Az-Zukhruf 43:23

Az-Zukhruf · from ayah 23

43:23

وَكَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ ۙ— اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ ۟وَكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰٓى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And similarly, We did not send before you any warner into a city except that its affluent said, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are, in their footsteps, following."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:23

اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح ہم نے کسی بستی میں آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے وڈیروں اور خوشحال لوگوں نے کہا: بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ و مذہب پر پایا اور ہم یقیناً انہی کے نقوشِ قدم کی اقتداء کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا اور بیشک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسی طرح ہم نے کسی بستی میں جو بھی ڈرانے والا بھیجا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ : ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی طرح ہم نے جس بستی میں بھی تم سے پہلے کوئی منذر بھیجا تو اس کے خوش حالوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جس بستی میں بھی کوئی نذیر بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم بھی انہی کے نقش قدم کی پیروی کئے جا رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایک (خاص) طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کسی خبردار کرنے والے کو مگر اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے پایا ہے اپنے آباء و اَجداد کو ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم کی اقتدا کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

And thus it is: whenever We sent any warner to a city its affluent ones said: “We found our forefathers on a way and we continue to follow in their footsteps.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Similarly, We did not send a warner to a town before you, but its affluent people said, :We have found our fathers on a certain way, and we are following their footprints.

— Muhammad Taqi Usmani

Similarly, We did not send a warner to a town before you, but its affluent people said, :We have found our fathers on a certain way, and we are following their footprints.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And similarly, We sent not a warner before you to any town (people) but the luxurious ones among them said: "We found our fathers following a certain way and religion, and we will indeed follow their footsteps."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And even so We sent not a warner before thee (Muhammad) into any township but its luxurious ones said: Lo! we found our fathers following a religion, and we are following their footprints.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And similarly, We did not send before you any warner into a city except that its affluent said, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are, in their footsteps, following."

— Saheeh International

In the same way, whenever We had sent a Messenger before you to warn a town, the rich ones therein said, "We found our fathers following a certain belief and we follow in their footsteps.

— Muhammad Sarwar

And thus, We did not send before you any warner in a town, but those who led easy lives in it said: Surely we found our fathers on a course, and surely we are followers of their footsteps.

— Muhammad Habib Shakir

And in this wise We sent not before thee into any city a warner but the affluent thereof said: verily we! we found our fathers on a certain way and verily their footsteps we are following.

— Abdul Majid Daryabadi

Just in the same way, whenever We sent a Warner before thee to any people, the wealthy ones among them said: "We found our fathers following a certain religion, and we will certainly follow in their footsteps."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–25

جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ 35؀) 30۔ الروم :35) یعنی کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟ یعنی ایسا نہیں ہے پھر فرماتا ہے یہ تو نہیں بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت (اِنَّ هٰذِهٖٓ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 23 یہ بات قابل غور ہے کہ انبیاء کے مقابلے میں اٹھ کر باپ دادا کی تقلید کا جھنڈا بلند کرنے والے ہر زمانے میں اپنی قوم کے کھاتے پیتے لوگ ہی کیوں رہے ہیں ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی حق کی مخالفت میں پیش پیش اور قائم شدہ جاہلیت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں سرگرم رہے، اور وہی عوام کو بہکا اور بھڑکا کر انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف فتنے اٹھاتے رہے ؟ اس کے بنیادی وجوہ دو تھے۔ ایک یہ کہ کھاتے پیتے اور خوشحال طبقے اپنی دنیا بنانے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ حق اور باطل کی، بزعم خویش، دور از کار بحث میں سر کھپانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کی تن آسانی اور ذہنی کاہلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔ (آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

یہ امر ملحوظ رہے کہ لفظ امۃ کی تنکیر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الاقال مسترفوھآ انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون، قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابآء کم ط قالوا انا بما آ ارسلتم بہ کفرون (24-23) ہر دور کے مکذبین کا طریقہ ایک ہی رہا ہے فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح اپنے دین کے معاملے میں اندھے مقلد ہیں اسی طرح اپنی دلیل میں بھی پچھلے انبیاء کے مکذبین کے مقلد ہیں۔ تم سے پہلے جو منذر بھی کسی بستی میں ہم نے بھیجا اس کے انذار اور اس کی دعوت اصلاح کا جواب قوم کے مستکبرین نے یہی دیا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–24

24۔ 1 یعنی اپنے آبا کی تقلید میں اتنے پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت اور دلیل بھی انہیں اس سے نہیں پھیر سکی۔ یہ آیت اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر بہت بڑی دلیل ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے فتح القدیر، للشوکافی)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–25

