Explained with ayahs 26–35
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت
قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 31
یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے جس کے اندر چند مختصر الفاظ میں بہت سی اہم باتیں ارشاد ہوئی ہیں
پلی بات یہ کہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرنا ان کے سپرد کب سے ہوگیا ؟ کیا یہ طے کرنا ان کا کام ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے کس کو نوازے اور کس کو نہ نوازے ؟ (یہاں رب کی رحمت سے مراد اس کی رحمت عام ہے جس میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ ملتا رہتا ہے)۔
دوسری بات یہ کہ نبوت تو خیر بہت بڑی چیز ہے، دنیا میں زندگی بسر کرنے کے جو عام ذرائع ہیں، ان کی تقسیم بھی ہم نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی کسی اور کے حوالے نہیں کردی۔ ہم کسی کو حسین اور کسی کو بدصورت، کسی کو خوش آواز اور کسی کو بد آواز، کسی کو قوی ہیکل اور…
Read the full tafseer →تقسیم معیشت کا قدرتی نظام
(آیت) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ (ہم نے تقسیم کیا ہے ان کے درمیان ان کی معیشت کو) مقصد یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکمت بالغہ سے دنیا کا نظام ایسا بنایا ہے کہ یہاں ہر شخص اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے کی امداد کا محتاج ہو اور تمام لوگ اسی باہمی احتیاج کے رشتے میں بندھے ہوئے پورے معاشرے کی ضروریات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اس آیت نے کھول کر یہ بات بتلا دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقسیم معیشت کا کام (اشتراکیت کی طرح) کسی با اختیار انسانی ادارے کے سپرد نہیں کیا جو منصوبہ بندی کے ذریعہ یہ طے کرے کہ معاشرے کی ضروریات کیا ہیں ؟ انہیں کس طرح پورا کیا جائے وسائل…
Read the full tafseer →معترضین کو جواب
اہم یقسمون رحمت ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیہ یہ ان فراعنہ کی رعونت کا جواب ہے کہ ان کی یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا اجارہ دار وہ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ انہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جس نعمت سے جس کو چاہیں نوازیں اور جس کو چاہیں محروم رکھیں۔ حالانکہ اس دنیا میں بھی ان کو جو وسائل معیشت حاصل ہوئے ہیں، خدا ہی کی تقسیم سے حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے خود نہیں حاصل کئے ہیں۔ اگر یہ خود حاصل کر لنیے والے ہوتے تو ان اغنیاء کے درمیان درجات و مراتب کا تفاوت کیوں ہوتا ! اپنے اختیار میں معاملہ ہوتے ہوئے کوئی خود اس بات پر کیوں راضی ہوتا کہ وہ کسی پہلو سے…
Read the full tafseer →32۔ 1 اس رحمت سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔
Read the full tafseer →8: یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، اور مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ جو تجویز پیش کر رہے ہیں کہ قرآن مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہونا چاہیے تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس فیصلے کا حق دار سمجھتے ہیں کہ نبوت کی رحمت کس کو عطا کی جائے، کسی کو نہ کی جائے۔
9: یہاں پھر رحمت سے مراد نبوت ہے، اور مطلب یہ ہے کہ نبوت تو بہت اعلی درجے کی چیز ہے اس کی تقسیم کا کام ان لوگوں کے حوالے کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دنیا کا مال و دولت اور روزی کے ذرائع جو نبوت سے بہت کم درجے کی چیز ہے ان کی تقسیم بھی ہم نے ان لوگوں کے حوالے نہیں کی، کیونکہ یہ اس کے بھی اہل نہیں تھے، ، بلکہ خود ایسا نظام بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو…
Read the full tafseer →6 یعنی نبوت و رسالت کے مناصب کی تقسیم کیا تمہارے ہاتھ میں دے دی گئی ہے جو انتخاب پر بحث کر رہے ہو۔
7 یعنی کسی کو غنی، کسی کو فقیر کردیا۔ ایک کو بیشمار دولت دے دی ایک کو اس سے کم۔ کوئی تابع ہے کوئی متبوع۔
