Explained with ayahs 26–35
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت
قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 28
اصل میں رَسُولٌ مُّبِیْن کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا رسول آگیا جس کا رسول ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا۔ جس کی نبوت سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی صاف شہادت دے رہی تھی کہ وہ یقیناً خدا کا رسول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
(آیت) وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ (اور وہ اس کو اپنی اولاد میں ایک قائم رہنے والی بات کر گئے) مطلب یہ ہے کہ اپنے عقیدہ توحید و انہوں نے اپنی ذات تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنی اولاد کو بھی اسی عقیدے پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی۔ چناچہ آپ کی اولاد میں ایک بڑی تعداد موحدین کی ہوئی اور خود مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت تک ایسے سلیم الفطرت حضرات موجود تھے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم ؑ کے اصلی دین پر ہی قائم رہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی ذات کے علاوہ اپنی اولاد کو دین صحیح پر کاربند کرنے اور رکھنے کی فکر بھی انسان کے فرائض میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
بل متعت ھولآء وابآء ھم حتی جآء ھم الحق و رسول مبین، ولما جآء ھم الحق قالوا ھذا سحروانا بہ کفرون (30-29)
مخالفت کی اصل علت
حق سے مراد قرآن مجید ہے اور ابآء ھم کے بعد فطال علیھم الامہ فقست قلوبھم کے الفاظ بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہیں۔ سورة حدید آیت 16 میں بالکل اسی سیاق میں مذکورہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ نیز سورة انبیاء آیت 4 میں یہی مضمون سا طرح آیا ہے : بل بل متعناہ ولآء وابآء ھم حتی طال علیھم العموط (بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا کی نمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل مدت گزر گئی)
مطلب یہ ہے کہ یہ تو محض ان کی سخن سازی ہے کہ قرآن کی مخالفت وہ اس بنا پر…
Read the full tafseer →29۔ 1 یہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہش کے بندے بن گئے۔
29۔ 2 حق سے قرآن اور رسول سے محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ مُبِیْن رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا بیان کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو…
Read the full tafseer →3 یعنی افسوس ابراہیم کی ارث حاصل نہ کی اور اس کی وصیت پر نہ چلے بلکہ اللہ نے جو دنیا کا سامان دیا تھا اس کے مزوں میں پڑ کر خداوند قدوس کی طرف سے بالکل غافل ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے حق تعالیٰ نے اپنا وہ پیغمبر بھیجا جس کی پیغمبری بالکل روشن اور واضح ہے۔ اس نے سچا دین پہنچایا، قرآن پڑھ کر سنایا اور اللہ کے احکام پر نہایت صفائی کے ساتھ مطلع کیا۔
Read the full tafseer →آیت 29 { بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَـآئَ ہُمْ حَتّٰی جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”لیکن میں نے ان لوگوں کو اور ان کے آباء و اَجداد کو کچھ سازو سامان دے دیا ‘ یہاں تک کہ ان کے پاس آگیا حق اور ایک واضح کردینے والا رسول۔“
Read the full tafseer →27 بات یہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو بلکہ اس کے برعکس معاملہ یہ ہے کہ تم نے جان بوجھ کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیم کو بھلا رکھا ہے اور ان کی وصیت کی کوئی پروا نہیں کی۔ اللہ نے تمہیں اور تمہارے آباء واجداد کو جو سامان زیست اور نعمتیں عطا کی تھیں ان کے مزوں میں پڑ کر اللہ کی طرف سے بالکل غافل ہوگئے۔ یہ شرکیہ رسوم تمہارے سامان عیش و عشرت کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔ جنہیں اب تم چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
28 (رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ رسول تمہیں شرک اور توحید کی راہیں صاف صاف اور کھول کھول کر سمجھانے والا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا رسول آیا جس کا رسول ہونا بالکل واضح…
Read the full tafseer →21۔ (اور وہ اسی متاع دنیوی میں مشغول ومنہمک ہو کر دین حق کی طرف سے غافل بلکہ منکر ہوبیٹھے) (آیت) ” ھؤلآء “۔ یعنی قوم عرب جس کا ذکر ابھی (آیت) ” فی عقبہ “۔ میں ضمنا آچکا ہے۔ یعنی اھل مکۃ وھم من عقب ابراہیم بالمدفی العمر والنعمۃ (کبیر) قال مجاھد وقتادۃ یعنی کلمۃ التوحید (معالم) (آیت) ” الحق “۔ یعنی قرآن مجید۔ یعنی القران (معالم) (آیت) ” رسول مبین “۔ یعنی محمد مصطفے ﷺ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…
