Az-Zukhruf 43:24

Az-Zukhruf · from ayah 24

43:24

قٰلَ اَوَلَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ ؕ— قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ۟قٰلَ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ‌ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Each warner] said, "Even if I brought you better guidance than that [religion] upon which you found your fathers?" They said, "Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:24

ہر نبی نے ان سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے واﻻ) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پیغمبر نے کہا کہ : تم نے اپنے باپ دادوں کو جس طریقے پر پایا ہے، اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی بات لے کر آیا ہوں تو کیا پھر بھی (تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ گے ؟) انہوں نے جواب دیا کہ : تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم تو اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(پیغمبر نے) کہا: اگرچہ میں تمہارے پاس اُس (طریقہ) سے بہتر ہدایت کا (دین اور) طریقہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا تھا، تو انہوں نے کہا: جو کچھ (بھی) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اُس کے منکر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اور کیا اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ؟ انھوں نے کہا بیشک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس نبی نے کہا : خواہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ صحیح راستہ لے کر آؤں جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے ؟ (تب بھی تم انہی کی پیروی کرو گے ؟) وہ کہنے لگے : جو پیغام دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

منذر نے کہا، کیا اگر میں اس سے زیادہ ہدایت بخش طریقہ لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے جب بھی تم انہی کے نقش قدم کی پیروی کرو گے ! انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس سارے کے منکر ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پیغمبر نے کہا کیا (تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے) اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے کہیں بہتر طریقہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم تو بہرحال اس طریقے کے قطعی طور پر منکر ہیں جس کو دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(اس پر ان کے پیغمبر نے) کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ داد اکو پایا ہے ؟ وہ بولے (جب بھی) ہم اس کے تو ماننے والے نہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس (خبردار کرنے والے) نے کہا کہ خواہ میں لایا ہوں تمہارے پاس زیادہ ہدایت والی چیز اس کے مقابلے میں جس پر تم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا انہوں نے کہا کہ ہم اس کے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں منکر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لاؤں کہ تمہارے باپ دادا کے رستے سے کہیں زیادہ سیدھا ہو ؟ کہنے لگے کہ جو دین تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

— محترمہ رفعت اعجاز

Each Prophet asked them: “Will you do so even if we were to show you a way better than the way of your forefathers?” They answered: “We disbelieve in the religion with which you have been sent.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Even if I bring to you something better in guidance than that on which you have found your fathers? They said, :We totally disbelieve in what you are sent with.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Even if I bring to you something better in guidance than that on which you have found your fathers? They said, :We totally disbelieve in what you are sent with.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Even if I bring you better guidance than that which you found your fathers following" They said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And the warner) said: What! Even though I bring you better guidance than that ye found your fathers following? They answered: Lo! in what ye bring we are disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Each warner] said, "Even if I brought you better guidance than that [religion] upon which you found your fathers?" They said, "Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers."

— Saheeh International

The Messengers would say, "Would you still follow in the footsteps of your fathers even if I was to bring you better guidance?" They would say, "We have no faith in your message".

— Muhammad Sarwar

(The warner) said: What! even if I bring to you a better guide than that on which you found your fathers? They said: Surely we are unbelievers in that with which you are sent.

— Muhammad Habib Shakir

The warner said: What! even though bring you a better guidance than that which ye found your fathers upon They said: verily in that wherewith ye are sent we are disbelievers.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "What! Even if I brought you better guidance than that which ye found your fathers following?" They said: "For us, we deny that ye (prophets) are sent (on a mission at all)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–25

جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ 35؀) 30۔ الروم :35) یعنی کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟ یعنی ایسا نہیں ہے پھر فرماتا ہے یہ تو نہیں بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت (اِنَّ هٰذِهٖٓ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الزُّخْرُف 24 تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 124 تا 133، الانعام، ھواشی 50 تا 55، جلد دوم، ابراہیم، حواشی 46 تا 53، جلد سوم، مریم، حواشی 26۔ 27، الانبیاء، حواشی 54 تا 66، الشعراء، حواشی، 50 تا 62، العنکبوت، حواشی 26 تا 46، جلد چہارم، الصافات، آیات 83 تا 100، حواشی 44 تا 55۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔ (آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