8 یعنی نبوت و رسالت کا شرف تو ظاہری مال و جاہ اور دنیاوی سازو سامان سے کہیں اعلیٰ ہے۔ جب اللہ نے دنیا کی روزی ان کی تجویز پر نہیں بانٹی، پیغمبری ان کی تجویز پر کیونکر دے۔ آگے دنیا کے مال و دولت اور مادی سامان کا اللہ کے ہاں بےوقعت اور حقیر ہونا بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 32 { اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ } ”کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے ؟“
نبوت اور وحی اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مظہر ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ ہماری اس رحمت کا حقدار کون ہے اور ہم یہ فیصلہ اپنی مشیت و حکمت کے مطابق کرتے ہیں کہ اس بلند مرتبے پر کسے فائز ہونا ہے۔ چناچہ ہم نے خود اس منصب کے لیے محمد ﷺ کا انتخاب فرمایا ہے اور آپ کو رحمت ٌللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ ہمارے اس فیصلے پر اعتراض کرنے کا حق انہیں کس نے دیا ہے ؟
{ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کا سامان دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا ہے“
{…
Read the full tafseer →31 یہ لوگ کس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہیں کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ کو نبوت عطا کرنے سے پہلے اللہ میاں کو ان سے مشورہ کرلینا چاہئے تھا۔ کہ نبوت و رسالت کا مستحق کون ہوسکتا ہے ؟ نبوت تو خیر بہت بڑی چیز ہے۔ دوسرے انعامات بھی اللہ تعالیٰ نے جس جس کو دیئے ہیں ان میں بھی ان کا کچھ عمل دخل نہیں۔ اللہ نے کسی کو عقل زیادہ دی ہے کسی کو علم دیا ہے۔ کسی کو دولت زیادہ دی ہے اور کسی کو اولاد زیادہ اور کسی کو کم اور کسی کو بالکل نہیں دی۔ کسی کو قوت کار زیادہ دی ہے کسی کو جسمانی قوت زیادہ دی ہے، کسی کو حسن دیا ہے، کسی کو کوئی خوبی دی ہے، تو کسی کو کوئی دوسری خوبی دے دی ہے۔ اب یہ کیا چاہتے ہیں کہ ایک ہی…
Read the full tafseer →23۔ کیا یہ احمق یہ سمجھتے ہیں کہ نبوت جو اللہ کا سب سے بڑا ممکن عطیہ ہے اور خاص الخاص رحمت و عنایت، اس کی تقسیم ان لوگوں کے صلاح ومشورہ سے کی جاتی ہیں ؟ اللہ ہی سب کی صلاحیتوں، اہلیتوں استعدادوں کا علم کامل رکھتا ہے اور اسی نے اپنے اس ہمہ گیر علم کی مناسبت سے موزوں ترین شخص کو اس منصب پر مامور کیا ہے۔ (آیت) ” رحمت ربک “۔ رحمۃ کے عام معنی کے علاوہ یہاں خصوصی اشارہ نبوت کی جانب بھی سمجھا گیا ہے۔ اے النبوۃ (مدارک)
24۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیوی نعمتیں جو اس قدر حقیر ہیں، ان تک کی تقسیم اور ان کا انتظام ہم نے اپنے قبضہ قدرت میں رکھا ہے تو نبوت جیسی گراں بہانعمت کسی مخلوق کے ہاتھ میں کیسے چھوڑی جاسکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…
Read the full tafseer →اھم یقسمون رحمت ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا ورفعنا بعضھم
فوق بعض درجت لیتخذ بعضھم بعضا سخریا ورحمت ربک خیر مما یجمعون کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (یعنی نبوت) کو خود بانٹ لینا چاہتے ہیں ؟ (حالانکہ) ہم نے ہی دنیوی زندگی میں ان کو ان کی روزی بانٹی ہے اور آپس میں ایک کو دوسرے پر بہت درجے بڑھا چڑھا رکھا ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے۔ اور آپ کے رب کی رحمت اس (مال) سے بہتر ہے جس کو یہ جمع کرتے ہیں۔
رحمت رب سے مراد ہے نبوت۔ استفہام انکاری ہے ‘ اس کا مقصد کافروں کی جہالت کا اظہار توبیح اور انکے قول پر تعجب ہے۔
مَعِیْشَت یعنی وہ رزق جس سے زندگی وابستہ ہے۔
وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ الخ…
