Az-Zukhruf 43:30

Az-Zukhruf · from ayah 30

43:30

وَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ ۟وَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا هٰذَا سِحۡرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوۡنَ

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when the truth came to them, they said, "This is magic, and indeed we are, concerning it, disbelievers."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:30

مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب وہ حق ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان کے پاس حق آیا بولے یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب اُن کے پاس حق آپہنچا تو کہنے لگے: یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ جادو ہے اور بیشک ہم اس سے منکر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان کے پاس حق آگیا تو کہنے لگے کہ : یہ تو جادو ہے اور ہم اسے قطعاً نہیں مانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کے پاس حق آگیا، انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب وہ حق ان کے پاس پہنچ گیا تو یہ کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم نے تو ہر قیمت پر اس کا انکار ہی کرنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان کے پاس (کلام) حق آگیا تو وہ بولے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کے پاس سچا قرآن آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

— محترمہ رفعت اعجاز

And when the Truth came to them they said: “This is just sorcery and we reject it.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But when the truth came to them, they said, :This is magic, and we totally disbelieve in it.

— Muhammad Taqi Usmani

But when the truth came to them, they said, :This is magic, and we totally disbelieve in it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the truth came to them, they said: "This is magic, and we disbelieve therein."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And now that the Truth hath come unto them they say: This is mere magic, and lo! we are disbelievers therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when the truth came to them, they said, "This is magic, and indeed we are, concerning it, disbelievers."

— Saheeh International

When the truth came to them, they said, "This is magic and we have no faith in it".

— Muhammad Sarwar

And when there came to them the truth they said: This is magic, and surely we are disbelievers in it.

— Muhammad Habib Shakir

And when the truth cometh Unto them, they say this is magic, and verily we are therein disbelievers.

— Abdul Majid Daryabadi

But when the Truth came to them, they said: "This is sorcery, and we do reject it."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–35

امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 29 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 5، جلد چہارم، تفسیر سورة صٓ، حاشیہ 5۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–30

(آیت) وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ (اور وہ اس کو اپنی اولاد میں ایک قائم رہنے والی بات کر گئے) مطلب یہ ہے کہ اپنے عقیدہ توحید و انہوں نے اپنی ذات تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنی اولاد کو بھی اسی عقیدے پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی۔ چناچہ آپ کی اولاد میں ایک بڑی تعداد موحدین کی ہوئی اور خود مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت تک ایسے سلیم الفطرت حضرات موجود تھے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم ؑ کے اصلی دین پر ہی قائم رہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی ذات کے علاوہ اپنی اولاد کو دین صحیح پر کاربند کرنے اور رکھنے کی فکر بھی انسان کے فرائض میں داخل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–30

بل متعت ھولآء وابآء ھم حتی جآء ھم الحق و رسول مبین، ولما جآء ھم الحق قالوا ھذا سحروانا بہ کفرون (30-29) مخالفت کی اصل علت حق سے مراد قرآن مجید ہے اور ابآء ھم کے بعد فطال علیھم الامہ فقست قلوبھم کے الفاظ بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہیں۔ سورة حدید آیت 16 میں بالکل اسی سیاق میں مذکورہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ نیز سورة انبیاء آیت 4 میں یہی مضمون سا طرح آیا ہے : بل بل متعناہ ولآء وابآء ھم حتی طال علیھم العموط (بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا کی نمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل مدت گزر گئی) مطلب یہ ہے کہ یہ تو محض ان کی سخن سازی ہے کہ قرآن کی مخالفت وہ اس بنا پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 قرآن کو جادو قرار دے کر اس کا انکار کردیا اور اگلے الفاظ میں حضرت نبی کریم ﷺ کی تحقیر و تنقیص کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–35

آیت نمبر 29 تا 35 اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔ بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 { وَلَمَّا جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”اور جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 وہ جادو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ قرآن کی تعلیم اور اس کی قرات دل میں اترنے اور تاثیر کے لحاظ سے جادو کا سا اثر رکھتی تھی۔ اور اس بات سے کفار سخت خطرہ محسوس کر رہے تھے اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جو شخص قرآن کی اس دعوت کو قبول کرلیتا تھا۔ وہ اپنے سب رشتہ کو چھوڑنا تو گوارا کرلیتا تھا مگر ایمان سے پیچھے ہٹنا کبھی گوارا نہ کرتا تھا اور کافر اسے اس لیے جادو کہتے تھے کہ یہ تعلیم ایسی ہے جو باپ بیٹے، بہن بھائی غرضیکہ ہر ایک کو دوسرے سے جدا کردیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–31