یہ امر ملحوظ رہے کہ لفظ امۃ کی تنکیر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الاقال مسترفوھآ انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون، قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابآء کم ط قالوا انا بما آ ارسلتم بہ کفرون (24-23) ہر دور کے مکذبین کا طریقہ ایک ہی رہا ہے فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح اپنے دین کے معاملے میں اندھے مقلد ہیں اسی طرح اپنی دلیل میں بھی پچھلے انبیاء کے مکذبین کے مقلد ہیں۔ تم سے پہلے جو منذر بھی کسی بستی میں ہم نے بھیجا اس کے انذار اور اس کی دعوت اصلاح کا جواب قوم کے مستکبرین نے یہی دیا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–24

24۔ 1 یعنی اپنے آبا کی تقلید میں اتنے پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت اور دلیل بھی انہیں اس سے نہیں پھیر سکی۔ یہ آیت اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر بہت بڑی دلیل ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے فتح القدیر، للشوکافی)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–25

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–24

7 یعنی پیغمبر نے فرمایا کہ تمہارے باپ دادوں کی راہ سے اچھی راہ تم کو بتلا دوں تو کیا پھر بھی تم اسی پرانی لکیر کے فقیر بنے رہو گے۔ 8 یعنی کچھ بھی ہو، ہم تمہاری بات نہیں مان سکتے۔ اور پرانا آبائی طریقہ ترک نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 { قٰلَ اَوَلَوْ جِئْتُکُمْ بِاَہْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ اٰبَآئَ کُمْ } ”اس خبردار کرنے والے نے کہا کہ خواہ میں لایا ہوں تمہارے پاس زیادہ ہدایت والی چیز اس کے مقابلے میں جس پر تم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا !“ ہر قوم کی طرف جو نبی بھیجا گیا اس نے اپنی قوم سے سوال کیا کہ خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتائوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے جب بھی تم انہی کے نقش قدم کی پیروی کرو گے اور اسی ڈگر پر چلتے جائو گے ؟ { قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”انہوں نے کہا کہ ہم اس کے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں ‘ منکر ہیں۔“ یوں ہر قوم کے لوگ پوری…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 زیادہ صحیح اس لحاظ سے کہ اس کی نقلی دلیل موجود ہے سب آسمانی کتابوں میں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ اکیلا ہی معبود برحق ہے۔ کوئی دوسرا اس کی ذات اور صفات میں اس کا شریک یا اس کا ہمسر نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں عقل سلیم بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 24–25