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ آپ کے رب کی عطا کردہ نبوت اور اس کی کتاب کو جس پر چاہیں خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں مال و دولت تو ہم نے تقسیم کر رکھا ہے اور ہم نے مال وغیرہ کے ذریعے ایک دوسرے پر ترقی دے رکھی ہے تاکہ ایک دوسرے کو خدم و حشم بناتے رہیں اور کتاب و نبوت اس دنیوی مال و دولت سے جسے یہ کافر سمیٹتے پھرتے ہیں بہتر ہے یا یہ کہ کہ جنت اہل ایمان کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →(1) اھم یقسمون رحمت ربک : یہا ن کے اعترضا کا جواب ہے۔”رحمت“ کا لفظ اگرچہ عام ہے، جس میں ہر رحمت شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد نبوت و رسالت ہے، کیونکہ ان کا اعترضا اسی پر تھا۔”رحمت ربک“ (تیرے رب کی رحمت) کے الفاظ میں رسول اللہ ﷺ کو مخطاب کرنے میں آپ ﷺ کی شان کی بلندی کا اظہار ہو رہا ہے۔ یعنی کیا تیرے رب کی رحمت نبوت و رسالت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے کہ جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں ؟ نہیں، یہ اختیار اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ یہ رحمت کسے عطا کرنی ہے۔ یہ جاہل اپنی حیثیت کو بھول کر اس قدر دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہا ن کا ہر شخص چاہتا ہے کہ اللہ کی کتاب اسی کو دی جائے، فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
مسئلہ نمبر 1۔ علماء نے کہا : دنیا کی حقارت اور کم مرتبہ کا ذکر کیا وہ اس کی بارگاہ میں اتنی ذلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے گھروں اور ان کی زینوں کو سونے اور چاندی کا بنا دیتا اگر دنیا کی محبت دونوں پر غالب نہ آجاتی اور یہ چیز کفر پر برانگیختہ نہ کتری۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی ہے اگر سارے لوگ اس وجہ سے کافر نہ ہوجاتے کہ وہ دنیا سے محبتک رتے ہیں اور آخرت کو ترک کرتے ہیں تو ہم دنیا میں انہیں وہ عطا کرتے جو ہم نے بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا ذلیل و رسوا ہے (4) ، اکثر مفسرین کا یہی نقطہ نظر ہے، یہ حضرت ابن عباس، سدی اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ابن زید نے کہا، معنی ہے…
Read the full tafseer →10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” نحن قسمنا بینہم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا “ (اور ہم نے ہی دینوی زندگی میں ان کو ان کی روزی بانٹی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان روزی کو اس طرح تقسیم کیا جس طرح ان کے درمیان ان کی صورتوں کو اور ان کے اخلاق کو تقیسم کیا ہمارے رب بلند ہیں اور فرمایا (آیت ) ” ورفعنا بعضہم فوق بعض درجت “ (اور آپ میں ایک کو دوسرے پر بہت درجے بڑھا چڑھا رکھا ہے۔ فرمایا پھر انہوں نے اس (روزی) کو کمزور حیلے سے اور اچھی بات کرنے والے نے حاصل کرلیا جبکہ اس کے رزق میں فراوانی سے اسے سخت محنت کرنے والا اچھی بات کرنے والا حاصل کرتا…
Read the full tafseer →اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ [ کیا یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ] رَحْمَتَ رَبِّكَ ۭ [ آپ کے رب کی رحمت کو ] نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ [ ہم نے ہی تقسیم کیا ان کے مابین ] مَّعِيْشَتَهُمْ [ ان کی روزی کو ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ اس دنیوی زندگی میں ] وَرَفَعْنَا [ اور ہم نے بلند کیا ] بَعْضَهُمْ [ ان کے کسی کو ] فَوْقَ بَعْضٍ [ کسی کے اوپر ] دَرَجٰتٍ [ بلحاظ درجات کے ] لِّيَتَّخِذَ [ تاکہ بنائے ] بَعْضُهُمْ [ ان کا کوئی ] بَعْضًا [ کسی کو ] سُخْرِيًّا ۭ [ کام آنے والا ] وَرَحْمَتُ رَبِّكَ [ اور آپ کے رب کی رحمت ] خَيْرٌ [ زیادہ بھلی ہے ] مِّمَّا [ اس سے جو ] يَجْمَعُوْنَ [ یہ لوگ جمع کرتے ہیں ]
نوٹ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
