Explained with ayahs 26–35
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت
قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
سورة الزُّخْرُف 24
تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 124 تا 133، الانعام، ھواشی 50 تا 55، جلد دوم، ابراہیم، حواشی 46 تا 53، جلد سوم، مریم، حواشی 26۔ 27، الانبیاء، حواشی 54 تا 66، الشعراء، حواشی، 50 تا 62، العنکبوت، حواشی 26 تا 46، جلد چہارم، الصافات، آیات 83 تا 100، حواشی 44 تا 55۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جبکہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں (کی عبادت) سے بیزار (اور بےتعلق) ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو مگر ہاں (اس خدا سے تعلق رکھتا ہوں) جس نے مجھ کو پیدا کیا، پھر وہی مجھ کو (میرے دین و دنیا کی مصلحتوں تک) رہنمائی کرتا ہے (مطلب یہ کہ ان لوگوں کو ابراہیم ؑ کا حال یاد کرنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے) اور (وصیت کے ذریعہ) وہ اس (عقیدہ) کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے (یعنی اپنی اولاد کو بھی وصیت کی جس کا اثر کچھ کچھ حضور ﷺ کی بعثت تک بھی برابر رہا، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں بعض لوگ شرک…
Read the full tafseer →-2 آگے کا مضمون … آیات :45-26
آگے حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت اور شرک سے ان کے اعلان برلدت کا حوالہ ہے جس سے مقصود کی حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین شرک کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو حضرت ابراہیم ؑ ہیں جنہوں نے شرک ہی کی بنا پر اپنی قوم کو چھوڑا اور ان کی اس ہجرت اور اعلان برأت کی ایت آج تک ان کی ذریت کی دونوں شاخوں میں موجود ہے۔ پھر قریش کس طرح یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے آبائو اجاد کے طریقہ پر چل رہے ہیں۔
اس تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد قریش کی سرکشی کے اصل اسباب پر روشنی ڈالی ہے اور نبی ﷺ کو تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
27۔ 1 یعنی جس نے مجھے پیدا کیا وہ مجھے اپنے دین کی سمجھ بھی دے اور اس پر ثابت قدم بھی رکھے گا، میں صرف اسی کی عبادت کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
درس نمبر 232 ایک نظر میں
قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔
اس سبق میں قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
1 یعنی صرف ایک خدا سے میرا تعلق ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ ہی مجھے منزل مقصود کے راستہ پر آخر تک لے چلے گا۔ (تنبیہ) یہاں یہ قصہ اس پر بیان کیا کہ دیکھو تمہارے مسلم پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی۔ تم بھی وہ ہی کرو۔ اور اگر آباؤ اجداد کی تقلید ہی پر مرتے ہو تو اس باپ کی راہ پر چلو جس نے دنیا میں حق و صداقت کا جھنڈا گاڑ دیا تھا اور اپنی اولاد کو وصیت کر گیا تھا کہ میرے بعد ایک خدا کے سوا کسی کو نہ پوجنا۔ کما قال تعالیٰ (وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ) 2 ۔ البقرۃ :132)
Read the full tafseer →آیت 26 { وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ } ”اور یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا اپنے والد اور اپنی قوم سے کہ یقینا میں بیزار ہوں ان سے جنہیں تم پوجتے ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
24 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور تقلید آباء کے دو پہلو :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اسی نسبت سے آیا ہے۔ کہ کفار مکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور نبی مانتے تھے۔ لہذا انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ اگر اسلاف کی تقلید ہی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اس پیشوا کی کرو جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی بندگی سے سخت بیزار تھے۔ ان اسلاف کی کیوں پیروی کرتے ہو جنہوں نے خود سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ اور گمراہی کے راستوں پر چل کھڑے ہوئے تھے۔ بالفاظ نبی کی تقلید کرنا درست ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس کا نام تقلید نہیں بلکہ اتباع رسول ہے۔