22۔ یہ آخری اعتراض ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر معاندین کی طرف سے ساحر وغیرہ قرار دیئے جانے کے بعد عائد کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ کہتے تھے کہ اگر یہ واقعی رسول ہیں تو یہ ہم میں سے کوئی بہت بڑے آدمی بلحاظ جاہ وتمول کے کیوں نہ ہوئے ؟ کہ عوام اپنے رؤساء کی راہ پر قدرۃ چلنے لگتے ہیں، گویا اعتراض کی اصل یہ تھی کہ ان لوگوں کے زعم میں جاہ و ریاست لوازم نبوت ومقبولیت میں سے ہے۔ (آیت) ” ھذا ..... کفرون “۔ معاندین نے اعجاز قرآنی سے عاجز ولاجواب ہو کر یہی کہنا شروع کیا تھا کہ یہ کلام جو اس درجہ مؤثر ہے، یہ تو سحر وساحری کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” القریتین “۔ دوشہروں سے مراد مکہ وطائف ہیں جو اس وقت حجاز کے مرکز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–35

آیت نمبر 26 تا 35 ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون اور جب انکے پاس یہ سچا قرآن پہنچا تو کہنے لگے : یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ بَلْ مَتَّعْتُیہ لعلّھُم یرجعون سے اضراب اور اعراض ہے۔ ھٰٓؤُلَآء یعنی مکہ کے ان کافروں کو جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ وَاٰبَآءَھُمْ یعنی ان موجودہ کفار کے اسلاف جو ان سے پہلے گذر گئے ‘ مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کو کفر کی فوری سزا نہیں دی۔ الْحَقُّ حق سے مراد ہے قرآن مجید۔ مقاتل نے کہا : اسلام مراد ہے۔ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ یعنی یہ قرآن جادو ہے۔ قرآن کو انہوں نے جادو اسلئے کہا کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز تھے۔ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ معجزات کے ذریعہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

چناچہ جب کتاب اور رسول ان کے پاس آپہنچا تو کہنے لگے یہ جھوٹی چیز ہے اور ہم رسول اکرم اور قرآن کریم کو نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ولما جآء ھم الحق قالوا ھذا سحر…: جب ان کے پاس حق یعنی قرآن آیا تو کہنے لگے : یہ جادو ہے اور ہم اسے انہیں مانتے۔ قرآن مجید کی دلوں پر زبردست تاثیر کا جب وہ کوئی توڑ نہ کرسکے، جس کی وجہ سے اس پر ایمان لانے والا اپنے رشتہ داروں کو تو چھوڑ سکتا تھا مگر ایمان سے کبھی پیچھے نہ ہٹتا تھا اور نہ ہی وہ اس پر ایمان لانے والوں کو روک سکے، تو بجائے اس کے کہ اس پر ایمان لے آتے اسے جادو کہہ کر جھٹلا دیا کہ یہ سب اثر جادو کا ہے۔ حالانکہ ظالم جانتے تھے کہ کہاں جادو جیسی پلید چیز اور جادوگروں جیسے خبیث لوگ اور کہاں اللہ کا پاکیزہ کلام اور رسول اللہ ﷺ جیسا پاکیزہ اور بلند اخلاق والا شخص۔ محض عناد اور ضد کی وجہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–31

بل متعت اسے بل معتنا بھی پڑھا گیا ہے ھولاء وبآء ھم انہیں اور ان کے آباء کو دنیا میں حتی جآء ھم الحق یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ توحید اور سالام ان کے پاس لے آئے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل ہے یہی وہ کلمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے خاندان میں باقی رکھا رسول مبین۔ وہ رسول ان کے لئے ایسی چیزوں کی وضاحت کترا ہے جن کی انہیں ضروتر ہوتی ہے۔ ولما جآئھم الحق حق سے مراد قرآن حکیم ہے قالوا ھذا سخر و انا بہ کفرون۔ یعنی انکار کرنے والے ہیں وقالوا لولا نزل یہاں لولا، ھلا کے معنی میں ہے ھذا القرآن علیر جل اسے علی رجل بھی پڑھا گیا ہے من القریتین عظیم۔ دونوں بستیوں میں سے ایک میں جس طرح اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–30