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–24

7 یعنی پیغمبر نے فرمایا کہ تمہارے باپ دادوں کی راہ سے اچھی راہ تم کو بتلا دوں تو کیا پھر بھی تم اسی پرانی لکیر کے فقیر بنے رہو گے۔ 8 یعنی کچھ بھی ہو، ہم تمہاری بات نہیں مان سکتے۔ اور پرانا آبائی طریقہ ترک نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23 { وَکَذٰلِکَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍاِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآ } ”اور اے نبی ﷺ ! اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کسی خبردار کرنے والے کو مگر اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا“ { اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ } ”کہ ہم نے پایا ہے اپنے آباء و اَجداد کو ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 تقلید آباء کے مؤید مترفین کا طبقہ ہوتا ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقلید آباء کے سب سے زیادہ مؤید اور اس پر اصرار کرنے والے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں یعنی جو آسودہ حال اور چودھری قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ رسول کی بات مان لیں تو انہیں اپنی اس چودھراہٹ کے منصب سے نیچے اتر کر عام لوگوں کی صف میں شامل ہونا اور رسول کا مطیع بن کر رہنا پڑتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ رسول ان کے کسب معاش کے طریقوں پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگاتا ہے۔ مال و دولت کے کمانے پر بھی اور اس کے خرچ کرنے پر بھی۔ اگر یہ پابندیاں گوارا کرلیں تو ان کی آسودہ حالی ہی خطرہ میں پڑجاتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یعنی یہ آباء پرستی اور جمود وتقلید پسندی کوئی نئی بات نہیں، گمراہیوں کا شعار ہمیشہ سے رہی ہے۔ (آیت) ” الا قال مترفوھا “۔ پیغمبروں کی مخالفت کے لیڈر اور سرغنہ، قوم کے امراء رؤساء ہی ہمیشہ ہوتے ہیں۔ عوام نے ان کی صرف تقلید کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک ما ارسلنا قبلک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا انا وجدنا ابائنا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جس بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا ‘ وہاں کے عیش پرست لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ مُتْرَفُوْھَا یعنی مالدار ‘ عیش پسند لوگ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین ہے کہ ان لوگوں کی گمراہی موروثی چلی آتی ہے۔ ان کے اسلاف کو بھی اپنے مذہب کا کوئی عقلی و نقلی علم نہ تھا ‘ وہ بھی یہی کہتے تھے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ مُتْرَفُوْھَاکا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ عیش پرستی اور تنعم ‘ باطل پرستی کی بنیاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جیسا کہ آپ کی قوم کہہ رہی ہے اسی طرح ہم نے کسی بستی والوں کے پاس کوئی نبی نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال سرکشوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے بڑوں کو اسی طریقے پر پایا ہے اور ہم ان کے طریقے اور ان کے پیچھے پیچھے چلے جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اس سفاہت و حماقت میں یہی لوگ مبتلا نہیں، بلکہ ان سے پہلے لوگ بھی اپنے رسولوں کو یہی کہتے چلے آئے ہیں، اس لئے آپ ان کی باتوں پر صبر کریں۔ (2) مفسر کیلانی لکھتے ہیں :”اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقلید ابٓاء کے سب سے زیادہ موید اور اس پر اصرار کرنے والے کھاتے پیتے یعنی آسودہ حال اور چودھری قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ رسول کی بات مان لیں تو انھیں اپنی اس چودھراہٹ کے منصب سے نیچے اتر کر عام لوگوں کی صف میں شامل ہونا اور رسول کا مطیع بن کر رہنا پڑتا ہے اور اس کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ رسول ان کے کسب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر ا۔ علی امتہ مراد طریقہ اور مذہب ہے ؛ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے (1) ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز، مجاہد اور قتادہ اسے امتہ پڑھا کرتے تھے اور امتہ کا معنی طریقہ ہے۔ جو ہری نے کہا : امتہ کا معنی نعمت ہے اور امتہ، امتہ کی بھی ایک لغت ہے اس سے فراد طریقہ اور دین ہے ؛ یہ ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ عدی بن زید نے نعمتہ کا معنی لیتے ہوئے کہا : ثم بعد الفلاح و الملک والامتہ وارتھم ھناک القبور کامیابی، بادشاہت اور نعمت کے بعد وہاں قبروں نے انہیں چھپا لیا۔ یہ جوہری کے علاوہ سے مروی ہے۔ قتادہ اور عطیہ نے کہا : علی امتہ کا معنی ہے دین پر (2) ۔ قیس بن خطیم کا قول اسی معنی میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–25