﴿وَ لَوْ لَاۤ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ الثلٰٓث) ان تینوں آیتوں میں دنیا کی حقارت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقہ اختیار کرلیں گے اور ایک ہی جماعت بن جائیں گے یعنی دنیا کی رغبت رکھنے کی وجہ سے عام طور سے لوگ کفر ہی اختیار کرلیں گے تو ہم کافروں کو اتنا سونا چاندی دیتے کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور ان کے زینے اور سیڑھیاں جن کے ذریعے وہ اوپر چڑھتے ہیں اور ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے تخت جن پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہیں ان سب کو سونے چاندی کا بنا دیتے انسان کا مزاج چونکہ دنیا کی چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اس لیے یہ دیکھ کر کہ کافر ہونے میں دولت ملتی ہے ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک :
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 21:۔ ” وقالوا لولا نزل “ یہ شکوی ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت اور ان کے عناد و انکار کی ایک اور طرح ہے۔ وہ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ اول تو کوئی بشر پیغمبر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر اللہ کو یہی منظور تھا کہ وہ کسی انسان و بشر ہی کو یہ رتبہ عطاء فرمائے تو اس کے لیے کوئی ایسا آدمی منتخب ہونا چاہئے جو دنیاوی اعتبار سے بہت بڑا آدمی ہو یعنی اس کے پاس دولت زیادہ ہو اور وہ دنیوی شان و شوکت اور وجاہت میں سب پر فرائق ہو۔ اس لیے یہ قرآن محمد ﷺ پر کیوں نازل ہوا جس کے پاس دولت ہے نہ جائیداد اور مکہ و طائف دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ ہوا ؟ ” اھم یقسمون “۔ یہ جواب شکوی ہے ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ربط آیات
اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفریہ اور شرکیہ رسوم کا رد فرمایا جو کافر اور مشرک اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید میں انجام دیتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ آبائواجداد کی تقلید ہی کرنی ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اختیار کرو جو تم سب کے جد امجد ہیں ۔ انہوں نے تو اپنے باپ اور قوم سے صاف کہہ دیا تھا کہ میں ان چیزوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو ، سوائے اس ذات خداوندی کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری ہنمائی…
Read the full tafseer →اَہُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ 0 ۭ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَہُمْ مَّعِيْشَتَہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا 0 ۭ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ 32
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
تفسیر : کفار مکہ کا آنحضرت ﷺ کی نبوت پر یہ بھی ایک بیہودہ شبہ تھا جس کو یہاں نقل کر کے جواب دیتا ہے فقال وقالوا الولانزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہ نازل ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریتین سے مراد ان کی دو شہر تھے مکہ اور طائف اور رجل عظیم یعنی بڑے عظیم شخص سے مراد وہ کہ جو بڑا مالدار ‘ صاحب شوکت وجاہ ہو۔ مکہ میں ایسا شخص جو منصب نبوت کا مستحق ‘ دنیاوی مال وجاہ کے لحاظ سے ان حمقاء کے نزدیک سمجھا گیا تھا ولید بن المغیرہ تھا اور طائف والوں میں سے عروہ بن مسعود ثقفی۔ یہ کہنا تو ان کا درست تھا کہ کسی بڑے شخص پر قرآن اترنا تھا مگر یہ…
Read the full tafseer →اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکط نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ط وَرَحْمَتُ رَبِّـکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (الزخرف : 32)
(کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں، ان کی معیشت کا سامان تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے فوقیت دے رکھی ہے تاکہ وہ باہم دگر ایک دوسرے سے کام لے سکیں، اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں۔ )
معترضین کو جواب