17۔ ان آیتوں کا خلاصہ مطالب یہ ہے کہ پیغمبر جب اور جہاں کہیں اصلاح امت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں، حق، دلیل وبرہان انہیں کے ساتھ رہا ہے۔ منکرین و مخالفین کے پاس بجز تعصب، ہٹ دھرمی، آبائی پاسداری، رسم و رواج کی شدت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ پیغمبرانہ حقائق کے مقابلہ میں صرف اپنے ہاں کے رسوم اور دستوروں کو پیش کرتے ہیں اور اس ضد وعناد میں ان کے رؤساء وسردار آگے آگے ہوتے ہیں، پیغمبروں کے دلائل و شواہد، وہ سب بےاثر رہتے ہیں، یہاں تک کہ قوم تباہ وہلاک ہو کر رہتی ہے۔ (آیت) ” او ..... ابآء کم “۔ پیغمبروں کا جواب ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اپنے آبائی ریت ورسم اور ہماری لائی ہوئی شریعت کا مقابلہ کرکے دیکھ لونا !…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل اولوجئتکم باھدی مما وجدتھم علیہ ابائکم قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون۔ اس پر انکے پیغمبر نے کہا کہ (کیا تم لوگ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے رہو گے) خواہ میں اس راستہ سے جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے ‘ زیادہ صحیح طریقہ تمہارے سامنے لے آؤں۔ وہ کہنے لگے : ہم تو اس (دین) کو نہیں مانتے جس کو دے کر تم کو بھیجا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد آپ ان سے فرما دیجیے اگرچہ میں اس سے اچھا منزل مقصود پر پہنچانے والا طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں جس پر تم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے کیا پھر بھی تم ایسے بہترین طریقہ کو قبول نہیں کرو گے وہ کہنے لگے کہ جو کتاب تم لائے ہو تو اس کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) قل اولو جئتکم باھدی مما وجدثم علیہ ابآء کم : یعنی پہلے آنے والے رسول نے کہا کہ کیا اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں تو پھر بھی تم میری بات نہ مانو گے اور اسی ڈگر پر چلتے رہو گے ؟۔ (2) قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون : یعنی انہوں نے کہا کہ اگر تم ہمارے آباء سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤ تب بھی یقینا ہم اس سے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو تمہارے لائے ہوئے حق کو بھی ہم نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قل اولو جئتکم باھدی اے محمد ! اپنی قوم سے کہا دیجئے : کیا میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس لایا ہوں وہ زیادہ درست اور ہدایت والی نہیں۔ مما وجدتم علیہ اباء کم قالوا انا بما ارملتم بہ کفرون۔ یعنی جس چیز کے ساتھ رسولوں کو مبعوث کیا گیا خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لفظ جمع کا ہے کیونکہ ایک رسول کو جھٹلانا باقی رسولوں کو جھٹلانا ہے اسے قل و جئتکم اور قال وجئناکم پڑھا گیا ہے یعنی کیا تم اپنے آباء کی پیروی کرتے ہو اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لایا ہوں جو تمہارے آباء کے دین سے زیادہ درست ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم اپنے آباء کے دین پر ثابت قدم ہیں ہم اس سے جدا نہ ہو نگے اگرچہ تم ہمارے پاس وہ لاتے جو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–25

1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔ 2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قٰلَ [کہا (منذر نے ) ] اَوَلَوْ [ تو کیا اگر ] جِئْتُكُمْ [ میں لاؤں تمہارے پاس ] بِاَهْدٰى مِمَّا [ اس سے زیادہ ہدایت والی ] وَجَدْتُّمْ عَلَيْهِ [ تم لوگ پاتے ہو جس پر ] اٰبَاۗءَكُمْ ۭ [ اپنے آباء و اجداد کو ] قَالُـوْٓا اِنَّا بِمَآ [ ان لوگوں نے کہا بیشک ہم اس کا ] اُرْسِلْتُمْ بِهٖ [ تم لوگ بھیجے گئے جس کے ساتھ ] كٰفِرُوْنَ [ انکار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–24

﴿قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى ﴾ (الآیۃ) سابقہ امتوں کی طرف جو نذیر بھیجے گئے ان کے مالدار لوگوں نے جو انہیں جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقے پر ہیں اسی کا اقتداء کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرات نے سوال کیا کہ تم نے جن طریقوں پر اپنے دادوں کو پایا ہے اگر ہم اس سے بڑھ کر اور بہتر ہدایت لے کر آئے ہوں کیا پھر بھی تم اپنے باپ دادوں کا اتباع کرتے رہو گے اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم جو کچھ لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے جب ان لوگوں نے حق کو نہ مانا اور حضرات انبیاء کرام کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں مبتلا فرما دیا ﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

16:۔ ” وکذلک ما ارسلنا۔ الایۃ “ یہ متعلق بہ شکوی ہے اور تخویف دنیوی کی تمہید ہے۔ گذشتہ امتوں کا حال بعینہ مشرکین مکہ کی طرح ہے کہ ان کے پاس جو بھی اللہ کی طرف سے اللہ کی توحید کا داعی آیا، اسے یہی جواب دیا گیا۔ جب اللہ کا پیغمبر انہیں توحید کی دعوت دیتا اور اس کے عذاب سے ڈراتا، تو دولت و طاقت کے نشے میں مست، سرکش اور معاند طبقہ ان کی دعوت کے جواب میں کہتا، تیری بات تو ہم ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین اور طریقے پر پایا ہے ہم اسی کی پیروی کریں گے اور اسی راہ پر گامزن رہیں گے۔ ” قال اولو جئتکم “ اس کے جواب میں پیغمبر (علیہ السلام) انہیں کہتے : میں تمہارے سامنے ایک ایسا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–25