1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔ 2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَذٰلِكَ مَآ اَرْسَلْنَا [ اور اسی طرح ہم نے بھیجا ] مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ [ آپ سے پہلے کسی بستی میں ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [ کوئی بھی خبردار کرنے والا ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] قَالَ مُتْرَفُوْهَآ ۙ [ کہا اس کے خوشحال لوگوں نے ] اِنَّا وَجَدْنَآ [ بیشک ہم نے پایا ] اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ [ اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر ] وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ [ اور بیشک ہم ان کے نقوش قدم پر ہی ] مُّقْتَدُوْنَ [ پیروی کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–24

﴿قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى ﴾ (الآیۃ) سابقہ امتوں کی طرف جو نذیر بھیجے گئے ان کے مالدار لوگوں نے جو انہیں جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقے پر ہیں اسی کا اقتداء کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرات نے سوال کیا کہ تم نے جن طریقوں پر اپنے دادوں کو پایا ہے اگر ہم اس سے بڑھ کر اور بہتر ہدایت لے کر آئے ہوں کیا پھر بھی تم اپنے باپ دادوں کا اتباع کرتے رہو گے اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم جو کچھ لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے جب ان لوگوں نے حق کو نہ مانا اور حضرات انبیاء کرام کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں مبتلا فرما دیا ﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

16:۔ ” وکذلک ما ارسلنا۔ الایۃ “ یہ متعلق بہ شکوی ہے اور تخویف دنیوی کی تمہید ہے۔ گذشتہ امتوں کا حال بعینہ مشرکین مکہ کی طرح ہے کہ ان کے پاس جو بھی اللہ کی طرف سے اللہ کی توحید کا داعی آیا، اسے یہی جواب دیا گیا۔ جب اللہ کا پیغمبر انہیں توحید کی دعوت دیتا اور اس کے عذاب سے ڈراتا، تو دولت و طاقت کے نشے میں مست، سرکش اور معاند طبقہ ان کی دعوت کے جواب میں کہتا، تیری بات تو ہم ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین اور طریقے پر پایا ہے ہم اسی کی پیروی کریں گے اور اسی راہ پر گامزن رہیں گے۔ ” قال اولو جئتکم “ اس کے جواب میں پیغمبر (علیہ السلام) انہیں کہتے : میں تمہارے سامنے ایک ایسا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–25

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَۃٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآ۝ 0 ۙ اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ۝ 23 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–30

ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔ تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذٰلِکَ مَـآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوْھَـآ لا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰ ثٰرِھِمْ مُّقْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 23) (اور اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا اس کے خوشحال لوگوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھیں کے نقش قدم کی پیروی کریں گے۔ ) بگاڑ کی تاریخ ہر دور میں یکساں رہی بگڑی ہوئی قوموں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے انسان کے بگاڑ اور اس کے فکری الجھائو کی صورتیں ایک جیسی رہی ہیں، کیونکہ انسان کی فطرت بنیادی طور پر ایک ہے اس کے موثر اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح کے بہانے مشرکین مکہ پیش کرتے تھے۔ اسی طرح کے بہانے پہلے لوگوں نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیے۔ بہانے پیش کرنے والوں میں سر فہرست ان کا مال دار طبقہ تھا۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے اطمینان کی خاطر بتلایا گیا کہ آپ سے پہلے جس بستی میں بھی رسول مبعوث کیا گیا وہاں کے سرمایہ دار طبقہ نے اپنے نبی کے سامنے یہی بہانہ پیش کیا کہ ہم اسی راستے پر چلتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہم اپنے بزرگوں کا مذہب اور کلچر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہر قوم کے نبی نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے بہترین راہنمائی لایا ہوں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تقلید آباء پرانی بیماری ہے : آیت 23: وَکَذٰلِکَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ (اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا) نذیر سے پیغمبر مراد ہیں۔ اِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوْہَآ (مگر کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا) مترف سے مالدار مراد ہیں اور وہ وہی لوگ ہیں جن کو مال تکبر میں مبتلا کر دے۔ وہ شہوات و ملاھی ہی کو پسند کریں اور دین کی مشقتوں اور تکالیف کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ (ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے پیچھے پیچھے چلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22، بل قالوا انا وجد آباء نا علی امۃ، دین اور ملت پر۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ امام پر۔ ، وانا علی آثارھم مھتدون، انہوں نے اپنے آپ کو اپنے پہلے آباء کی اتباع پر ہدایت یافتہ بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–25

آیت 15 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ (2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔ (3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