Read the full tafseer →18۔ قوم عرب جو قرآن کی مخاطب اول تھی اور سب سے زیادہ تقلید آبائی اور جمود میں گرفتار، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی نسل سے تھی۔ حالانکہ آپ خود موحد اعظم تھے، ایک خاص غایت اس غایت اس محل پر کے ذکر کی یہ بھی ہے۔ (آیت) ” ابراہیم لابیہ “۔ ابراہیم اور آپ کے والد آزر دونوں پر حاشیے پہلے گذر چکے۔ (آیت) ” قومہ “۔ ضمیرہ ابراہیم کی طرف بھی جاسکتی ہے اور ابیہ کی طرف بھی حاصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ (آیت) ” مما تعبدون “۔ کلدانی قوم بت پرستی اور ستارہ پرستی کے دہرے شرک میں مبتلا تھی، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق سابق کے حاشیوں میں گذر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…
Read the full tafseer →واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ اننی براء مما تعبدون۔ اور (وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو ‘ بیزار ہوں ‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) اور جبکہ ابراہم نے اپنے باپ آزار اور اپنی قوم سے ان کے پاس آنے کے بعد کہا کہ میں اس سے اللہ سے تعلق رکھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا وہی اپنے دین اور اپنی اطاعت کی طرف میری رنمائی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(1) واذ قال ابراہیم لابیہ وقومہ…: یہاں ابراہیم ؑ کے قصے کی مناسبت یہ ہے کہ قریش اور قوم عرب سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارے پیشوا اور جد امجد نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، تم بھی ایسا ہی کرو۔
(2) اننی برآء مما تعبدون…:”برآئ“ مصدر ہے، واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر ر مونث کے لئے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے ، جو ”بری“ کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ ہے، جیسے ”زید عادل“ میں وہ زور نہیں جو ”اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے) میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے تمام معبودوں سے سراپا برأت ہوں، دل ، زبان اور عمل کے ساتھ۔ غرض ہر طرح سے ان سے برأت کا اعلان کرتا ہوں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
واذ قال ابرھیم لا بیہ و قومہ اننی برآء مما تعبدون۔ الا الذی فطرنی نانہ سیھدین۔ ” اور یاد کیجئے جب کہا ابرہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہ میں بےزارہوں ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس کے جس نے مجھے پیدا فرمایا بیشک وہی میری راہنمائی کرے گا “۔
واذ قال انہیں یاد دلا یئے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا : جن کی تمام عبادت کرتے ہو میں ان سے بری ہوں۔ براء کا لفظ واحد اور اس سے اوپر کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کا نہ تثنیہ بنایا جاسکتا ہے نہ جمع اور نہ ہی اس کا مونث بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے اور صفت کی جگہ اسے رکھا گیا ہے یہ نہیں کہا جاتا : البراء ان، البراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ابراہیم (علیہ السلام) کا آبائی دین سے بیزار ہونا :
1:۔ الفضل بن شاذان نے کتاب القرأت میں اپنی سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا (آیت) ” اننی برآء مما تعبدون “ (کہ میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو بیزار ہوں یاء کے ساتھ پڑھا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اننی برآء مما تعبدون ‘ (26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین “ (اور میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو بیزار ہوں مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا (اس کی عبادت کرتا ہوں) سو وہی میری رہنمائی کرتا ہے) فرمایا کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ “ (الزخرف آیت 87) اور اگر آپ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ [ اور جب کہا ابراہیم نے ] لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖٓ [ اپنے والد سے اور اپنی قوم سے ] اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ [ یقینا میں بیزار ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جس کی ] تَعْبُدُوْنَ [ تم لوگ بندگی کرتے ہو ]