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا سے کہ وہ (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء “ (بلکہ میں نے انکو خوب سامان دیا) میں ” متعت “ کو تاء کے رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء وابآء ھم حتی جآء تھم الحق رسول مبین “ (بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان کے پاس سچا قرآن اور احکام کو صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آگیا) فرمایا کہ اہل کتاب والوں کا قول ہے اس امت کے لئے اور قتادہ ؓ سے اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء “ تاء کے نصب کے ساتھ۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَمَّا جَاۗءَهُمُ [ اور جب آیا ان کے پاس ] الْحَقُّ [ یہ حق ] قَالُوْا [ تو انہوں نے کہا ] ھٰذَا سِحْـرٌ [ یہ جادو ہے ] وَّاِنَّا بِهٖ [ اور بیشک ہم اس کا ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ 0030﴾ (اور جب ان کے پاس حق آگیا تو کہنے لگے یہ جادو ہے ہم اسے نہیں مانتے) قرآن کو ان لوگوں نے جادو بتادیا اور اس کی دعوت حق کو ماننے سے منکر ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–35

بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک : قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

20:۔ ” بل متعت ھؤلاء “ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں توحید کو اللہ تعالیٰ نے قائم ودائم کردیا تو پھر یہ مشرکین مکہ جو ان کی اولاد میں سے ہی، یہ کیونکر مشرک ہوگئے ؟ کیا توحید کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ توحید پر ایسے واضح اور روشن دلائل قائم ہوجانے کے بعد کوئی جائے شبہہ ہی ہے۔ قرآن تمام شبہات کو دور کرتا ہے بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے مال و متاع اور ساز و سامان سے مالا مال کردیا اور وہ دنیوی عیش اور لذت میں محو ہو کر توحید سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ اب پھر ان کے پاس حق (قرآن) کی دعوت پہنچ گئی اور توحید کو واضح اور روشن کرنے والا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–30

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی مذمت بیان فرمائی جو اپنے آبائواجداد کے طریقے پر چلتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر ہی چلیں گے اگرچہ خدا کا نبی حق بات لے کر آیا ہو۔ اپنے آبائو اجدا کے رسم و رواج کو بغیر دلیل اور بغیر سوچے سمجھے اپنانا اندھی تقلید کہلاتا ہے جو نزول قرآن کے زمانے کے مشرک اختیار کیے ہوئے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہار بیزاری اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی توجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ کی طرف دلائی ہ۔ اور یاد دلایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی اسحاق اور بنی اسماعیل یعنی یہود و نصاری اور مشرکین عرب سب کے جد امجد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا جَاۗءَہُمُ الْحَقُّ قَالُوْا ھٰذَا سِحْـرٌ وَّاِنَّا بِہٖ كٰفِرُوْنَ۝ 30 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–30

ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔ تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمَّا جَـآئَ ھُمُ الْحَقُّ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (الزخرف : 30) (اور جب حق ان کے پاس آگیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ) عوام کو ایک بہلاوا جب قرآن کی صورت میں ان کے پاس حق آگیا اور حق کی روشنی نے ماحول کو روشن کرنا شروع کردیا اور وہ لوگ جنھیں مفادپرستی یا سیادت کے نشے نے اندھا نہیں کیا تھا انھوں نے قرآن پاک سے متأثر ہونا شروع کردیا، تو اشرافِ قریش نے اس صورتحال کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے سوچنا شروع کیا کہ قرآن کی دعوت اور نبی کریم ﷺ کی شخصیت کے اثر کو کس طرح بےاثر کیا جائے۔ وہ اگر نبی کریم ﷺ کی شخصیت کے حوالے سے کوئی خوردہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–31

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مختصر ذکر کرنے کے بعد اب پھر اہل مکہ کو برائے راست مخاطب کیا گیا ہے۔ اہل مکہ تعصّب میں آکر اس قدر بوکھلا چکے تھے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ جس بنا پر نئی سے نئی بات اور انوکھے سے انوکھا الزام لگاتے تھے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پہ مہلت دئیے جارہا تھا۔ جب کسی ظالم شخص کو طویل مدت تک مہلت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا۔ اہل مکہ بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کی گمراہی اور مخالفت کا بنیادی سبب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 30: وَلَمَّا جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ (اور جب ان کے پاس حق آپہنچا) الحق سے قرآن مراد ہے۔ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِہٖ کٰفِرُوْنَ (تو کہنے لگے۔ کہ یہ جادو ہے ہم اس کو نہیں مانتے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 30–31

