs like Walid bin…
Read the full tafseer →