Read the full tafseer →بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاءھم الحق و رسول مبین۔ بلکہ میں نے (کافروں) کو اور انکے باپ دادوں کو خوب سامان دیا ‘ یہاں تک کہ انکے پاس سچا (قرآن) اور احکام کو صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آگیا
Read the full tafseer →بلکہ میں نے ان مکہ والوں اور ان سے پہلے لوگوں کو مہلت دی یہاں تک کہ ان کے پاس کتاب اور ایسی زبان میں ان کو بتانے والا رسول آگیا کہ یہ اس کو سمجھ سکیں۔
Read the full tafseer →(بل متعت ھولآء و ابآء ھم …: یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد میں جو کملہ اس لئے چھوڑا تھا کہ شرک میں گرفتار واپس پلٹ آئیں تو کیا وہ واپس پلٹے ؟ فرمایا نہیں، وہ سب لوگ واپس نہیں پلٹے، بلکہ ان لوگوں یعنی قریش اور ان کے آباء کو ان کے کفر و شرک پر فوراً پکڑنے کے بجائے میں نے واپس پلٹنے کے لئے ملہت دی اور دنیا کا ساز و سامان اور مال و متاع کچھ وقت تک رہنے اور فائدہ اٹھانے کے لئے دیا، مگر وہ ان دنیوی لذتوں ہی کو اپنا مقصد سمجھ بیٹھنے اور ان میں ایسے بدمست ہوئے کہ ابراہیم ؑ کی راہ کو بھول گئے، حتیٰ کہا ن کے پاس یہ حق اور رسول مبین آگیا۔ ”الحق“ سے مراد قرآن ہے اور ”رسول مبین“ کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
بل متعت اسے بل معتنا بھی پڑھا گیا ہے ھولاء وبآء ھم انہیں اور ان کے آباء کو دنیا میں حتی جآء ھم الحق یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ توحید اور سالام ان کے پاس لے آئے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل ہے یہی وہ کلمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے خاندان میں باقی رکھا رسول مبین۔ وہ رسول ان کے لئے ایسی چیزوں کی وضاحت کترا ہے جن کی انہیں ضروتر ہوتی ہے۔ ولما جآئھم الحق حق سے مراد قرآن حکیم ہے قالوا ھذا سخر و انا بہ کفرون۔ یعنی انکار کرنے والے ہیں وقالوا لولا نزل یہاں لولا، ھلا کے معنی میں ہے ھذا القرآن علیر جل اسے علی رجل بھی پڑھا گیا ہے من القریتین عظیم۔ دونوں بستیوں میں سے ایک میں جس طرح اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا سے کہ وہ (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء “ (بلکہ میں نے انکو خوب سامان دیا) میں ” متعت “ کو تاء کے رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء وابآء ھم حتی جآء تھم الحق رسول مبین “ (بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان کے پاس سچا قرآن اور احکام کو صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آگیا) فرمایا کہ اہل کتاب والوں کا قول ہے اس امت کے لئے اور قتادہ ؓ سے اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء “ تاء کے نصب کے ساتھ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →بَلْ مَتَّعْتُ [ بلکہ میں نے فائدہ اٹھانے دیا ] هٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَهُمْ [ ان لوگوں کو اور ان کے آباء و اجداد کو ] حَتّٰى جَاۗءَهُمُ [ یہاں تک کہ آیا ان کے پاس ] الْحَقُّ [ یہ حق (قرآن) ] وَرَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ [ اور ایک واضح کرنے والا رسول ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اس کے بعد فرمایا ﴿بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں کے پاس حق تو آگیا ہے لیکن قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو اور ان کے باپ دادوں کو میں نے دنیا کا سامان دے دیا یہ لوگ اس میں مشغول ہیں اس مشغولی نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ جب ان کے پاس حق آگیا اور رسول مبین یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جنہوں نے واضح طور پر توحید کی دعوت دے دی جسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بعد میں آنے والوں کے لیے باقی رکھا تھا تب بھی حق کو قبول کرنے سے اعراض کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک :
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
20:۔ ” بل متعت ھؤلاء “ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں توحید کو اللہ تعالیٰ نے قائم ودائم کردیا تو پھر یہ مشرکین مکہ جو ان کی اولاد میں سے ہی، یہ کیونکر مشرک ہوگئے ؟ کیا توحید کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ توحید پر ایسے واضح اور روشن دلائل قائم ہوجانے کے بعد کوئی جائے شبہہ ہی ہے۔ قرآن تمام شبہات کو دور کرتا ہے بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے مال و متاع اور ساز و سامان سے مالا مال کردیا اور وہ دنیوی عیش اور لذت میں محو ہو کر توحید سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ اب پھر ان کے پاس حق (قرآن) کی دعوت پہنچ گئی اور توحید کو واضح اور روشن کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی مذمت بیان فرمائی جو اپنے آبائواجداد کے طریقے پر چلتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر ہی چلیں گے اگرچہ خدا کا نبی حق بات لے کر آیا ہو۔ اپنے آبائو اجدا کے رسم و رواج کو بغیر دلیل اور بغیر سوچے سمجھے اپنانا اندھی تقلید کہلاتا ہے جو نزول قرآن کے زمانے کے مشرک اختیار کیے ہوئے تھے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہار بیزاری
اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی توجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ کی طرف دلائی ہ۔ اور یاد دلایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی اسحاق اور بنی اسماعیل یعنی یہود و نصاری اور مشرکین عرب سب کے جد امجد…
Read the full tafseer →بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَہُمْ حَتّٰى جَاۗءَہُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ 29
متع
الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی:
وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ،
( م ت ع ) المتوع
کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔
تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…
Read the full tafseer →بَلْ مَتَّعْتُ ھٰٓـؤُلَآئِ وَاٰبَـآئَ ھُمْ حَتّٰی جَـآئَ ھُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 29)
(بلکہ میں نے انھیں اور ان کے آبائواجداد کو متاع حیات سے بہرہ ور کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور کھول کر بیان کردینے والا رسول آگیا۔ )
مخالفت کی اصل علت
گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ عرب کے پاس اپنے برسرحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ اپنے آبائواجداد کے دین پر قائم ہیں۔ اور ان کے آبائواجداد اگر برسرحق نہ ہوتے تو یقینا پروردگار صدیوں تک انھیں ان کے طریقے پر باقی نہ رہنے دیتا۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے اس ادعا کا بھرم یہ کہہ کر کھول دیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مختصر ذکر کرنے کے بعد اب پھر اہل مکہ کو برائے راست مخاطب کیا گیا ہے۔
اہل مکہ تعصّب میں آکر اس قدر بوکھلا چکے تھے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ جس بنا پر نئی سے نئی بات اور انوکھے سے انوکھا الزام لگاتے تھے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پہ مہلت دئیے جارہا تھا۔ جب کسی ظالم شخص کو طویل مدت تک مہلت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا۔ اہل مکہ بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کی گمراہی اور مخالفت کا بنیادی سبب…
Read the full tafseer →ان کو مہلت ملی تو انہوں نے انکار کیا :
آیت 29: بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَآئَ ہُمْ (بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا ہے) ہؤلاء سے مراد اہل مکہ میں سے وہ لوگ جو ابراہیم (علیہ السلام) کے پیچھے آئے۔ متعت۔ کا مطلب عمر میں درازی اور مال میں اضافہ۔ پس وہ مہلت کی وجہ سے دھوکے میں پڑگئے اور خوش عیشی اور اتباع شہوات اور کلمہ توحید سے اعراض کر کے اطاعت شیطان میں مبتلا ہوگئے۔ حَتّٰی جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ (یہاں تک کہ حق ان کے پاس آچکا) حق سے قرآن مراد ہے۔ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ (اور واضح رسول) یعنی حضرت محمد ﷺ جو واضح معجزات نبوت لے کر آئے۔
Read the full tafseer →28، وجعلھا، یعنی اس کلمہ کو، کلمۃ باقیۃ فی عقبہ، مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی کلہ توحید اور الاالہ الا اللہ ہے کلمہ باقی رہنے والا اس کی عقب یعنی اولاد میں ۔ قتا دہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور توحید کے قائل رہیں گے اور قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی اس وصیت کو جو اپنے نبی کو کی باقی رکھا ان کی نسل اور اولاد میں اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ، ووصی بھا ابراھیم بنیہ ویعقوب، ہے۔
اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان کا قول ، اسلمت لرب العالمین ، مراد ہے اور پڑھا، ھو سما کم المسلمین ،
۔۔۔۔۔ ، لعلھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →35 انکار و تکذیبِ حق کے اصل سبب کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مادہ پرستوں کی رفاہیت و عیش پرستی ہی ان کے لیے باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے منکر لوگ چونکہ قبول حق سے اپنے مادی مفادات اور دنیاوی فوائد و منافع پر زد پڑتے اور اپنی خواہشات پر قدغن لگتے دیکھتے ہیں۔ اس لیے یہ صریح اور واضح حق آجانے کے باوجود اس کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ان کے نزدیک دنیائے دوں کے یہ عارضی اور فانی مفادات ہی سب کچھ ہیں۔ اس لیے یہ لوگ انکار و تکذیبِ حق کے لیے خواہ مخواہ بہانے ڈھونڈنے لگے بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین و مخالفین کے کفر و انکار اور ان کی محرومی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیات 26 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…