نوٹ ۔ 1: گذشتہ آیات میں باری تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین عرب کے پاس اپنے شرک پر سوائے اپنے باپ دادوں کی رسوم کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ واضح عقلی اور نقلی دلیلوں کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید پر اصرار کرنا حق و انصاف سے کس قدر بعید ہے ۔ اب ان آیات (26 تا 28) میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اپنے آباء و اجداد ہی کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شرک سے برات کا اعلان فرمانا اور دعوت حق کا ان کی نسل میں باقی رہنا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بابل کے قریب مشرکین کے علاقے میں پیدا ہوئے تھے ان کے علاقہ کے لوگ بت پرست بھی تھے اور ستارہ پرست بھی، ان کا باپ بھی مشرک بت پرست تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے نہ مانا اور حق کو قبول نہ کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری اور بیزار ہوں، میں تو صرف اس ذات کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اسی نے مجھے ہدایت دی اور مجھے ہدایت پر رکھے گا لفظ فَطَرَنِيْ میں تعریض ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک :
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
18:۔ ؎” واذا قال ابراہیم “ پہلی دلیل نقلی تفصیلی از حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ ” الا الذی ‘ میں استثناء منقطع ہے (مدارک و بحر) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جد الانبیاء اور مشرکین قریش کے جد اعلی تھے ان کی تعلیم یہ تھی کہ انہوں نے اپنے باپ آز اور اپنی قوم کے سامنے واشگاف الفاظ میں اعلان فرما دیا تھا کہ تم جن معبودان باطلہ کی عبادت و تعظیم بجالاتے ہو اور جنہیں حاجات و مشکلات میں غائبانہ پکارتے ہو، میں ان سب سے سخت بیزار ہوں۔ التہ وہ ذات پاک جس نے مجھے پیدا کیا ہے میں اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی ہی کو حاجات میں پکارتا ہوں۔ وہی مجھے اس ہدایت پر قائم رکھے ہے۔ ” سیہدین “ میں سین تاکید کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی مذمت بیان فرمائی جو اپنے آبائواجداد کے طریقے پر چلتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر ہی چلیں گے اگرچہ خدا کا نبی حق بات لے کر آیا ہو۔ اپنے آبائو اجدا کے رسم و رواج کو بغیر دلیل اور بغیر سوچے سمجھے اپنانا اندھی تقلید کہلاتا ہے جو نزول قرآن کے زمانے کے مشرک اختیار کیے ہوئے تھے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہار بیزاری
اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی توجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ کی طرف دلائی ہ۔ اور یاد دلایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی اسحاق اور بنی اسماعیل یعنی یہود و نصاری اور مشرکین عرب سب کے جد امجد…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ لِاَبِيْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ 26 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
أب
الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6]
( اب و )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔
تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وَاِذْقَالَ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ ۔ اِلاَّ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّـہٗ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الزخرف : 26، 27)
(اور یاد کرو جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا تم جن کی بندگی کرتے ہو میں ان سے یکسر بری ہوں۔ میں صرف اس کی بندگی کرتا ہوں جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی کرے گا۔ )
مشرکین کی آبا پرستی پر ملت ابراہیم سے تنقید
گزشتہ متعدد آیات میں قریش مکہ اور دیگر مشرکین کا بنیادی مرض یہ بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتے اور اس کی بندگی بجا لاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات، کبھی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح ہر قوم کے حکمران اور امیر لوگوں نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج پر قائم رہے۔ اسی طرح ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم باطل عقیدہ اور اپنے رسم و رواج پر قائم رہے۔
اہل مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کا وارث سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی طریقہ سے اپنے رب کی عبادت کرتے تھے جس انداز میں ہم عبادت کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا شرکیہ عقیدہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مشرکین کے ساتھ کوئی واسطہ تھا وہ صرف…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کی قوم اور والد :