اس آیت کی تفسیر میں صاحب تدبر قرآن نے جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کا اعتراض تھا کہ نبوت کسی مالدار شخص کو ملنی چاہیے تھی ان کے جواب میں دولت اور نبوت میں فرق بتلایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان سماجی، سیاسی اور معاشی تفاوت اس لیے قائم فرمایا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کریں اور دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اے نبی ﷺ ! یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عزت و احترام، مقام اور شان آپ کو عطا فرمایا ہے وہ اس سے کروڑہاگنا بہتر ہے جو کچھ یہ لوگ کماتے اور جمع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان جو تفاوت قائم فرمایا ہے اس کی بنیادی حکمت اور مقصد یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھیں۔ اسی اصول کے پیش نظر بادشاہ کو…
Read the full tafseer →کفار کے جاہلانہ فیصلے کا انکار :
آیت 32: اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ (کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں) رحمت سے نبوت مراد ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ جس سے ان کے نبوت کے لئے چنائو کے تحکمانہ فیصلے پر تعجب و جہالت کا مستقل طور پر انکار مقصود ہے۔ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ (ہم نے ان کی روزی ان میں تقسیم کر رکھی ہے) معیشت۔ سے مراد رزق جس پر ان کا گزارہ ہو۔ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیوی زندگی میں) ہم نے کم درجہ چیز رزق کی تقسیم بھی ان کے ذمہ نہیں کی پھر نبوت کی تقسیم ان کے ذمہ کیسے ہوسکتی ہے۔ نمبر 2۔ جس رزق میں ایک دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →31، وقالوالولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم ، اس سے ان کی مراد مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی تھا۔ اس کو قتادہ (رح) نے کہا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ میں عتبہ بن ربیعہ اور طائف میں ابن عبدیا لیل ثقفی مراد تھا اور کہا گیا ہے کہ مکہ میں ولید بن مغیر ہ اور طائف میں حبیب بن عمر وبن عمیر ثقفی مراد تھا اور یہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
31۔ 35۔ جب قریش ان باتوں میں بالکل لاجواب ہوگئے کہ جس طریقے پر وہ تھے وہ طریقہ ملت ابراہیمی کے سرتاپا مخالف ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا یہ سب کفر کی رسمیں جاری ہو کر ملت ابراہیمی کی کوئی بات ان لوگوں میں باقی نہیں رہی تو لاجواب اور قائل ہونے کے بعد قریش نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور عزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلاً مکہ میں ولید ؓ بن مغیرہ اور طائف میں عمروہ ؓ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپنا سرگروہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یا عروہ جیسے کسی مالدار شخص پر نازل ہوتا تو خوب ہوتا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →39 نعمتیں سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمام نعمتوں کی تقسیم اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے وہ جس کو جو چاہے اور جتنا چاہے عطا فرمائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ہی نے تقسیم کردیا انکے درمیان انکے سامان معیشت کو دنیاوی زندگی میں "۔ تو جب ہم نے خود ان کی دنیاوی زندگی کی گزر بسر کے سامان کو بھی ان لوگوں کی رائے ومرضی پر نہیں چھوڑا جو کہ ایک گھٹیا اور معمولی چیز ہے تو پھر نبوت و رسالت جیسی نعمت عظمیٰ میں ان کی رائے ومرضی کے کسی دخل کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو انکو دنیا میں جو وسائل معیشت حاصل ہوئے ہیں وہ سب خداوند تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