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قٰلَ اَوَلَوْ جِئْتُكُمْ بِاَہْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَيْہِ اٰبَاۗءَكُمْ۝ 0 ۭ قَالُـوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ كٰفِرُوْنَ۝ 24 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–30

ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔ تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اَوَلَوْجِئْتُـکُمْ بِاَھْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ اٰبَـآئَ کُمْ ط قَالُوْٓا اِنَّا بِمَـآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (الزخرف : 24) (منذر نے کہا : کیا اگر میں اس سے زیادہ صحیح طریقہ لے کر تمہارے پاس آئوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا، ہم اس چیز کے جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے، منکر ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کا وہ رسول جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انذار کرنے کے لیے آیا، اس نے اس قوم کو جس نے آبائواجداد کی تقلید کو دلیل قاطع کے طور پر پیش کیا، کہا : سوال یہ ہے کہ تم اپنے آبائواجداد کی تقلید صرف اس لیے کرتے ہو کہ وہ تمہارے آبائواجداد تھے، یا اس لیے کرتے ہو کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح کے بہانے مشرکین مکہ پیش کرتے تھے۔ اسی طرح کے بہانے پہلے لوگوں نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیے۔ بہانے پیش کرنے والوں میں سر فہرست ان کا مال دار طبقہ تھا۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے اطمینان کی خاطر بتلایا گیا کہ آپ سے پہلے جس بستی میں بھی رسول مبعوث کیا گیا وہاں کے سرمایہ دار طبقہ نے اپنے نبی کے سامنے یہی بہانہ پیش کیا کہ ہم اسی راستے پر چلتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہم اپنے بزرگوں کا مذہب اور کلچر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہر قوم کے نبی نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے بہترین راہنمائی لایا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 24: قٰلَ اَوَلَوْ جِئْتُکُمْ بِاَہْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ اٰبَآ ئَ کُمْ (ان کے پیغمبروں نے کہا کہ کیا اگرچہ میں اس سے اچھا مقصود پر پہنچا دینے والا طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں۔ کہ جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہو) قراءت : شامی اور حفص نے قال پڑھا اور اس کا فاعل النذیر کی ضمیر ہے۔ دیگر قراء نے قل پڑھا۔ کہ پیغمبر منذر کو کہا گیا کہہ دیجئے۔ وجدتم علیہ اباء کم کا مطلب یہ ہے۔ کیا تم پھر بھی اپنے آباء کی اتباع کرو گے اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت والا دین لے آئوں جس پر تمہارے آباء تھے۔ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ (وہ کہنے لگے ہم تو اس کو مانتے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23، وکذلک ماارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا، اس کے مال دار اور سردار، انا وجدنا آباء ناعلی امۃ وانا علی آثارھم مقتدون، ان کی،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–25

آیت 15 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ (2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔ (3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

