Explained with ayahs 21–25
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ 35) 30۔ الروم :35) یعنی کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟ یعنی ایسا نہیں ہے پھر فرماتا ہے یہ تو نہیں بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت (اِنَّ هٰذِهٖٓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
سورة الزُّخْرُف 24
تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 124 تا 133، الانعام، ھواشی 50 تا 55، جلد دوم، ابراہیم، حواشی 46 تا 53، جلد سوم، مریم، حواشی 26۔ 27، الانبیاء، حواشی 54 تا 66، الشعراء، حواشی، 50 تا 62، العنکبوت، حواشی 26 تا 46، جلد چہارم، الصافات، آیات 83 تا 100، حواشی 44 تا 55۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔
(آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…
Read the full tafseer →فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عقبۃ المکذبین (25)
مطلب یہ ہے کہ جب قوموں کی ضد اور مکابرت اس حد کو پہنچ گئی کہ انہوں نے رسولوں کی بات سننے اور سمجھنے سے انکار کردیا تب اللہ تعالیٰ نے ان سے کفر ان نعمت کا اتنقام لیا، پھر دیکھو کہ رسولوں کے جھٹلاین والوں کا کیا انجام ہوا ! !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
27۔ 1 یعنی جس نے مجھے پیدا کیا وہ مجھے اپنے دین کی سمجھ بھی دے اور اس پر ثابت قدم بھی رکھے گا، میں صرف اسی کی عبادت کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
1 یعنی صرف ایک خدا سے میرا تعلق ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ ہی مجھے منزل مقصود کے راستہ پر آخر تک لے چلے گا۔ (تنبیہ) یہاں یہ قصہ اس پر بیان کیا کہ دیکھو تمہارے مسلم پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی۔ تم بھی وہ ہی کرو۔ اور اگر آباؤ اجداد کی تقلید ہی پر مرتے ہو تو اس باپ کی راہ پر چلو جس نے دنیا میں حق و صداقت کا جھنڈا گاڑ دیا تھا اور اپنی اولاد کو وصیت کر گیا تھا کہ میرے بعد ایک خدا کے سوا کسی کو نہ پوجنا۔ کما قال تعالیٰ (وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ) 2 ۔ البقرۃ :132)
Read the full tafseer →آیت 25 { فَانْـتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ } ”تو ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ تو دیکھ لو پھر کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
24 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور تقلید آباء کے دو پہلو :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اسی نسبت سے آیا ہے۔ کہ کفار مکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور نبی مانتے تھے۔ لہذا انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ اگر اسلاف کی تقلید ہی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اس پیشوا کی کرو جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی بندگی سے سخت بیزار تھے۔ ان اسلاف کی کیوں پیروی کرتے ہو جنہوں نے خود سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ اور گمراہی کے راستوں پر چل کھڑے ہوئے تھے۔ بالفاظ نبی کی تقلید کرنا درست ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس کا نام تقلید نہیں بلکہ اتباع رسول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
17۔ ان آیتوں کا خلاصہ مطالب یہ ہے کہ پیغمبر جب اور جہاں کہیں اصلاح امت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں، حق، دلیل وبرہان انہیں کے ساتھ رہا ہے۔ منکرین و مخالفین کے پاس بجز تعصب، ہٹ دھرمی، آبائی پاسداری، رسم و رواج کی شدت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ پیغمبرانہ حقائق کے مقابلہ میں صرف اپنے ہاں کے رسوم اور دستوروں کو پیش کرتے ہیں اور اس ضد وعناد میں ان کے رؤساء وسردار آگے آگے ہوتے ہیں، پیغمبروں کے دلائل و شواہد، وہ سب بےاثر رہتے ہیں، یہاں تک کہ قوم تباہ وہلاک ہو کر رہتی ہے۔ (آیت) ” او ..... ابآء کم “۔ پیغمبروں کا جواب ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اپنے آبائی ریت ورسم اور ہماری لائی ہوئی شریعت کا مقابلہ کرکے دیکھ لونا !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…
Read the full tafseer →فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عاقبۃ المکذبین آخر ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ سو دیکھ لو تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔
قال کا فاعل وہ ضمیر ہے جو نذیر کی طرف راجع ہے یعنی نذیر نے کہا ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ رفتار کلام سے اول قول کی تائید ہو رہی ہے ‘ کیونکہ آگے فانتقمنا منھم بعینہٖ ماضی فرمایا ہے۔
اَوْلَوْجِءْتُکُمْ ہمزۂ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ بِاَھْدٰی زیادہ صحیح دین ‘ زیادہ صحیح راستہ (بہرحال موصوف محذوف ہے) ۔
قَالُوْا پیغمبروں کے جواب میں کافروں نے کہا۔
اُرْسِلْتُمْ بِہٖ یعنی کافروں نے اپنے زمانہ کے پیغمبروں سے کہا کہ تم کو اور تم سے پہلے پیغمبروں کو جو دین دے کر بھیجا گیا ہے ‘…