آیت 26: وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ (اور جب کہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا) : اذ سے پہلے اذکر محذوف ہے۔ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ (میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو) : براء یہ مصدر ہے۔ اس میں واحد و تثنیہ و جمع برابر ہیں۔ اسی طرح تذکیر و تانیث بھی۔ جیسا تم کہو۔ رجلٌُ عدلٌ و امراۃ عدلٌ و قوم عدل اور اس کا معنی ذو عدل و ذات عدل لیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بریْئٌ کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
تفسیر 24۔ ، قال، ابن عامر اور حفص رحمہما اللہ نے ، قال، کو ماضی کا صیغہ اور دیگر حضرات نے ، قل، امرکا صیغہ پڑھا ہے۔ ، اولوجئتکم، ابو جعفر (رح) نے ، جئنا کم، جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ ، باھدی، درست دین۔ ، مماوجدتم علیہ آباء کم، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا کہ کیا تم اس دین کی پیروی کروگے جس پر تم نے اپنے آباء کو پایا۔ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت والا دین لایا ہوں تو انہوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ، قالوا انابما ارسلتم بہ کافرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →30 اہل باطل سے اظہار بیزاری کا درس : سو اس سے شرک اور مشرکین سے اظہار بیزاری کے لیے اسوئہ ابراہیمی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یاد کرو ابراہیم کو جب انہوں نے باپ اور اپنی قوم کو خطاب کر کے اعلان براءت کیا "۔ سو دیکھو کہ انہوں نے کس طرح اپنے باپ دادا کے شرکیہ طور طریقوں کے خلاف علم انکار و جہاد بلند کیا۔ پس تم لوگوں نے اے مشرکین مکہ، اگر باپ دادا ہی کی پیروی کرنی ہے تو پھر ابراہیم جیسے باپ دادا کی پیروی کرو جنہوں نے شرک اور مشرکین سے صاف طور پر اعلان براءت کیا۔ خاص کر جب کہ تم لوگ ان کی نسل میں سے ہونے کے دعویدار بھی ہو۔ اور اس انتساب پر فخر بھی کرتے ہو۔ بڑوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیات 26 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 1 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہاں یہ قصہ اس پر کہا کہ تمہارے پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تو تم بھی وہی کرو۔ “ (موضح)
Read the full tafseer →(43:26) واذ قال : ای واذکر الوقت اذقال۔ وہ وقت یاد کر جب کہا ابراہیم نے۔
براء بیزار۔ بیزاز ہونا۔ اصل میں اس کے معنی ہر اس چیز سے جس کا پاس رہنا برا لگتا ہو۔ اس سے چھٹکارا ڈھونڈھنے کے ہیں مصدر ہے جو صفت کے طور استعمال کیا گیا ہے ۔ اور جب صفت واقع ہو تو واحد تثنیہ، جمع، مذکر ، مؤنث۔ سب کے لئے برابر استعمال ہوتا ہے۔ ب ر ء مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 2: ان کی اس سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ اور قدامت پرستی کے عمیق غاروں میں مدفون ہوگئے ۔
Read the full tafseer →(26) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو اور جن کی پرستش کرتے ہو میں ان سے بیزار ہوں اور ان چیزوں سے الگ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 2۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال یاد رکھنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرو جب اس نے قوم اور باپ سے بیزاری کا اظہار کیا
26 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو سات آٹھ سال ہو رہے تھے کہ آپ ﷺ نے نبوت و رسالت کا پیغام ان لوگوں کو پہنچانا شروع کیا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا قریش مکہ اور دوسرے مخالفت میں بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے قرآن کریم کی دلوں کو ہلا دینے والی روشن آیات ان کے سامنے تلاوت کی جا رہی تھیں ان کو سن کر وہ خود اور ان کی عورتیں اور بچے بھی ان سے سوال کرتے تھے کہ یہ کلام جو محمد بن عبداللہ ﷺ پڑھتے ہیں یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا لیکن ان کی باتوں کا وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ شرک و کفر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
Commentary
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 For details, sec AI-Baqarah 124-133, AI-An'am 74-84, Ibrahim: 3541, Maryam: 41-50, Al-Anbiya': 51-73, Ash-Shu'ara: 69-89, AI-'Ankabut: 1627, As-Saaffat: 83-100 and the corresponding E.N `s.
Read the full tafseer →