27 حق سے محروم باپ دادا کی پیروی باعث ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے مقابلے میں باپ دادا کے طریقے کی تقلید کفار کا طریقہ ہے جو کہ باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ بہرکیف اس سے معلوم ہوا کہ حق کے مقابلے میں باپ دادا ہی کے طریقے کو گلے لگانا اور حق سے منہ موڑنا اور اس کا انکار کرنا کفار کا طریقہ اور اندھی تقلید ہے۔ جس کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ البتہ اگر باپ دادا حق و ہدایت پر ہوں تو ان کی اقتداء و پیروی ممنوع و محذور نہیں بلکہ محمود و مطلوب ہے۔ کہ وہ دراصل حق اور ہدایت ہی کی پیروی ہوتی ہے۔ اس لئے اس کا حکم فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 پھر بھی تم میری بات نہ مانو گے اور اپنی ڈگر پر چلتے رہو گے ؟ 14 یعنی اپنے بزرگوں کی تقلید میں پیغمبروں ﷺ کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:24) قال : اس کا فاعل وہ ضمیر ہے جو نذیر کی طرف راجع ہے۔ یعنی اس نذیر نے کہا۔ اولوجئتکم۔ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے واؤ عاطفہ ہے۔ ہمزہ استفہام کے بعد فعل محذوف ہے ای اتقتدون بابئکم ولوجئتکم۔ لو حرف شرط۔ جواب لو محذوف ہے۔ باھدی : ای بدین اھدی ، مما مرکب ہے من اور ما موصولہ سے وجدتم علیہ اباء کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اس کا صلہ۔ اباء کم مفعول ہے وجدتم کا۔ ای قال لہم رسولہم اتتبعون دین اباء کم ولو جئتکم بدین اھدی من دین ابائکم (اس پر ان کو) پیغمبر نے کہا کیا تم اپنے اسلاف کے دین پر چلتے رہو گے گو میں اس سے زیادہ صحیح طریقہ تمہارے سامنے لے آؤں۔ بما ارسلتم بہ ما موصولہ ارسلتم بہ اس کا صلہ جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: یعنی ابتداء سے لوگ اس درجہ قدامت پسند رہے ہیں کہ ہرچند ان کے انبیاء نے انہیں یقین دلایا ۔ کہ ہم جو چیز تمہارے سامنے پیش کررہے ہیں ۔ وہ تمہارے قدماء کے پیش کردہ چیزوں سے بہتر ہے ۔ مگر انہوں نے یہی جواب دیا ۔ کہ ہمیں یہ منظور نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) اس پر ایک پیغمبر نے کا جس طریقے پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اگرچہ میں اس سے بہتر منزل مقصود تک پہنچانے والا کوئی طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں تب بھی تم اپنے بڑوں ہی کی اقتداء کرو گے وہ اس پر عناداً کہنے لگے تم جس دین کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں اور اس کو ماننے والے نہیں۔ یعنی جو طریقہ تمہارے باپ دادا کا ہے اور جس پر تم چلنے کا دعویٰ کرتے ہو اگر اس سے زیادہ بہتر اور راہ دکھانے والی چیز میں تمہارے پاس لایا ہوں یعنی روشن دین جس سے منزل مقصود تک پہنچنا آسان ہوجائے اور تم کو منزل نظر آنے لگے تب بھی تم اپنے باپ دادا کی فرسودہ اور گمراہ کن راہوں پر اڑے رہوگے۔ تو ان بستی والوں نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–25

ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون تھا آگے اس کی تاکید و تائید کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو کہ مسلم ومعظم عند العرب تھے اس کا منقول ہونا اور ان کے بعد پھر ان کی اولاد میں اس کا منقول چلا آنا اور اب آخر میں پیغمبر آخر الزمان کی معرفت اس کی تجدید فرمانا اور اس کے ساتھ پیغمبر زمان ﷺ کی نبوت کے متعلق ان لوگوں کے ایک اعتراض کا جواب مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی و رسول نے ان سے کہا کہ جو تمہارے پاس ہے اگر میں اس سے بہتر بات لے آؤں تو پھر ؟ 24 ؎ یہ سوال ہر نبی کی طرف سے اپنی امت کے مخالفین پر کیا گیا تھا کہ تم جو میری مخلفت کرتے ہو اور اپنے آباؤ اجداد کے ڈھکوسلوں کو پسند کرتے ہو اور اس کو دین سمجھتے ہو اگر میں تم پر یہ بات واضح کر دوں کہ جو کچھ میں پیش کر رہا ہوں وہ وہی دین ہے جو میرے سے پہلے رسولوں نے بھی اپنی اپنی امت کے سامنے پیش کیا اور یہ بھی کہ تمہارے آباؤ و اجداد کا طریقہ گمراہ کن ہے اور خصوصاً یہ کہ وہ تمہاری ذہنی ، مادی اور روحانی ترقیوں میں سنگ گراں کی حیثیت رکھتا ہے اور زندگی کا جو پروگرام میں پیش کر رہا ہوں وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–26

Commentary وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–26

24 For details, sec AI-Baqarah 124-133, AI-An'am 74-84, Ibrahim: 3541, Maryam: 41-50, Al-Anbiya': 51-73, Ash-Shu'ara: 69-89, AI-'Ankabut: 1627, As-Saaffat: 83-100 and the corresponding E.N `s.

Read the full tafseer →