Read the full tafseer →غرض کہ جب انہوں نے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور آسمانی کتب کو جھٹلایا تو ہم نے عذاب نازل کر کے ان سے انتقام لیا سو دیکھیے کہ ان جھٹلانے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔
Read the full tafseer →فانتقمنا منھم فانظر کیف …: یعنی جب وہ ضد اور عناد میں اس حد تک پہنچ گئے کہ رسولوں کی بات حق بھی ہے تو ہم ماننے والے نہیں، تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر دیکھو ان جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
Read the full tafseer →فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عاقبتالمکذبین۔ ” پس ہم نے ان سے انتقام لیا ذرا دیکھو کیسا المناک انجام ہوا جھٹلانے والوں گا “۔
فانتقمنا منھم ہم نے قحط، قتل اور قیدی بنانے کے ساتھ ان سے انتقام لیا قل اولوجئتکم ہے ابن عامر اور حفص نے قال اولو پڑھا ہے یہ نذیر کی طرف سے خبر ہوگی یعنی اس نے ان لوگوں سے کہا تھا۔ ابو جعفر نے اسے قل اولو جئناکم نون اور الف کے ساتھ پڑھا ہے تو خطاب رسول اللہ ﷺ نے تمام رسولوں کی جانب سے کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔
2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…
Read the full tafseer →فَانْتَقَمْنَا [ تو ہم نے انتقام لیا ] مِنْهُمْ [ ان سے ] فَانْـظُرْ [تو آپ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ [ جھٹلانے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شرک سے برات کا اعلان فرمانا اور دعوت حق کا ان کی نسل میں باقی رہنا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بابل کے قریب مشرکین کے علاقے میں پیدا ہوئے تھے ان کے علاقہ کے لوگ بت پرست بھی تھے اور ستارہ پرست بھی، ان کا باپ بھی مشرک بت پرست تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے نہ مانا اور حق کو قبول نہ کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری اور بیزار ہوں، میں تو صرف اس ذات کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اسی نے مجھے ہدایت دی اور مجھے ہدایت پر رکھے گا لفظ فَطَرَنِيْ میں تعریض ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…
Read the full tafseer →17:۔ ” فانتقمنا منہم۔ الایۃ “۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ جب ان کفار و مشرکین نے عناد و تعنت اور سرکشی کی انتہاء کردی، دعوت توحید کو ٹھکرایا، انبیاء (علیہم السلام) کو ایذا دی اور ان کا تمسخر اڑایا، تو ہم نے گوناگوں مصائب و آفات سے اور مکتلف انواع عذاب سے دنیا ہی میں ان کو تہس نہس کر کے ان سے انتقام لے لیا۔ اب دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ مشرکین قریش کو بھی کو اس قسم کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ اور آپ کو ان کی تکذیب کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ اس میں آپ کیلئے ایک گونہ تسلی ہے۔ تسلیۃ لہ ﷺ و ارشاد الی عدم الاکثرات بتکذیب قومہ ایاہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 25 ص 76) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَانْـظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُكَذِّبِيْنَ 25 ۧ
نقم
نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ، هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] . والنِّقْمَةُ : العقوبةُ. قال : فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] ، فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] ، فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔
تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…
Read the full tafseer →فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِـبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (الزخرف : 25)
(پھر ہم نے ان سے انتقام لیا، تو دیکھ لو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔ )
یعنی جب قوموں کی ضد، ہٹ دھرمی اور مکابرت اس حد کو پہنچ گئی کہ انھوں نے رسولوں کی ہر بات کو سننے اور سمجھنے سے انکار کردیا، تو پھر ہم نے ان سے تکذیبِ رُسُل کا انتقام لیا۔ روایات گواہی دے رہی ہیں کہ ایسے لوگ کس بری طرح سے نشان عبرت بن کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح کے بہانے مشرکین مکہ پیش کرتے تھے۔ اسی طرح کے بہانے پہلے لوگوں نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیے۔ بہانے پیش کرنے والوں میں سر فہرست ان کا مال دار طبقہ تھا۔
نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے اطمینان کی خاطر بتلایا گیا کہ آپ سے پہلے جس بستی میں بھی رسول مبعوث کیا گیا وہاں کے سرمایہ دار طبقہ نے اپنے نبی کے سامنے یہی بہانہ پیش کیا کہ ہم اسی راستے پر چلتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہم اپنے بزرگوں کا مذہب اور کلچر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہر قوم کے نبی نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے بہترین راہنمائی لایا ہوں۔…
Read the full tafseer →آیت 25: فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ (پس ہم نے ان سے انتقام لیا) پس ہم نے ان کو وہ سزا دی جس کے وہ اصرار علی الکفر کی وجہ سے مستحق ہوچکے تھے۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (پس دیکھئے تکذیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