دنیا و آخرت کی بڑائی کفر و شرک کا انجام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو دنیاوی اور آخروی نعمتوں، برکتوں، مال و اسباب اور اجر وثواب کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ اول تو مال و دولت اور درجات کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے، پروگرام اور نظام دنیا کی بہترین طریقہ سے چلانے کے لحاظ سے مقرر کر رکھا ہے۔ تفصیلات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو دیکھیں تو مسئلہ بڑی آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ مثلاً باہر کے کام مشکل ہوتے ہیں تو مرد کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنا دیا گھر کے اندر ہلکے اور نازک کام ہوتے ہیں تو عورت کو نرم و نازک اور نسبتاً کمزور طاقت والا بنا دیا گھر میں کام کاج میں مدد کے لیے کم حیثیت یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیات 26 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی مال و دولت، جسمانی اور عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے لوگوں کے مختلف درجوں میں ان چیزوں میں سے بعض کو کم اور بعض کو وافر حصہ ملا ہے۔
7 یعنی خدمت لے اور اس طرح کوئی شخص کلی طور پر بےنیاز نہ ہو بلکہ کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے کا محتاج رہے۔ یہ درجات کا تفاوت عین فطرت کے مطابق ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے اس سے سفر ناممکن ہے۔
8 اس لحاظ سے جسے یہ رحمت ملی وہ تمہارے ان مالداروں سے بہتر ہوا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” اللہ نے روزی دینا کی تو ان کی تجویز پر نہیں بانٹی، پیغمبری کیونکر دے ان کی تجویز پر (موضح) ۔
Read the full tafseer →(43:32) اہم۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے ہم سے مراد وہ لوگ جو کہ کہتے تھے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ ناز ہوا۔ یقسمون۔ مضارع جمع مذکر غائب قسمۃ (باب ضرب) وہ بانٹتے ہیں۔
رحمۃ ربک : ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ رحمۃ مضاف یہ مضاف الیہ و مضاف مل کر مفعول اپنے فعل یقسمون کا۔ آپ کے رب کی رحمت کو مراد نبوت ہے۔
معیشتم : معیشت اسم مصدر مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کا سامان زندگی۔ قسمنا کا مفعول
درجت : درجۃ کی جمع۔ مرتبے۔ بلندیاں۔ درجے، منصوب بوجہ تمیز ہے۔ ازروئے درجات۔ مرتبوں کے لحاظ سے۔
لیتخذ : لام تعلیل کا ہے۔ یتخذ مضارع منصوب بوجہ عمل لام واحد مذکر غائب اتخاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(ف 1) کافروں نے ہم لوگ مالدار ارعزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپناسردار بنانا چاہتے ہیں اس واسطے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یاعروہ جیسے مالدار شخص پر نازل ہوتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کئی طرح دیا ہے۔ (1) ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو کس نے مختار بنادیا ہے جو یہ اللہ کی رحمت کے حصے اپنی غرض کے موافق لگا رہے ہیں کیا نبوت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دیدیں کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں اللہ نے اپنی حکمت کے موافق جس شخص کو نبوت کے قابل پایا اس کو نبوت عطا کی ان لوگوں کو اللہ کی…
Read the full tafseer →[11] یعنی نبوت کو۔
[12] یہ حکمت بیان فرمائی اس بات کی کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ذہنی اور مادی دونوں ہی اعتبار سے درجات و مراتب کا تفاوت کیوں رکھا ہے۔ فرمایا کہ ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ لوگ باہم ديگر تعاون کی زندگی بسر کریں اور ایک دوسرے کو اپنے کام میں لگا سکیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزمائش کے لئے بنائی ہے اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح رکھا ہے کہ اس میں ہر شخص دوسرے کا محتاج ہے اور دوسرے بھی اس کے محتاج۔ بڑے سے بڑا باشاہ بھی دوسروں کا محتاج ہے اور چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اس میں محتاج الیہ ہے۔ غرض یہاں کوئی شخص بھی دوسروں سے مستغنی نہیں۔[13] یعنی نبوت۔
Read the full tafseer →نبوت خدا کی دین ہے