Read the full tafseer →ف 4 اس میں پڑ کر وہ بد مست ہوگئے اور ابراہیم ( علیہ السلام) کے طریق کو بھول گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(43:27) فطرنی۔ فطر ماضی واحد مذکر غائب فطر (باب ضرب و نصر) بمعنی عدم سے وجود میں لانا۔ پیدا کرنا۔ فطر کے مفہوم میں پھاڑنے کے معنی ضرور ہونا چاہیے کیونکہ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔ عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لانا۔ یعنی پیدا کرنا اسی مناسبت سے اس کا مفہوم قرار پایا۔ نی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ فطرنی اس نے مجھے پیدا کیا۔
سیھدین : س مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کردینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یھدین مضارع واحد مذکر غائب۔ ھدایۃ باب ضرب مصدر نون وقایہ یاء متکلم محذوف ہے وہ مجھے ہدایت کر دے گا۔ وہ میری راہنمائی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[10] یعنی مکہ اور طائف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
آیت 26 ۔ 28:
3: ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مواعظ کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے اپنی مشرکانہ امثال وعواطف رکھنے والی قوم کی دلیرانہ مخالفت کی ۔ اور علی ا الاعلان اللہ کی توحید کو پیش کیا ۔
حل لغات :۔ عقبہ ۔ اولاد ۔
Read the full tafseer →(29) مگر یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی بات پر نہ چلے بلکہ میں نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کے سازوسامان سے بہرہ مند کیا اور یہ اس میں مشغول ہوکر غافل ہوگئے یہاں تک کہ ان کے پاس دین حق اور صاف صاف بیان کرنے والا رسول آپہنچا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے مکہ والوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا اور مالا مال کیا، یہ نوازش اس لئے تھی کہ یہ ابراہیم کی اولاد ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا احسان مانیں گے اور ابراہیم کے کلمہ باقیہ کا احترام کریں گے۔
لیکن ہوا یہ کہ یہ لوگ مفرور ہوگئے اور عیس و عشرت میں لگ کر دین حنیف کو فراموش کردیا اور شرک میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ ان کے پاس حق یعنی قرآن یا دین حق اور رسول صاف صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 4۔ یعنی رسول کے لئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے، اور پیغمبر ﷺ مال اور ریاست نہیں رکھتے، تو یہ پیغمبر نہیں ہوسکتے مقصود انکار تھا پیغمبری کا۔
Read the full tafseer →میں نے ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو فائدہ دیا یہاں تک کہ آخری رسول ان میں بھیج دیا
29 ؎ اللہ تعالیٰ اپنا احسان جتاتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی بداعتدالیوں کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو فراوانی کے ساتھ رزق دیا اور ہر طرح کا فائدہ ان کو پہنچایا اور ایک مدت مدید تک میرا یہ سلسلہ چلتا رہا ان کی نافرمانیوں اور شرک و کفر کی وجہ سے کوئی انعام ان سے انہیں روکا بلکہ ان کو مزید بڑھا چڑھاکر دیا کہ شاید ان کو ہوش آجائے یہاں تک کہ دنیا جہان کے سارے واقعات میں سے بڑا انعام بھی انہی لوگوں میں رہ کر زندگی گزاری وہ لوگ اسکے بچپنے اور جوانی کے سارے حالات سے اچھی طرح باخبر تھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Commentary
Allah Ta ala has in these verses, has replied to an objection of the pagans of Arabia used to be raised against the Holy Prophet صلی اللہ علیہ . Actually, they were not prepared to accept, at the first place, that a man could be a messenger of Allah Ta’ ala. The Holy Qur'an has referred, at many places, to their objection that they could not accept Sayyidna Muhammad ﷺ as a messenger of Allah, while he eats and drinks and walks about in the market places like any ordinary man. When it was clarified through many verses of the Qur'an that not only the Holy Prophet ﷺ ، but all the…
Read the full tafseer →28 Another meaning of the word "rasulum-mubin can be: "A Messenger whose being a Messenger was obvious and apparent: whose lift before and after the Prophet hood clearly testified that he was certainly Allah's Messenger."
Read the full tafseer →