تفسیر 24۔ ، قال، ابن عامر اور حفص رحمہما اللہ نے ، قال، کو ماضی کا صیغہ اور دیگر حضرات نے ، قل، امرکا صیغہ پڑھا ہے۔ ، اولوجئتکم، ابو جعفر (رح) نے ، جئنا کم، جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ ، باھدی، درست دین۔ ، مماوجدتم علیہ آباء کم، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا کہ کیا تم اس دین کی پیروی کروگے جس پر تم نے اپنے آباء کو پایا۔ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت والا دین لایا ہوں تو انہوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ، قالوا انابما ارسلتم بہ کافرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت 15
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
(2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
(3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →28 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار ہم نے ان سے انتقام لیا "۔ ان کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے۔ (صفوۃ التفاسیر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یہاں تک کہ ان میں سے کئی قوموں کا استیصال کردیا گیا اور ان کو بیخ و بن سے ہمیشہ کے لئے اکھاڑ پھینکا گیا۔ (محاسن التاویل) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انکار اور تکذیبِ حق کا انجام اور آخری نتیجہ بہرحال ہلاکت اور دائمی و ہولناک تباہی ہے۔ لہذا کبھی کسی کو اس امہال اور ڈھیل سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے جو قدرت کی طرف سے ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے کہ ڈھیل خواہ کتنی ہی ہو وہ بہرحال ڈھیل ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیات 16 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔
بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔
یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 1 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہاں یہ قصہ اس پر کہا کہ تمہارے پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تو تم بھی وہی کرو۔ “ (موضح)
Read the full tafseer →(43:25) فانتقمناسببیہ ہے انتقمنا ماضٰ جمع متکلم۔ انتقام (افتعال) مصدر نقم مادہ۔ ہم نے سزا دی۔ ہم نے انتقام لیا۔ نقم منہ (باب ضرب) سزا دینا۔ انتقام لینا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللّٰہ (85:8) اور انہوں نے (مومنوں کو) محض اس لئے سزا دی کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔
فانظر : انظر فعل امر واحد مذکر حاضر نظر (باب نصر) مصدر تو دیکھو تو غور کر۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے
عاقبۃ المکذبین : عاقبۃ انجام۔ آخر۔ مضاف ۔ المکذبین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ تکذیب (تفعیل) مصدر سے جھٹلانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 2: ان کی اس سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ اور قدامت پرستی کے عمیق غاروں میں مدفون ہوگئے ۔
Read the full tafseer →(25) آخر کار ہم نے ان سے بدلا لیا سو آپ ﷺ دیکھئے کہ تکذیب کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی بات دادا کی رسوم کے مقابلے میں دین حق کو نظر انداز کرنے والوں سے آخر کار بدلا اور انتقام لیا گیا اور سب کو ختم کرکے رکھ دیا گیا۔
ہمارے دور میں اکثرجاہل مسلمان باپ دادوں کی رسوم کو دین پر ترجیح دیتے ہیں۔ (معاذ اللہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون تھا آگے اس کی تاکید و تائید کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو کہ مسلم ومعظم عند العرب تھے اس کا منقول ہونا اور ان کے بعد پھر ان کی اولاد میں اس کا منقول چلا آنا اور اب آخر میں پیغمبر آخر الزمان کی معرفت اس کی تجدید فرمانا اور اس کے ساتھ پیغمبر زمان ﷺ کی نبوت کے متعلق ان لوگوں کے ایک اعتراض کا جواب مذکور ہے۔
Read the full tafseer →وہ جب کفر سے باز نہ آئے تو ہم نے بھی ان سے انتقام لیا اور جھٹلانے والوں کا انجام اچھا نہ ہوا
25 ؎ گزشتہ قوموں کی سرگزشتوں میں سے ایک ایک کی سرگزشت پڑھ جاؤ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جب ہر قوم نے اپنی من مانیاں کیں اور نبی ورسول کی باتوں پر کان نہ دھیرا تو ہم نے ان کو ایک مدت تک مہلت دی لیکن جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو ہر ایک قوم کو ہم نے پل بھر میں ختم کر کے رکھ دیا اور ان سے عبرتناک انتقام لیا اگر تم کو دیدئہ بینا اور گوش ہوش میسر ہے تو ان اجڑے ہوئے کھنڈروں سے پوچھ دیکھو کہ وہ تم کو کیا بتاتے ہیں بلاشبہ وہ تم کو یہی بتلائیں گے کہ کبھی وہ لوگ بھی پوری آن بان اور خوب ٹھاٹھ باٹھ سے رہا کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
Commentary
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 For details, sec AI-Baqarah 124-133, AI-An'am 74-84, Ibrahim: 3541, Maryam: 41-50, Al-Anbiya': 51-73, Ash-Shu'ara: 69-89, AI-'Ankabut: 1627, As-Saaffat: 83-100 and the corresponding E.N `s.
Read the full tafseer →