1: مکہ والوں کو اس بات کی بہت جلن تھی ۔ کہ نبوت اور رسالت کے لئے حضور ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ۔ حالانکہ مال و دولت اور دنیوی وجاہت و عظمت کے لحاظ سے ہم زیادہ استحقاق رکھتے تھے ۔ چاہیے تو یہ تھا ۔ کہ مکہ اور طائف میں جو آدمی زیادہ وجیہہ اور زیادہ دنیوی مسرتوں کا حامل نظر آتا ۔ اس کے سر پر تاج نبوت رکھدیا جاتا ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ کہ ایک یتیم اور بےکس انسان کو اس عہدہ جلیلہ کے لئے کیوں چن لیا گیا ہے ؟ جس کے پاس دولت ہے نہ اعوان وانصار اور نہ وہ بڑے بڑے لوگوں کی صف میں شمار ہونے کے لائق ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ نبوت اللہ کا انعام ہے اور ایک نوع کے بخشش اور دین ہے ۔ تم…
Read the full tafseer →(32) کیا آپ کے پروردگار کی رحمت یعنی نبوت کو یہ لوگ تقسیم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی دنیوی زندگی میں بھی ان کی روزی ان میں ہم ہی نے تقسیم کر کھی ہے اور ہم نے باعتبار مراتب اور درجات ایک کو دوسرے پر فوقیت اور بلندی عطا کررکھی ہے تاکہ ایک دوسرے کو خدمت کے لئے استعمال کرسکے اور اپنا کمیرا بناسکے اور آپ کے رب کی رحمت اس چیز سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ سمیٹتے اور جمع کرتے پھرتے ہیں۔
قرآن میں عام طور سے روحانی ترقی اور روحانی مرتبے کو رحمت رب سے تعبیر کیا ہے خواہ یہ روحانیت نبوت کی ہو یا ولایت اور امامت کی ہو۔
اسی طرح یہاں بھی رحمت ربک سے مراد نبوت ہے چونکہ نبی کریم ﷺ کو نبوت ملنے پر کفار معترض تھے…
Read the full tafseer →ف 5۔ پس جب دنیوی معیشت کی کہ ادنی درجہ کی چیز ہے تقسیم ان کی رائے پر نہیں رکھی تو نبوت جو خود بھی اعلی درجہ کی چیز ہے، اور اس کے مصالح بھی اعظم درجہ کے ہیں وہ کیونکر ان کی رائے پر تقسیم کی جاتی۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کنندگان ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں
32 ؎ پیغمبر اسلام ! ﷺ کے ذریعہ سے ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے ذرا اتنی بات پوچھ لیں کہ جب نبوت و رسالت ایک وہبی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے کہ کون نبوت و رسالت کے قابل ہے کہ اس کو یہ عہدہ عطا کردیا جائے تو کیا اپنی اس رحمت کو تقسیم کرنے کے لیے اللہ نے ان لوگوں کو مقرر کرر کھا ہے جو اس طرح کے اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ اگر نبوت و رسالت کا عہدہ انسان کو دیا جاسکتا ہے تو اس عہدہ کے مستحق یہ باپ دادا والے لوگ ہی ہو سکتے ہیں جو مال و دولت کے ڈھیر تو رکھتے ہیں لیکن اچھے اخلاق و کردار نام کی چیز کو یہ جانتے اور پہچانتے تک…
Read the full tafseer →The Natural system of Distribution of wealth
نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ (We have distributed among them their livelihood). This is to say that Allah in His infinite wisdom, has devised such a system for the world that everybody is dependent on another for meeting his needs. Thus all the people, bound in this mutual inter-dependence, are fulfilling the needs of the whole society. This verse has made it quite clear that Allah Almighty has not assigned the work of distributing livelihood to any human organization or authority that works out a plan (as claimed by the socialist…
Read the full tafseer →31 This is the answer to their objection, which briefly mentions many important things: First, it asks: "Since when Dave these people become responsible for distributing the mercy of your Lord ? Is it for them to decide whom Allah should favour with His mercy and whom He should not ? (Here, by Allah's mercy is implied His general mercy from which everyone has a share).
Second, Allah says: °Prophethood is a great blessing: We have even kept the distribution of the common means of life in the world in Our own hand, and have not entrusted it to anyone else. We create someone beautiful and…
Read the full tafseer →