27 حق سے محروم باپ دادا کی پیروی باعث ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے مقابلے میں باپ دادا کے طریقے کی تقلید کفار کا طریقہ ہے جو کہ باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ بہرکیف اس سے معلوم ہوا کہ حق کے مقابلے میں باپ دادا ہی کے طریقے کو گلے لگانا اور حق سے منہ موڑنا اور اس کا انکار کرنا کفار کا طریقہ اور اندھی تقلید ہے۔ جس کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ البتہ اگر باپ دادا حق و ہدایت پر ہوں تو ان کی اقتداء و پیروی ممنوع و محذور نہیں بلکہ محمود و مطلوب ہے۔ کہ وہ دراصل حق اور ہدایت ہی کی پیروی ہوتی ہے۔ اس لئے اس کا حکم فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 باطل اور ناحق باتوں ( رسوم و بدعات) میں بڑوں اور بزرگوں کی اقتدار کو دلیل بنانا وہ گمراہی ہے جو قدیم زمانے سے چلی آتی ہے اور کفار کا شیوہ رہا ہے کہ وہ انبیا ( علیہ السلام) کے مقابلہ میں اس کو بطور دلیل پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ قرآن نے متعدد آیات میں اس کی مذمت کی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس بات میں اللہ و رسول ﷺ سے کوئی سند نہ ہو اس میں باپ دادا یا کسی بزرگ کی تقلید کرنا اور یہ کہنا کہ ہمارے بزرگ چونکہ ایسا کرتے ہی چلے آئے ہیں ہم بھی اسی راہ پر چلیں گے، سراسر باطل ہے۔ (فتح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:23) وکذلک۔ واؤ عاطفہ ک حرف تشبیہ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ۔ اشارہ ہے آباء پرستی۔ جمود اور تقلید پسندی کی طرف۔ نذیر۔ صفت مشبہ مجرور۔ نکرہ ۔ ڈرانے والا۔ نذر جمع۔ نذر۔ نذر باب سمع مصدر۔ قرآن مجید میں نذیر (ڈرانے وال) سے مراد ہے نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا۔ مترفوھا : مترفوا اصل میں مترفون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ مضاف ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ ھا کا مرجع قریۃ ہے۔ مترفون جمع مذکر اسم مفعول۔ وہلوگ جن کو عیش و آرام اور فراغت زندگی دی گئی۔ امیر اور فارغ البال۔ اتراف (افعال) مصدر۔ عیش دینا۔ آرام دینا۔ مقتدون : اسم فاعل جمع مذکر۔ مقتدی واحد۔ اقتداء (افتعال)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ابتداء میں دین کی مخالفت ان لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے ۔ جو طبقہ امراء سے تعلق رکھتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوش عیش لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نشانہائے قدم پر ان کی پیروی اور اقتداء کررہے ہیں۔ یعنی یہ بات جو کفار مکہ کہہ رہے ہیں یہ اوپر سے ہوتی چلی آئی ہے جب آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر ہم نے بھیجا ت وہاں کے مرفہ الحال لوگوں نے پہلے اور ان کو دیکھا دیکھی ان کے ماتحت لوگوں نے یہی کہا کہ ہمارے باپ دادا جو کرتے تھے ہم انہی کے نشانہائے قدم کی پیروی کرتے رہیں گے اس پر ہر آنے والے پیغمبر نے ان کو سمجھایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–25

ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون تھا آگے اس کی تاکید و تائید کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو کہ مسلم ومعظم عند العرب تھے اس کا منقول ہونا اور ان کے بعد پھر ان کی اولاد میں اس کا منقول چلا آنا اور اب آخر میں پیغمبر آخر الزمان کی معرفت اس کی تجدید فرمانا اور اس کے ساتھ پیغمبر زمان ﷺ کی نبوت کے متعلق ان لوگوں کے ایک اعتراض کا جواب مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب بھی کسی بستی میں ہمارا کوئی ڈرانے والا پہنچا تو اس بستی کے وڈیروں نے مخالفت کی 23 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو بطور تسلی بتایا جا رہا ہے کہ اہل مکہ کی مخالفت اور خصوصاً اس بستی کے وڈیروں نے جو مخالفت شروع کر رکھی ہے اور جس طرح کی مکاریاں وہ دن رات کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ان سے پہلے جو اہل باطل اور اہل زیغ گزرے ہیں سب نے اپنے اپنے دور کے نبی و رسول کے ساتھ یہی کچھ کیا ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ یہ بات گویا ہمیشہ سے برابر چلی آرہی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جب اپنے موقف کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل دستیاب نہیں ہوتی تو ہمیشہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی آڑ لے کر میدان میں آتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–26

Commentary وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 Here, the point worth consideration is why the well-to-do people of every community only have resisted the Prophets and upheld the imitation of their forefathers in every age. Why have they alone been in the forefront to oppose the Truth and to endeavor to maintain the established falsehood and to beguile and incite the common people against them ? Its basic causes were two: (1) The well to-do and affluent people are so absorbed in making and enjoying the world of their own that they are not inclined to bother themselves about the useless debate (as they assume it to be) between the Truth…

Read the full tafseer →