29، بل متعت ھؤلاء وآبائھم یعنی مشرکین دنیامیں اور میں نے ان کے کفر پر دنیا میں جلدی ان کو سزا نہیں دی۔ ، حتی جاء ھم الحق ، یعنی قرآن۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں حق سے اسلام مراد ہے ۔ ، ورسول مبین، ان کے لیے احکام کو بیان کرے اور وہ محمد ﷺ ہیں اور ان احکام کا حق یہ تھا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نافرمانی کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–32

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–31

37 منکرین کی فریب کاری کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو منکرین نے عوام کالانعام کو فریب دینے کے لیے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور " قریتین " سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ جیسا کہ روایات میں اس کی تصریح موجود ہے کہ " قریتین " سے یہاں پر مراد مکہ اور طائف ہی کی دو بستیاں ہیں۔ (ابن کثیر، جامع البیان اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو ان بدبختوں کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہے تو یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کی گئی کہ مکہ اور طائف کی یہ دو بستیاں عربوں کے اشراف اور سادات کا مرکز تھیں۔ پشتہا پشت کی عربوں کی سیادت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–35

آیات 26 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 5 یعنی مکہ اور طائف کے کسی سردار پر۔ جس کی شخصیت اس کے شایان شان ہوتی۔ ایک ایسے شخص پر اس کا اترنا باور نہیں کیا جاسکتا جو ریاست و دولت کے اعتبار سے کسی امتیازی شان کا مالک نہیں ہے۔ گویا انہوں نے شرافت کا معیار مال و دولت کو ٹھہرایا۔ ( فتح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:30) لما جب۔ بہ ای بھذا الحق۔ قالوا ھذا سخر۔ یعنی یہ قرآن جادو ہے قرآن کریم کو جادو انہوں نے اسلئے کہا کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز تھے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–35

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا) تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–31

آیت 26 ۔ 28: 3: ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مواعظ کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے اپنی مشرکانہ امثال وعواطف رکھنے والی قوم کی دلیرانہ مخالفت کی ۔ اور علی ا الاعلان اللہ کی توحید کو پیش کیا ۔ حل لغات :۔ عقبہ ۔ اولاد ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن آیا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے ماننے سے انکار کرنے والے ہیں۔ یعنی ہمارے احسانات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور قرآن کو جادو بتا کر اس کو ماننے سے انکار کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–31

ف 4۔ یعنی رسول کے لئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے، اور پیغمبر ﷺ مال اور ریاست نہیں رکھتے، تو یہ پیغمبر نہیں ہوسکتے مقصود انکار تھا پیغمبری کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لیکن انہوں نے حق کو حق کہنے کی بجائے جادو کہہ دیا اور اس سے انکار کر گئے 30 ؎ اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ قریش مکہ جب اپنی مخصوص مجلسیں قائم کرتے جن میں قوم کے و ڈیرے اور زیرک لوگ مل کر بیٹھتے تھے اور اس موضوع پر غورو فکر کرتے تھے کہ محمد ﷺ جو کچھ پیش کرتا ہے اس کے متعلق کیا کہا جاسکتا ہے وہ بلاشبہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ہم اس کو کس طرح نبی و رسول تسلیم کرلیں جب کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہمارے ہی جیسا ایک انسان ہے ، کھاتا پیتا ہے ، بیوی بچے اس کے ہاں موجود ہے ، بازاروں میں آتا جاتا ہے اور سودا سلف بھی خریدتا نظر آتا ہے اس لیے یہ دعویٰ تو اس کا صحیح نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–31

Commentary Allah Ta ala has in these verses, has replied to an objection of the pagans of Arabia used to be raised against the Holy Prophet صلی اللہ علیہ . Actually, they were not prepared to accept, at the first place, that a man could be a messenger of Allah Ta’ ala. The Holy Qur'an has referred, at many places, to their objection that they could not accept Sayyidna Muhammad ﷺ as a messenger of Allah, while he eats and drinks and walks about in the market places like any ordinary man. When it was clarified through many verses of the Qur'an that not only the Holy Prophet ﷺ ، but all the…

Read the full tafseer →